کرونا پر سیاست
23 نومبر 2020 2020-11-23

کیا کرونا کی دوسری لہر، پہلی لہر سے زیادہ خوفناک ہے؟ کیا کرونا جسے سائنس کی زبان میں کاوڈ 19 (covid-19) کا نام دیا گیا ہے واقعی آندھی اور طوفان کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ کیا اپوزیشن کو حکومت کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنے جلسے ختم کر دینے چاہئیں؟ ان سوالوں کا حتمی جواب دینا تو مشکل ہے کیونکہ ہمارے ہاں کرونا اب ایک وبا کے بجائے سیاسی ہتھیار کا روپ اختیار کر گیا ہے۔ اپوزیشن پہلے دن سے الزام لگا رہی ہے کہ حکومت نے کرونا سے نبٹنے کیلئے فوری اور نتیجہ خیز اقدامات نہیں کئے۔ وہ ڈانواں ڈول رہی۔ کبھی لاک ڈاو¿ن، کبھی سمارٹ لاک ڈاو¿ن اور کبھی سب کچھ کھلا چھوڑنے کی پالیسی اختیار کر لی۔ ماسک کی تلقین کرنے کے باوجود وزراءسمیت اعلیٰ حکومتی عہدیدار بڑی بڑی تقریبات کے اندر ماسک کے بغیر نظر آئے۔ اپوزیشن کے شانہ بشانہ حکومت نے بھی گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ وزراءنے جلسے کئے۔ دوسری طرف حکومت کا الزام ہے کہ اپوزیشن نے کرونا کے مسئلے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ وہ بڑے بڑے اجتماعات کر کے کرونا کے پھیلاو¿ کا سبب بن رہی ہے۔ آج کل کرونا ہمارے ہاں اسی طرح کے سیاسی الزامات کا موضوع بن کر رہ گیا ہے۔ عوام کو اس وبا کے حوالے سے تعلیم و تربیت دینا، احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور میڈیا کے زریعے اس وبا کے ساتھ زندگی گزارنے کے طور طریقے سکھانا، سب کچھ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ اپوزیشن تلی بیٹھی ہے کہ اگر بڑے بڑے اجتماعات ہو سکتے ہیں، تین سو افراد کو شادی کی تقریبات میں شرکت کی اجازت ہے جو عملًا ہزاروں میں بدل جاتی ہے۔ جنازے کے بڑے بڑے اجتماعات ہو رہے ہیں تو ہم جلسے کیوں نہ کریں؟ حکومت کے وزراءکی سنیں تو یہ تاثر ملتا ہے کہ کرونا کی دوسری لہر کا واحد سبب اپوزیشن کے جلسے ہیں۔ یہ جلسے نہ رہے تو کرونا کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

ہمارے ہاں ہی نہیں، دنیا کے بیشتر ممالک میں کرونا کو سیاست میں ملوث کر لیا گیا ہے۔ بھارت میں بھی اپوزیشن بضد ہے کہ مودی کی نا اہلیت کرونا کے پھیلاو¿ پر قابو نہیں پا سکی۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف انتخابی مہم میں جو بائیڈن نے کرونا کے حوالے سے ٹرمپ کے غیر سنجیدہ رویے پر مسلسل تنقید کی اور اسے ایک انتخابی ایشو بنائے رکھا۔ جواب میں ٹرمپ کا کہنا یہ تھا کہ ڈیموکریٹس اور بعض میڈیا ہاوس کرونا کو میرے خلاف پراپیگنڈے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ ابھی دو دن قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے مشہور دوا ساز کمپنی فائزر پر الزام لگایا ہے کہ کرونا کا علاج کرنے والی ویکسین انتخابات سے پہلے ہی تیار ہوچکی تھی۔ جس کیلئے میں نے خطیر فنڈز فراہم کئے تھے لیکن فائزر نے جان بوجھ کر اس کا اعلان نہ کیا تاکہ مجھے انتخابی فائدہ نہ ہو جائے۔

ہمارے ہاں بھی الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ عروج پر ہے لیکن کیا کرونا واقعی سونامی کی شکل اختیار کرتے ہوئے بے قابو ہو چکا ہے۔ اس کا اندازہ اسی وقت ہو گا جب متعلقہ ادارے ٹھوس اور مستند اعداد و شمار پیش کریں گے۔

گزشتہ روز انگریزی کے معتبر اخبار "ڈان" میں شائع ہونے والی رپورٹ ، بہت خوفناک نقشہ پیش نہیں کرتی۔ بلکہ اس رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالات پوری طرح قابو میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کرونا کی شدت کا سب سے بڑا مرکز اسلام آباد ہے جس کے بارہ ہسپتالوں میں موجود 362 بستروں میں سے 240 پر مریض موجود ہیں۔ یہ شرح 66.2 فی صد ہے۔ پنجاب کے 242 ہسپتالوں کے 8624 بستروں میں سے صرف 877 پر مریض ہیں یعنی 10.1 فی صد۔ آزاد کشمیر کے 17 ہسپتالوں کے 918 بیڈز میں سے صرف 78 پر مریض ہیں یعنی 8.4 فی صد۔ گلگت بلتستان کے 22 ہسپتالوں میں کرونا مریضوں کیلئے 158 بیڈز مخصوص ہیں جہاں صرف 11 مریض ہیں یعنی 6.9 فی صد۔ خیبر پختونخواہ کے 200 ہسپتالوں میں کرونا بیڈز کی تعداد 5440 ہے جہاں صرف 339 مریض ہیں، گویا 6.2 فی صد۔ بلوچستان کے 57 ہسپتالوں میں 827 کرونا بیڈز ہیں جہاں مریضوں کی تعداد صرف 24 ہے گویا 2.1 فی صد۔ سندھ کے 213 ہسپتالوں میں 11366 کرونا بستروں میں سے صرف 533 پر مریض موجود ہیں یعنی 4.8 فی صد۔ ان اعداد و شمار کو مستند مانا جائے تو ملک بھر کے ہسپتالوں میں کرونا مریضوں کے لئے مخصوص بستروں کی مجموعی تعداد 27695 ہے جن میں سے صرف 2102 پر مریض موجود ہیں۔ باقی 25593 بستر خالی پڑے ہیں۔

ان اعداد و شمار میں وہ لوگ شامل نہیں جو کرونا کا شکار تو ہیں لیکن اپنے اپنے گھروں میں موجود ہیں۔ ان کی تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے۔ تاہم ایک بات یقینی ہے کہ جب بھی گھر میں پڑے کسی مریض کو آکسیجن کی شدید کمی کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے او ر وہ سانس لینے میں تکلیف محسوس کرنے لگتا ہے تو اس کے گھر والے اسے ہسپتال پہنچانا ضروری خیال کرتے ہیں۔

حکومت بہرحال صورتحال کو نہایت سنگین بتا رہی ہے۔ اپوزیشن حکومتی بیانات کو احتجاجی تحریک کو دبانے کیلئے پراپیگنڈہ خیال کرتی ہے۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ جلسے ہونے چاہئیں یا نہیں کیونکہ یہ اب سیاسی ایشو بن گیا ہے لیکن اتنی گزارش تو حکومت سے کی جا سکتی ہے کہ جلسوں کے علاوہ بھی اس وبا کو قابو کرنے کیلئے ایسے متعدد اقدامات کئے جا سکتے ہیں جو نہیں ہو رہے۔ اپوزیشن نے تین جلسے کر لئے ۔ تین چار اور کر لے گی۔ لیکن ہمارے ہاں تو ملک بھر کے سینکڑوں شہروں میں ہر روز صبح شام جلسہ عام کی صورتحال رہتی ہے۔ چھوٹی بڑی سب مارکٹیں کھلی ہیں۔ منڈیاں لگ رہی ہیں۔ جمعہ بازار اور اتوار بازار کے میلے سجے ہوئے ہیں۔ گاہکوں کے ہجوم ہیں۔ ماسک کی پابندی یا سماجی فاصلہ نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ بسوں، ویگنوں اور گاڑیوں میں لوگ ٹھنسے ہوئے ہیں۔ ریل گاڑیاں ہزاروں مسافروں کو بھیڑ بکریوں کی طرح لاد ے چل رہی ہیں۔بیشتر تعلیمی ادارے، دفاتر، فیکٹریاں، کارخانے، تجارتی و کاروباری مراکز کھلے ہیں اور ہر بازار میں ایک جلسہ نہیں تو کارنر میٹنگ تو ضرور ہو رہی ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ اپوزیشن جلسے ترک کر دے؟ اگر نہیں تو کیا حکومت اپوزیشن کے جلسوں سے توجہ ہٹا کر وہ اقدامات کر سکتی ہے جو بے حد ضروری ہیں اور اس کے بس میں بھی؟

نوٹ: مورخہ 16 نومبر کو شائع ہونے والے کالم بعنوان "ڈاکٹر اعجازحسن قریشی مرحوم۔۔چلتا پھرتا علی گڑھ " میں ذکر تھا کہ ڈاکٹر قریشی صاحب ، علی گڑھ کے گریجویٹ تھے۔ کالم کی اشاعت کے بعد ڈاکٹر اعجاز مرحوم کے بھائی ، نامور صحافی محترم الطاف حسن قریشی صاحب اور معروف کالم نگار محترم عرفان صدیقی صاحب کی ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں۔ دونوں شخصیات نے میری تصیح فرمائی اور نشاندہی کی کہ ڈاکٹر اعجاز قریشی مرحوم نے علی گڑھ سے صرف انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی تھی۔تقسیم ہند کے فسادات کی وجہ سے وہ واپس علی گڑھ جا کر اپنی انٹر کی ڈگری بھی حاصل نہیں کر سکے تھے۔روزنامہ جنگ کے کالم نگار محمد مہدی صاحب نے بھی میری معلومات کی درستگی کیلئے اس غلطی کی نشاندہی فرمائی۔ 


ای پیپر