الزام تراشی نہیں اطوارٹھیک کریں
23 May 2020 (14:55) 2020-05-23

تحریکِ انصاف کی حکومت میں انصاف کے حوالے سے بھی خدشات بڑھنے لگے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ اِدارے حکومت کی حریف سیاسی قوتوں پر دبائو ڈالنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں جواز چاہے جو بھی پیش کیا جائے احتساب کے نعرے پر حکومت میں آنے والی جماعت اِس حوالے سے اچھا تاثر نہیں بنا پائی موجودہ دورِ حکومت میں بڑی انکوائریاں ہوئیں اور کافی مقدمات بنائے گئے ہیں لیکن ساری بھاگ دوڑ مقدمات کی تیاری تک ہی موقوف رہی ثابت کچھ نہیں ہو سکا صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مقدمات میں گرفتار لوگ ضمانتوں پر رہا ہوتے جارہے ہیں جس سے حکومت کا غیر جانبداری کا موقف بے جان محسوس ہوتاہے جتنی توجہ مقدمات بنانے میں دی جاتی ہے اُتنی دلچسپی سے ثابت نہیں کیا جاتا جس کی بنا پر عوام میں یہ سوچ راسخ ہونے لگی ہے کہ احتساب کے نام پرمحض حریف سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے مبادا حکومتی ناکامیوں کا پردہ چاک کر یں ۔

حکومت سے مسائل حل نہیں ہو سکے اور لُوٹا پیسہ نکلوانے کا خواب بھی ہنوز تشنہ تعبیر ہے اور کسی حوالے سے بھی کارکردگی سراہنا کیا تسلی بخش بھی تصورنہیں کیا جا سکتا اِن حالات میںایسا لگتا ہے کہ مسائل کی دلدل میں دھنسی حکومت اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کی بجائے اپوزیشن کا بندو بست کرنے میں مصروف ہے تاکہ خراب کارکردگی کی پردہ پوشی رہے لیکن ایسی صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھی جا سکتی سوال ہونگے تو جواب بھی دینا پڑیں گے اپوزیشن کو ٹارگٹ کرنے سے حکومت اپنے اندرونی خوف پر قابو پا سکے گی؟اِس کا جواب یقینی طور پر نفی میں ہے ساکھ سے محروم حکومت کی تائید سے بھلا کون اپنا سیاسی مستقبل تاریک کرنا چاہے گا ؟ احتساب کا مطلب اپوزیشن کو پابندِ سلاسل کر نا نہیں بلکہ شفاف اور غیر جانبدارانہ احتساب ہے جس سے کسی کو انتقام یا مخصوص عناصر کو ٹارگٹ کرنے کا تاثر نہ ملے ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں وطنِ عزیز میں پھیلائے احتسابی شکنجے میں اپوزیشن کے سوا کوئی اور پھنسا دکھائی دیتا ہے ؟ اب تو فہمیدہ حلقے کیا عام سوجھ بوجھ رکھنے والا بھی تسلیم کر نے لگا ہے کہ بات ویسی نہیں جیسا ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا ہے بلکہ محاسبے کی بات شروع بھی اپوزیشن سے ہوتی ہے اور ختم بھی اپوزیشن پر ہی ہوتی ہے لیکن جو بھی حکومتی صفوں میں شامل ہوتا ہے وہ پاک صاف ہو جاتا ہے اور جو اپوزیشن کی طرفداری کرتا ہے وہ گناہگار ہو کر حکومتی اِداروں کا معتوب بن جا تا ہے چینی اسکینڈل کی بڑی عیاری سے حکومتی اور اپوزیشن شخصیات کے ملوث ہونے کی رپورٹ تیار کی گئی ہے حالانکہ اِس میں نیا کچھ بھی نہیں یہ بات سب کو معلوم ہے کہ جہانگیرترین کچھ عرصہ سے حکومت

کے پسندیدہ نہیں اور قربانی دیکرناقص کارکردگی کو چھپانے کاسپنا دیکھا جارہا ہے تاکہ حزب مخالف شوگر مافیا پر ہاتھ ڈالنے کا مطالبہ کرنے کے قابل نہ رہے لیکن اِس بازی گری پر کوئی گھامڑ ہی یقین کر سکتا ہے رپورٹ سے مترشح تنقیدی ذرائع کو لب کشائی سے باز رکھنا ہے۔

وقفے وقفے سے حکومتی صفوں سے شہبازشریف کی گرفتاری کے لیے آوازیں بلند ہونے لگی ہیں ابتدا شیخ رشید نے کی اور عید کے بعدنیب کی طرف سے متوقع گرفتاریوں کا انکشاف کیا اور اب ای سی ایل میں نام ڈالنے کی باتیں کرنے لگے ہے دیگر حکومتی وزرا بھی آئے روزایسے ہی انکشافات میں مصروف ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بقول حکومت اگر نیب غیر جانبدار اِدارہ ہے تو نیب کارروائیوں کی قبل ازوقت حکومتی وزرا کو سُن گُن کیسے مل جاتی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ وزراحکومتی ہدایات سے آگاہی کی بنا پر ہی انکشاف کرتے ہیں اگر ایسا ہی ہے تو نہ صرف حکومت پر انتقامی کاروائیوں کا الزام لگے گا بلکہ نیب جیسا اِدارہ بھی سیف الرحمٰن کے احتساب بیورو کی طرح بدنامی کی پاتال میں جا گرے گا شیخ رشید توبائیس کروڑ کی آبادی کی طرف سے چوبیس کروڑ آن لائن ٹرین کی ٹکٹیں خریدنے کا بھی ناقابلِ یقین انکشاف کر چکے ہیں جو اُن کی ذہنی سطح کا آئینہ دار ہے مگر ایسے بڑبولے لوگ اپنی منصبی ذمہ داریوں کی انجام دہی کی بجائے اپوزیشن کو دھمکانے میں مصروف ہیںاگر حکومت اپنی اصلاح کر لے کارکردگی بہتر بنا لے اور عام آدمی کو سہولیات کی فراہمی پر تو جہ دے تو اپوزیشن کو د شنام طرازی کا موقع نہیں ملے گا لیکن یہ توقع رکھنا کہ کوئی بداعمالیوں کا کوئی پردہ چاک نہ کرے بلکہ اپوزیشن بھی تعریف و توصیف کرے ممکن نہیں ۔

مریم نواز کا ٹوئیٹرخاموش ہے شہباز شریف بھی کچھ عرصے سے مصلحتاََ چُپ ہیں لیکن ایسی صورتحال تادیر برقرار رہے گی ممکن نہیں حکومت کو اقتدار میں آئے دوبرس گزر چکے ہیں یہ مدت کارکردگی دکھانے کے لیے کم عرصہ نہیںمگر حکومتی منشور پر عملدرآمد نہیں ہوسکا لوٹے دوسو ارب ڈالر بھی واپس نہیں لائے جا سکے قرضے نہ لینے کا عزم کب کا ترک کیا جا چکا سارا زور اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاریوں پر ہے جس طرف بھی نگاہ دوڑائیں کوئی انقلابی تبدیلی نظر نہیں آتی صحت و تعلیم کی سہولتوں میں بہتری نہیں لائی جا سکی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اگلے الیکشن میں اپوزیشن کے خلاف مقدمات بنانے کو ہی اپنی کارکردگی بناکر پیش کیا جائے گا اور کیا لوگ اسی نُکتے پر دوبارہ ووٹ تحریکِ انصاف کی جھولی میں ڈال دیں ؟ہر گز نہیں عوامی مشکالات سے چشم پوشی اور حقوق سے پہلو تہی سے مقبولیت متاثر کرنے کا باعث بن سکتی ہے جس کا ابھی تو کسی کو ادراک نہیں یہی اطوار رہے تو انتخابی میدان میں جانے پر متاع حیات مقبولیت لُٹ جانے کا احساس ہوجائے گا۔

وزرا کا کام حکومتی فیصلوں کا دفاع اور مثبت اقدامات اجاگر کرنا ہے لیکن یہاں تو لگتا ہے ہے کسی کو حکومتی فیصلوں کا علم ہی نہیں تو مثبت اقدامات خاک اُجاگر ہوں گے اپوزیشن پر بڑھ چڑھ کر حملے کرنا ہی سبھی نے فرض تصور کر لیا ہے جس سے سیاسی استحکام کی منزل بھی دور ہو رہی ہے نوازو شہباز بیانیہ مختلف ہونے کی بات کرنے والے جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ حکومت میں شامل ہر وزیر ومشیر الگ بیانیے کے علاوہ الگ ترجیحات رکھتا ہے جس سے لوگوں کو کوئی اچھا پیغام نہیں جا رہا سیاسی استحکام کا فائدہ حکومت کو ملتا ہے اور اِس حوالے سے زیادہ زمہ داری بھی حکومت کی ہے مگر یہاں سب اُلٹ ہو رہا ہے اگر اپوزیشن حکومت مخالف تحریک کا آغاز کرتی ہے جس کے حوالے سے اطلاعات کے مطابق تیاری شروع ہے تو اِس کا نقصان حکومت کو ہی ہوگا کیونکہ اپوزیشن کبھی نہیں یہ چاہے گی کہ اُس کی خاموشی کو ڈیل سمجھا اور باتوں کو زبانی جمع خرچ سے تصور کیا جائے عملی اقدام اُٹھانے پر ملک میں سیاسی اضطراب کا خدشہ ہے جس سے موجودہ اطوار کے ساتھ محفوظ رہنا ناممکن ہے۔


ای پیپر