نیلسن گوالمنڈیلا!
23 نومبر 2019 2019-11-23

ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں، ....کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے یہ محاورہ محض پاکستان کے موجودہ نظام کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے تخلیق کیا گیا ، ہمارے معاشرے بلکہ ”بدمعاشرے“ کی سب سے بڑی خرابی کو سب سے چھوٹی خرابی بھی ہم نہیں سمجھتے، بلکہ سچ پوچھیں اُسے خرابی ہی نہیں سمجھتے ۔ بلکہ سب سے بڑا سچ یہ ہے اُسے ”خوبی“ سمجھتے ہیں، اِس ”خوبی“ کو ”جھوٹ“ کہتے ہیں، یہ ”خوبی“ ہمارے کسی بھائی میں نہ ہو ہمیں اُس کی پاکستانیت پر شک ہونے لگتاہے۔ اگلے روز ایک صاحب مجھ سے کہہ رہے تھے” میں جھوٹ نہیں بولتا “ ....بے ساختہ میں نے اُن سے پوچھ لیا ”پھر آپ بولتے کیا ہیں؟“۔میں ابھی چند یوم قبل جاپان گیا۔ وہاں جھوٹ کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ لوگ ”جھوٹ“ کے نام تک سے واقف نہیں، میں نے اپنے میزبان سے پوچھا ”جھوٹ کے لیے جاپانی زبان میں کیا لفظ استعمال ہوتا ہے ؟۔وہ بولے ”جاپانی زبان میں اِس کے لیے کوئی لفظ بنا ہی نہیں ہے، کیونکہ یہاں لوگوں میں اِس کا تصور ہی نہیں“ ....ممکن ہے یہ بات اُنہوں نے ازرہ مذاق یا طنزاً کہی ہو، مگر جتنے دن میں جاپان میں رہامیں نے خود بھی یہی محسوس کیا یہ قوم جھوٹ کے تصور سے واقعی ناآشنا ہے۔ ہمارے ہاں سچ بولنے کے تصور سے لوگ ناآشنا ہوتے جارہے ہیں، ہمارے بڑے بڑے مذہبی اور سیاسی رہنما بلکہ پورا ”معاشرہ“ ہی جھوٹ کی دلدل میں دھنستا چلے جارہا ہے۔ شاید اسی لیے ہم تباہی کی آخری منزل پر جاکر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اب واپسی ناممکن دکھائی دیتی ہے، ....آپ کے پاس ایک شخص آیا، کہنے لگا ”مجھ میں بے شمار خرابیاں ہیں، میں اُن سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہوں، سب سے پہلے کس خرابی سے چھٹکارا حاصل کروں“....آپ نے فرمایا ” جھوٹ سے چھٹکارا حاصل کرلو، سب خرابیوں سے خودبخود چھٹکارا حاصل ہو جائے گا۔ جھوٹ گناہوں اور خرابیوں کی ماں ہے“ ....ہم پاکستانی خرابیوں یا گناہوں کی اِس ماں کی گود سے اُترنے کے لیے تیار ہی نہیںہورہے، شاید اِسی لیے پورا معاشرہ ہی بے برکتا ہوگیا ہے، یہ نہیں کہ میں دنیا کا سب سے سچا انسان ہوں، پر میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں جتنا جھوٹ ہمارے سیاستدان مع ”فوجی، عدالتی اور صحافتی سیاستدان“ بولتے ہیں پوری دنیا کے جھوٹے کو ملا کر بھی اتنا جھوٹ شاید نہیں بولا جاتا ہوگا ، یہ ”دیہاڑی دار جھوٹے“ جس دھڑلے سے روزانہ مختلف چینلز پر آکر جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں یہ لعنت اُن کے چہروں سے صاف عیاں ہورہی ہوتی ہے، ....سب اپنے اپنے سابقہ وحالیہ آقاﺅں کو خوش کرنے کی کوشش میں جھوٹ بولنے کو باقاعدہ کارثواب سمجھ ررہے ہوتے ہیں، وہ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں روز قیامت اُن سے سب سے پہلا سوال یہ پوچھا جائے گا ” دنیا میں جھوٹ کتنا بولا؟“۔ اگر انہوں نے کہہ دیا ”اُنہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تو اُنہیں سیدھا دوزخ میں پھینک دیا جائے گا“۔.... سابق وزیراعظم نواز شریف یقیناً بیمارہیں، مگر اُن کی بیماری کو بنیادبناکر اتنا جھوٹ بولا گیا نواز شریف بھی سوچتے ہوں گے اتنا جھوٹ تو پوری زندگی خود اُنہوں نے نہیں بولا....اِس مقصد کے لیے باقاعدہ ایک ماحول بنایا گیا، حسبِ ضرورت یاحسبِ طاقت میڈیا کو بھی استعمال کیا گیا، .... ہم ترس رہے تھے، اور یہ سوچ رہے تھے اُن کی بیماری کے حوالے سے ساری اطلاعات یا خبریں درست ہیں تو عدالتوں سے رہائی کے بعد سابقہ وزیراعظم اور حالیہ ”بیمار اعظم“ کی ہسپتال میں پڑے ہوئے کوئی ایسی تصویر یا ویڈیو منظر عام پر کیوں نہیں آرہی جس سے اُن کی شدید بیماری کے حوالے سے لوگوں کے دل ودماغ میں پائے جانے والے شکوک و شبہات دُور ہوسکیں، ....وہ یقیناً بیمار ہوں گے، مگر بیرون ملک علاج کے لیے اُنہیں اجازت ملنے کے بعد ہم اس یقین میں مبتلا ہو گئے تھے وہ اب مزید چند دنوں کے مہمان ہیں۔ بلکہ سچ پوچھیں میڈیانے اِس طرح کا ماحول بنا دیا تھا ہم سوچ رہے تھے چند گھنٹوں کے مہمان ہیں۔ ہمیں ڈر لگ رہا تھا کہیں پاکستان کا یہ ”قیمتی اثاثہ“ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہی نہ ہو جائے۔ جس کے نتیجے میں جمہوریت مستقبل طورپر یتیم ہو جائے گی، جمہوریت اصل میں اِس ملک میں صرف دو لوگوں ہی کی وجہ سے قائم و دائم ہے، ایک میاں محمد نواز شریف، دوسرے آصف علی زرداری .... یہ دونوں (اللہ نہ کرے) فوت ہوگئے جمہوریت بھی ان کے ساتھ ہی فوت ہو جائے گی، لہٰذا جمہوریت بچانے کے لیے اورملک بچانے کے لیے ان دونوں کا زندہ رہنا انتہائی

ضروری ہے، .... میرے خیال میں تو میاں محمدنواز شریف کی بیماری سے اِس ملک کی اصل قوتیں بھی گھبرا گئی تھیں کہ جس قسم کی لُولی لنگڑی جمہوریت اس ملک میں محض دکھاوے کی خاطر وہ قائم رکھنا چاہتی ہیں اُس کے عین مطابق استعمال ہونے والے بلکہ بار بار استعمال ہونے والے سیاستدان سے کہیں مستقل طورپر وہ محروم ہی نہ ہو جائیں، اُن کا زندہ رہنا انتہائی ضروری ہے ،یہ اصل میں ”نظریہ ضرورت“ کے زندہ رہنے کا دوسرا نام ہے، .... جہاں تک سابق وزیراعظم اور حالیہ ”بیمار اعظم“ میاں محمد نواز شریف کا تعلق ہے گزشتہ کچھ عرصے سے اُن کا اور اُن کی صاحبزادی کا جو بیانیہ سامنے آرہا تھا، جس جارحانہ انداز میں ہمارے ذہنوں میں یہ تصور اُنہوں نے قائم کردیا تھا ایک نیلسن منڈیلاپاکستان میں بھی پیدا ہوگیا ہے، سچ پوچھیں ہم اِس یقین میں مبتلا ہوگئے تھے بلکہ اس کے لیے قسمیں اُٹھا رہے تھے، شرطیں لگارہے تھے کہ وہ موت قبل کرلے گا ملک چھوڑ کر نہیں جائے گا، .... پاکستانی مینڈیلا بالآخر ” گوالمنڈیلا “ ہی نکلا، موت کا ایک دن مقرر ہے، ایک سیکنڈ کی اس میں کمی ہوسکتی ہے نہ اضافہ ہوسکتا ہے، اُنہیں کئی بیماریاں لاحق ہیں، اللہ اُنہیں شفا بخشے، ہم اُن کی بیماریوں کا تمسخر اُڑانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے، ....ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیںبیرون ملک روانگی اور اجازت کے بعد جس طرح کی تصاویر اور ویڈیوز اُن کی منظر عام پر آئیں اُن سے بظاہر یہی لگ رہا تھا وہ اتنے شدید بیمارنہیں تھے اُن کا بیرون ملک علاج کے لیے جانا لازم ٹھہرنا، وہ یہ فیصلہ کرلیتے پاکستان چھوڑ کر نہیں جائیں گے، اپنا علاج اپنے ملک میں اپنے ہی ڈاکٹروں سے کروائیں گے اِس سے اُن کی جماعت اور سیاست میں مزید جان پڑ جاتی، جو وزیراعظم عمران خان کی کچھ نالائقیوں اور نااہلیوں کی وجہ سے پہلے ہی پڑی ہوئی ہے۔ جتنا اُن کے پاس پیسہ ہے اُس کی بنیاد پر وہ امریکہ اور برطانیہ میں مقیم کئی ڈاکٹروں کو منہ بولے معاوضے پر اپنے علاج کے لیے پاکستان بھی بُلا سکتے تھے، اُنہوں نے ایسے نہیں کیا، اب ہم دعاگو ہیں اپنی تمام بیماریوں خصوصاً اپنی ”ذہنی بیماریوں “ کا علاج کروانے کے بعد وہ بخیریت وطن واپس آئیں اور اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں، ....جو کچھ وزیراعظم عمران خان کررہے ہیں اُنہیں کرنے دیں، اور جوکچھ اُن کے بھائی شہباز شریف کررہے ہیں اُنہیں بھی کرنے دیں تو اِس کے نتیجے میں وہ تیسری بار وزیراعظم نہ بھی بن سکے اپنے مقدمات سے ”باعزت بری“ ضرور ہو جائیں گے ۔


ای پیپر