صدارتی انتخاب سے قبل ماسکو میں امن مذاکرات!
23 نومبر 2018 2018-11-23

رواں برس یعنی 2018 ء کا جنوری کا مہینہ پورے افغانستان کے لئے انتہائی خون ریز تھا۔اسی مہینے میں پوری دنیا میں دہشت گر دی اور تخریب کاری کے تقریبا 145 واقعات رونما ہو ئے، جس میں 27 افغانستان میں پیش آئے۔جنوری میں افغانستان میں دہشت گردی کے 3سانحات نے کابل سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھا دیا تھا۔20 جنوری کو دہشت گردوں نے کابل میں انٹر کانٹی نینیٹل ہوٹل (Inter-Continental Hotel Kabul)پر حملہ کیا، جس میں 46افراد جاں بحق جبکہ 22 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ابھی کابل سوگ ہی میں تھا کہ چند دن بعد یعنی 24 جنوری کو دہشت گر دوں نے پاکستان کے ساتھ متصل افغان صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں غیر سرکاری تنظیم سیون دی چلڈرن(Save the Childern) کے دفتر کو نشانہ بنا یا ۔اس حملہ میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 27 زخمی ہو ئے ۔افغانستان کے عوام ابھی جلال آباد کے ما تم سے فارغ نہیں ہو ئے تھے کہ دہشت گر دوں نے کابل میں وزارت داخلہ کی پرانی عمارت کے سامنے ایمبو لینس (Ambulance Bombing) میں مو جود بارود سے بھری گاڑی اڑا دی جس میں 100 سے زیادہ لوگ مارے گئے جبکہ 200 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہو ئے۔اعدادو شمار کے مطابق یہ سال گز شتہ کئی سالوں سے افغانستان کے لئے زیادہ خون ریز رہا ۔

افغانستان سوگ اور ماتم میں ڈوبا ہو ا تھا۔پورے افغانستان میں انسانی خون اور اعضا بکھرے پڑے تھے۔افغان حکومت سکتے کے عالم میں تھی کہ اچا نک صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے ایک خصو صی وفد اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔31 جنوری کو یہ وفد افغانستان کے وزیر داخلہ ویس احمد بر مک کی قیادت میں اسلام آباد پہنچا۔ وفد میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے سربراہ معصوم ستانکزئی بھی شامل تھے۔انھوں نے اسلام آباد میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سیکیورٹی عہدے داروں سے ملا قات کی ۔ملا قات کے دوران یہ اہم فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گر دی کے خلاف جاری اس جنگ سے نکلنے کے لئے اب اسلام آباد اور کابل کو براہ راست بات چیت کر نی ہو گی۔دونوں فریقین نے اس پر رضا مندی ظاہر کی۔بر اہ راست بات چیت کو آگے بڑھانے کے لئے فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کا وفد کا بل کا فوری طور پر دورہ کریگا۔اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ ورکنگ گر وپ (Afghanistan-Pakistan Action plan for Peace and Solidarity)کوفعال کر نا تھا۔3 فروری کو سیکرٹری خا رجہ تہمینہ جنجوعہ کی قیاد ت میں اعلیٰ سول و ملٹری حکام پر مشتمل وفد نے کا بل کا دورہ کیا۔کابل میں وفود کی سطح پر ملا قاتیں ہو ئیں۔افغانستان کے وفد کی قیادت ڈپٹی وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے کی ۔3 فروری کو پاکستان اور افغانستان کی سول اور ملٹری حکام کے درمیان کابل میں ہو نے والی ملا قات پر دفتر خارجہ نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس ملا قات میں دہشت گردی ،تشدد میں کمی ، امن بات چیت ،افغان مہا جرین کی وطن واپسی اور مشترکہ معاشی ترقی کے موضوعات پر بات چیت ہوئی ۔

رواں برس افغانستان میں امن کے قیام کے لئے دنیا کی بڑی ریاستیں کو ششیں کر تی رہی۔ چین، روس، ترکی اور پاکستان نے ہر ممکن کو شش کی کہ کابل میں امن کا قیام ممکن ہو سکے۔بر سوں قبل قطر کے شہر دوحہ میں قائم افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ساتھ مختلف ممالک کے مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔پورا سال افغانستان کے لئے خون ریز رہا۔روس اور چین کو دہشت گر دی کے واقعات نے زیادہ پریشاں کر دیا۔اس لئے روس نے ماسکو میں افغان طالبان،امریکہ ،چین،پاکستان اور دیگر ممالک کے نما ئندوں کو مدعو کیا کہ افغانستان میں بڑھتے ہو تشدد کو روکا جا سکے۔اس سے چند بر س قبل پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں بھی مذاکرات ہوئے تھے ،لیکن اس بات چیت کو خود افغانستان نے سبو تاژ کیا تھا۔پھر جب دوسری مر تبہ بات چیت کو آگے بڑھانے کی کو شش کی گئی تو امریکہ نے افغان طالبان کے امیر ملا منصور کو ڈرون حملے میں مار کر مذاکراتی عمل کو ختم کر دیا تھا۔

ماسکو مذاکرات کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ افغان طالبان اور حکومت کے درمیان پہلی باضابطہ بات اور براہ راست بات چیت ہوئی ہے۔یا د رہے کہ اس سے قبل بھی افغان طالبان اور حکومت کے درمیان کئی مرتبہ براہ راست بات چیت ہو ئی ہے لیکن یہ گفت و شنید بے نتیجہ رہی ۔مری مذاکرات کی اہمیت اس لئے زیادہ تھی کہ اس مذاکراتی عمل میں اقوام متحدہ اور چین کے نمائندے بھی شامل تھے، جبکہ یہ مذاکرات بروقت بھی تھے۔ اس کے بر عکس ماسکو بات چیت بے وقت مذاکرات تھے ۔ اس لئے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات ہو نے میں چند مہینے باقی ہیں۔مری مذاکرات میں افغان وفد کے سربراہ حکمت خلیل کر زئی نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ہم نے طالبان کے حقیقی نمائندوں سے بات چیت کی ہے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ افغان طالبان جب بھی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں تو وہ اپنے ان بنیادی مطالبات کا اعادہ بھی کرتے ہیں جو اس جنگ میں ابتداء ہی سے ان کا موقف ہے۔افغانستان سے بیرونی فوجوں کا انخلا،طالبان قیدیوں کی رہائی،دہشت گردوں کی بین الاقوامی فہرست سے ان کے رہنماؤں کے ناموں کا اخراج اور امریکہ سے براہ راست بات چیت ۔اب جبکہ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ طالبان کے مطالبات کیا ہیں؟اس کے باوجود دوسرے فریقین افغانستان اور امریکہ کو اعتماد میں لئے بغیر بات چیت کا عمل کامیاب کیسے ہو سکتاہے؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے متعلقہ فریقین کے مطالبات کو دیکھا جائے۔ان کے خدشات کو دور کیا جائے ،تب جا کر کوئی بات چیت کامیاب ہو سکتی ہے،ورنہ اس طر ح تو مذاکرات ہوتے رہیں گے اور نتیجہ کو ئی بھی نہیں نکلے گا۔ جس کی وجہ سے عوام اور پوری دنیا کا اس مذاکراتی عمل سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ ایک اور اہم بات کہ جس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے مذاکراتی عمل بر وقت ہونے چاہئے۔اب جبکہ افغانستان میں صدارتی انتخابات ہو نے والے ہیں ۔ اس سے چند مہینے پہلے امن بات چیت کیسے کامیاب ہو سکتے ہے؟ اگر روس ،چین اور امریکہ چاہتے ہوں کہ افغانستان کا مسئلہ جنگ کی بجائے بات چیت سے حل ہو ۔ تو ان پر لازم ہے کہ وہ صدارتی انتخابات کے فوری بعد متعلقہ فریقین کے مطالبات پر ان کے درمیان ہم آہنگی پیداکریں۔اس کے بعد بات چیت کو آگے بڑھانے کے لئے کو شش کی جائے۔اگر فریقین کے مطالبات پر اتفاق رائے پیداکئے بغیر اور بے وقت مذاکرات کئے جائیں گے ،تو وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ طالبان چند مہینوں کی مہمان حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کریں یا موجودہ حکومت اس معاہدے پر کیوں راضی ہو گی کہ جو ان کے لئے انتخابات میں شکست کا سبب بنیں۔لہذا ضروری ہے کہ روس اور چین افغانستان میں قیام امن کے لئے ابھی سے تیاری شروع کریں اور نئی حکومت کے منتخب ہو نے کے بعد اس پر کام کو مزید آگے بڑھائیں۔


ای پیپر