Lying, US war strategy, pillar, Pentagon, Report
23 نومبر 2020 (12:12) 2020-11-23

’’ ہمارے ملک میں جھوٹ ایک اخلاقی مقولہ نہیں، بلکہ ریاست کا ایک ستون بن چکا ہے‘‘: الیکزینڈر سلزینسٹائن

واشنگٹن پوسٹ نے گزشتہ دنوں دو ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل پنٹاگون کی وہ خفیہ رپورٹس شائع کیں جو افغانستان میں طویل ترین امریکی جنگ کی حکمت عملی کی ناکامی سے متعلق ہیں۔ اخبار کے مطابق افغان جنگ سے متعلق امریکیوں کے ساتھ مسلسل غلط بیانی کی گئی تھی۔ تھری سٹار امریکی جنرل ڈگلس لیوٹ نے، جو کہ صدر بش اور اوباما کے ادوار میں افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈر رہے، ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ’’ہم بالکل نہیں جانتے تھے کہ ہمیں کیا کرنا ہے‘‘۔ تکبر اور لاعلمی افغانستان کی امریکی پالیسی کا خصوصی نکتہ تھی، رہی سہی کسر اندھی طاقت کے نشے نے پوری کر دی تھی۔ افغانستان پر حملہ 9/11 کے امریکا پر حملوں کا انتقام لینے کیلئے کیا گیا حالانکہ ان حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں نہیں ہوئی تھی؛ اسامہ بن لادن کے افغانستان میں تربیتی کیمپوں کی کہانیاں جھوٹ کے علاوہ کچھ نہ تھیں۔

طالبان بھی دہشت گرد نہیں تھے۔ وہ ہلکے ہتھیاروں سے لیس قبائلی جنگجو تھے جو کہ لٹیروں اور امریکی حمایت یافتہ افغان انٹیلی جنس سروسز جنہیں کمیونسٹ پارٹی چلاتی تھی، ان کے خلاف لڑ رہے تھے۔ طالبان کے پیش رو افغان مجاہدین تھے جنہیں امریکی صدر رونالڈ ریگن نے حریت پسند قرار دیا تھا۔ 2003ء میں امریکا نے یوٹرن لیتے ہوئے افغان کیمونسٹوں کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا تھا جنہوں نے وسط ایشیا سے جنوبی ایشیا تک امریکی پائپ لائن بچھانے میں تعاون کا وعدہ کیا تھا، جسے تیل و گیس کی دولت سے مالامال بحیرہ کیسپین کے علاقے سے پاکستان تک بچھایا جانا تھا۔ طالبان کے امریکی پائپ لائن منصوبے کی تائید سے انکار پر انہیں دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ حملے کے بعد افغانستان پر مسلط کی گئی امریکی حکومت سی آئی اے کی اثاثوں پر مشتمل تھی جن میں جنگی سردار، ڈرگ لارڈز اور کیمونسٹ شامل ہیں۔ امریکا نے اربوں ڈالر کرائے کے جنگجوؤں کی بھرتی، جنگی سرداروں اور جرائم پیشہ افراد پر خرچ کر ڈالے۔ سنگین جنگی جرائم میں ملوث افغان عناصر اہم امریکی اتحادی بن گئے۔

طالبان نے اپنے دور میں منشیات کی 90فیصد تجارت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ مگر جیسے ہی امریکا نے کابل پر قبضہ کر کے اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کی، منشیات کی پیداوار میں ہوشربا اضافہ ہو گیا۔ امریکی فورسز اور ان کے اتحادی اس کی تجارت میں ملوث ہو گئے تاکہ افغان معیشت چلتی رہے؛ امریکا کا افغانستان آج دنیا میں منشیات کا سب سے بڑا ڈیلر ہے۔ چند صحافی جنہوں نے افغانستان کے حقائق سامنے لانے کی کوشش کی، انہیں اداروں نے فارغ کر دیا۔ مجھے عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا جھوٹا دعویٰ اور افغانستان میں امریکی فتح کی حقیقت بے نقاب کرنے پر سی این این سے نکال دیا گیا۔ کئی ریڈیو اور ٹی وی چینلز نے اس وقت مجھ پر پابندی لگا دی جب میں نے داعش کی حقیقت بے نقاب کی کہ وہ مغرب کی ایک پیداوار ہے جسے ترکی، امریکا، فرانس، برطانیہ اور اسرائیل کی سرپرستی حاصل ہے۔ مجھ پر ایک بنیاد پرست ہونے کا الزام بھی لگا۔

واشنگٹن پوسٹ نے جو خفیہ رپورٹس شائع کی ہیں، ان کے بیشتر حقائق میں کئی مرتبہ منظر عام پر لا چکا ہوں، کہ کیسے امریکی حکومت جھوٹ اور آدھے سچ کا سہارا لے کر قرون وسطیٰ کے دور کی ایک قوم کے خلاف جنگ کا جواز پیش کرتی رہی، جس نے سٹریٹجک پائپ لائن روٹ کے مطالبات مسترد کرنے کی جرأت کی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ نے ماضی میں وہ جھوٹ پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جس نے عراق پر امریکی حملے کی راہ ہموار کی۔ آج یہ اخبار افغان جنگ کے حقائق بے نقاب کر کے اپنی غلطیوں کا کفارہ ادا کر رہا ہے جس میں ہزاروں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ افغانستان میں امریکی طیاروں نے اندھی بمباری کی، جن میں ہزاروں معصوم افغان شہری ہلاک ہوئے، فاقہ کشی کے باعث ہلاکتیں اس کے علاوہ ہیں۔ پنٹاگون کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے افغانستان میں دس کھرب ڈالر کے قریب ضائع کئے، جس کے اثرات کہیں دکھائی نہیں دیتے، صرف بکثرت تباہ حال دیہات اور وسیع پیمانے پر کیمیائی آلودگی دیکھنے میں ملتی ہے۔ اس کا ثبوت افغان دیہات پر کارپٹ بمباری کرنے والے امریکی بی ون اور بی 52طیارے، وہ گن شپ ہیلی کاپٹر ہیں جنہوں نے شادی بیاہ کی تقریبات پر بم برسانے سے بھی گریز نہیں کیا۔

چند ادارے چھوڑ کر بیشتر امریکی میڈیا نے افغان عوام کے خلاف جنگ میں پنٹاگون کا مکمل ساتھ دیا، شرمناک جھوٹی کہانیاں بیان کر کے امریکی مظالم پر پردہ ڈالتا رہا۔ جنگیں ایسا عفریت ہیں جس کا فائدہ صرف سیاستدانوں اور فوجی کنٹریکٹرز کو پہنچتا ہے۔ ماضی کے تمام صدور جو کہ دنیا کے غریب اور پسماندہ ترین قوم کے خلاف جنگ پر فخر کرتے رہے، ان کی کڑی مذمت ہونی چاہیے۔ ہمیں پشتون قبائلی جنگجوؤں کا بھی سوچنا چاہیے جو کہ محض کلاشنکوف کیساتھ دنیا کی طاقتور ترین فوج کے خلاف کھڑے ہیں۔ ہمیں خلوص دل کے ساتھ ان سے معافی مانگنے کے علاوہ افغانستان کی تعمیر نو 


ای پیپر