میرے ماضی کے کچھ بھولے بِسرے کردار!
23 نومبر 2018 2018-11-23

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کا شمار انگریزی ادبیات کے نامور اساتذہ میں ہوتا ہے۔ وہ انگریزی زبان میں آرٹیکلز لکھنے کے ساتھ ساتھ ایک اُردو قومی معاصر میں ہفتہ وار کالم بھی لکھتے ہیں۔ منگل کو ’’ماسٹر فضل صاحب‘‘ کے عنوان سے چھپا اُن کا کالم پڑھا تو ذہن کے نہاں خانے میں موجود پانچ ساڑھے پانچ عشرے قبل کی کئی برسوں پرمحیط یادیں اور باتیں ہی تازہ نہیں ہو گئیں بلکہ کئی بھولے بِسرے واقعا ت اور کئی مرحوم شخصیات(اللہ کریم اُنہیں غریقِ رحمت کرے)بھی یاد آنے لگیں۔ میں اُس دور (گزشتہ صدی کے ساٹھ کے عشرے کے برسوں) میں پہلے سی بی پرائمری سکول ویسٹرج راولپنڈی بعد میں کچھ عرصہ سی بی ٹیکنیکل ہائی سکول لالکڑتی راولپنڈی میں پڑھاتا رہا۔ اکتوبر 1969ء میں بطور سینئر ماسٹر میری ترقی اور تقرری سی بی سرسید سائنس کالج دی مال راولپنڈی (موجود ایف جی سر سید کالج و ایف جی سرسید پبلک سیکنڈری سکول)میں ہو گئی۔ اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے دوران اُس دور کے کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کے تعلیمی اِداروں بالخصوص پرائمری سکولوں اور اُن کے ہیڈ ماسٹر زاور اساتذہ سے تعلق اور واسطہ ایک معمول کی بات تھی۔ اس دوران کچھ شخصیات سے خصوصی تعلقِ خاطربھی قائم ہوا۔ ماسٹر محمد فضل مرحوم جن کے بارے میں ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کالم لکھا ہے وہ سی بی پرائمری سکول اولڈ بلڈنگ لالکڑتی راولپنڈی کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ بلا شبہ اُنہیں جنون تھا کہ اُن کا سکول نتائج میں سب سے آگے رہے اور اُن کے سٹوڈنٹس پانچویں جماعت کے وضائف کے امتحان میں سب سے زیادہ وظائف حاصل کر کے کنٹونمنٹ بورڈ کے سکولوں میں ہی نہیں بلکہ ضلع بھر کے سکولوں میں بھی اول پوزیشن حاصل کریں۔ وہ یہ پوزیشن حاصل کرنے میں کئی بار کامیاب رہے ۔اس میں اُن کے ساتھی اساتذہ کا بھی بڑا کردار تھا۔ 

مجھے یاد پڑتا ہے کہ اُس دور میں ہیڈ ماسٹر محمد فضل کے ساتھ سی بی پرائمری سکول اولڈ بلڈنگ لالکڑتی میں محترم عرفان صدیقی (میاں محمد نواز شریف کے قریبی اور بااعتماد ساتھی اور اُن کے مشیر) جنہوں نے 1969ء میں سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے پنجاب یونیورسٹی کے بی ایڈ کے امتحان میں اول آکر گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اور بعد میں ترقی پا کر سی بی سرسید کالج میں چلے گئے تھے کے ساتھ ماسٹر محمد صدیق مرحوم آف بسالی، راجہ اشتیاق حسین مرحوم، حاجی محمد انور مرحوم، ماسٹر محمد یونس، ماسٹر عبدالمجید صاحب (عینک والے) اور راجہ محمد اسحاق وغیرہ شامل تھے۔ محترم عرفان صدیقی سے دوستی اور تعلق کی بنا پر میرا وہاں آنا جانا تھا اور اس طرح ان سب سے بھی کسی نہ کسی حد تک دوستانہ اور نیازمندانہ تعلقات استوار ہوئے۔ ماسٹر محمد صدیق آف بسالی جنہیں ہم لالہ صدیق کہہ کر پکارتے تھے سادہ طبیت کے مالک محنتی استاد ہی نہیں تھے بلکہ بڑے ملن سار، مہمان نواز اور مخلص دوست بھی تھے۔ مجھے محترم عرفان صدیقی کے ہمراہ ایک سے زائد بار اُن کے گاؤں بسالی میں اُن کے گھر مہمان بننے اَور اُن کی ضیافتوں سے لطف اندوز ہونے کے مواقع ملے۔ لالہ صدیق مرحوم ہیڈ ماسٹر محمد فضل کے ایک لحاظ سے گرائیں ہونے کے باوجود اُن سے بہت سہمے رہتے تھے۔ ماسٹر راجہ اشتیاق حسین مرحوم کسی حد تک سخت مزاج کے مالک لیکن بڑے محنتی اور بے دھڑک اُستاد تھے۔ عام طور پر وہ چوتھی جماعت کو ریاضی اور دوسرے مضامین پڑھایا کرتے تھے۔ اُنہیں تاش کھیلنے کا بڑا شوق تھا۔ اُن کے گھر لالہ زار میں کئی کئی گھنٹے ہماری تاش کی چوکڑی جمتی تھی۔ ہارنے پر وہ ذرا غصے میں آجاتے تھے ۔ 

سی بی پرائمری سکول اولڈبلڈنگ لالکڑتی راولپنڈی کے اُس دور کے اساتذہ میں سے محترم عرفان صدیقی پر ہیڈ ماسٹر محمد فضل بے پنا اعتماد کرتے تھے۔وہ اپنی اہلیت، قابلیت، محنت اور خوبصورت شخصیت کی بنا پر اپنے رفقائے کار میں ہی قدرومنزلت کی نگاہوں سے نہیں دیکھے جاتے تھے بلکہ دیگر سی بی تعلیمی اِداروں میں بھی اُن کے جاننے والے اُن کی صلاحیتوں کے معترف تھے۔اُنہوں نے بعد میں بے پناہ ترقی کی اورمسلم لیگ ن کے پچھلے دورِ حکومت میں وہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن مقرر ہوئے اور اِس حیثیت سے بھی اپنی صلاحیتوں اور اعلیٰ کارکردگی کا لوہا منوایا۔اولڈ بلڈنگ کے دوسرے اساتذہ میں ماسٹر محمد یونس ذرا چھوٹے قد کے لیکن ہمیشہ اچھے لباس میں ملبوس رہتے تھے۔ مجھے عرفان صاحب اور دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ اُن کے گاؤں چھنی عالم شیر میں جوراولپنڈی کے جنوب مشرق میں 20/25کلو میٹر کے فاصلے پر جی ٹی روڈ پر روات اور مندرہ کے درمیان واقع ہے اُن کی شادی میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ راجہ محمد اسحاق کا تعلق بھی روات سے 4/5کلو میٹر دور گاؤں (میرا) سے تھا۔ راجہ صاحب کے دُبلے پتلے جسم کی وجہ سے خوب ہنسی مزاق چلتا تھا۔ ہم اُنہیں سر اسحاق کی بجائے سر آئزک کہہ کر پُکارتے تھے۔ حاجی انور صاحب بزرگ شخصیت کے مالک بڑے محنتی اور اپنے کام سے کام رکھنے والے اُستاد تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی رِزق حلال کمانے کے لیے اُن کی محنت و مشقت جاری رہی۔ مجید صاحب کی نظر کمزور تھی وہ نظر کی عینکیں لگاتے تھے۔ اکثر ساتھیوں کی ہنسی مزاق اور ہلکے پھلکے طنز کا نشانہ بنے رہتے تھے۔ 

سی بی پرائمری سکول کے اساتذہ کا یہ تذکرہ طویل ہو سکتا تھا لیکن اس سے ہٹ کر تھوڑا سا ذکر اس دور کے پنڈی کینٹ بورڈ کے دوسرے پرائمری سکولوں کے ہیڈ ماسٹروں کا کر لیتے ہیں کہ اُن میں مقابلہ آرائی کی زبردست فضا پائی جاتی تھی۔ ماسٹر محمد فضل جیسے اُن کا تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے سی بی پرائمری سکول اولڈ بلڈنگ راولپنڈی میں ہیڈ ماسٹر تھے تو لالکڑتی میں ہی دوسرے پرائمری سکول جو سی بی ٹیکنیکل ہائی سکول لالکڑتی سے ملحق تھا اور اپنی کشادہ نئی عمارت کی وجہ سے نیو بلڈنگ سکول کہلاتا تھا وہاں اوسیا مری سے تعلق رکھنے والے ایم آر خاکی (عبدالرحیم خاکی)ہیڈ ماسٹر تھے۔ ان کے رعب اور دبدبے کا بڑ اتذکرہ ہوتا تھا۔ اِن کے سکول کے نتائج بھی اولڈ بلڈنگ کے مقابلے میں کچھ کم لیکن اچھے ہی ہوتے تھے۔ کینٹ کی نواحی بستی تلسہ کے سی بی پرائمری سکول میں بھاری بھر جسم کے مالک ماسٹر فضل خان ہیڈ ماسٹر تھے۔ اُن کا تعلق روات سے آگے جی ٹی روڈ سے ملحقہ گاؤں بگا شیخاں سے تھا۔ سکول کے نتائج کچھ واجبی ہوتے تھے۔ سی بی پرائمری سکول آر اے بازار میں ماسٹر محمد فضل کے گرائیں بسالی سے تعلق رکھنے والے ماسٹر نور محمد ہیڈ ماسٹر تھے یہ بھی بھاری بھر جسم کے مالک تھے۔ اِن کا سکول کینٹ بورڈ کے پرائمری سکولوں کے پانچویں جماعت کے مرکزی امتحان کا سنٹر ہوا کرتا تھا۔ کینٹ بورڈ کے ایجوکیشن سپرنٹنڈنٹ کی سربراہی میں پانچویں کے نتائج ایک ہی روز میں امتحان لینے کے بعد مکمل کر لیے جاتے تھے۔ 

سی بی پرائمری سکول صدر بازار میں چوہدری ولائت خان ہیڈ ماسٹر تھے۔ ناک پر چاقو کے زخم کے نشان اور سُرخ و سفید بھاری چہرے کے مالک چوہدری ولائت خان کا تعلق میرے آبائی گاؤں تھانہ چونترہ کے اہم قصبے ڈھولیال سے تھا۔ چوہدری ولائت خان کی آر اے بازار سکول کے ہیڈ ماسٹر ، ماسٹر نور محمد، اولڈ بلڈنگ کے ہیڈ ماسٹر محمد فضل اور تلسہ کے ہیڈ ماسٹر فضل خان سے جو آپس میں تقریباًگرا ئیں تھے مقابلہ آرائی چلتی رہتی تھی۔ سی بی پرائمری سکول نئی چھاؤنی میں ماسٹر سوار خان ہیڈ ماسٹر تھے اُن کا تعلق بھی روات کے نواحی گاؤں بگا شیخاں سے تھا۔ مجھے اُن کے ماتحت کام کرنے کا موقع ملا۔ اُس وقت اُن کا تعلق تصوف کی طرف کچھ زیادہ ہو گیاتھا۔ اور وہ نواحی قصبے کلیام شریف میں مدفون صوفی بزرگ بابا فضل شاہ کلیامی کی محبت اور عقیدت کا زبانی کلامی زیادہ ہی اظہار کرنے لگے۔ سی بی پرائمری سکول گوال منڈی میں ماسٹر محمد کبیر قریشی ہیڈ ماسٹر تھے۔ دُبلے پتلے جسم کے مالک قریشی صاحب بڑی تیزی سے اُردو بولا کرتے تھے۔ دُوسرے 2/3پرائمری سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کا تذکرہ اگر موقع ملا تو پھر کبھی کر لیں گے۔


ای پیپر