” ہر طرف سفید کوے ہیں“
23 اکتوبر 2018 2018-10-23

تحریک انصاف کے کارکنوں کے ذہنوں میں یہ تصور راسخ ہے کہ ان کا ہر مخالف باالخصوص مسلم لیگ ن سو فیصد کرپٹ ہے، ان کے خیالات کے مطابق سرکاری خزانے میں جتنے بھی روپے آتے تھے مسلم لیگ ن کے وزراءانہیں بوریوں میں بھر کے اپنے گھروں میں لے جاتے تھے جسے عمران خان نے روکا ہے۔ مجھے ان کے عام گلی محلے کے کارکنوں ہی نہیں بلکہ قومی اسمبلی کے امیدواروں کی سطح کے رہنماﺅں سے گفتگومیں بسا اوقات حیرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو کس حد تک بدعنوان اور سازشی سمجھتے ہیںمثال کے طور پر غلام محی الدین دیوان پیپلزپارٹی کے رہنما تھے مگر جیسے ہی پی ٹی آئی میں گئے تو انہوں نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ حمزہ شہباز شریف اندرون لاہور بننے والے پلازوں کے غیر قانونی تہہ خانوں کا پانچ ، پانچ کروڑ روپیہ وصول کرتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس بارے کوئی ثبوت،کوئی مدعی یاگواہ ہے جس نے روپے دئیے ہوں یا جس کے سامنے دئیے گئے ہوں، وہ بولے اس بارے تو بچہ بچہ جانتا ہے۔ حیرت ہے کیا حمزہ شہباز شریف بچے، بچے کے سامنے کروڑوں روپوں کی وصولیاں کرتے تھے۔ غلام محی الدین دیوان سے پہلے نعمان قیصر اور اس سے بھی پہلے معروف اور پرانے کارکن محمد مدنی حمزہ شہباز شریف کے مقابلے میں الیکشن لڑے اور انہوں نے چالیس ہزار ووٹ بھی لئے۔ جب عام انتخابات ہوئے تو محمد مدنی کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ ان کے لئے حلقے کے کارکنوں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی زمان پارک میں رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ بھی کیا مگر وہ ٹکٹ نہ حاصل کر سکے۔ ابھی حالیہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی اچھے خاصے ووٹوں سے شکست پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے درست امیدوار نہیں دئیے اور درست امیدوار نہ دئیے جانے کی ذمہ داری وہ حمزہ شہباز شریف پر عائد کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ سازش حمزہ شہباز شریف کی تھی کہ وہ ، شاہد خاقان عباسی کے مقابلے میں امیدوار نہ ہوں تاکہ پی ٹی آئی ہار جائے۔
تحریک انصاف کے یہ کارکن نواز شریف کو بھی کرپٹ سمجھتے ہیں اور شہباز شریف کو بھی، انہیں سابق ادوار کے انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بجلی کے کارخانوں جیسے عظیم الشان منصوبے تو نظر نہیں آتے مگر ان میں کرپشن ضرورنظر آتی ہے۔ یہ لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی کی بدترین صورتحال کے بہتر ہونے کو جھوٹ سمجھتے ہیں مگر خیبرپختونخوا میں ساڑھے تین سو ڈیموں اور ایک ارب درختوں کو سچ سمجھتے ہیں، وہ یہ بھی پورے خلوص سے سمجھتے ہیںکہ ملک بھر میں دس ارب درخت لگائے جاسکتے ہیں، ایک کروڑ نوکریاں دی جا سکتی ہیں اور پچاس لاکھ گھر بنا کے دئیے جا سکتے ہیں چاہے عملی طور پر یہ صورت بن رہی ہو کہ تحریک انصاف کوان پانچ برسوں کے ہر ایک منٹ میں دونوکریاں دینی اور ایک مکان بنانا پڑے گا مگر وہ اس پر شک نہیں کرتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا جائے، ان کے لہجوں کا تجزیہ کیا جائے تو ان میں یقین نظر آتا ہے کہ وہ سوفیصد سچ بول رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان صاحب بنی گالہ کا محل کرکٹ چھوڑنے کے برسوں کے بعد بھی حق حلال کی کمائی سے بنا سکتے ہیں مگر حسن اور حسین نواز شریف لندن میں فلیٹوں کے اس کے باوجود مالک نہیں ہوسکتے کہ ان کے دادا ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بڑے ایسی فاو¿نڈریوں کے مالک تھے جہاں فوجی ساز وسامان بھی بن سکتا تھا۔ یہ واقعی سمجھتے ہیں کہ اگر عمران خان صاحب بطور وزیراعظم پرائم منسٹر ہاو¿س کے بجائے ملٹری سیکرٹری کے گھر میںر ہیں، وہاں تحفے میںملی ہوئی چھ بھینسیں بیچ دی جائیں تو معیشت کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ وہ اسے بھی سچ سمجھتے ہیں کہ جب فواد چودھری نے کہہ دیا کہ ہیلی کاپٹر کا فی کلومیٹر خرچ پچپن روپے کلومیٹر ہے اور یہ کاروں کے سفر سے بھی سستا پڑتا ہے ۔ وہ اس امر کی اہلیت رکھتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر ایسی باتوں کو اتنا پھیلایا جائے کہ گوگل سرچ میں بھی ان کی کہی ہوئی باتیں سچ نظر آنے لگیں اور یوں وہ ثبوت بھی تراش لیتے ہیں۔
کیا یہ کوئی نفسیاتی صورتحال ہے جس میں تصویر کا دوسرا رخ نظر ہی نہیں آتا، کیا اس کا تعلق علم، شعور اور جدت سے بھی جوڑا جا سکتا ہے، میرا خیال ہے کہ نہیں کیونکہ امریکا میںٹرمپ کو ووٹ دینے والے بھی موجود ہیں چاہے وہ ہمیں جتنے بھی مضحکہ خیز اور غیر اخلاقی لگیں۔ یہ استادوں کو الزام ثابت ہونے سے بھی پہلے ہتھکڑیاں لگانے، حوالاتوں اور جیلوں میں بند کرنے کے حمایت کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ یہ استاد وہ ہیں جنہوں نے سابق دور میں ڈیلیور کر کے اور اداروں کو اپنے پاو¿ں پر کھڑے کر کے دکھایا ہے۔ یہ عمران خان کے سینکڑوں کنال کے بنے ہوئے غیر قانونی گھر کی جرمانہ دے کر ریگولرائزیشن کو عین قانونی سمجھتے ہیں مگر کچی آبادیوں کے اندر اور گندے نالوں پر کچے پکے مکان بنا کے اپنے بچوں کے سرچھپانے کی جگہ بنانے والوں کو قبضہ گروپ قرار دیتے ہیں۔یہ کارکن مانتے ہیں کہ یوٹرن کوئی بری بات نہیں ہے اور اب تو یہ بات جناب عمران خان نے بھی اپنے دوست اینکرز سے ملاقات میں کہہ دی ہے کہ جب یوٹرنز ہوتے ہی لینے کے لئے ہیں، وہ آگے بڑھ رہے ہوں اور سامنے دیوار آجائے تو انہیں یوٹرن ہی لینا پڑے گا، مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد تحریک انصاف کے کارکن لوٹوں کو ٹکٹ دینے سے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے تک ہر یوٹرن کو جائز ہی نہیں بلکہ ضروری بھی سمجھیں گے۔ اب پی ٹی آئی کے کارکنوں کے سامنے یہ ہرگز نہیں رکھا جا سکتا کہ جب وہ سادگی اور بچت کے نعرے لگا رہے تھے اس وقت ان کی پنجاب میں حکومت ایوان وزیراعلیٰ ، گورنر ہاو¿س ، وزراءسے لے کر کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کے دفتروں کے بجٹوں میں انتہائی نامناسب اور غیر ضروری اضافہ کر رہی تھی یعنی جب شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے تو چیف منسٹر ہاو¿س کا بجٹ 69 کروڑ رکھا جا رہا تھا اور اب یہ 84 کروڑ رکھا جا رہا ہے۔ گورنرہاو¿س کا بجٹ بتیس کروڑ سے بڑھا کے چھیالیس کروڑ اکہتر لاکھ روپے کیا جا رہا ہے جبکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ جناب چودھری محمد سرور گورنر ہاوس کا صرف ایک کمرہ استعمال کرتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کو چوراسی کروڑ کے بجائے پچانوے کروڑ ساٹھ لاکھ دئیے جا رہے ہیں۔کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کے دفاتر کے بجٹ ستر سے سو فیصد تک بڑھائے جا رہے ہیں اور ڈپٹی کمشنروں کو دفاتر کے خرچے کے طور پر اس برس اڑسٹھ کروڑ بیس لاکھ سے بڑھا کے ایک ارب چالیس کروڑ روپے دئیے جا رہے ہیں، کیوں؟
پی ٹی آئی کے کارکن شائد ان اخراجات کو تو ” انسانوں پر خرچ“ سمجھیں گے مگر وہ لاہور، پنڈی اورملتان میں میٹرو بس پر سفر کرنے والے غریبوں کے لئے سب سڈی کو انسانوں پر خرچ نہیں سمجھیں گے لہٰذا وہ اپنے صوبائی وزیر خزانہ کے اس وژن کی داد دیں گے جس کے تحت ٹکٹ کی رقم کئی گنا تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ مخالفت برائے مخالفت میں وہ یہ بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ یورپین یونین میں شامل ممالک سے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت تک ہر عوام دوست حکومت پبلک ٹرانسپورٹ پر سب سڈی دیتی ہے ۔ وہ اس امر کو بھی ماننے کے لئے تیار نہیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ اتنی ہی بنیادی اور ضروری سہولت ہے جتنی صحت اور تعلیم ہوسکتی ہے۔ آپ ان سے کیسے بحث کر سکتے ہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کی حکومت کی طرف سے کی جانے والی مہنگائی بھی مفید ہے کیونکہ ان کے پاس علم، عقل، منطق، ایمانداری، حب الوطنی ہی نہیں بلکہ شائد معیشت اور نفسیات تک ہر شعبے کے اپنے الگ اصول ہیں جن پر یہ اپنے مکالمے کی بنیاد رکھتے ہیں، اس مکالمے میں ان کی اخلاقیات بھی الگ ہے جس کی عملی نمونہ سوشل میڈیا پر برس ہا برس پر دیکھا جا رہا ہے۔ان کے پاس اپنی ایک الگ عمرانیات ہے ۔میں جب اپنے تحریک انصاف کے دوستوں کے ساتھ اس ایک سے دس ارب درختوں والے سبز باغ کی سیر کرتا ہوں جس کے آخر میں انہوںنے پچاس لاکھ مکانات کی صورت ہوائی قلعے بنا رکھے ہیں تو وہ مجھے ہر طرف ایسے کوے دکھاتے ہیں جو سفید ہیں، انہیں ان کووں کی کائیں کائیں کوئل سے زیادہ میٹھی اورسریلی سنائی دیتی ہے۔


ای پیپر