کھلاڑی وزیراعظم: اب نہیں تو کب؟
23 نومبر 2018 2018-11-23

مشہور امریکی چیف جسٹس مارشل نے کہا تھا کہ میں اخبار میں سپورٹس پیج کو سب سے پہلے پڑھتا ہوں کیونکہ اس میں انسانی کامیابیوں اور کارناموں کی حقیقی خبریں ہوتی ہیں۔ کھیل کسی بھی معاشرے کے لیے قومی سطح پر ایک ’’ہیلتھ چیک‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں یہ انسان کے اندر مزاحمت، تحمل، برداشت اور مقابلے کا جذبہ اجاگر کرتے ہیں اور زندگی کی دوڑ میں آگے آگے رہنے اور سبقت برقرار رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ دوسری طرف جس معاشرے میں کھیل کو اہمیت دی جاتی ہے وہاں نوجوانوں میں جرائم، منشیات اور جنسی بے راہروی جیسے منفی اقدار کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ 

اس پس منظر میں یہ ایک نہایت خوش آئند بات ہے کہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم نے ریاست کے سب سے بڑے عہدے تک کا سفر کھیل کے میدان سے شروع کیا لہٰذا سپورٹس کی اہمیت کو ان سے بہتر شاید ہی کوئی جانتا ہو لیکن ابھی تک انہوں نے سپورٹس میں دنیا بھر میں پاکستان کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے کوئی انقلابی فیصلہ یا بریک تھرو نہیں کیا۔ 22 کروڑ کے ملک میں ورلڈ اولمپک میں کم از کم ساٹھ سے ستر میڈل پاکستان کے حصے میں آنے چاہئیں مگر گزشتہ کئی سال سے پے در پے ناکامیوں نے عالمی سطح پر ہماری سپورٹس کی ساکھ ختم کر دی ہے۔ اس کی وجوہات کا کھوج لگانے کی ضرورت نہیں یہ ساری کہانی کرپشن سے شروع ہوتی ہے اور کرپشن پر ہی ختم ہوتی ہے۔ 

اگر ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے تو ہمارے ہاں سپورٹس کے ایسے ایسے گمنام ہیرے اور چھپے رستم ملک میں قومی کھیلوں کے مستقبل سے دل برداشتہ ہو کر گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے ہیں کہ آپ ان کی خدمات سن کر حیران و پریشان ہو جائیں گے جبکہ دوسری طرف سفارشی لوگوں پر بڑے بڑے مہروں اور مراعات کی بارش کر دی جاتی ہے مگر عالمی مقابلوں میں اگر 70 ممالک کے کھلاڑی حصہ لے رہے ہوں تو پاکستان اکثر و بیشتر آخری نمبروں میں ہوتا ہے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ بہت سے عالمی مقابلوں میں اب پاکستان کی شمولیت wild card entry بن چکی ہے یعنی کوالیفائی نہ کر سکنے یا ریٹنگ میں کسی گنتی میں نہ آنے کے باوجود ان کو رعایت دے دی جاتی ہے کہ آپ کو موقع دے رہے ہیں کہ آپ کے پاس کوئی اچھے کھلاڑی میں تو بھیج دیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ وہاں بھی سفارشی کھلاڑی بھیج کر ملک کی بے عزتی پر مہر تصدیق ثبت کرا دی جاتی ہے۔ 

گزشتہ دنوں میری ملاقات ایسی ہی ایک شخصیت سے ہوئی جو ماضی میں بطور کھلاڑی بطور ٹرینر اور کوچ اور بطور عہدیدار ایک طویل عرصہ تک خدمات انجام دے چکے ہیں اور جیسا اب گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن وہ کھیل کے حلقوں میں گمنام نہیں ہیں اہل بست و کشاد سب انہیں جانتے ہیں لیکن ان کی کسی سے نہیں بنتی کیونکہ جب پاکستان کی بات آتی ہے تو وہ ہر قسم کو تعلق داری دوستی یا ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے مفاد اور میرٹ کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ محترم کرنل ریٹائرڈ آصف ڈار ہیں جب فوج میں تھے تو وہاں بھی سپورٹس میں انہوں نے اپنی کارکردگی اور انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا فوج سے ریٹائر ہو گئے مگر کھیل سے عشق و محبت اور ملک سے محبت اور وفا کا جذبہ آج بھی ریٹائر نہیں ہوا۔ وہ سپورٹس کے آل راؤنڈر ہیں انہوں نے بیڈمنٹن کی قومی چیمپئن شپ میں حصہ لیا بیڈ منٹن کے قومی ٹیم کے کوچ اور منیجر رہ چکے ہیں۔ ورلڈ ملٹری ریسلنگ چیمپمئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ٹینس میں 4 دفعہ ورلڈ ریکنگ کے گولڈ میڈل حاصل کیے اس کے علاوہ کبڈی میں بھی کوچنگ کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ 

کرنل آصف ڈار جو بات کرتے ہیں اس کے دستاویزی ثبوت بھی دیتے ہیں۔ ان کے سینے میں ہماری سپورٹس باڈیز کے اعلیٰ عہدیداروں کے ایسے ایسے رسواء کن راز دفن ہیں کہ بندہ سن کر حیران ہو جاتا ہے کہ ہماری ہاں کسی بھی شعبے میں نیچے سے اوپر تک کا سفر اور ٹاپ سیٹ حاصل کرنے کے لیے کیا کیا نہیں ہوتا۔ کرنل آصف ڈار کہتے ہیں کہ پاکستان کی سپورٹس باڈیز ایک بہت بڑا مافیا ہے اور میں نے پوری زندگی اس مافیا کے خلاف تن تنہا لڑتے گزارا ہے۔ مختلف مراحل پر میرے ساتھ مختلف لوگ کھڑے ہوتے رہے مگر جب انہیں ارباب حل و عقد کی طر ف سے مراعات یا فوائد کی آفر ہوتی وہ مجھے تنہا چھوڑ کر طاقتور اتھارٹی سے ہاتھ ملا لیتے اور مجھے اکیلا چھوڑ جاتے مگر میں نہ جھکنے اور نہ بکنے کے عزم پر آج بھی قائم ہوں۔ 

کرنل آصف ڈار نے مجھے 1988-89ء کی ایک تصویر دکھائی جس میں وہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بطور ان کے ٹرینر گراؤنڈ میں ٹریک سوٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب عمران خان نے کرکٹ سے استعفیٰ دیا تھا اور بعدازاں صدر پاکستان اور وزیراعظم کی درخواست پر استعفیٰ واپس لیا اس شرط پر کہ وہ 1992ء کا ورلڈکپ اسی صورت کھیلیں گے اگر ان کا فٹنس لیول برقرار رہا۔ اس موقع پر عمران خان نے آرمی سپورٹس سے فٹنس ٹریننگ کی خواہش کی اور مذکورہ تصویر اسی فٹنس پروگرام کا حصہ تھی۔

کرنل آصف ڈار ایک پریکٹیکل سپورٹس ایکسپرٹ ہیں اور وہ ایک سسٹم کے تحت قومی سپورٹس کو ریگولیٹ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر گیم کو آرگنائز بنیادوں پر چلانے کے لئے یہ ناگزیر ہے کہ ہم تحصیل سطح پر سپورٹس باڈی بنائیں اور یہ محض خانہ پری نہ ہو بلکہ Pro-Active لوگوں پر مشتمل ہو۔ اگلے مرحلے میں ان باڈیز کو ضلعی سطح پر استوار کیا جائے جہاں سے ایک صوبائی باڈی تشکیل کی جائے جس میں ضلعی باڈیز کے علاوہ واپڈا، ریلوے، بینک یا اس طرح کے اداروں کو بھی شامل کیا جائے۔ ان صوبائی تنظیموں سے حتمی مرحلے میں قومی سپورٹس باڈی تشکیل دی جائے۔ اگر اس تجویز پر عمل کر دیا جائے جو بالکل جائز اور دانشمندانہ بات ہے تو ہمارے کھیل کے میدانوں سے جڑی کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ اس بات کا لب لباب یہ ہے کہ سپورٹس کی Hierarchy نیچے سے اوپر کی طرف ترتیب دی جانی چاہئے یہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ ہماری ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ سپورٹس باڈیز کو اوپر سے نیچے کی جانب منظم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے یہ احمقانہ ہے یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ بلڈنگ بنانے کے لئے یہ پلان کریں کہ اس کی چھت پہلے بنائی جائے گی اور بنیادیں سب سے آخر میں۔ کرنل آصف ڈار نے کہا کہ سپورٹس میں پیشہ ورانہ لوگ جب تک نہیں آئیں گے ہمارا مقدر نہیں بدلے گا۔ اب آپ ہی بتائیں کہ فہمیدہ مرزا کو وزیر کھیل بنایا گیا ہے جن کا عملاً اس شعبے سے تعلق ہی نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ فٹ بال کی ایک بین الاقوامی چیمپئن شپ کے کوالیفائنگ مرحلے میں ہماری لڑکیوں کی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں 45 گول کھائے جبکہ پاکستان ایک بھی گول نہ کر سکا۔ اسی طرح ایک اور موقع پر ہم نے نیپال جیسے ملک سے 9 گول سے شکست کھائی۔ اولمپک میں Wild card پر ہمارے 6 کھلاڑیوں کو باہر جانے کا موقع ملا تو ہمارے ارباب اختیار نے 6 کھلاڑیوں کے ساتھ 24 بندے سفارشی بنیاد پر انتظامی مقاصد کے لئے ساتھ بھیج دیئے۔ ہمارے ہاں اولمپک میں 40 کھلاڑیوں کے ساتھ 400 لوگ مفت سفر کرنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور یہی لوگ بعدازاں چیئرمین کو منتخب کرنے کیلئے ووٹ دیتے ہیں یہ کرپشن، رشوت اور سفارش کی ایک بدترین ٹرائی اینگل ہے جسے توڑنا بہت ضروری ہے۔ میں نے ہر چینل اور ہر فورم پر کھیلوں میں کرپشن پر آواز اٹھائی ہے۔ کرنل ڈار کہتے ہیں کہ میں نے 1964ء سے کھیل میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی جس پر مجھے نقصان اٹھانا پڑا۔ میں آج بھی اکیلا لڑ رہا ہوں اور مرتے دم تک کلمۂ حق ادا کرتا رہوں گا۔

انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ہمارے قومی سطح کے کھیلوں میں خواتین کھلاڑیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات ایک حقیقت ہے مگر ان واقعات کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ان کے پاس ثبوت اور گواہ موجود ہیں۔ مگر طاقتور طبقہ ان پرکارروائی نہیں ہونے دیتا۔ کرنل ڈار کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے افق پر چیئرمین واپڈا جنرل مزمل جیسے اچھے لوگ موجود ہیں مگر اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ فارن ٹورز کے نام پر ان کو خرید لیا جاتا ہے۔

کرنل آصف ڈار نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ پاکستان کی امداد کیلئے ملکوں ملکوں گھوم رہے ہیں لیکن اگر ان ممالک کو یہ پتہ چلے کہ یہ امداد آگے چل کر کرپشن کے ذریعے سرکاری کارندوں کی جیبوں میں یا بیرون ملک دوروں کی عیاشیوں پر ضائع ہونی ہے تو وہ آپ کو کیوں پیسہ دیں گے۔ اگر عمران خان کا کوئی وفادار یا محب وطن ساتھی یہ کالم پڑھ رہا ہے تو میری درخواست ہو گی کہ ایک دفعہ کسی نہ کسی طرح کرنل آصف ڈار کی وزیراعظم یا ان کے کسی دست راست سے ملاقات کرا دیں آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی کہ آپ کی ناک کے نیچے کیا ہو رہا ہے۔


ای پیپر