فکرِ واصفؒ اور وحدتِ ملت
23 نومبر 2018 2018-11-23

نارنگ منڈی کے چاول ہی خوشبودار نہیں ہوتے بلکہ لوگ بھی خوشبودار ہوتے ہیں، ان خوشبو شناس لوگوں نے ایک خوشبودار شخصیت کے فکر کی خوشبو کو سمیٹنے اور پھر اپنے انداز میں نئے سرے سے اس خوشبو سے فضا کو عطر بیز کرنے کا اہتمام ایک سیمنار بسلسلہ’’ فکرِ واصفؒ اور پاکستان‘‘ کی صورت میں کیا ہے۔ صاحبو! یہ فکر بہت خوشبودار ہے، اس کی خوشبو نے گزشتہ چودہ سو برس کے پھولوں کا عطر اٹھایا ہوا ہے۔ صاحبِ محفل نے اپنی کتاب’’ کرن کرن سورج‘‘ میں خود فرمایا ہے’’یہ چند کلیاں ہیں نشاطِ رْوح کی ‘ جنہیں گلستانِ طریقت سے چْنا گیا اور جن سے اِصلاحِ اِحساس میسّرآنا ممکن ہے۔ جب لفظ طریقت، مرشد اور تصوف لکھا یا پڑھا جاتا ہے تو اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی کچھ نامعلوم قسم کے تحفظات کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہاں طالبعلم بھی موجود ہیں، ان کو یہ بتاتا چلوں کہ طریقت کی تعریف مرشدی واصف علی واصفؒ نے سادہ الفاظ میں یوں کی ہے کہ طریقت شریعت بالمحبت ہے۔ تصوف دین کے متوازی یا مخالف کوئی فکر نہیں ، صوفیوں کا آغاذ اصحابِ صفہ سے ہوتا ہے۔ تصوف روحِ دین ہے۔ شریعت جسم ہے تو تصوف اس کی روح ہے۔ پہلے پہل روح اور جسم میں اتنے فاصلے نہیں ہوتے تھے، دوِر ملوکیت میں ظاہر داری پر زور دیا گیا اور روحِ دین سے عوام کو غافل رکھا گیا، تب اس خوشبو کو لے کر صاحبانِ خوشبو تازہ بستیاں آباد کرنے کیلئے کوفہ و بغداد سے نکل پڑے۔ ایسے ہی سلسلے کی ایک روح شناس اور روح پرور شخصیت کا تذکرہ یہاں برپا ہے ، تاآنکہ ہم اپنے حصے کی خوشبو سمیٹ لیں اور اس خوشبو کے ذکر سے خود معطر و مزکی کر سکیں۔ یاد رہے کہ تزکیہ خوشبودار کرتا ہے، نفس پرستی فرد اور معاشرے کو بدبودار کرتی ہے۔ 

صاحبو! میرے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ میں جب کوئی شروع بات کرتا ہوں تو اس سے پہلے ایک تمہید باندھتا ہوں، بعض اوقات وہ تمہید اتنی طویل ہو جاتی ہے کہ بات سننے اور کرنے والا دونوں بھول جاتے ہیں کہ بات کیا تھی۔ سو! آپ نے بڑے حوصلے اور صبر کے ساتھ اس تمہید کو سننا ہے۔ صاحبانِ محترم! اس میں میرا کوئی کمال نہیں ‘ بس مقدر کا ستارہ چمکا اور ٹائم اینڈ سپس میں مجھے ایک ایسا سرا میسر آگیا کہ میں بیس سال کی عمر میں آپؒ سے ملاقات کے دائرے میں داخل ہوگیا، شمسی کیلنڈر کے مطابق آٹھ سال اور پانچ دن آپؒ کے وجودی پیکر سے براہِ راست بصورتِ مکالمہ بھی مستفید ہوتا رہا، 18 جنوری 1993 ء میں جب آپؒ واصل بحق ہوئے تو میں اٹھائیس برس کا تھا، اب ستائیس برس مزید گزر چکے ہیں۔ یوں نصف صدی کے برزخ پہ کھڑا ہو کر میں دونوں طرف دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ فکرِ واصف ؒ نے ہمارے ملک کے فکری سَوتوں میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے، یہ کتابی بات نہیں ، بلکہ مشاہداتی بات ہے۔ اپنے پہلے اٹھائیس سالوں میں‘ میں نے دیکھا کہ وطنِ عزیز میں فکری اعتبار سے دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم بہت واضح تھی۔ جو شخص دین کی بات کرتا تھا، لوگ اسے مولوی، صوفی اوربنیاد پرست کہتے، دین کی بات کرنے والے لوگ بالعموم معاشی اور معاشرتی اعتبار سے پس ماندہ طبقات میں سے ہوتے، جبکہ ان لوگوں کا مضحکہ اڑانے والا ایک ترقی یافتہ، پڑھا لکھا اور معاشرے میں ویل پلیسڈ طبقہ تھا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ آپؒ کی محفل میں دونوں

طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ جمع ہوگئے۔ ہر اسکول آف تھاٹ کا بندہ، ہر فرقے کا علمبردار ، ہر فہم و دانش کا نمائندہ آپ کے گرد جمع ہو گیا۔ جہاں اہلِ تسلیم ہدیۂ دل و جاں لیے ہوئے موجود تھے ‘وہاں تشکیک کا ترکش لے کر سوالات کی تیر اندازی کرنے والا ایک مغربی دانشور طبقہ بھی موجود تھا۔ سرخ انقلاب کے پیام بر لکھاری بھی آپ کے پاس آئے اور جب واپس گئے تو سبز چولا پہنے ہوئے تھے۔ ہم اُس دور کے لکھاریوں میں جو بابا کلچر دیکھتے ہیں‘ وہ ہمارے بابے کا کمال تھا۔ آج ستائیس برس گزرنے کے بعد میں جب میں ان فکری سَوتوں پر ایک نظر ڈالتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ دونوں طبقاتِ فکر میں حائل یہ خلیج اب ایسی گہری نہیں رہی‘ جسے عبور نہ کیا جا سکے۔ صد شکر! اب یہ تقسیم رائیٹ اور لیفٹ کی نہیں بلکہ رائیٹ ایند رانگ کی ہے، اور درحقیقت یہی تقسیم ایک حقیقی تقسیم ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مرشدی واصف علی واصفؒ کے باتیں، مضامین اور اقوال‘ فور سٹار یونیورسٹیوں میں بھی پڑھے جارہے ہیں ، اور مساجد و مدارس کے طلبا بھی ان سے مستفید ہو رہے ہیں۔ فکرِ واصفؒ نے جہاں رائیٹ اور لیفٹ کی تقسیم کو کم کیا ہے، وہاں طریقت اور شریعت میں پیدا شدہ فرق کوبھی ختم کیا ہے۔ خانقاہ سے پہلے مسجد تعمیر کرنے کا سبق ہمیں فکرِ واصفؒ سے ملا ہے۔ آپؒ کے فکر سے مستفید شخص فرقہ واریت میں بھول کربھی قدم نہیں رکھتا۔ آپؒ کی محفل میں سب مکاتبِ فکر کے لوگ موجود ہوتے، شیعہ ، سنی، سلفی ،جماعتی، تبلیغی غرض ہر درجہ شعور اور فکر کے لوگ اپنے اپنے فکری اشکالات کو رفع کرتے نظر آتے ہیں۔ قطبِ ارشاد نے آنے والی کئی صدیوں تک دینی حوالے سے فکری الجھنوں اور مغالطوں کو دُور دُور تک دُور کر دیا ہے۔ 

فکرِ واصفؒ نے اہلِ پاکستان میں فکری وحدت پیدا کرنے کی بنیاد رکھی ہے۔ وحدت ملت کا درد اقبالؒ کی طرح یہاں ہمیں واصفی فکر میں بھی بدرجہ اتم ملتا ہے۔ ’’کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک‘‘ والا درد اگر نثری صورت میں دیکھنا ہو تو آپؒ کا مضمون’’ اسلام 228 فرقہ 236 صفر‘‘ میں دیکھیں۔ دو جمع دو چار کے کلیے کی طرح یہاں بڑے بڑے حقائق چند لفظوں میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ آج سے چالیس برس قبل بتائی ہوئی بات ہے کہ اگر قوم کو ایک بنانا ہے تو مدرسے اور اسکول کانصاب ایک کردو۔ صد شکر کہ اس مسئلے پر کچھ پیش رفت کی جارہی ہے۔ کاش ہم اپنی زندگی ہی میں دیکھ لیں کہ نصابِ تعلیم ایک کر دیا گیا ہے ، سکول اور مدرسے میں ایک نصاب زیرِ مطالعہ ہے، ڈیفنس اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں رہنے والے بچوں کا اندازِ فکر دین ، ملک اور ملت کے حوالے سے یکساں ہو گیا ہے۔ 

اس قوم کو جو دراصل مجموعہ الاقوام ہے ، ایک فکری پلیٹ فارم پر لانے کیلئے فکرِ واصفؒ سے بہتر نسخہ میسر نہیں۔ جسے نظریہ پاکستان سمجھ نہیں آرہا‘ اسے چپکے سے مضامینِ واصف پڑھا دیے جائیں۔ آسان سے آسان لفظوں میں اسلام، پاکستان، اور اخلاقیات کا سبق ہمیں فی زمانہ مضامینِ واصف ؒ سے مل رہا ہے۔ محترم محمد ظہیر بدر نے اپنے ایم فل کے مقالے میں بجا طورپر حضرت واصف علی واصفؒ کو مصلحِ پاکستان کے خطاب سے پکارا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نصاب میں مضامینِ واصفؒ کو شامل کریں، یہ مضامین اس قدر آسان اُردو میں ہیں کہ پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول کے نصاب میں بیک وقت رائج کئے جا سکتے ہیں۔ یہاں ادب کی چاشنی بھی اس قدر میسر ہے کہ کالج اور یونورسٹی میں ادب کے رسیا واصفؒ صاحب کے نپے تلے چملوں سے ذوقِ سخن کی آسودگی پاتے ہیں۔ 

پاکستان کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا، اس کی تعبیر قائداعظم ؒ کی انتھک محنت کا نتیجہ تھی، تعبیر کے بعد تعمیر کا مرحلہ تاحال جاری ہے۔ استحکامِ پاکستان کیلئے جس فکری وحدت کی ضرورت ہے ‘ اس کیلئے مضامینِ واصف ؒ سے استفادہ از ضروری ہے۔ اربابِ حل و عقد پہلی فرصت میں اس چھپے ہوئے خزانے اور خوشبوکی طرف توجہ دیں۔ 

( حلقۂ اربابِ ذوق ، ناررنگ منڈی کے زیرِاہتمام سمینار میں پڑھا گیا)


ای پیپر