”ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے“
23 نومبر 2020 2020-11-23

رسول اللہ کے ایک عاشق کا جنازہ تھا، بڑی دھوم سے نکلا ،لوگوں نے شایدہی ایسا جنازہ کبھی دیکھا ہو گا ،ٹیلی ویژن کے کیمرے بھی علامہ خادم حسین رضوی کے جنازہ میں شریک لوگوں کو دکھانے کےلئے چھوٹے پڑ گئے ، ہر طرف سے ایک ہی آواز کی گونج تھی، لبیک،لبیک ،لبیک یا رسول اللہ۔ مجدد دوراں ،امیر المجاہدین علامہ رضوی کا تعلق اہلسنت کے بریلوی مکتبہ فکر سے تھا مگر جنازے میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ شامل تھے اور تو اور اس دن دوسرے تمام مکاتب فکر کے لوگوں کی مساجد میں بھی علامہ رضوی کا ہی ذکر رہا،انہی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ جوشیلے اور منفرد خطیب علامہ خادم حسین رضوی نے مختصر وقت میں اپنی سحر انگیز تقاریر سے قومی سیاست اور مذہبی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کیا،وہ اہلسنت کے نمائندہ رہنماءکے طور پرسامنے آئے۔اسلام آباد میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف احتجاج اور دھرنے کے بعد واپس لاہور آئے تو طبیعت زیادہ خراب ہو گئی،خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آبا جانے سے قبل ہی طبیعت خراب تھی مگروہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر عشق رسول سے سرشار ہو کر دھرنا دینے چلے گئے، جمعرات کو صحت بگڑنے پر ہسپتال لایا گیا مگر وہ یہ عارضی دنیا چھوڑ کر اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے،یقینی طور پر اس وقت بھی وہ لبیک اللہم لبیک اور لبیک یا رسول اللہ ہی کا ورد کر رہے ہوں گے۔ 

علامہ مرحوم نے مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم ومغفور کی وفات کے بعد اہل سنت بریلوی مکتبہ فکر کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کیلئے دن رات کام کیا اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے،مرحوم ایک سچے عاشق رسول تھے،عشق و مستی میں اکثر اوقات ان کا لہجہ سخت ترین ہوجاتا بعض اوقات انتہائی تند و تیز الفاظ کا استعمال بھی کر جاتے ، اسی وجہ سے کچھ حلقوں میں ان کی مخالفت بھی پائی جاتی تھی مگر اس اختلاف رائے کے باوجود ان کا جذبہ عشق رسول مسلمہ تھا جس کیلئے کسی دلیل یا ثبوت کی ضرورت نہیں۔

یکم اگست 2015ءکو انہوں نے تحریک لبیک کی بنیاد رکھی ،2017ء میں نواز شریف حکومت کی طرف سے اراکین اسمبلی کے حلف ناموں میں تبدیلی اور ختم نبوت کے حوالے سے حلف نکالنے کی کوشش کیخلاف 2017ءمیں احتجاج اور فیض آباد میں دھرنا دیا،جو کئی روز تک جاری رہا،راولپنڈی اور لاہور سمیت ملک کے اکثر شہروں میں ان کی جماعت نے دھرنے دئیے اور احتجاج کیا،اس دوران تمام شاہراہیں بند کر دی گئیں،سابق وزیر قانون زاہد حامد کو عہدے سے فارغ کئے جانے پر یہ دھرنا ختم ہوائ،2018ءکے الیکشن میں بھی بھر پور شرکت کی،تحریک لبیک جس نے عام انتخابات میں پہلی دفعہ حصہ لیا اور حیران کن ووٹ لئے اسی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی مذہبی ووٹ موجود ہے۔ تحریک لبیک پاکستان 2018 ءکے انتخابات میں حاصل ووٹوں کے حساب سے ملک کی سب سے بڑی دینی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔متحدہ مجلس عمل کی دسیوںمذہبی سیاسی جماعتیں مل کر پورے ملک میں جہاں پچیس لاکھ اکتالیس ہزار پانچ سو بیس ووٹ لے سکیں وہاں تحریک لبیک پاکستان نے اکیلے پورے ملک میں بائیس لاکھ اکتیس ہزار چھ سو ستانوے ووٹ حاصل کر لئے۔ووٹوں کی ترتیب کے لحاظ سے ایم ایم اے ملک کی چوتھی اور تحریک لبیک پانچویں جماعت نظر آئی ہے۔اسی طرح اگر چاروں صوبوں میں ڈالے جانے والے ووٹو ں کا جائزہ لیا جائے تو تحریک لبیک پنجاب کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت بن گئی اس نے یہاں اٹھارہ لاکھ چھیہتر ہزار دو سو پینسٹھ ووٹ لے کر سب کو حیران کر دیا اور یہ سب علامہ رضوی کی ولولہ انگیز قیادت کا نتیجہ تھا۔اس کے مقابلے میں پنجاب میں ایم ایم اے کی تمام جماعتیں مل کر بھی صرف چار لاکھ بیالیس ہزار انتیس ووٹ حاصل کر سکیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تحریک لبیک نے پنجاب میں پیپلز پارٹی سے بھی کم و بیش ایک لاکھ زیادہ ووٹ لئے ، پیپلز پارٹی نے پنجاب میں سترہ لاکھ چوراسی ہزار پانچ سو تیرہ ووٹ حاصل کئے۔ 

علامہ خادم حسین رضوی اللہ کے حضور پیش ہو گئے ہیں ،اب اس جماعت کی قیادت کس کے ہاتھ آتی ہے اور کوئی قد آور لیڈر ان کی کمی کو پورا کر سکتا ہے یا نہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا تا ہم تحریک لبیک میں فوری طور پر ایسا کوئی جوشیلا،منفرد مقرر اور رہنماءدکھائی نہیں دے رہا جو اہلسنت بریلوی مکتبہ فکر کو ایک پلیٹ فارم پر متحد رکھ سکے۔

علامہ خادم حسین رضوی کے لاکھوں مرید معتقد اور کارکن ان کے ایک اشارے پر سر کٹوانے کو تیار رہتے تھے،مرحوم و مغفور سے سیاسی اختلا ف کی گنجائش بہرحال موجود ہے مگردین اسلام کی خدمت اور ناموس رسالت کیلئے ان کی قربانیوں سے قطع نظر نہیں کیا جا سکتا،مذہبی معاملات سے راقم نے خود کو ہمیشہ دور رکھا ہے مگر یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اسلام دشمن ،مسلمانوں اور مملکت خداداد پاکستان کیخلاف ہمیشہ سازشوں میں مصروف رہے،وہ آئین پاکستان سے توہین رسالت کے حوالے سے قوانین حذف کرانے کی ہر دور میں کوشش کرتے رہے،نواز شریف دور میں بھی انہوں نے ارکان اسمبلی کے حلف سے ختم نبوت کی شق نکلوانے کی کامیاب کوشش کی،حکومت نے اس حوالے سے ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کر دی جس نے اسے پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کر دیا لیکن علامہ خادم رضوی نے2017ءمیں اسلام آباد میں کامیاب دھرنا دیکر اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔مرحوم ایک ہمہ صفت،ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، اسلام،ختم نبوت اور عشق رسول سے ان کی وابستگی لازوال تھی،قدرت نے مختصر وقت میں ان سے وہ کام لیا جس کا عشر عشیر کرنے میں لوگ سالہا سال لگا دیتے ہیں،حرف آخر کہ ”ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے“۔


ای پیپر