الحمدللہ، ہم نے جنت کمالی
23 نومبر 2018 2018-11-23

میں گھر سے باہر نکلا تو سڑک ایسے روشن تھی جیسے دن نکلا ہو، جہاں بڑی بڑی لائٹیں آنکھوں کو چندھیا رہی تھیں وہاں چھوٹے چھوٹے قمقموں کی لڑیاں بھی جگمگا رہی تھیں۔یہ بارہ ربیع الاول کی رات تھی، محلے کے نوجوانوں نے پورا ایک دن اور پوری ایک رات لگا کرسڑک کو ایسے سجا دیا تھا جیسے دلہن کی مسہری ہو، تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پہاڑیاں بنی ہوئی تھیں،پہاڑی بنانا بھی عید میلادالنبی کا ایک خصوصی فیچربنتا چلاجا رہا ہے۔ پہاڑی میں ریت، مٹی، برادے ، اینٹوں اور رنگوں کی مدد سے خوبصورت منظر بنایا جاتا ہے، اس میں عام طور پر ایک ندی یا نہر بھی ہوتی ہے جس کو گھر کے نل سے پانی کا پائپ لگا کے رواں کیا جاتا ہے، بچے بالے گھر سے کھلونے بھی نکال لاتے ہیں اور جہاں کچھ زیادہ انویسٹمنٹ ہو سکے وہاں ثواب کی نیت سے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے ماڈلز بھی رکھے جاتے ہیں۔ بچے بالے گھر سے اپنے تمام ڈیجیٹل اور نان ڈیجیٹل کھلونے نکالتے ہیں اور یوں پہاڑی سج جاتی ہے، یہاں اگر میں اس ڈیک کی بات نہ کروں جس پر بڑی اونچی آواز میں کچھ نہ کچھ لگایا جاتاہے یعنی کچھ نہ کچھ سے مراد یہ ہے کہ کہیں کہیں تلاوت قرآن پاک بھی ہوسکتی ہے، یہ نعتیں بھی ہوسکتی ہیں ، دھمالیں بھی ہوسکتی ہیں اور پاکستانی یا انڈین گانے بھی ہوسکتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ گانے لگانے کی کیا منطق ہے، جواب ملا کہ خوشی منا ئی جا رہی ہے اورہم خوشی ایسے ہی مناتے ہیں، چہرے کلر پینٹ بھی کئے گئے اور رقص بھی خوب ہوئے۔

کچھ فاصلے پر دو،چار نہیں بلکہ زیادہ دیگیں کھڑک رہی تھیں، اب آپ کو کیا بتاوں کہ دیگیں کھڑکنے کے لاہور ی محاورے کا مطلب کیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ مزے دار کھابے تیار ہونے والے ہیں اور وہ آپ کے گھر بھی تبرک کے طور پر بھیجے جا سکتے ہیں۔ اس مرتبہ کمال یہ ہوا کہ دیگوں میں کشمیری چائے کے ساتھ ساتھ ہاٹ اینڈ سارسوپ بھی تیار ہوا۔ کچھ دوستوں نے زیادہ اہتمام کیا اور چائے کے ہر کپ کے ساتھ کیک رس یا پیسٹریاں بھی پیش کیں۔ بہت ساروں نے گھروں میں اور گھروں سے باہر کیک بھی کاٹے کہ جب ہم سالگرہ کی بات کرتے ہیں تو اس میں کیک ہی تو کاٹا جاتا ہے اور عید میلادالنبی ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سالگرہ کا دن ہے۔ میں اس شرعی بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ سالگرہ منانا ثواب کا باعث ہے یا نہیں، اسے بدعت کہنا چاہئے یا نہیں کہ میںعمومی طور پر ان فضاوں اور ہواوں سے پیار کرتا ہوں جہاں اذان کے ساتھ ساتھ درود وسلام کی آوازیں گونج رہی ہوں۔ اسی روز بہت ساری سڑکوں کو بند کر کے نعتوں اور درود و سلام کی محافل بھی سجائی گئیں، یہ مصروفیت اتنی بڑی اور زیادہ تھی کہ مجھے پروگرام کے لئے خاص طور پر بریلوی مکتبہ فکر کے علمائے کرام مل ہی نہیں رہے تھے، نیشنل ایکشن پلان آنے کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ لاوڈ سپیکروں پر کوئی پابندی نہیں رہی، و ہ مولوی جو کبھی لاوڈ سپیکر کو حرام قرار دیتے تھے ، انہوں نے لاوڈ سپیکروں کے بے محابا استعمال سے زندگی حرام کر دی ۔

یہ منظرنامہ پاکستان کی خصوصیت بنتا چلا جا رہا ہے کہ یہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت بھرپورجوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ا س سے پہلے ہمارے اہل تشیع بھائی محرم ایسے منایا کرتے تھے کہ باقاعدہ اس کا اہتمام ہوتا تھا۔ محرم اور ربیع الاول کے جلوس اندرون شہر ہی نکلا کرتے تھے، محرم کے جلوس کے لئے اندرون بھاٹی سے اسلام پورہ کا روٹ بہت مشہور تھا جبکہ ربیع الاول کا روایتی جلوس ریلوے اسٹیشن سے نکلا کرتا تھا مگر اب بریلوی مکتبہ فکر کی تقریبا ہر مسجد میں جہاں محفل ہوتی ہے وہاں فجر کے نماز کے بعد جلوس بھی نکلتے ہیں۔ اس مرتبہ تو تحریک لبیک والوں کے جلوس علیحدہ رہے اور گلی محلوں میں بچے بڑے لبیک، لبیک، یا رسول اللہ لبیک کے نعرے لگاتے رہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کی بڑی تعداد رات کی محافل میں بھی موجود تھی جہاں کھانوں، چائے اور مٹھائی کا اہتمام تھا مگر بہت سارے فجر کی نماز کے وقت غائب تھے۔

میں نماز وں سے غائب ہونے کی بات بعد میں کروں گا پہلے یہ کہوں گا کہ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ، ماشاءاللہ، رسول اکرم کے چاہنے والوں نے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں خرچ کر دئیے ہوں گے۔ میں مختلف علمائے کرام کے فرمودات دیکھ رہا تھا جن میں وہ رسول اکرم سے منسوب خوشیاں منانے والوں کو ایک روپیہ خرچ کرنے پر بھی جنت کی نوید سنا رہے تھے۔ یہ بات تو سچ ہے کہ اگر آپ کی نیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں خرچ کرنے کی ہے تو یقینی طور پر اس پر بڑا اجر ہو گا مگر سوال یہ ہے کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے اخراجات کو پسند فرماتے، میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ ہیں جو ایک صحابی کے گھر سے صرف اس وجہ سے واپس تشریف لے آئے کہ اس کے گھر کی ٹونٹی سے پانی ٹپکنے سے پانی کا ضیاع ہو رہا تھا۔ کیا میں سوال کر سکتا ہوں کہ ان کروڑوں اور اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کیا امت محمدیہ کے کسی غریب کا کچھ بھلا ہوا۔ باقیوں کو رہنے دیجئے کیا ان ہمارے بے چارے مولویوں کی بھی کچھ مدد ہوئی جو اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی تعلیم ، ترویج ، حفاظت اور تسلسل کے محافظ ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ملک کی اس وقت بھی اسی فیصدسے بھی زائد مسجدوں میں ہمارے ان اماموں کی تنخواہیں سات، آٹھ ہزار سے بارہ ، تیرہ ہزار کے درمیان ہیں اور اگر یہ مولوی کسی مسجد کمیٹی سے دس، بیس ہزارقرض بھی مانگ لیں تو انہیں قرض کی بجائے جواب مل جاتا ہے۔ وہ مولوی جو سارا دن پانچ نمازوں کی امامت کرتا ہے، بچوں کو قرآن کا درس دیتا ہے، اسے ایک کلرک تو بہت دور رہا، ایک چپڑاسی اور ڈرائیور سے بھی کہیں کم تنخواہ ملتی ہے، ہاں، اسے کچھ ملا ہو گا تو ان محفلوں میں ملا ہوگا جہاں اس نے اچھی نعت پڑھی ہوگی اور اس پر دس، بیس روپے کے کچھ نوٹ نچھاور کر دئیے گئے ہوں گے۔

ہم میں سے بہت ساروں نے ہزاروں نہیں لاکھوں خرچ کرتے ہوئے چراغاں کئے، سڑکیں سجائیں،پہاڑیاں بنائیں اور دیگیں بھی کھڑکائیں مگر کیا ہم نے خود سے یہ وعدہ کیا کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اپنے لئے نمونہ بنائیں گے۔ کیا ہم نے عہد کیا کہ ہم مومن او رکافر کے درمیان فرق کرنے والی شے نماز کو ہمیشہ قائم اور دائم رکھیں گے۔ کیا ہم نے سوچا کہ ہم رسول اکرم کی محبت میں جو نفلی اخراجات کر رہے ہیں توکیاہم نے زکواةکا فرض بھی اداکیا ہے، نہیں، ہم نے سوچا کہ ہمارے نبی پاک کی شہرت ہی صادق اور امین کی تھی، ہم جب بات کریں گے تو سچ بولیں گے، ہمارے پاس جو معاملہ آئے گا اسے ایک امانت دار کی طرح نمٹائیں گے، نہیں، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ ہم نے جوش اور جذبے کے ساتھ عید میلادالنبی منا لی اوراس کے بعد ہم اپنے اپنے معمول کی طرف لوٹ گئے۔ہمارے لئے یہی سننا کافی ہے کہ ہم نے جو روپے اس راہ میں خرچ کئے وہ عظیم ترین خرچ ہے، ہم نے کسی کی کہی ہوئی اس بات پر ہی اکتفا کر لیا کہ ہم نے جو پہاڑی بنائی ہمیں پوری امید ہے کہ رنگوں سے بھرا ایسا ہی خوبصورت ہمارا جنت میں گھر بن گیا ہو گا، اب ہمیں اور کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، الحمد للہ، پاکستان میں ہمیں جنت کتنی کم قیمت پر اور کتنی آسانی سے مل گئی۔


ای پیپر