سندھ میں گورنر راج کا مطالبہ کیوں؟
23 May 2020 (14:56) 2020-05-23

تحریک انصاف اور جی ڈی اے کے ارکانِ سندھ اسمبلی نے صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ایک سیاسی مطالبہ لگتا ہے۔ سندھ اس مطالبے کو اس طرح سے لے رہا ہے کہ اس کو وفاق کی جانب سے ایک مرتبہ پھر مداخلت کی دھمکی ملی ہے۔ سندھ اور وفاق کے درمیان تنائو کی صورتحال تحریک انصاف کی حکومت میں آنے کے پہلے روز سے جاری ہے۔ حال ہی میں اس تنائو میں ایک اور چیز نے اضافہ کیا۔ وہ ہے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سندھ میں ٹائگر فورس کے ایک لاکھ ستاون ہزار رضاکاروں کی گونر سندھ کی سربراہی میں تعیناتی۔وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ سندھ حکومت نے اس رضاکار فورس کی خدمات لینے سے انکار کردیا تھا، لہٰذا یہ فورس اب گورنر کے ہاتھ میں دی گئی ہے۔ یہ فورس بقول وفاق کے سندھ میں وفاق کے ماتحت چلنے والے احساس پروگرام کے مراکز، یوٹیلٹی اسٹورز، اور مساجد وغیرہ میں ایس او پیز پر عمل کرائے گی۔ اگرچہ امن و امان صوبائی معاملہ ہے، صوبے نے پہلے سے سول حکومت کی مدد کے لئے رینجرز اور فوج طلب کی ہوئی ہے۔چونکہ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کا کورونا وائرس اور اس سے نمٹنے کے لئے اقدامات پر ایک دوسرے سے اختلاف ہے، لہٰذا وفاقی حکومت اس ٹائگر فورس کے ذریعے اپنے فیصلوں پر عمل کرانا چاہتی ہے، یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ عملا یہ فورس سندھ حکومت کے نہیں وفاقی حکومت کے فیصلوں پر عمل کرائے گی۔ ایسے میں اس کا صوبائی انتظامیہ سے تصادم ہونا خارج از امکان نہیں۔

سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کا خواب رواں عشرے میں 2015 میں دیکھا گیا تھا۔ تب پیپلزپارٹی نے نواز لیگ سے کچھ فاصلہ رکھا تو یہ معاملہ ٹل گیا۔ وزیراعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعدروز اول سے سندھ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں دسمبر 2018 میں ان ہائوس تبدیلی کا ڈرامہ رچایا گیا۔ لیکن آئندہ چند ہفتوں میں وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے عدالت میں ریمارکس دیئے کہ سندھ میں اگر گورنر راج نافذ کیا گیا تو وہ اس معاملے کو عدالتی طور پر دیکھ لیں گے۔ چیف جسٹس کے اچانک ریمارکس پر سیاسی تجزیہ کاروں کو نہ تب تعجب ہوا نہ آج ہو رہا۔ یہ اشارہ تھا کہ صورتحال کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ آنے والے مہینوں میں پہلے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور بعد میں خود وزیراعظم عمران خان نے بھی وضاحت کردی کہ سندھ میں گورنر راج نہیں نافذ کیا جارہا ہے۔ کچھ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون کس کا ترجمان ہے؟ اور کون کس کی لابی میں ہے۔

تحریک انصاف سندھ برانچ سے گورنر راج کے مطالبے سے ایک روز قبل وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ صوبوں میں نہ گورنر راج نافذ کیا جارہا ہے اور نہ کوئی اور تبدیلی زیر غور ہے۔ ابھی وزیرا طلاعات کے بیان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ تحریک انصاف سندھ کے ایم پی ایز نے پریس کانفرنس کر کے گورنر راج کا مطالبہ کر دیا۔

یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ سندھ میں ایسی کونسی اچانک صورتحال پیدا ہو گئی کہ سندھ کی اپوزیشن کو گورنر راج کا مطالبہ کرنا پڑا؟ گورنر راج کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب صوبائی خود مختاری اورقومی مالیاتی ایوارڈ میں کسی تبدیلی سے سندھ حکومت نے انکار کردیا ہے۔ اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعظم کو خط بھی لکھا ہے۔ وفاق سندھ پر اس وجہ سے بھی برہم ہے کہ اس نے کورونا وبا پھوٹ پڑنے پر لاک ڈائون کی پالیسی اختیار کی۔ جس کی پیروی دوسری صوبائی حکومتوں نے بھی کی۔ جبکہ وزیراعظم لاک ڈائون نہیں چاہتے تھے۔ لاک ڈائون صرف سندھ حکومت کا ہی موقف نہیں تھا بلکہ چاروں صوبائی حکومتوں اور وفاق کے بعض اداروں کا بھی تھا، جو عالمی خواہ ملکی ماہرین کی سفارشات کو اہمیت دے رہے تھے۔ فرق یہ تھا کہ دوسرے صوبے وزیراعظم کے بیانات اور پالیسی کا جواب نہیں دے رہے تھے۔ جبکہ سندھ حکومت اپنے موقف پر ڈٹی رہی اور اس کی بھرپور وکالت بھی کرتی رہی۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے اراکینِ سندھ اسمبلی کا گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے اس بیان کا ردِعمل ہو سکتا ہے جس میں انہوں نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن ان کی اس دلیل میں وزن نہیں۔

آج کی صورتحال میں سب سے اہم اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے میں تبدیلی کرنا ہے۔ اس کے لے پورا ماحول بنایا جارہا ہے۔ اسلام آباد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ اگر آج مالیاتی ایوارڈ کا نیا فارمولہ مان لے تو گورنرراج کا مطالبہ واپس لے لیا جائے گا۔ آئینی ماہرین نے بھی صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے لئے جو طریقہ کار بتایا ہے وہ وفاقی حکومت کے لئے ممکن ہی نہیں۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس مطالبے سے وفاقی حکومت ایک اور فائدہ لینا چاہتی ہے۔ ایک یہ کہ سندھ کی حکومت غیر مستحکم ہو اور لاک ڈائون کے حوالے سے جو سندھ حکومت کی واہ واہ ہوئی ہے اس کا توڑ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ سندھ کے لوگوں کی سیاسی حوالے سے پیمائش کی جائے۔ گورنر راج کے مطالبے پر اقتدار کی آس میں بیٹھے وڈیرے جنہیں پیپلزپارٹی مین جگہ نہ ملی تو جی ڈی اے کی چھتری کے نیچے جمع ہیں، ان کے ذریعے سندھ میں صف بندی کو از سرنو جائزہ لیا جائے۔ اگر کسی طرح سے گورنر راج کا مطالبہ عوام میں قبولیت حاصل کرتاہے، جس کا امکان نظر نہیں آتا۔ تو یہ سمجھا جائے گا کہ جن مقاصد کے لئے گورنر راج کے لئے سندھ حکومت اور سندھ کی حکمران جماعت پر بائو ڈالا جارہا ہے، وہ مقاصد ھاصل کرنے کے لئے پیش قدمی کی جاسکتی ہے۔ یہ مقاصد ہی اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی۔

بات صرف یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔تحریک انصاف کی حکومت نے ایک اور آئینی ادارے کو روند ڈالا ہے۔ وہ ہے مشترکہ مفادات کی کونسل۔ یہ کونسل وہ وزارتیں اور ذمہ داریاں مثلا پانی، بجلی، بندرگاہیں، قدرتی وسائل وغیرہ جو چاروں صوبوں سے متعلق ہیں ان کو لانے اور وہاں صوبوں کے مفادات کی دیکھ بھال کے لئے قائم کی گئی تھی۔ اس کونسل کے ماتحت اداروں یا قوانین میں تبدیلی کونسل سے منظوری کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ لیکن وفاقی کابینہ نے اپنی منصفانہ تقسیم پر عمل درآمد کرانے والے ادار ارسا کے تین ممبران کو اپنی مرضی سے ہٹا دیا ہے۔ اس کے لئے صوبوں کو اعتماد میں ہی نہیں لیا گیا۔ نظر آ رہا کہ صوبوں کے اختیارات پر مسلسل دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ یہ دبائو ایک نئے بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔


ای پیپر