ڈیم کی تعمیر کوئی نہیں روک سکتا : چیف جسٹس ثاقب نثار
23 نومبر 2018 (12:50) 2018-11-23

لندن: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں ڈیم کی تعمیر سے کوئی نہیں روک سکتا، کیونکہ یہ پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہیں، اب دریائے سندھ پر بھی بیسیوں ڈیم بنیں گے، کوئی یہ نہ سوچے کہ ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ بنے گا، میں نے اپنے ملک میں بہت بے انصافی دیکھی ہے، میں نے لوگوں کو یتیموں اور بیواوں کے حق مارتے دیکھا ہے، انسانی حقوق کے ایسے مسائل ہیں جو انسان کو اندر سے تکلیف دیتی ہیں ، ان کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ، عہدے سے رخصت ہوکر وہ فلاحِ انسانیت ہی کا کام کریں گے۔

ڈیم کی تعمیر کے لیے لندن کے مقامی ہوٹل میں فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے معاملے میں پتا چلا کہ صوبوں میں اتفاق نہیں ہے تو سوچا کہ چلو بھائیوں میں تفرقہ ڈالنا مناسب نہیں ، لیکن دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم پر تمام صوبوں کا اتفاق ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مہمند اور دیامر بھاشا ڈیم کیوں نہیں بنے، اس سلسلے میں غفلت کس کی تھی آج پتا چل گیا، اب دریائے سندھ پر بھی بیسیوں ڈیم بنیں گے، کوئی یہ نہ سوچے کہ ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ بنے گا ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈیم کی تعمیر کا حکم سپریم کورٹ نے دیا ہے اور حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کررہی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیم، صحت اور پانی کے سنگین مسائل ہیں، صوبے میں پانی 2 ہزار فٹ پر ہے، اگر پانی کا مسئلہ فوری حل نہ ہوا تو لوگوں کو منتقل ہونا پڑسکتا ہے ۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پانی کی وجہ سے لوگوں کو زندگی سے محروم نہیں ہونے دیں گے کیونکہ پانی حیات ہے اور زندگی کا وجود پانی ہی سے ہے۔ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ڈیم کے لیے چندہ اکھٹا کرنا مقصد نہیں ، آگاہی کے لیے مہم چلانا مقصد ہے۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ ڈیم کے لیے ان کی نواسی نے بھی اپنی جمع پونجی سے حصہ ڈالا، حتی کہ سپریم کورٹ کے جج کے بچوں نے بھی کھلونے بیچ کر7 ہزار روپے جمع کیے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم بچوں کے ہاتھ میں آئے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا'۔تقریب کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے ملک میں بہت بے انصافی دیکھی ہے، میں نے لوگوں کو یتیموں اور بیواوں کے حق مارتے دیکھا ہے، انسانی حقوق کے ایسے مسائل ہیں جو انسان کو اندر سے تکلیف دیتی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ، عہدے سے رخصت ہوکر وہ فلاحِ انسانیت ہی کا کام کریں گے ۔واضح رہے کہ چیف جسٹس اِن دنوں برطانیہ کے نجی دورے پر ہیں جہاں وہ مختلف شہروں میں فنڈ ریزنگ تقاریب میں شرکت کر رہے ہیں۔


ای پیپر