Development, Balochistan, Kulbhushan Jadhav, Raw, Pakistan Army
23 نومبر 2020 (11:51) 2020-11-23

بلوچستان کے احوال لکھنے شروع کروں تو کبھی کبھی اپنا بچپن اوراس دور کی تکالیف شدت سے یاد آنی شروع ہو جاتی ہیں ۔عدالتیں میرے کالج کے راستے میں تھیں ۔ درمیان میں ایک چھوٹی سی ٹوٹی دیوار تھی۔اکثر چھٹی کے وقت کچہری جا کر بیٹھ جاتا۔وکلا درختوں کے نیچے بیٹھے ہوتے تھے اور گھر جاتے وقت اپنی کرسیوں کو زنجیروں سے جکڑ کر درختوں کے ساتھ باندھ جاتے تھے۔ لیکن وہاں ان اجڑی ہوئی کچہریوں کی رونق بڑی قابلِ دید ہوتی تھی۔تمام کام کرنے والوں کے اپنے اپنے انداز ہوتے تھے۔ ادب و احترام کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا۔ کہیں درختوں کی اوٹ میں تخت پوشوں اور کرسیوں کے اجتماع، اہلکاروں کے بلاوے ، سردیوں کی دھوپ میں لان کا خوبصورت ماحول، وکلا کی سیاسی گپ شپ اور تبصرے، لیکن آج اس کے کھنڈرات ڈراؤنے روپ دھارے ہوئے ہیں ۔اس احاطہ میں کیا کچھ ہوتا یہ تاریخی واقعات ہیں ۔کہیں سچ اور جھوٹ کے آمیزش کا عمل، کہیں دکھ درد کی چیخوں کی پکار، کہیں ظلم اور ظالم کی دست اندازی کی داستانیں ، کہیں مظلوم کے زخموں سے رستے میں خون کے داغ ، کہیں اصلیت کو چھپانے کے حربے، کہیں حقیقت کا کھوج لگانے کی غوطہ خوری، کہیں بچوں اور ماؤں کی آہ و بکا، کہیںدوسروں کے حقوق پر ڈاکے ڈالنے کے حربے، کہیں دھواں دھار دلائل میں چھپی ہوئی سچائی، کہیں شروفت کی آوازوں میں ڈوبتی ہوئی حقیقت، کہیں تلخ کلامیوں کی الجھنوں میں خود غرضیوں کے رنگ، کہیں دکھ درد کی کہانیوں میں ہزار پردوں میں چھپے ہوئے کھلتے راز، کہیں ان زبانوں کو بند کرنے کی دھمکیاں ، کہیں سچائیاں کی خواہش اور کہیں جھوٹ کی مکاریاں ، کسے انصاف ملا، کون جیتا، کون ہارا، کہاں پلڑے کا وزن جھکااور کس کا چہرہ غمناک ہوا۔اگر کہیں انصاف کی مہک آئی تو دوسری جگہ سے بدبودار جھونکے بھی محسوس ہوئے۔ چکوال کی عدالتوں کا لکھتے وقت میرے سامنے بلوچستان کے حالات کا آئینہ بھی آ رہا ہے۔وہ لوگ بھی کسی قدر بے بس اور بدبخت ہیں ۔ کون سے ایسے مظالم ہیں جو وہاں کے نوابوں ، سرداروں اور وڈیروں کی طرف سے ان پر نہیں ڈھائے گئے۔تعلیمی ادارے اور ہسپتال تک بھی نہیں بننے دئیے گئے۔ بلوچستانیوں کی ترقی میں کوئی اور رکاوٹ نہیں تھے 

بلکہ ان کے اپنے ہی نواب اور سردار ہیں ۔جب میں اپنی مدد آپ کے تحت بلوچستان میں گھوم رہا تھا تو بہت سارے پڑھے لکھے لیکن حالات سے مجبور لوگوں سے بھی واسطہ پڑا ، حالات سے آگاہی ہوئی، پہاڑوں میں چھپے مجبور فراریوں سے بھی طویل ملاقاتیں ہوئیں ۔جنہیں لوگ دہشت گرد، مفرور، چور یا ڈاکو سمجھتے ہیں لیکن وہ ایسے لوگ نہیں ہیں ۔ بلوچستان کے شمال مشرقی علاقے ڈیری بگٹی ، لہڑی، کوہلو کے علاقے کے لوگوں میں 95فیصد نواب اور سردار کے حکم پر گئے ہوئے ہیں ۔اسی طرح دوسری جگہوں پر بھی90فیصد امن پسند، غریب اور مجبور لوگ نوابوں کے حکم پر پہاڑوں میںبیٹھے ہوئے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے خواتین بھی ان فراریوں کے ساتھ رہتے ہیں۔نواب اورسردار ان کو ہندوستان کی طرف سے اربوں روپے ملنے والی رقم میں سے بھی انہیں دو یاتین ہزار روپے فی خاندان دیتے ہیں ۔یہاں میں ایک بات کی بڑی پرزور اور واضح الفاظ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ پورے بلوچستان میں ایسا نہیں ہوتا اور سارے نواب اور سردار بھی ایسے نہیں ۔ بڑے بڑے شریف طبیعت، محبِ وطن اور انسان دوست سردار بھی اسی صوبے میں رہتے ہیں ۔میرا آج کا کالم لکھنے کا مقصد بلوچستان میں ’’را‘‘ کی نئی چالوں سے پرداہ اٹھانا ہے۔ بلوچستان میں چھوٹے چھوٹے گروپ بھی کلبھوشن جیسے کرداروں کی وجہ سے ہندوستان سے پیسے لیتے ہیں لیکن شمال مشرقی بلوچستان میں براہمداغ بگٹی اور ہربیار مری گروپ کے واضح ثبوت حکومت، سیکیورٹی ایجنسیوں کے پاس بھی موجود ہیں ۔راقم کو ذاتی طور پر پہاڑوں سے اتر کر راکٹ لانچر سمیت خطرناک ہتھیار حکومت کے حوالے کر کے حکومتی دھارے میں شامل ہونے والے فراریوں نے بتایا کہ ہم براہمداغ بگٹی کے حکم سے اوپر پہاڑوں پر گئے ہوئے تھے۔براہمداغ ہمیں فی خاندان 2000 روپے ماہانہ دیتا تھا۔اس کا منشی ہر ماہ یہ پیسے فراریوں میں تقسیم کرتا تھا۔اب اتنے خاندانوں کے پیسے ہر ماہ ہندوستان ہی دے سکتا ہے۔براہمداغ ان فراریوں سے دہشت گردی کی وارداتیں بھی کرواتا ہے جس سے سینکڑوں لوگ شہید ہو گئے۔چند دن سے بلوچستان میں ایک خبر بڑی تیزی سے گردش کر رہی ہے کہ براہمداغ سے بلوچستان حکومت صلح کی پینگیں بڑھا رہی ہے اور جلد ہی براہمداغ کو پاکستان واپس بلایاجا رہا ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو بہت بڑی غلطی ہو گی۔ براہمداغ سیکڑوں لوگوں کا قاتل ہے۔ کیا اس کو معاف کرنے سے مقتولوں کے رشتہ دار یا لواحقین حکومت کے حامی رہیںگے؟ کیا تمام پاکستانیوں اور خاص کر بلوچستانیوںکا اعتماد بلوچستان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے اٹھ نہیں جائے گا اورکیا وہ بلوچستان یا پاکستان آ کر اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کا وفادار رہے گا؟ یقینا نہیں۔ چونکہ اس کی دہشت گرد تنظیمیں ان کے بیرون ملک بیٹھے رہنے سے بے اثر ہو گئی ہیں۔ اس لئے وہ نئے لوگوں سے رابطے بڑھانے، اپنی دہشت گردی کو منظم کرنے، اپنی طاقت زیادہ سخت طریقے سے استعمال کرنے کے لئے پاکستان آئے گا۔کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد ’’را‘‘ کی پاکستان میںرابطوں میں کمی آ گئی تھی۔ ’’را‘‘ نے جب محسوس کیا کہ ہندوستان کے آفیسرز کلبھوشن کی گرفتاری سے ڈر گئے ہیں اس کے بعد ہربیار مری اور براہمداغ بگٹی بھی بے اثر ہو گئے ہیں۔ ’’را‘‘ نے نئی چال چلتے ہوئے مردہ گھوڑوں میں جان ڈالنے یا پرانی بیٹریوں کو چارج کر کے میدان میں اتارنے کے لئے براہمداغ بگٹی کو مشورہ دیا ہو گا کہ تمام پاکستانی اور خاص کر بلوچستان حکومت سے صلح کر کے کچھ عرصے کے لئے پاکستان چلے جاؤ۔ نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد براہمداغ کو جلدی میں خوف کے سائے تنظیم کو منظم کرنے کا وقت نہیں ملا تھا۔ اب اگر حکومت اسے خود بلوچستانی دھارے میں شامل کر کے وقت دے گی تو یہ حکومت کی سب سے بڑی خطرناک اور خوفناک غلطی ہو گی۔ وہ پاکستان یا بلوچستانی بن کر پاکستان نہیں آئے گابلکہ ’’را‘‘ کا مستند ایجنٹ ہونے کی حیثیت سے پاکستان میں داخل ہو گا۔ ذمہ دار لوگوں سے گزارش ہوگی کہ اس کو بلانے کے فیصلے پر ہزار بار سوچا جائے۔ آخر میں میری اللہ تبارک تعالیٰ سے دعا ہے کہ خدا کرے یہ سب کچھ میرا وہم ہو۔ خدا کرے کہ یہ آوازہ خلق محض ایک افواہ ہو۔ میرا اپنا جہاں تک خیال ہے بلکہ یقین ہے کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل محمد وسیم اشرف، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل 


ای پیپر