Shafiq Awan, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
23 May 2021 (11:38) 2021-05-23

اگر ہماری سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو ہر طرف مافیا راج ہے ملک و قوم کی بہتری کی بجائے ذاتی مفاد کی جنگ لڑی جا رہی ہے حکومتیں بھی مافیا کے سامنے کورنش بجا لاتی ہیں۔ سب کا بیانیہ ایک ہی کہ ہم بہترین ہیں اور مخالفین بد ترین۔

بدقسمتی سے وطن عزیز کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور جمعیت علما ء اسلام کے علاوہ ترین گروپ ہو، ایم کیو ایم، جی ڈی اے یا مسلم لیگ ق سب کے سب اپنے اپنے این آر او کے لین دین میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ واحد حکومت ہے جو اپنی ہی جماعت کے ایک ترین نامی گروپ سے این آر او کی طالب ہے۔ تا کہ بجٹ معاملات خوش اسلوبی سے طے ہو جائیں اور یہ این آر او انہیں مل بھی گیا ہے۔ اس میں کسی ایک جماعت کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا آوے کا آوا ہی ایک ہی سمت گامزن ہے اوروہ ہے ذاتی مفاد کا۔ 

جتنے میگا سیکنڈل اس حکومت کے دور میں آے ہیں ماضی میں ان کی کوئی مثال نہیں تازہ ترین راولپنڈی رنگ روڈ سیکنڈل اور کرونا ریلیف پیکیج کا ہے۔ راولپنڈی رنگ روڈ سیکنڈل میں لینڈ مافیا انکے سرپرست 9 کے قریب وفاقی و صوبائی وزراء اور 35 کے قریب اپوزیشن اور حکومت کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی و اراکین سینیٹ ، حاضر و ریٹایرڈ سول و ملٹری بیوروکریٹس بھی شامل ہیں۔ اس لیے اگر جہانگیر ترین کو این آر او مل سکتا ہے تو اس سیکنڈل میں ملوث لوگوں کو بھی ریلیف مل ہی جاے گا ویسے بھی زلفی بخاری کی قربانی ہی کافی ہو گی۔ 

 اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن کی تمام تر کوششیں ملکی یا عوامی مفاد کی بجائے ان کے لیڈران کے خلاف تمام کیسز واپس لیے جانے پر ہیں۔ جتنا زور اور اہمیت وہ اپنے لیڈران کی صفائی اور نا اہل حکومت کی تنقید پر لگاتے ہیں اس کا نصف بھی اسی جذبے سے عوامی مسائل پر لگائیں تو شاید حکومت کے سر پر کوئی جوں رینگے۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ اگر آج تک مسلم لیگ ن کے ترجمانوں نے ہزار میڈیا ٹاکس یا پریس کانفرنسیں کی ہیں تو 999 اپنی قیادت کی صفائی یا حکومت پر تنقید کے لیے کی ہیں۔ یا پھر منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے پنڈی والوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ان سے صلح کے یکطرفہ پیغامات لیے ہر کوئی اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کا بھی سارا ذور ان کے بقول سلیکٹڈ حکومت کے لتے لینے اور خود کا صاف شفاف ثابت کرنے پر صرف ہوتا ہے۔ جے یوآئی کے مولانا فضل الرحمان کو یہ دکھ ہے کہ وہ 

پارلیمنٹ سے باہر کیوں ہیں اور ان کی تان پی ٹی آئی پر تنقید پر ہی ٹوٹتی ہے۔ آج تک مولانا کے منہ سے عوامی مسائل کے بارے میں ایک لفظ نہیں سنا۔ ایک چیز البتہ مختلف کہی انہوں نے کہ اگر نیب نے ان کے خلاف کیسز کھولے یا گرفتاری کی کوشش کی تو وہ دھرنا پنڈی میں جی ایچ کیو کے سامنے دیں گے جس کا اثر بھی ہوا۔

عمران خان حکومت کو البتہ ایک کریڈٹ دیناپڑے گا کہ اس کے خلاف تمام سیکنڈل اپوزیشن کی بجاے خود اسی نے فراہم کیے۔ اور وہ پارٹی جو شفافیت کی دعویدار تھی کرپٹ عناصر اس کی بغلوں ہی میں بیٹھے تھے۔ چینی، کرونا ریلیف سیکنڈل ، گندم ، پنڈی رنگ روڈ، پٹرولیم،دوائیوں یا کوئی بھی سیکنڈل ہو (اب تو تعداد بھی یاد نہیں) اس میں وہی لوگ ملوث تھے جو وزیر اعظم ہائوس کے اندر ان کے دائیں بائیں بیٹھتے تھے۔ لیکن پھر بھی انکا دعویٰ ہے کہ وہ مسٹر کلین ہیں۔ زلفی بخاری کے بعد اب سنا ہے کہ جہانگیر ترین کی فرمائش پر شہزاد اکبر کا نمبر بھی لگ گیا ہے۔

عمران خان جن کا نعرہ تھا مرجائوں گا لیکن این آر او نہیں دوں گا کو بھی لگتا ہے زندگی پیاری ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کو توچھوڑیں اپنی جماعت کے ترین گروپ کے 30 /35 اراکین اسمبلی کے سامنے سپریم کورٹ سے صادق و امین یافتہ بلیک میل ہو گیا اور این آر او نہ دینے کی قسم توڑ دی۔ بندہ کس پر اعتبار کرے لگتا ہے سب گول مال ہے۔

 جہانگیر ترین گروپ جو اصولوں کی بات کرتا تھا اسے بھی کچھ رعایتیں مل گئی ہیں اس لیے عمران خان بھی قبول ہے اور عثمان بزدار بھی۔ وزیر اعظم سے ملاقات اور اب عثمان بزدارسے ملاقات کے بعداب وہ بھی مْوت کی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ کیونکہ لڑائی اصولی نہیں ذاتی مفاد کی تھی۔ 

لیکن یہ سب ڈنگ ٹپائو لگتا ہے عمران خان صاحب بھی کسی نہ کسی طرح اپنے بل بوتے پر بجٹ کا پل صراط عبور کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے بل بوتے پر اس لیے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کے حوالے سے ماضی قریب میں کچھ صحافیوں سے گفتگو کے بعد جو بات چیت سامنے آئی تھی کہ حکومت کے ساتھ ہیں لیکن کوئی آئینی پخ آگئی تو وہ دخل اندازی نہیں کریں گے۔ اس کے بعد خان صاحب کچھ زیادہ ہی محتاط ہو چکے ہیں۔ اور شاید جنرل باجوہ کی یہی چند لائنیں تھی جس کی وجہ سے وہ ترین سمیت ہر قسم کے سمجھوتے کرنے کو تیار ہو گئے ہیں بشمول الیکشن ریفارمز اور نیب کے حوالے سے و دیگر آئینی ترمیمی پیکج۔ لیکن خان صاحب کی انتقامی اور یوٹرن کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے یہ اپناوقت گزرنے کے ساتھ پلٹ کر ترین گروپ پر وارضرور کریں گے۔ ایک بات تو طے ہوگئی ہے کہ تمام باغی 2023 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی ٹکٹوں سے محرم رہیں گے اور ممکن ہے نواز شریف کے بعد ایک اور سیاسی نااہل اپنی پارٹی بنا کر میدان میں اتارے۔ یقیناً اس سے پی ٹی آئی سمیت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ووٹ بنک پر ضرب لگے گی۔زیادہ چانسز اس بات کے ہیں کہ بھٹکتے ہوے امیدوار(Floating Candidate) پیپلز پارٹی کا رخ کریں۔ ظاہر ہے اسٹیبلشمنٹ بھی اپنا کھیل کھیلے گی اور تمام طاقت ایک پارٹی کے پلڑے میں نہیں جانے دے گی۔ تحریک لبیک بھی بحال ہو گئی تو اسی پلیٹ فارم سے نہیں تو کسی اور نام سے رجسٹر ہو کر قسمت آزمائی کرے گی۔سیاس جماعتوں کے ووٹ بنک کی تقسیم در تقسیم سے تحریک لبیک نما جماعتوں کو ابھرنے کا موقع ملے گا۔ اصل جوڑ 2023 کے انتخابات میں پڑے گا اور پتہ چلے گا کس کا بیانیہ چلے گا۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کرونا سے نمٹنے کیلئے ملنے والی امدادی پیکیج میں 1200 ارب روپے خرد برد کئے جانے کی نشاندہی کی ہے اس کی تفصیلات ابھی آنی ہیں لیکن شنید ہے کہ یہ رپورٹ بھی روک لی گئی ہے۔ شاید اس لیے کہ اس وقت کرونا پیکیج کے کرتا دھرتا ایک حاضر سروس جرنیل تھے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر سیکنڈل پر پردہ ڈالنے کی بجاے اس کو طشت ازبام کر دے اور تحققیات کر کے عوام کے سامنے ہر سیاہ و سفید رکھ دے۔ آپ کو شاید یاد ہو کہ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی کرونا پیکیج پر اپنے تحفظات کا اظہار کر کیا تھا لیکن ان کے تمام ارشادات آبزرویشنز کی حد تک ہی تھے اور فیصلہ میں جگہ نہ پا سکے۔

ادھر لندن میں نواز شریف کے دفتر میں کچھ نا معلوم لوگوں نے گھسنے کی کوشش کی۔ مسلم لیگ ن نے اسے نواز شریف پر حملہ قرار دے دیا اللہ میاں صاحب کا نگہبان ہو آمین۔ لیکن ان مبینہ حملہ آورو ںمیں سے ایک دو کے چہرے دیکھے جا سکتے ہیں جن سے مسلم لیگی قیادت نے بات چیت بھی کی۔ لندن جیسے شہر میں جہاں ہر موڑ پر کیمرے لگے ہیں بظاہر یہ واقعہ جان لیوا حملہ نہیں لگتا۔ پھر بھی تشویشناک ضرور ہے کیونکہ اس وقت نواز شریف اور اسحاق ڈار دونوں اس دفتر میں موجود تھے۔ بہر حال لندن پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ دیکھیں کیا نتیجہ آتا ہے۔ 

قارئین اپنی رائے کے اظہار کے لیے اس نمبر 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل ، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔


ای پیپر