ہمیں ریفری نہیں ملتا !!
23 نومبر 2018 2018-11-23

ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے یہاں جھگڑے بہت ہوتے ہیں، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں ریفری نہیں ملتا ۔ ہم اس رنگ میں اتر جاتے ہیں جہاں کوئی ریفری نہیں ہوتا لہذا کسی ایک کی موت دوسرے کی جیت کا اعلان کرتی ہے ۔ہم قاتل نہیں ہیں لیکن ریفری نہ ملنے کی وجہ سے ہمیں آخری لمحے تک لڑنا پڑتا ہے ۔ یہ آخری لمحہ کس کی زندگی کا ہو گا اس کا علم لڑنے والوں کو آخری لمحہ سے قبل نہیں ہو پاتا ۔ لڑنے والے نہ لڑنا چاہیں تب بھی کسی ایک کو مرنا ہوتا ہے کیونکہ فیصلہ کرنے والا ریفری اس میدان میں نہیں آتا۔ قصور کی معصوم زینب کے قاتل کو پھانسی ہو چکی لیکن اس کے باوجود یہ کیس تاریخ میں ہم سب کی مجموعی بے حسی کی علامت بن چکا ہے ۔ میں نے اسے کیس سٹڈی کے طور پر دیکھا تھا اور مجھے شدت سے احساس ہوا کہ مجرم صرف وہ درندہ نہیں تھا جسے پھانسی ہو ئی ہے بلکہ زینب اور اس جیسے جانے کتنے معصوموں کے ملزم ہم سب ہیں ۔ روایت شکنی اور بغاوت کے خوبصورت نعروں کے زیر اثر ہم نے اپنا کلچر اور جانے کتنی اقدار کھو دی ہیں ۔ مجھے زینب اور اس جیسے بچوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے ذمہ دار وہ تمام لوگ لگتے ہیں جو کبھی گلی محلے اور برادری کے بڑے سمجھے جاتے تھے ۔ محلے اور علاقہ کے معاملات پر نظر رکھنا اور انہیں پنپنے سے پہلے ہی حل کروا دینا ان کی خود ساختہ ذمہ داری ہوتی تھی ۔ ہم لوگوں کے اس ہجوم میں انسانیت تو تب تلاش کریں جب کوئی انسان ملے ۔

آپ سروے کروا کر دیکھ لیں ۔ ہم نے جب سے بزرگوں کو عضو ناکارہ سمجھنا شروع کر دیا ہے تب سے طلاقوں کی شرح بھی بڑھنے لگی ہے ۔ گاؤں اور محلے کی چوپال لپیٹنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ لڑائی جھگڑے شدت اختیار کرنے لگے ۔ بزرگوں اور معززین علاقہ کا احترام ختم ہونے لگا تو ہم طرح طرح کے مسائل میں الجھنے لگے ہیں ۔ زندگی بھر کے تجربات کا نچور جن کے پاس ہوا کرتا تھا ہم نے انہیں ہی بے حسی کے شکنجے میں ڈال کر نچوڑ دیا ۔ سچ کہوں تو ہمارے شہر پھیلتے جا رہے ہیں لیکن گھرسکڑتا جا رہا ہے۔ نت نئی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے نام پر ہم اپنے گاؤں ، قبیلے ، برادری ہی نہیں رشتہ داروں اور بہن بھائیوں سے بھی دور ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ان سوسائٹیز میں نہ تو گاؤں کی سی اپنایت ملتی ہے اور نہ محلے کے بزرگ نظر آتے ہیں ۔ ایک عجیب سی بے حسی ہے جو یہاں کی فضا میں چھائی رہتی ہے ۔ یہاں ایک گھر میں فوتگی ہو جائے تو دوسرے گھر کے مکین ’’فنکشن ‘‘سمجھ کر اپنے اپنے دفاتر چلے جاتے ہیں ۔ فیشن کے نام پر چھانے والی یہ بے حسی اب سوسائٹیز سے ہوتی ہوئی گلی محلوں میں بھی اپنا رنگ جمانے لگی ہے ۔ 

زیادہ پرانی بات نہیں ہے ۔ گلی محلوں میں ہر خاتون خالہ یا چاچی ہوتی تھی اور ہر بزرگ تایا یا چاچا ہوتا تھا ۔ انہیں یہ حق حاصل تھا کہ محلے کے کسی بھی بچے کو کوئی غلط کام کرتا دیکھیں تو کان سے پکڑ کر گھر بھیج دیں ۔ گھروں میں ایسی کھڑکیاں ہوتی تھیں جن سے نادید ہ آنکھیں گلی پر نظر رکھتی تھیں ۔ چوک میں بظاہر پان سگریٹ کے نام پر ایسے لڑکوں کی ٹولی موجود رہتی تھی جو گلی میں داخل ہونے والے اجنبی کی پوری خبر رکھتے تھے ۔کسی اجنبی کی گلی میں آمد پر کوئی نہ کوئی لازمی پوچھتا تھا کہ کہاں جانا ہے ۔ اگر وہ محلے کے کسی گھر کا مہمان ہوتا تو اپنا مہمان سمجھتے ہوئے گھر تک راہنمائی کی جاتی ، کوئی اجنبی ہوتا تو بلامقصد گلی میں رہنے کی اجازت نہ دی جاتی ۔ سوال یہ ہے کہ اب قصور کی زینب کیس جیسے سانحات رونما ہوتے ہیں تو ہمیں دور دور تک یہ لوگ نظر کیوں نہیں آتے؟ گھروں میں طلاق ہوتی ہے تو نوبت یہاں تک پہنچنے سے پہلے معاملہ حل کروا دینے والے بزرگ کہاں چلے جاتے ہیں ؟ گلی محلے کی معمولی لڑائی قتل جیسے جرائم میں کیوں تبدیل ہو جاتی ہے ؟ ایسی لڑائی کو بروقت حل کروا دینے والے معززین علاقہ کہاں چلے گئے ہیں ؟ پہلے شرفا کے یہاں معاملہ تھانے کچہری تک لیجانے کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ قاتل کے گھر کی خاتون اگر مخالف کے گھر چلی آتی تو بہن اور بیٹی قرار دیتے ہوئے خون تک معاف کر دیا جاتا تھا ۔ بزرگ کی پگڑی اور ماں کی چادر کی حیا کی جاتی تھی ۔ یہ وہ روایات تھیں جو ہماری پہچان ہوا کرتی تھیں، اب اکثر بڑے گھروں کے ایک کونے میں خون تھوکتے بوڑھے کے بارے میں وہاں کے ملازم بتاتے ہیں کہ یہ صاحب کے والد ہیں اور صاحب ’’تازہ ہوا‘‘ کے لئے انہیں گاؤں بھیجنے لگے ہیں۔ 

میں اکثر کہتا ہوں کہ تھانہ کچہری اور قانونی راستہ ایک سہولت ہوتی ہے لیکن کیا ضروری ہے کہ ہر معاملہ اس نہج تک لیجایا جائے جہاں جوان بیٹاجیل میں ہو اور بوڑھا باپ یا جوان بہن کچہری کے چکر لگاتی نظر آئے ۔ نوبت یہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی ہمارے بہت سے معاملات حل ہو سکتے ہیں ۔ بزرگ درمیان میں ہوں تو کئی گھر اجڑنے سے بچ سکتے ہیں ۔ اس مفاہمتی کلچر کی اہمیت اور اسے معاشرے میں زندہ رکھنا ہمارے بڑوں کی ذمہ داری تھی ۔ اب ایک خبر کے مطابق آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے اس حوالے سے کچھ فیصلے کئے ہیں ۔انہوں نے معمولی تنازعات اور جھوٹی شکایات پر وقت کے ضیاع کو روکنے اور بروقت ان معاملات کو حل کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ لیول پر ’’آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی ‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ کمیٹی تھانہ سے منسلک ہو گی اور پولیس اسٹیشن میں ان کے لئے الگ کمرہ مختص کیا جائے گا جہاں لوگوں کے معمولی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ 21 افراد پر مشتمل اس کمیٹی میں اچھی شہرت کے حامل ریٹائرڈ ججز ، پروفیسرز ، علما کرام ، وکلا ، سابق سرکاری افسران ، سینئر صحافی اور عوامی نمائندے شامل کئے جائیں گے ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کمیٹیوں کے فیصلوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لئے باقاعدہ حکومت سے اجازت طلب کی جائے گی اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو قانون میں ترمیم کروانے کے لئے بھی حکومتی مدد لی جائے گی ۔ ابھی یہ محض ایک فیصلہ ہے لیکن امید ہے جلد ہی اس حوالے سے کام مکمل کر کے اس سسٹم کو عملی جامہ پہنا دیا جائے گا ۔ 

میرے خیال میں اگر یہ سسٹم حقیقی انداز میں چل نکلا تو اس سے بہت سے سنگین جرائم کم ہو سکتے ہیں ۔ اب بحیثیت فرد ہم پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ یہ کہ اپنے اپنے علاقے میں بننے والی ایسی کمیٹی میں کسی مجرمانہ ریکارڈ کے حامل شخص کو شامل نہ ہونے دیں اوراگر کہیں کوئی ایسا شخص اپنی جگہ بناتا نظر آئے تو اس کی فوری نشاندہی کریں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تھانے دار تو تبدیل ہوتے رہتے ہیں ، یہ مقامی لوگ ہی ہیں جو ایسی کمیٹیوں میں غلط افراد کی نشاندہی کر سکتے ہیں ۔ آئی جی پنجاب یا پولیس ایک سسٹم بنانے کے احکامات تو دے سکتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ جب تک کسی سسٹم کو مقامی سطح پر شہریوں کی حمایت حاصل نہ ہو تب تک وہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ بحثیت شہری ہمیں نہ صرف اس مصالحتی کمیٹی کو کامیاب کروانا ہے بلکہ ایک شہری کے طور پر ایسی کمیٹیوں پر نظر بھی رکھنا ہو گی ۔ بے حسی کی اس فضا میں اگر دوبارہ احساس کی کونپل پھوٹ پڑی تو مجھے یقین ہے ہم کئی گھروں کو اجڑنے اور کئی بچوں کو بکھرنے سے بچا لیں گے۔


ای پیپر