Pandemic, PDM movement, upset, PTI government
23 نومبر 2020 (13:20) 2020-11-23

پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک سے حکومت سخت ناراض ہے۔ کرونا وائرس کا پتا نہیں کہ وہ اپوزیشن کے جلسوں سے پھیل رہا ہے یا نہیں۔ گلگت بلتستان میں اتنے جلسے ہوئے خود وزیر اعظم نے بھی بڑا جلسہ کیا۔ کمال ہے کرونا وائرس کو خبر تک نہ ہوئی ورنہ پھیل جاتا۔ شاید دور دراز علاقہ تک اس کی رسائی نہیں مگر اپنے یہاں چھوٹے بڑے شہروں میں اتنے مذہبی جلوس نکلے، ہزاروں افراد شریک ،کسی کے چہرے پر ماسک نہیں، وائرس چپ چاپ بیٹھا رہا۔ تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی گزشتہ جمعرات کو انتقال کر گئے ہفتہ کو لاہور کے مینار پاکستان گرائونڈ (گریٹر اقبال پارک) میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ لاکھوں عقیدت مندوں نے عاشق رسول کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ ایس اوپیز کہاں گئیں، لاہور بلکہ ملکی  تاریخ میں اس سے بڑا جنازہ چشم فلک نے نہیں دیکھا۔ کرونا وائرس مینار پاکستان پر چڑھ کر عقیدت مندوں کی وارفتگی دیکھ رہا ہو گا۔ نیچے اترنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ حکومت نے تو کرونا وائرس کو ملک بھر میں پھیلا دیا ہے۔ کہنے لگے’’ کرونا سیاسی نہیں حقیقی ہے جلسے خطرناک ہیں‘‘ دس بیس ہزار افراد جمع نہیں ہوسکتے۔ پچاس ساٹھ لاکھ افراد کے اجتماع کی بات الگ ہے۔ اتنے لوگوں سے کرونا ڈر کر بھاگ جاتا ہے۔ پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے پہلے اتنا شور، اتنے بیانات، خواب غفلت میں مدہوش پڑا کرونا وائرس شور قیامت سے ہڑ بڑا کر جاگ اٹھا اور ہفتہ دس دن میں کئی نامور شخصیات کو لے گیا۔ غالب بھی غالباً اسی قسم کے کسی وائرس سے بے خوابی کا شکار تھے کہنے لگے۔ ’’موت کا ایک دن معین ہے، نیند کیوں رات بھر نہیں آتی‘‘ ملک بھر میں کرونا کرونا ہو رہا ہے۔ شاید اپوزیشن کو پھیلنے سے روکنے بلکہ سکڑنے پر مجبور کرنے کا اس سے بہتر فارمولا کوئی نہیں سوجھا۔ بیانات سے لگتا ہے کہ کرونا وائرس 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت حاصل اختیارات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود ہی صوبوں میں پھیلتا چلا گیا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے کرونا کے ڈر سے جلسہ کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ عوام سے ’’دلی ہمدردی ‘‘کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا۔ اسی ہمدردی کی بنا پر حکومت نے گلگت بلتستان کا الیکشن جیت لیا ہے۔ کے پی کے کے علاوہ پنجاب حکومت بھی کرونا اور اپوزیشن سے خوفزدہ ہے۔ اس نے بھی ملتان اور لاہور کے جلسوں کی ابھی سے اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ کمال ہے حکومت ایک ان دیکھے وائرس سے خوفزدہ ہے گیارہ لیڈروں کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہے۔ حکومتوں نے دہائی دینی شروع کردی پشاور نہ آنا کرونا چمٹ جائے گا جلسہ سے ایک روز پہلے لاہور میں لاکھوں کے اجتماع نے سارے خدشات بے بنیاد کردیے۔ بیانات کا مقصد یہی تھا کہ لوگ کرونا وائرس سے اتنا ڈر جائیں کہ جلسہ ہی نہ ہو۔ اگر ہو تو کرسیاں خالی پڑی رہیں تاکہ پی ڈی ایم والوں کو مفت میں کرایہ دینا پڑے۔ حیرت ہے پی ڈی ایم والے کرونا سے ڈرتے نہیں بلکہ لنگر لنگوٹ کس کر لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ کہنے لگے دمادم مست قلندر ہوگا۔ شاید قلندر کی برکت سے کرونا بھاگ جائے گا۔ کوئٹہ اور کراچی کے جلسوں سے پی ڈی ایم والوں کے حوصلے بڑھے ہیں۔ اتنے بڑے اجتماعات ہوئے کرونا نے کسی کو ہاتھ نہیں 

لگایا۔ ایک محترم سے سبب پوچھا بولے کرونا مذاق نہیں حقیقت ہے عذاب  الٰہی ہے۔ بقول شخصے ’’کٹی جاتی ہے سانسوں کی پتنگیں، ہوا تلوار ہوتی جا رہی ہے‘‘ اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اپوزیشن لیڈر ان دنوں بلکہ گزشتہ ڈھائی سال سے کرونا سے بڑے وائرس کا مقابلہ کر ر ہے ہیں۔ اس لیے ڈر خوف ختم ہوگیا ہے۔ کرونا اس وائرس سے چھوٹی چیز ہے اپوزیشن کا کون سا لیڈر ہے جس کا آمدن سے زیادہ اثاثوں کی انکوائری کے بعد ’’رزلٹ مثبت‘‘ نہ آیا ہو۔ چنانچہ کسی کو نیب  حوالات، کسی کو جیل کے قرنطینہ میں بند کر دیا گیا ۔ ہر پیشی پر ’’چودہ روزہ قرنطینہ‘‘ شہباز شریف پی ڈی ایم تحریک کے آئندہ دنوں میں انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے تھے۔ ان پر نیب وائرس کا حملہ ہوا پکڑے گئے اتنے ریفرنس اتنے کیس ’’صحت یاب‘‘ ہونے میں سالوں لگ جائیں گے۔ ’’سیاسی وائرس‘‘ عقل مند ہے دیکھ بھال کر چمٹتا ہے۔ عزم صمیم ہے کہ سارے لیڈر یکے بعد دیگرے قرنطینہ میں پہنچ جائیں  تاکہ نئے پاکستان والے اپنی میعاد پوری کر کے دوسری میعاد کے لیے معاملات طے کرسکیں۔ امریکی صدر کی طرح ہمارے وزیر اعظم کو بھی کم از کم دوبار تو اقتدار ملنا چاہیے۔ پانچ سال میں اقتدار کا نشہ پورا نہیں ہوتا۔ بندہ بار بار ہٹائے جانے سے نواز شریف کی طرح درجن بھر بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے ویسے بھی پہلے پانچ سال صرف اعلانات کرنے میں گزر جائیں گے جس پر مریم اورنگزیب طعنہ دیں گی کہ 13 ارب ڈالر کے قرضے لے کر بھی ایک اینٹ نہیں لگائی۔ شاید انہیں علم نہیں کہ اعلانات پر عملدرآمد کے لیے مزید پانچ دس پندرہ بیس سال درکار ہوں گے۔ ’’ اک عمر خضر چاہیے اس زلف کے سر ہونے تک‘‘ بات دور نکل گئی۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے ہمیں پشاور میں جلسہ کرنے کی مخالفت کی لیکن خود بھی احتیاط نہیںکر رہی۔ دو دن بعد خود پشاور میں جلسہ کرے گی۔ کیا کرونا وائرس بھی دیگر مخلوق کی طرح جانبداری پر اتر آیا ہے۔ ’’یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے‘‘ محترم اوریا مقبول جان نے زبردست بات کہی کہ ’’پی ڈی ایم کو اب عمران خان اور کرونا دونوں سے لڑنا ہوگا‘‘ اپوزیشن لیڈر کرونا سے تو لڑ لیں گے عمران خان سے کیسے نمٹیں گے؟ محنت یا تدبیر، محنت کر کے دیکھ لی گلگت بلتستان میں پھر بھی ہار گئے۔ کوئی تدبیر بھی نہیں سوجھ رہی۔ ’’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں جلسوں نے کچھ نہ کام کیا‘‘ مائی لارڈ کرونا وائرس سیاسی یا حقیقی اسے چھوڑیے آگے کی سوچیں اقتدار لمبی کھجور چڑھنا مشکل، مہنگائی کے مارے عوام روز روز کے اعلانات سے مطمئن نہیں ہو رہے۔ آئی پی ایس او ایس کے سروے کے مطابق 49 فیصد نے وفاقی حکومت کو مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ صرف 15 فیصد نے سابق حکومتوں پر ذمہ داری ڈالی۔ ’’آنکھیں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا‘‘ مہنگائی میں کمی کے اعلانات کے باوجود چینی 115 روپے کلو، تاریخ کی بلند ترین سطح پر موجود۔ دو چار روپے کی کمی فضول، مہنگائی کا سونامی سب کچھ بہا لے جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ کرونا وائرس کے بجائے مہنگائی سے خوفزدہ ہیں۔ اپوزیشن کو چھوڑیں ’’لو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بے ننگ و نام ہے‘‘ اپنے بھی چیخ اٹھے ہیں کہ ملک کی اقتصادی تباہی کا اصل ذمہ دار حکمران ٹولہ ہے۔ پی ڈی ایم کو اس سے تقویت ملے گی۔اس کے دو جلسے باقی، دو ماہ کا الٹی میٹم، ستم گر دسمبر آن پہنچا۔ جنوری بھی دور نہیں لاہور سے اسلام آباد جتنا فاصلہ، جلسوں کے بعد لانگ مارچ اور اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر وہی 126 دن کا تاریخی دھرنا، شنید ہے کہ ’’مہربان وزیر اعظم‘‘ اپنے وعدے کے مطابق دھرنا دینے والوں کو کنٹینر فراہم کریں گے۔ روٹی پانی کے شاہانہ انتظامات کیے جائیں گے۔ پولیس کو شیلنگ اور لاٹھی چارج سے منع کردیا گیا ہوگا۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے لیکن یہ باتیں دو ماہ بعد کی ہیں قابل لیڈر ’’یوٹرن‘‘ کو برا نہیں سمجھتے۔ وقت آنے پر فیصلہ کریں گے۔ اس مختصر عرصہ میں دو آپشن زیر بحث ہیں۔ مختلف قومی مسائل کے حل کے لیے گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ بہترین آپشن لیکن موجودہ حالات میںنا ممکن، وزیر اعظم ’’دشمنوں‘‘ کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں۔ ادھر اپوزیشن بھی طلب گار نہیں۔ مذاکرات سے صاف انکاری۔ دوسرا آپشن خطرناک لیکن عین ممکن۔ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص ن لیگ پر شب خون، بابر اعوان اور شیخ رشید نے عندیہ دے دیا عقل مندرا اشارہ کافی است۔ ایک نے ن لیگ کو کالعدم قرار دینے کی تجویز دی، دوسرے نے بند گلی میں دھکیل کر اس کی سیاست دفن کرنے کی دھمکی دی۔ کیا اس سے بات بن جائے گی۔ سیاسی گرو کہتے ہیں دونوں صورتوں میں بات بگڑنے کا 


ای پیپر