Shireen Mazari,France,French President,
کیپشن:   فرانس سے معافی مانگی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری سورس:   ٹوئٹر
23 نومبر 2020 (18:44) 2020-11-23

اسلام آباد :شیریں مزار ی نے معافی مانگنے سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا مغرب آزادی اظہار رائے کے نام پر منافقت اور تکبر سے کام لے رہا ہے،فرانس سے معافی مانگی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے۔

پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا خود جو کچھ مرضی کریں وہ آزادی اظہار رائے میں شمار ہو جا تا ہے،دوسروں کی باری آزادی اظہار رائے کہاں چلا جا تا ہے ؟انہوں نے کہا فرانس سے معافی مانگی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے،شیریں مزاری کا کہنا تھا فرانسیسی صدر کے بارے میں ٹویٹ پر ان کو توہین محسوس ہوتی ہے۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا مغربی ممالک آزادی اظہاررائے پر دوغلا پن کا شکار ہیں ،فرانس کے صدر سے متعلق ٹویٹ ان کو توہین محسوس ہو تی ہے ،اور ہمارے نبی ﷺ   کی شان میں گستاخی ان کو آزادی اظہار رائے لگتی ہے ،اپنی دفعہ یہ لوگ کہتے ہی آزادی اظہار رائے کا احترام کیا جائے اور جب کوئی دوسرا کرتا ہے تو اس وقت ان لوگوں کی آزادی اظہار رائے کہاں چلی جاتی ہے ؟

شیریں مزار ی نے اپنی ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ جس ذرائع سے خبر میں نے پڑھی تھی اگر انہوں نے اپنی اُس خبر پر معافی مانگ لی ہے تو پھر میں نے اس کے بعد وہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دی ۔

شیریں مزاری نے کہا کہ میں نے اپنے ٹوئٹ میں فرانسیسی صدر میکرون کا نازیوں کیساتھ موازنہ کیا تھا جس پر ان کو اپنی توہین محسوس ہو ئی ،ان لوگوں کو اس وقت یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی جب یہ ہمارے نبی ﷺ   کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ،ہماری مقدس کتاب قرآن مجید کو جلاتے ہیں ،اس وقت ان لوگوں کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ان لوگوں کی حرکتوں کی وجہ سے مسلمانوں کا دل دکھتا ہے ،ان لوگوں کو آزادی اظہار رائے کا دوغلا پن بند کرنا پڑے گا ۔یہ مغربی ممالک کی منافقت ہے ۔


ای پیپر