ایچ ای سی…دو نہیں ایک نظام
23 May 2020 (14:54) 2020-05-23

آج کل وزیراعظیم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر عشرت حسین کے سول سروس ریفام پیکیج کا کافی چرچا ہے۔ وہ گزشتہ 2سال سے اس پر کام کر رہے ہیں کہ سول سروس میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جس سے سروس ڈلیوری میں بہتری لائی جاسکے۔ ان کے اس مجوزہ ریفارم پیکیج پر ہمیں الگ سے کالم کی ضرورت ہے یہاں سول سروس ریفام کا ذکر ضمنی ہے جس کا مقصد یہ کہ وزیراعظم کو سول سروس ریفام کے طرز پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے دائرۂ کار میں بھی ریفارم کے عمل کی اشد ضرورت ہے بلکہ یہ کام سول سروس ریفام سے پہلے ہونا چاہیے تھا۔

یہ ایک المیہ ہے کہ اس وقت ایچ ای سی کے ماتحت یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے کام کرنے والے اساتذہ کرام کی تقرری ،تنخواہ ، سروس سٹرکچر، پرموشن،انکریمنٹ جیسے اہم معاملات میں دو متوازی نظام چل رہے ہیں جس کی وجہ سے ایچ ای سی کی پر فارمنس متاثرہورہی ہے۔موجودہ حکومت کا تو انتخابی نعرہ ہی ’’دو نہیں ایک پاکستان ‘‘تھا تو اس حکومت کی ناک کے نیچے ملک کے ایک اہم ترین تربیت ساز ادارے میں ایک نہیں دو نظام چل رہے ہیں جس سے ایک طبقے میں بے چینی ،فرسٹر یشن اور حوصلہ شکنی فروغ پارہی ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ٹیچر فرسٹر یشن کا شکار ہوگا تو اس کے نتیجے میں ایک پوری نسل فرسٹر یشن کا شکار ہوجائے گی۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کا قیام 2002ء میںعمل میں آیا اور ڈاکٹر عطاء الرحمن اس کے پہلے چیئرمین تھے۔ اس ادارے کے بنیادی مقاصد میں اعلیٰ تعلیم کی کوالٹی بہتر بنایا، تعلیم کے شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کا فروغ، اکتسابی عمل میں اور تحقیق کے شعبوں میں Excellenceکا حصول، قیادت سازی، مینجمنٹ اینڈ گورننس اور فریکل اینڈ ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کی ترقی جیسے اہداف شامل ہیں۔

اس وقت ایچ ای سی کی زیرنگرانی یونیوسیٹوں میں اساتذہ کی دو کیٹیگریز چل رہی ہیں۔ ایک تو بنیادی پے سکیل ٹیچرز ہیں جو لیکچرر بھرتی ہوکر اپنے کیریئر پاتھ کا آغاز کرتے ہیں جبکہ دوسری کیٹیگری Tenure Track Systemیا ٹی ٹی ایس ٹیچرز ہیں۔2002میں ایچ ای سی کے قیام کے وقت ایک مفروضہ قائم کرلیا گیاتھا کہ پی ایچ ڈی کرنے والوں کو ملک سے باہر جانے سے روکنے اور قحط الرجال (Brain Drain) کے سدباب کیلئے انہیں زیادہ پرکشش مراعات دے کر یونیوسٹیوں میںبراہ راست اسسٹنٹ پروفیسر رکھاجائے چنانچہ بی پی ایس اساتذہ کے یونیورسٹی ماڈل statuteکے قانون کے اندر آتے ہیں۔

عملاً یہ ہواہے کہ بی پی ایس اساتذہ اس امتیازی نظام کی چکی میں پس کررہ گئے ہیں جبکہ ٹی ٹی ایس کی پانچوں انگلیاں گھی میں ان دونوں کیٹیگری کے اساتذہ کے فرائض تو ایک جیسے ہیں لیکن تنخواہ اور مراعات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بی پی ایس کو صرف اتنا فائدہ ہے کہ ان کو نوکری کی پنشن ہے باقی سارے معاملات میں ٹی ٹی ایس والے انجوائے کررہے ہیں۔ مثلاًان کی تنخواہ اپنے مقابل سے دوگنی ہے پرفارمنس کی بنیاد پر انکریمنٹ ملتی ہے۔ سالانہ اضافہ بی پی ایس کے مقابلے میں 3گنا ہے۔ گویا یہ ایچ ای سی کے لاڈلے بچے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یادرہے کی بی پی ایس اساتذہ جوکہ ٹوٹل اساتذہ کا 70فیصد ہیں وہ اس غیر منصفانہ نظام کے نیچے دب گئے ہیں جبکہ 30فیصد والے ٹی ٹی ایس تمام اچھی پوسٹوں پر براجمان ہیں اور ان دوگروپوں کے درمیان ایک خاموش جنگ یا کولڈ وار کی کیفیت ہے جس کا خمیازہ طلباء کو بھگتناپڑتاہے۔

سب سے زیادہ غیر منصفانہ پہلو پرموشن کا ہے۔ ٹی ٹی ایس ٹیچرز براہ راست اسسٹنٹ پروفیسر ٹھیک 6سال بعد ایسوسی ایٹ پروفیسر اور مزید 4سال بعد پروفیسر بن جاتا ہے جبکہ بی پی ایس والے سوتیلے ٹیچرز کیلئے ترقی کا وقت یا میعاد کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہیں ۔ ان کے ایک مرحلے میں اگلے مرحلے میں ترقی کیلئے مطلوبہ مدت وپوری ہونے پر کمیشن بنایا جاتا ہے۔ انٹرویوہوتا ہے، شرائط ہوتی ہے،اسامی خالی ہونے کا معاملہ ہوتا ہے اور اس میں اتنی رکاوٹیں درپیش ہوتی ہیں کہ اس کا اندازہ مشکل ہے۔ انتظامیہ کی مرضی ہے کہ وہ آپ کو پرموٹ کرے اس سے خوشامدی کلچر کو فروغ ملتا ہے اور ٹیلنٹ کی موصلہ شکنی ہوتی ہے۔

بی پی ایس ٹیچرز کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی اساتذہ کی حال ہی میں قائم ہونے والی تنظیم آل پاکستان یونیورسٹیز پی پی ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن (APUBTA) نے چیئرمین ایچ ای سی محترم طارق بنوری کے نام ایک مراسلہ میں ان مسائل کی نشاندہی کی ہے اور ادارے کے اندر یکساں سروس سٹرکچر کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے مین جو قبل ازیں ریویو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کمیٹی نے بی پی ایس ٹیچرز کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔

اگر موجودہ حکومت واقعی ملک میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینا چاہتی ہے تو انہیں بی پی ایس اساتذہ کی حالت زار پر ہمدردانہ غور کی ضرورت ہے۔ ان کا یکساں سروس سٹرکچر کا مطالبہ جائز ہے۔ ہم نے آج تک یہی سنا ہے کہ Education is power ۔ اگر یہ درست ہے تو پھر اس میں استاد کو پاور پلگ کا درجہ حاصل ہے اور اگر پاور پلگ شارٹ سرکٹ کا شکار ہو جائے تو سسٹم بچانے کے لیے فائر بریگیڈ طلب کرنا پڑتی ہے۔ ـ"A stitch in time saves nine"۔


ای پیپر