تمام اہل قلم کی یہ ذمہ داری ہے
23 نومبر 2019 2019-11-23

18 سال کی لگاتار محنت اور بے پناہ وسائل کی کھپت سے پاکستان کا چہرہ بدلا گیا ۔ نظریاتی شناخت دفن کر دی گئی۔ دارالحکومت میں لال مسجد کو اسم با مسمیٰ بنایا گیا حفاظ اور مدرسے کے طلباء کے خون سے۔ کراچی میں بالخصوص علماء کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ۔ اور دنیائے کفر نے سکھ کی ٹھندی سانس لی کہ ایٹمی پاکستان اب پے در پے آپریشنوں سے گزر کر اپنا چہرہ ، ساخت بدل کر پورا ( Transgender ) مخنث نما ہو گیا۔ تالیاں پیٹتا، ٹھمکے لگاتا، بہکتا بہکاتا، پھر حکومت بھی ڈی جے والے رنگ رنگیلے دھرنے والوں کو مل گئی تو پوبارہ ہو گئے۔ اب راوی چین ہی چین لکھے گا، ’شدت پسندی‘ مٹا دی گئی۔ (یعنی اسلامی شناخت )۔ اچانک آزادی مارچ نے 18 سال کی محنت تلپٹ کر دی۔ اسلام آباد کے شب و روز مسلسل دو ہفتے گاڑھے اسلامی رنگ میں رنگے گئے۔ تیز بارش اور سردی بھی رنگ دھونے، بھگونے میں ناکام رہی۔ عملاً تہجد تا عشاء رکوع و سجود، قرآن اذکار، شرعی حلیوں نے سارے سیکولر، لبرل رنگ، (اپنے موزے خود ڈھونڈو، مارچ) دھو ڈالے۔ پورا پاکستان دم بخود، بے مثل نظم و ضبط، امن و امان ، بلا ادنیٰ ترین بھگدڑ، سات کلو میٹر پر محیط یہ حیران کن منظر دیکھنے پر مجبور و مبہوت رہا! یہ سر تا سر اللہ کی مشیت تھی، بھلے آپ اسے لاکھ سیاسی رنگ دیں، پھبتیاں کیس، ختم نبوت، شان رسالت ، سول حکمرانی، نظریہ پاکستان کی بالادستی کی گونج دو ہفتے یوں فضائوں پر حکمران رہی کہ سبھی دین دشمن منقار زیر پر دبکے رہے۔ یہ تمہید طولانی آپ کو اگلا نقشہ دکھانے کے لیے باندھی گئی ہے ۔ اتنا گہرا ایمانی تائثر، کھوئی شناخت کی بازیابی ۔ دین دشمن اندرونی بیرونی قوتوں کے سینے پر سانپ بن کر لوٹی۔ اب اس کا مداوا ہو رہا ہے پوری تندہی سے۔ اسکے لیے ریاست مدینہ کے دعوے داروں نے اسلام آباد آرٹ فیسٹیول کے نام سے بارہ روزہ رنگ رنگیلا اہتمام کیا ہے ۔ تیس ممالک اور پورے پاکستان سے اپنی نوعیت کا یہ پہلا آرٹ دھرنا ہے ۔ شتربے مہار رنگ ترنگ آزادی مارچ 600 آرٹسٹوں ، بھانڈ میراثیوں، نچیئوں گویوں کی بارات لیے جڑواں شہروں میں آن اترا ہے ۔ اسے بہت سے آرٹ اداروں کی شراکت کاری نے منظم کیا ہے ۔ مغربی سفارتخانوں کی آشیرباد اور حسب توفیق شراکت ہمراہ ہے ۔ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (ٹماٹرزدہ عوام کی پھٹی جیبوں سے لوٹے ٹیکسوں پر پلنے والے ادارے) کے زیر اہتمام اور سیر ینا ہوٹل کی سپانسر شپ سے فنون لطیفہ کے ہمہ نوع کثیفے اسلام آباد کو آلودہ کریں گے ازسر نو۔ جڑواں شہروں کے میوزیم، آرٹ گیلریاں، تعلیمی ادارے، پبلک پارک (30 نومبر تک ) پچھلے اثرات محو کرنے کے لیے استعمال ہونگے۔ کھالے پی لے جی لے، کا مقصد زندگی جو نوجوان نسل کو اشتہاروں ، بل بورڈوں سے دیا جاتا رہا، اسے بھی روبہ عمل لایا گیا ۔ اس کے لیے ایف نائن پارک اسلام آباد میں سہ روزہ کھانا اور موسیقی کی یک جائی کا میلہ لگا۔ لاہور الحمراء میں فیض احمد فیض فیسٹول میں ہزاروں افراد کے ٹھٹ لگے۔ ڈانس پرفارمنس لاہور گرائمر سکول کے ہونہاروں کے ذمے تھی ۔ تعلیمی قابلیت کے اظہار اور قومی ترقی کا یہ بھی ایک پیمانہ ہے ! کراچی میں قبل ازیں میریٹ ہوٹل میں سیٹیزن فائونڈیشن کے تحت گائیکی کا بھاری بھر کم مقابلہ رہا۔ ابھرتے ستاروں کے نام سے نوخیز لڑکیاں لڑکے، 80 ہزار گھرانوں اور کراچی کے 150 سکولوں کے نمائندہ مدعو تھے۔ 1500 نے مقابلے میں حصہ لیا۔ بہترین چھانٹے گئے۔ یہ سعودیہ اور امارات کے شہزادوں کی طرح پاکستان کو بھی میلوں ٹھیلوں بھانڈوں کی آماجگاہ بنانے کا عالمی ایجنڈہ ہے جو کشمیر بھلا کر روبہ عمل ہے ۔ وہ ساری دنیا جو کشمیر اور میزائل زدہ خونچکاں فلسطین پر اندھی بہری گونگی ہے ، ہمیں بھی راگ رنگ میں ڈبو کر تالیاں پیٹ رہی ہے ۔ گویتھ انسٹی ٹیوٹ اور جرمن سفارتخانے کا اشتراک جرمن گلو کارہ اور سازندے کو جادو جگاتے، سحر طاری کرتے 20 نومبر کی تصاویر میں دیکھ لیجیے۔ کشمیر کی چیخ و پکار، آہیں سسکیاں اس سازو آواز میں ڈوب گئیں۔ ہماری آنکھوں میں ان دو خونچکاں خطوں پر دھول جھونکنے کو اقوام متحدہ کا ایک بیان کافی ہے ۔ فلسطین کی سر زمین میں ناجائز یہودی بستیاں ( ایسی ہی تیاری اب بھارت کی کشمیر میں ہے ) واشنگٹن نے قانوناً جائز قرار دے دیں۔ اس پر یو این بو لا کہ: یہ اعلان افسوسناک ہے ۔ ہم فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے پر عزم رہیں گے ۔ 1948 ء سے 2019 ء آ گیا۔ عالمی عزم اور اس کے پر عزم ادارے یو این کو دیکھتے ہوئے ! کیا جوان عزمی پائی ہے ! تین نسلیں فلسطین اور کشمیر میں آپ کے عزم کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ تقریروں ، بیانات پر بھاری بھر کم تنخواہیں مظلوموں کے خون پر استوار سمیٹتے یو این اداکار، صدا کار! ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات، افغانستان دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے عزم و ہمت کی ایک ولولہ انگیز مثال ہے ۔ ہم چھین کے لیں گے آزادی، کا عملی نمونہ ! آزادی مارچ نے لرزہ طاری کر دیا تھا جسے دبانے، ڈبونے کو راگ رنگ کا اہتمام کیا گیا۔ آگے آنے والے وقت کی تیاری ذرا ( مواخذے کی لپیٹ میں آئے) ٹرمپ کی دیکھئے۔ ’سعودی عرب میں مزید 3000 فوجی تعینات، راڈارو میزائل نظام دیں گے‘ ۔ آرامکو تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی آڑ میں ( دال میں کالا ملاحظہ ہو ! ) مقدس سر زمین پر کفر کی فوج اور اسلحہ بڑھایا جا رہا ہے ۔ یہ دجالی محبت ہے ! ماں سے بڑھ کر چاہے! شام میں تیل کی تنصیبات پر بھی ایسا ہی بیان ٹرمپ نے دیا تھا : شام میں تیل کی لڑائی لڑیں گے۔ شام میں تیل حاصل کرنے کے خواہش مندوں کو ہم سے لڑنا ہو گا ۔ تیل کی حفاظت کے لیے ہم شام میں موجود رہیں گے ۔ مگر شام کا تیل ہو یا سعودی عرب و دیگر مسلم ممالک کا۔ یہ مسلم امت کی مشترکہ دولت اور امانت ہے ۔ اس کے ہر قطرے پر مسلم ڈیڑھ ارب عوام کے بچے بچے کا حق ہے ۔ مشرکوں کو جزیرہ نمائے عرب سے نکال دو، کی حدیث ہمارا حق ثبت کر چکی۔ تم شام، سعودی عرب کے ٹھیکے دار کس برتے پر بن بیٹھے ؟ پاکستان میں انصافی حکومت اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھی ہے ۔ آزادی مارچ سے گم ہوئی سٹی تمام تر بڑھکوں کے با وجود تا حال لاپتا ہے ۔ گھبراہٹ ، کپکپاہٹ کے دورے ( Panic Attack ) کی عملی تصویر، بدکلامی ہذیانی تقریر موٹروے ( حویلیاں مانسہرہ) افتتاح میں دیکھی سنی گئی جس پر عمران خانی مداح بھی بدک گئے۔ نا اہلی، بد انتظامی کی شاہکار حکمرانی ( سٹاک مارکیٹ بھی کریش) کو چار چاند ان کی بد زبانی سے لگتے ہیں۔ خارجہ امور، دفاعی معاملات، دنیا بھر کے بڑے بڑوں سے ملاقاتیں، معیشت ( غیر آئینی طور پر ) سویلین حکومت کے دائرہ اختیار سے کل بھی باہر تھی، آج مزید باہر ہو گئی۔ سید مودودی ؒ نے 1962 ء میں اس ضمن میں جو لکھا تھا وہ آج بھی حرفاً معناً لاگو ہوتا ہے ۔ ’’انتظامی امور اور سول ایڈمنسٹریشن میں فوج کا داخل ہونا فوج کے لیے بھی اور ملک کے لیے بھی سخت تباہ کن ہے ۔ فوج بیرونی دشمنوں سے حفاظت کے لیے منظم کی جاتی ہے ۔ ملک پر حکومت کرنے کے لیے منظم نہیں کی جاتی۔اس کو تربیت دشمنوں سے لڑنے کی دی جاتی ہے ۔ اس تربیت سے پیدا ہونے والے اوصاف خود اپنے ملک کے باشندوں سے معاملہ کرنے کے لیے موزوں نہیں ہوتے … فوج کا ( سیاست کاری یا ملکی نظم و نسق کے انتظام میں) اس میدان میں اترنا لا محالہ فوج کو غیر ہر دل عزیز بنانے کا موجب ہوتا ہے ۔ حالانکہ فوج کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ سارے ملک کے باشندے اس کی پشت پر ہوں … دنیا میں زمانہ حال کے فوجی انقلابات نے ملکی نظام میں فوج کی شمولیت کو مفید ثابت نہیں کیا۔ بلکہ اس کے برے نتائج ظاہر کر دیئے ہیں‘‘۔ (ترجمان القرآن ، جنوری 1962 ء ) پاکستان کو جو نقصان پرویز مشرف کے ایک ( ڈکٹیٹری) یو ٹرن سے پہنچا، اس کے آج تک ہمہ گیر نقصانات ہم اٹھا رہے ہیں۔ پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کراچی کو ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری، عقوبت خانوں، علماء کے قتل تالا بند ہڑتالوں، لینڈ مافیا، ایم کیو ایم کے ذریعے جو ناقابل تلافی نقصان پہنچا وہ اب اظہر من الشمس ہے ۔ پاکستان کے اعصاب پر میڈیا کے ذریعے مسلط کردہ الطاف حسین ہر چینل پر دھاڑتا کسے یاد نہیں۔ جس کی بغل میں 70 ، 70 قتل کے مرتکب ان گنت قاتل پناہ لیے دبکے تھے۔ اب بھی 96 افراد کا قاتل ( لندن والا ) بیان دے رہا ہے ۔ ’قیادت کے حکم پر قتل کرتا تھا‘۔ اب وہی الطاف حسین مودی سے ( اپنے بھارت دوستی کے احسانات جتا کر ) سیاسی پناہ اور معاشی امداد کا طالب اور بابری مسجد گرانے پر اس کا مدح سرا ہے ۔ پاکستان کو اپنی بقاء خود مختاری، استحکام اور شناخت کی بحالی کے لیے بہت کچھ سرتا پا بدلنے کی ضرورت ہے ۔ اور یہ ممکن ہے ۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی۔ آج بھی سوچ ہے ۔

جگائیں سوئی ہوئی اپنی قوم کو اعجاز

تمام اہل قلم کی یہ ذمہ داری ہے


ای پیپر