Ata Sb, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
23 May 2021 (11:54) 2021-05-23

نوازشریف نے جہانگیر ترین گروپ کو جوت کر پہلے بزدار کی پنجاب حکومت اور اس کے بعد وفاق میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا ماحول پیدا کرنے کے لیے مقتدر قوتوں کے کھیل کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے… اس سے قبل سابق اور علاج کے لیے لندن میں مقیم تین مرتبہ منتخب اور اتنی بار برطرف ہونے والے وزیراعظم کو قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ پنجاب میں چودھری برادران کی مدد سے بزدار کی وزارت علیا کو اڑا کر رکھ دیا جا سکتا ہے… یوں وفاق میں عمران حکومت کمزور ہو جاتی… اسے پارلیمانی طریقے یعنی بذریعہ تحریک عدم اعتماد گھر کی راہ دکھانا چنداں مشکل نہ ہو گا… یہ بظاہر زرداری صاحب کا فارمولا تھا… انہوں نے اس کے حق میں دلائل کا انبار لگا دیا… پی ڈی پی کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنا چاہا… رکن جماعتوں کی لیڈرشپ کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی دلیل دی میں نے مشرف کو چلتا کیا عمران کس باغ کی مولی ہے… نوازشریف مگر اس راستے کو اختیار کرنے پر آمادہ نہ ہوئے… یہاں تک کہ اپوزیشن کے نوعمر اتحاد میں پھوٹ پڑ گئی… نوازشریف کے ساتھ مولانا فضل الرحمن نے بھی پیپلز پارٹی کے قائد کے تجویز کردہ راستے پر چلنے سے صاف انکار کر دیا… اس فارمولے کے پیچھے بھی طاقتور غیرآئینی قوتوں کی غیرعلانیہ حکمت عملی کارفرما تھی… ان کے یہاں بھی عمران کے حوالے سے بیزاری کے جذبات بہت نمایاں نہیں تو قدرے محسوس ہونا شروع ہو گئے… پی ڈی پی کے قیام کا ایک مقصد یہ بھی تھا عمران حکومت کو اس کے سلیکٹڈ ہونے اور اڑھائی برس کے عرصہ اقتدار میں بری طرح عدم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے قوم تنگ ہے اس لیے اس سے نجات حاصل کر لی جائے… نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن متمنی تھے کہ عمران کے ساتھ قومی اور سیاسی امور پر اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی بھی ختم کر کے رکھ دی جائے… پھر کسی قسم کی بیرونی مداخلت اور سیاسی انجینئرنگ کے بغیر شفاف ترین اور آزادانہ انتخابات ہوں… ان کے نتیجے میں صحیح معنوں میں عوام کی نمائندہ حکومت قائم ہو… لیکن زرداری صاحب کا اصرار تھا ان کا بتایا ہوا شارٹ کٹ استعمال کیا جائے … پہلے پنجاب حکومت پھر عمران انتظامیہ لپیٹ کر رکھ دی جائے… بالادست طبقے عمران نہیں تو پنجاب کی بزدار انتظامیہ سے یقینا نجات حاصل کرنا چاہتے تھے… عمران خان ان کی اس ایک بات کے آگے سر تسلیم خم کرنے سے انکاری تھا… زرداری صاحب شدت کے ساتھ خواہشمند تھے… اگر پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اپنی پارلیمانی قوت کو استعمال میں لے آئے تو یہ کام آسانی سے کیا جا سکتا ہے… نوازشریف گجرات کے چودھری برادران کو اسٹیبلشمنٹ کی بچھائی ہوئی بساط کا اہم مہرہ سمجھتے ہیں… ان کے نزدیک ان کا کندھا استعمال کر کے عمران حکومت کو غیرمستحکم کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ سیاسیات ملکی پر غیرآئینی قوتوں کا پس پردہ غلبہ پوری قوت کے ساتھ برقرار رہے… مہرے ادھر سے ادھر ہوتے رہیں… سیاسی تماشا لگا رہے اور سیاستدان ہر حالت بالادستوں کے دست نگر بنے رہیں… ان کی سوچ کے مطابق عمران حکومت کو دھکا دے کر گرانے کی ضرورت بھی نہیں رہی… اس کی برے درجے کی کارکردگی تو اظہر من الشمس ہے… ضمنی انتخاب بھی ایک کے بعد دوسرا ہارتی چلی جا رہی ہے لہٰذا اس کی رخصتی کی خاطراسٹیبلشمنٹ کی مدد درکار نہیں… لہٰذا سابق وزیراعظم نے پی ڈی پی کے متحدہ پلیٹ فارم اور اپنی جماعت کو اس کھیل کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا… زرداری صاحب اپنی اس امید کو بر نہ لا سکے کہ بلاول بھٹو کو عمران کے متبادل کے طور پر سامنے لا کر اسٹیبلشمنٹ کی خفیہ مرضی کے ساتھ آئندہ وزارت عظمیٰ کی خلعت انہیں پہنائی جا سکے…

اس کے بعد جہانگیر ترین کی بغاوت نے سر اٹھایا… اصل مسئلہ شوگر سکینڈل کا تھا… عمران خان پھنس گئے… ایک جانب خان بہادر وزیراعظم کے اعلانات تھے بلکہ تمام تر سیاست کا محور تھا کہ کرپٹ مخالف سیاستدان ہو یا اپنی جماعت اور حکومت میں اسے نہیں چھوڑوں گا… بلاامتیاز احتساب کیا جائے گا… نئی تاریخ رقم ہو گی اور نیا پاکستان بنے گا… ایسا کہ دنیا دیکھے گی اور کرپشن کے خلاف ان کی مہم پر عش عش کرے گی… دوسری جانب جہانگیر ترین جیسا ساتھی جس کی کھلی مدد کے بغیر وہ حکومت نہیں بنا سکتے تھے… وفاق نہ پنجاب میں… انہوں نے اپنے دوست عمران کی خاطر اپنے دامن پر سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی کا 

داغ لگوانا پسند کر لیا… لیکن اپنے وسیع ترین سیاسی تعلقات ، بے پناہ دولت اور خود ایجاد کردہ ہوائی جہاز کی شٹل سیاست کے ذریعے بھان متی کے کنبے کو جوڑ کر حکومت سازی میں براہ راست مدد اور تعاون فراہم کیا تھا… اس کے بعد عمرانی حکومت قائم ہوئی… تھوڑے عرصے میں شوگر سکینڈل کی خبروں نے زور پکڑا تو ترین صاحب کی ذات گرامی اس میں ’’گوڈے گوڈے‘‘ ڈوبی نظر آئی… آخر آٹھ ملوں کے مالک اور اس میدان کے سب سے بڑے شہسوار ہیں … وزیراعظم بہادر نے ان کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا حکومت سے دور کر دیا… وہ انگلستان چلے گئے… پھر موصوف کی ضرورت پڑی واپس آئے مگر بات بن نہ پا رہی تھی… ترین مخالف لابی طاقت پکڑ چکی تھی… ان موصوف نے بھی مقابلہ کرنے کی ٹھان لی… 35 پنجاب اسمبلی میں اور دس سے زائد قومی اسمبلی میں اپنے حامیوں کا گروپ بنا لیا جو دونوں حکومتوں کو آن واحد میں گرا سکتا ہے… خان بہادر کو لینے کے دینے پڑ گئے… انہوں نے بیچ کا راستہ نکالتے ہوئے علی ظفر کمیٹی بنا دی تاکہ اپنے سابق دوست کو الزامات کے چنگل سے بچانا بھی ہو تو ذمہ داری براہ راست ان کی ذات گرامی یعنی وزیراعظم پر نہ آئے… جہانگیر ترین بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوئے… انہوں نے گروپ کو باقاعدہ متحرک کر لیا… یہاں اسٹیبلشمنٹ نے پھر اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا… بزدار مسلسل طاقتوروں کے نشانے پر تھا… لیکن ترین صاحب کا گروپ بجٹ کی منظوری روک کر حکومت گرانے میں تو معاون ہو سکتا تھا… مگر ان کی جگہ جس نئے وزیراعلیٰ کو جس پارلیمانی قوت اور حمایت کی ضرورت تھی وہ صرف مسلم لیگ (ن) مہیا کر سکتی تھی…اس مرتبہ زرداری اور بلاول کی بجائے شہباز شریف پر ڈورے ڈالے گئے تھے… اندر کی خبر کا تو ہم کو نہیں علم لیکن آثار یہی بتاتے ہیں پنجاب کے سابق اور کامیاب ترین وزیراعلیٰ کو آمادہ کیا گیا وہ لندن جا کر بھائی جان کو آمادہ کریں… ان کے تعاون کی برکت سے ان کی ہی جماعت کی دوبارہ حکومت قائم ہو سکتی ہے… چھوٹے میاں صاحب کو وزیراعظم بننے کا موقع مل سکتا ہے… یوں تمام دلدّر دور ہو جائیں گے… پھر چٹ منگنی پٹ بیاہ کے مصداق لاہور ہائیکورٹ نے موصوف کو لندن جانے کی اجازت بھی مرحمت فرما دی… عمران خان سب کچھ بھانپ گئے… انہوں نے توہین عدالت کے الزام کی بھی پروا نہ کرتے ہوئے میاں شہباز کی روانگی کو روک دیا کیونکہ چھوٹے میاں صاحب موصوف کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے تھے… تب غالباً میاں نوازشریف سے لندن گئے بغیر بالواسطہ طور پر اشیرباد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی… انہوں نے اس جال میں بھی پھنسنے سے صاف انکار کر دیا… چودھری پرویز الٰہی نے بیان دیا مسلم لیگ (ن) کے فیصلوں کا پورا اختیار نوازشریف نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا… جناب شہباز نے بھی بھائی کے حکم پر صاد کر دیا کہ جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ ہمارا کوئی لینا دینا نہیں… چنانچہ اسٹیبلشمنٹ کی یہ چال بھی رائیگاں گئی کہ نواز شریف کو مائنس کر کے مسلم لیگ (ن) کی حکومت لے آئی جائے… پھر اسے حسب منشا استعمال کر کے جب جی چاہے نیا سیٹ اپ لے آیا جائے… جہانگیر ترین کے شوگر سکینڈل میں ملوث ہونے کا کیا بنے گا… وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے ساتھ ان کے گروپ کے افراد کی تازہ ترین ملاقاتوں کے دوران ان کے گلے شکوے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے… ترجمانوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں ان کے خلاف بیانات میں شدت اور تلخی پیدا نہ کریں… گویا وقتی طور پر شوگر سکینڈل کو نظرانداز کر دیں… اس کے بعد علی ظفر رپورٹ کس طرح ان کی گلوخلاصی کراتی ہے یہ حقیقت چند دنوں میں واشگاف ہو جائے گی… لیکن اصل مسئلہ جو قوم، سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو درپیش ہے وہ یہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات جو جب بھی ہوئے 2023 میں یا اس سے قبل وہ کس نوعیت کی اور کس حد تک مؤثر اصلاحات کے بعد کرائے جائیں گے… مقتدر قوتیں اور عمران غالباً اس پر متفق ہیں کہ چند رسمی اصلاحات کر لی جائیں ان میں سرفہرست الیکٹرانک ووٹنگ کے نظام کو متعارف کرانا اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دلوانا ہو جبکہ نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کا اصرار ہے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال سمیت دیگر سرکردہ ن لیگی لیڈر اس کا بار بار اظہار کر چکے ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ 2018 کے انتخابی نظام میں RTS کی مانند ووٹ چرانے اور مرضی کے مطابق نتائج تبدیل کرنے کا ایک بہانہ ہے جسے پاکستان میں جیسا کہ RTS کا تجربہ بتاتا ہے بڑی ہنرمندی کے ساتھ اپنے مقصد کی خاطر استعمال کیا جا سکے گا… علاوہ ازیں الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام کئی دوسرے ممالک میں رائج کیا گیا خاطرخواہ نتائج نہیں دکھا سکا… لہٰذا پاکستان میں اس کا تجربہ کرنا بے سود ہو گا ماسوائے اس کے کہ جنہیں من مرضی کے نتائج حاصل کرنا مطلوب ہے ان کے لیے مفید مطلب ثابت ہو … بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا جائز حق دلوانے پر اگرچہ قابل عمل راستہ نکالا جا سکتا ہے… اس کے مقابلے میں خالصتاً جمہوریت پرست عناصر کا مطالبہ ہے آئندہ انتخابات کے انعقاد سے پہلے نظام کو Pre Poll Rigging کی الائشوں سے نجات دلائی جائے… سیاسی انجینئرنگ کے ہتھکنڈوں کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہا جائے… دوسرے الفاظ میں جب تک مقتدر قوتوں کے نظر آنے اور خفیہ کاری کے نتیجے میں کرشمہ سازی کے کرتبوں کو انتخابی عمل سے پوری طرح منہا کر کے نہیں رکھ دیا جاتا… ووٹ بکس کی حرمت کو ہر لحاظ سے اور پوری طرح محفوظ نہیں کر لیا جاتا… انتخابات کرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا قوم کو نہ آئینی و جمہوری نظام کو… آخر دوسرے جمہوری ملکوں کو جن میں بھارت جیسا ہمارا ہمسایہ بھی شامل ہے سرخاب کے کون سے پَر لگے ہوئے ہیں کہ وہاں ووٹنگ کے عمل میں ایجنسیوں اور دیگر ریاستی اداروں کی براہ راست اور بالواسطہ مداخلت کی شکایات اسی طرح جنم نہیں لیتیں جیسے ہمارے ملک میں ہوتا ہے اور تقریباً ہر انتخاب متنازع ٹھہرتا ہے… پھر اس کی کوکھ سے جو بحران جنم لیتا ہے وہ پوری قوم کو پرلے درجے کے انتشار اور ژولیدہ فکری میں مبتلا کر دیتا ہے… ایک کے بعد دوسرا بحران جنم لیتا ہے… کم ہی کوئی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر پاتی ہے… اسٹیبلشمنٹ اپنا راج جمائے رکھتی ہے… لہٰذا جب تک ایسے انتخابات نہ کرائے جائیں جو قوم و ملک کو اس چنگل سے نجات نہ دلوائیں ان کا کوئی فائدہ نہ ہو گا…


ای پیپر