ادھورے خواب ۔۔۔ مِس این کے
23 نومبر 2018 2018-11-23

’’ آپ نے آنکھیں ماتھے پر رکھ لی ہیں؟‘‘ ۔۔۔

’’نہیں تو۔۔۔!‘‘ اُس نے اپنا ماتھا ٹٹولتے ہوئے کہا ۔۔۔ ’’ذرا اوپر ہاتھ پھیریں‘‘ ۔۔۔ میرے مشورہ پر اوپر ہاتھ پھیرا تو بالوں میں ’’ سٹائلش انداز ‘‘ میں لگی عینک محسو س ہوئی۔۔۔! ہنس دیئے ۔۔۔

حضور۔۔۔ آج کل ہمارے اکثر صاحبانِ اقتدار دو دو عینکیں لگائے پھرتے ہیں۔۔۔آنکھیں ماتھے پہ سجائے پھرتے ہیں نہ موڈ اچھا ہو نہ کسی سے ہنس کے بات کرنی پڑے ۔۔۔ بس مانتے نہیں اور آنکھیں ماتھے پر رکھنے کا اُنہیں اتنا ہی تجربہ ہوتا ہے جتنے اقتدار کے دن۔۔۔’’ آنکھیں ماتھے پر رکھنا‘‘ ۔۔۔ یہ ایک پرانا محاورہ ہے لیکن ہے بہت ’’ وزن دار‘‘ ۔۔۔ دوسرے محاوروں کی طرح یہ محاورہ بھی کوزے میں دریا بند کر کے رکھ دیتا ہے۔۔۔ اگر شیخ سجاد حسین دنیا میں نہ آتا تو شاید اِس محاورے تک رسائی نہ ہو پاتی اور نہ ہی میں پاکستان کا مشہور قصبہ بدوملہی دیکھ پاتا ۔۔۔ اپنی اِن آنکھوں کے ساتھ ۔۔۔ ہاں البتہ ۔۔۔ اگر میرے قارئین میں آپ شامل نہ ہوتے کہ جو میری ہر تحریر پر تنقید کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور میری ہر کوتاہی پر اپنی قیمتی رائے کے تیر برساتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں تو شاید میں بدوملہی کے دورے کی روداد ایک دو سو صفحات پر مشتمل سفر نامے کی صورت میں لکھ ڈالتا (حسن عباسی اور مستنصر حسین تارڑ سے آگے نکل جانے کے چکر میں ) اور چیکو سلواکیہ جو کہ چیک ریپبلک بن چکا ہے ، وہاں سے میری قلمی دوست (فلمی دوست بھی) مِس این وہاں سے PIA کی پہلی پرواز پر سہیلیوں سے یہ کہہ کر بیٹھ جاتی کہ میں پاکستان کے بڑے شہر اور نامور صحت افزاء مقام بدوملہی کے دورے پر جا رہی ہوں۔۔۔ جہاں سے میں بذریعہ شپ افغانستان کے شہر قندھار بھی جاؤں گی ۔۔۔ جہاں اِک خوبصورت آنکھوں والا طالبان رہتا ہے جو بظاہر جنگجو ہے مگر خالصتاً شریف آدمی ہے دوسرے طالبان کی طرح ۔۔۔ مِس این نے اِک بار مجھے خط میں لکھا ۔۔۔ ترجمہ ملاحظہ کریں ۔۔۔ (کچھ باتیں سمجھ نہ آئیں تو اندازے سے گزارہ کر لیں) ۔۔۔ 

’’ موشا ۔۔۔ بہت مزہ آیا ۔۔۔ سویٹ ہارٹ‘‘ ۔۔۔ اِک بار میں نے نیٹ پہ دیکھا کہ بھارت کے شہر گووا میں اِک خاتون کے مُنہ پر مونچھیں ہیں اور وہاں شہر کے لوگ اُس مونچھوں والی عورت سے ڈرتے ہیں۔ ’’ سویٹ ہارٹ ‘‘ میں نے ریڑن ٹکٹ خریدا اور جہاز سے گووا لینڈ کیا۔۔۔’’ سویٹ ہارٹ‘‘۔۔۔ وہاں میں نے ائیر پورٹ پر لوگوں سے پوچھا کہ مجھے بڑی مونچھوں والی عورت سے ملنا ہے ۔۔۔ سب یہ سن کر ہنسنے لگے ۔۔۔ میں نے ٹیکسی لی اور ’’سویٹ ہارٹ ‘‘ وہاں سے اِک پارک میں گئی ۔۔۔ لوگوں سے پوچھا۔۔۔ ’’مجھے مونچھوں والی عورت سے ملنا ہے‘‘۔ لوگ خوب ہنسے۔۔۔ قہقہے لگانے لگے۔۔۔ تو میں گھبرا کر رونے لگی۔۔۔’’سویٹ ہارٹ‘‘۔۔۔ مجھے روتے دیکھا تو کچھ نوجوان بھاگ کر آ گئے ۔۔۔ اُنہوں نے مجھے ویلکم کیا اور باری باری میرے گال تھپتھپا کے چپ کرایا ۔ حالانکہ میں اُن کی ہمدردی سے چپ نہیں ہوئی۔ اِس ڈر سے چپ ہوگئی کہ یہ مجھے چپ کرانے کے بہانے میرے باری باری گال تھپتھپائے جائیں گے۔ کہیں میرے گالوں کو الرجی نہ ہو جائے ۔۔۔ ’’سویٹ ہارٹ‘‘ ۔۔۔

اُن میں سے ایک ایسا تھا جس نے اُس گاؤں کی مونچھوں والی عورت کے بارے میں نیٹ پر سب کچھ پڑھ رکھا تھا ۔۔۔ اُس نے مجھے ساتھ لیا اور ہم دونوں دو گھنٹے اِک ٹوٹی پھوٹی سڑک پر سفر کرتے ۔۔۔ اُس قصبے میں جا پہنچے ۔۔۔ ’’سویٹ ہارٹ‘‘ ۔۔۔ وہاں ہم نے دیکھا اِک عورت قصبے میں اِک ’’ جنرل سٹو ر ‘‘ چلاتی ہے اور اُس کے منہ پر ۔۔۔ ’’سویٹ ہارٹ‘‘ مردوں جیسی بڑی مونچھیں ہیں۔ میں اور میرا ساتھی شام چھ بجے وہاں پہنچے تھے۔۔۔ ہم دونوں ایک گھنٹہ ۔۔۔اُس کے منہ پر لگی مونچھیں دیکھتے رہے ۔۔۔ خوب انجوائے کرتے رہے ۔۔۔

سات بجے جب رات ہونے لگی تو اُس عورت نے ۔۔۔ ’’ سویٹ ہارٹ‘‘ ۔۔۔ منہ سے اِک سائیڈ سے پکڑ کر اپنی مونچھیں اتاریں اِک ڈبہ میں حفاظت سے رکھیں اپنی مردانہ ٹوپی بھی اتاری اور بالوں کو زور سے ہلایا جو کہ عام عورتوں جیسے لمبے اور خوبصورت تھے ۔۔۔ سائیکل رکشہ پر بیٹھی اور ہاتھ ہلاتی ہوئی روانہ ہوگئی ۔۔۔ (گویا کام کے دوران مونچھیں لگا لیتی ہے یہ عورت۔۔۔) اپنے پیچھے بہت سے سوال چھوڑ کر ۔۔۔ ’’سویٹ ہارٹ‘‘ میں اپنے اِس بیکار سفر پر آج تک شرمندہ ہوں۔جس طرح تم اپنے کئی ایسے کاموں پر شرمندہ ہو ۔۔۔

مِس این کو عادت ہے کہ جس طرح تقریر کے شروع میں یا جہاں بات بدلنی ہو مقرر بار بار کہتا ہے ۔۔۔ ’’صاحبِ صدر‘‘ ۔۔۔ ’’عالی ذی وقار صاحبِ صدر‘‘ ۔۔۔ ایسے ہی وہ ہر خط میں مجھے کئی کئی بار خط میں تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد۔۔۔ ’’سویٹ ہارٹ‘‘ ۔۔۔ ’’سویٹ ہارٹ‘‘ ۔۔۔ لکھتی رہتی ہے اور میں حیران ہوتا رہتا ہوں۔ 

میں نے آج تک اُس کی اِس بات پر نہ دھیان دیا ہے نہ ہی غور کیا ہے۔آپ بھی اوپر بیان کردہ قصے کو انجوائے کریں۔۔۔ ’’ صاحب صدر‘‘ والی بات پر اگر ہو سکے تو توجہ ہی نہ دیں۔ اِک اچھا محاورہ سمجھ کر کہ محاورے صرف بات سمجھانے کے لیے ہوتے ہیں ۔۔۔ انجوائے کرنے کے لیے نہیں ۔۔۔

میری غربت نے اڑایا ہے میرے فن کا مذاق

تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں


ای پیپر