Gilgit-Baltistan elections, PPP, PML-N, PTI
23 نومبر 2020 (12:28) 2020-11-23

سلام گلگت بلتستا ن کی پا کستانیت کو کہ وہا ں کر ونا وا ئرس کے خو ف اور برف باری کے خطرات، شدید برف باری اور منفی 6 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکلے۔ غذر میں پھنڈر میںشد ید بر فبا ری میں بھی پولنگ جاری رہی۔ جوانوں کے علاوہ بوڑھے بزرگ بھی پولنگ سٹیشنوں پر پہنچے۔ ایک 90 سالہ بزرگ نے بھی ووٹ ڈالا۔ غذر کے علاقے شیر قلعہ میں ایک شہری ضعیف دادی کو پیٹھ پر اٹھا کر پولنگ سٹیشن لایا۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات مجموعی طور پر پُرامن ماحول میں ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف کو 10 نشستوں پر برتری حاصل رہی، ایک نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار جعفر شاہ کے انتقال کے سبب الیکشن ملتوی کردیا گیا تھا۔ سیکورٹی کے موثر انتظامات کیے گئے۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع اور شام 5 بجے تک جاری رہی جہاں 4 خواتین سمیت 330 امیدوار مدمقابل تھے۔  7 نشستوں پر آزاد امیدوار جیتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی 3 جبکہ مسلم لیگ (ن) کے حصے میں صرف دو نشستیں آئی ہیں۔ اگر پولنگ پیٹرن کو دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کے عوام نے مین سٹریم سیاسی جماعتوں کے حق میں رائے دی ہے جو اُن کی جانب سے جمہوری دھارے سے تسلسل کے ساتھ وابستگی کے ایک مثبت رجحان اور کمٹمنٹ کی بہترین عکاسی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے جمہوری شعور کا مثالی مظاہرہ اپنے بیلٹ کے ذریعے کیا ہے۔ سیاسی دانشوروں کا کہنا ہے کہ تمام تر سیاسی شورشرابے اور ہنگامہ خیز سیاسی تقریریں سننے پر بھی عوام نے ملکی صورتحال کے وسیع تر تناظر میں بالغ نظری پر مبنی انتخابی رائے کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ اس لیے کہاوت ہے کہ عوام کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتے، یہ انتخابات جذبات اور سنجیدہ فیصلہ کے بیچ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں جس میں ووٹرز نے اپنے بچوں کے روشن مستقبل اور ملک و قوم کو درپیش حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دور رَس فیصلہ کیا اور قوم پرستانہ جذباتی ریلے میں بہنے سے گریز کیا۔ ایسا فیصلہ کیا جس پر تاریخ بھی اپنی مہر تصدیق ثبت کردے گی۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے ان انتخابات کے دوران اپنی مہم جارحانہ انداز میں جاری رکھی۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کے انتخابی پاور پلے میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلال بھٹو او رمسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز نے ووٹر تک اپنا پیغام موثر طریقے سے پہنچایا۔ گلگت بلتستان میں وہ مسلسل انتخابی مہم میں مصروف رہے، بعد میں پی ٹی آئی کے موسمی حالات بلاشبہ صبر آزما تھے۔ سردی اور برف باری کی شدت کے باوجود ووٹرز نے پولنگ بوتھس کا رخ کیا۔ سیاسی جماعتوں نے پری پول دھاندلی کے الزامات کا ٹیمپو برقرار رکھا تاہم کہیں کہیں سست رفتار ووٹنگ کی شکایات کے باوجود بڑے پیمانے کی شکایات سے ووٹنگ معطل نہیں ہوئی۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن نے ایک پریس کانفرنس میں فافن کے مبصروں کی گنتی کے وقت پولنگ سٹیشنز پر موجود رہنے پر اعتراض کی نشاندہی کی۔ چنانچہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایسے واقعات کے ضمن میں کہا ہے کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے حتمی نتائج میں شاید دیر لگے مگر نتائج پولنگ ایجنٹوں کے سامنے بنائے جارہے ہیں۔ 

جس فارم پر رزلٹ بنتا ہے اس پر تمام پولنگ ایجنٹوں کے دستخط ہوتے ہیں۔ ووٹر ہمارے اندازوں سے بھی زیادہ تعداد میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں صاف اور شفاف الیکشن ہوئے ہیں جس پر عوام بہت خوش ہیں۔ اگر کہیں دھاندلی ہوئی ہے تو انہیں بتایا جائے ورنہ امریکہ جیسے ملک میں ٹرمپ بھی کہہ رہا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے گلگت حلقہ 1 اور گلگت حلقہ 2 کے مختلف پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا۔  انتخابات کے موقع پر ایک ہزار 141 پولنگ سٹیشنز میں سے 297 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔ تا ہم چند علاقوں میں پولنگ کا عمل تاخیر کا شکار ہوا، ان میں چلاس، دیامر 16 ون کے پولنگ سٹیشن تھک لوشی میں 7 بوتھوں میں سے ایک پر عملہ موجود نہیں تھا۔ حلقہ 2 کشروٹ فاریسٹ پولنگ سٹیشن پر پولنگ سست روی کا شکار رہی۔ تاہم مجموعی طور پر شدید سردی کے باوجود گلگت کے پولنگ سٹیشنز میں لوگوں نے بڑی تعداد میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ سکردو میں عام لوگوں کے ساتھ مریضوں کو بھی ووٹ کاسٹ کرنے پولنگ سٹیشنز لایا گیا۔ گلگت بلتستان کی عبوری حکومت کی جانب سے پولنگ کے عملے کے لیے فیس ماسک، دستانوں اور سینٹائزر پر مشتمل 8 ہزار بیگ فراہم کیے گئے۔ پولنگ کے دوران سیکورٹی کے لیے گلگت بلتستان ، پنجاب، خیبر پختونخواہ، سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 15 ہزار سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات ملکی سیاسی منظرنامہ میں ایک گرینڈ ریہرسل ثابت ہوئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے جمہوری روایات کا اعادہ کیا، تند و تیز تقاریر کیں، ووٹرز کو اپنی طرف مائل کیا۔ گلگت بلتستان کی ترقی اور عوام کی خوش حالی کے دل فریب وعدے کیے لیکن اب جبکہ انتخابات کا ڈراپ سین ہوا ہے اور عوام اس بات کی بجا طور پر امید رکھتے ہیں کہ انتخابی دنگل کا جمہوری ٹیمپو آئندہ ملکی انتخابات کے سیناریو میں بھی نظر آنا چاہیے۔ گلگت بلتستان الیکشن میں عوام نے بعض خوش نما ٹرینڈ سیٹ کیے۔ ایک ملٹی لیٹرل انتخابی مہم چلانے کا ماڈل پیش کیا۔ عوام نے مذہبی فرقہ وارانہ، مسلکی اور انتہا پسندانہ رجحانات کے پیش نظر اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ جمہوریت اور علاقے کے سماجی، اقتصادی اور معاشی مفادات کو دیکھتے ہوئے اپنے ضمیر کی آواز پر رائے دی۔ اب ضرورت اسی بات کی ہے کہ مین سٹریم سیاسی جماعتیں سسٹم کو استحکام بخشیں۔ جمہوریت اور رواداری کو ایک پیج پر رکھنے کی اپنے کارکنوں کی تربیت کریں۔ سیاسی کلچر کو الزام تراشی، بہتان طرازی، رعونت، تکبر، گالم گلوچ اور شعلہ بیانی سے پاک رکھیں۔ تدبر، استدلال، متانت اور شائستگی کی جمہوری سوچ سے قوم کو فیضیاب کریں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اس بات کا خیال رکھیں کہ سیاسی تقاریر کو نصابی معیار اور مرتبہ عطا ہو۔ ہمارے پارلیمینٹیرینز میں بھی ایڈ منڈ برک جیسا فصیح و بلیغ مقرر پید اہو جو قانون سازی کی روایتوں کو بدل ڈالے۔ سیاستدانوں کو مدلل گفتگو او رجلسے میں انداز تکلم سے آگہی ملے۔ پارلیمینٹ کی بالادستی کی باتیں سبق آموز اور فکر انگیز بھی ہوں۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ سیاسی جماعتیں قانون سازی کے وقت ان باتوں کو پیش نظر رکھیں کہ ان کے جمہوری رویے ملک میں انتخابی شفافیت کو آگے بڑھانے میں ممد و معاون ثابت ہوں۔ نئی نسل کی جمہوری تربیت ہر قسم کی نظریاتی و فکری آلائشوں سے پاک ہو۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کی عملی اور فکری بنیاد کو مضبوط بنائیں۔ سیاسی کیڈر کو گراس روٹ لیول پر فروغ دیں، عوام سے قریبی رابطہ کو ثانوی عادت بنایا جائے۔ ووٹر ہمیں صرف اس وقت یاد نہ آئیں جب الیکشن سر پر ہوں ، بلکہ جمہوریت کو عوام کی ہمہ وقت خدمت کا ذریعہ بنانے کے بعد ہی قوم ایک نئے جمہوری عہد کے سورج کو طلوع ہوتا دیکھے گی۔ حکومت عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔ مہنگائی کو کنٹرول کرے، جو بے قابو ہوئی جاتی ہے۔ لوگ روزمرہ کی سبزی خریدنے کی استطاعت سے محروم ہیں۔ گھر کی دیواروں پر دھمال ڈال رہی ہے، عالم پناہ! مہنگائی پروپیگنڈا نہیں ہے۔بلاشبہ چیف الیکشن کمشنر اور ان کی ٹیم جمہوری قافلے کی رہبری کرتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری شفاف انتخاباب کا انعقاد ہے اور اسی انتخابی عمل کا ایک شفاف انتخابی نظام ہی ضمانت دیتا ہے۔ ایک بااختیار الیکشن کمیشن جمہوریت کی روح ہے۔ جبکہ ہر دبائو، ترغیب اور خوف سے بالا چیف الیکشن کمشنر ہی ملک کو منصفانہ انتخابی نظام کی سوغات دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ گلگت بلتستان کے الیکشن سے سیاستدانوں کو ذہن سازی کا یہ موقع اور تجربہ بھی ملا 


ای پیپر