نکما وائرس، سیانی حکومت ، جنو نی عوام
23 May 2020 (14:48) 2020-05-23

آپ جب یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو انشا اللہ ایک دو دن بعد عید الفطر کا مبارک دن ہوگا جو ویسے تو ہر بار خوشی کا پیغام لے کر آتا ہے لیکن اس بار کرونا وائرس کی وجہ سے نہ تو رمضان المبارک بھرپور طریقے سے گزارا جاسکا ،تراویح کے بھرپور اجتماعات اور اجتماعی عبادات سمیت فطاری کی تقریبات بھی منعقد نہیں کی جاسکیں۔ حالانکہ گھروں میں عبادت کے لیے پورا مہینہ بہت آسانی سے میسر تھا لیکن کچھ لوگوں نے تو اس میں اللہ کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کی تو بیشتر نے اس مہینے کو بھی باقی عمر کی طرح گنوا دیا۔

سب سے زیادہ افسوس ناک اور بھیانک منظر تو اس وقت دیکھنے میں آئے جب کرونا کے بڑھتے خدشات کے باوجود حکومت کی طرف سے لاک ڈائون میں اچانک نرمی کی گئی اور بازاروں اور مالز کو شام پانچ بجے تک کھول دیا گیا کیونکہ کسی نے انہیں خفیہ رپورٹ دی تھی کہ کرونا وائرس شام پانچ بجے نکلتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دلچسپ کام یہ کیا کہ جمعہ ہفتہ اتوار کو ان بازاروں کو بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ کیونک شائد باقی چار دنوں کے لیے وائرس سے حکومت کے مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے کہ کرونا پیر سے جمعرات چھٹی کرے گا اور باقی تین دن اپنا کام کرے گا بہرحال اسی دوران سپریم کورٹ نے بھی اچانک مارکیٹوں کو عید سے قبل سات دن کھلا رکھنے کا حکم دے دیا جس کے بعد ہماری غریب عوام نے آخری رپورٹ آنے تک چار دنوں میں شائد چھتیس ارب روپے سے بھی زائد کی خریداری کرلی۔ اسی طرح آن لائن شاپنگ میں ساڑھے تین سو فیصد اضافہ ہوا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ لاک ڈائون میں عوام کا مسئلہ روٹی نہیں صرف شاپنگ تھی!

سو جیسے ہی پروانہ ملا تو پھر لوگوں نے جان ایمان خاندان اور پاکستان سب دائو پر لگایا اور کڑی دوپہر میں بازاروں اور مارکیٹوں کی طرف دوڑ لگا دی۔کچھ حکومت کی پالیسی بھی سمجھ نہیں آتی ساتھ ہی یہ اعلان بھی کردیا کہ عید کے فورا ً بعد ایک ماہ کا لاک ڈائون لگے گا ۔ اب لوگوں کو ایک ہفتے کی مہلت دے کر کس کے ساتھ ہمدردی کی ہے یہ تووہ ہی بہتر جانتے ہیں کیونکہ ساتھ ہی ساتھ بہت ذیادہ ڈرایا بھی جا رہا ہے کہ اس طرح شاپنگ کے دوران احتیاط نہ کرنے سے کرونا کے مریضوں میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے اور تو اور کبھی ملکی آبادی بارہ کروڑ تک مزید بڑھنے کی نوید سنائی جاتی ہے تو کبھی اچانک ۲۲ کروڑ عوام چوبیس کروڑ ریل گاڑی کی ٹکٹیں خرید لیتی ہے۔

میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ ہو کیا رہا ہے؟ اگر بیماری کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ واقعی ایک حقیقت ہے کئی لوگ اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ اگر صورت حال اتنی پیچیدہ ہے تو لاک ڈائون سخت رکھنا چاہیے تھا اگر نارمل ہے تو پھر اتنا واویلا کرنے کی بھی کیا ضرورت ہے۔ ویسے بھی کرونا سے نکما وائرس میں نے آج تک نہیں دیکھا جو ایک عام صابن سے ہاتھ دھونے سے مرجاتا ہے مگر اس کی ویکسین دریافت نہیں ہوسکی! بہرحال سننے میں آرہا ہے کہ عنقریب اس کی ویکسین لانچ ہونے والی ہے جس کے بعد کوئی بندہ اس کے بغیر نہ تو سفر کر سکے گا نہ ہی کوئی ملازمت۔ بہرحال لوگ جتنے بھی منصوبے بنا لیں آخر بادشاہی تو میرے رب کی ہی ہے نا۔

عجیب مرتد نما وائرس لگتا ہے جو مسجدوں میں تو جانے سے روکتا ہے مگر بازاروں کے رش سے اس کو فرق نہیں پڑتا اور اس کو اپنی مشہوری کے لیے بڑی محنت کرنی پڑ رہی ہے کہ پوری دنیا کا میڈیا اس کا تعارف کروا کروا کر تھک گیا مگر لوگوں کو سمجھ نہ آئی۔ حالانکہ اس سے پہلے خسرہ، سوائن فلو، ہیضہ، ڈینگی جیسے وائرس بھی آئے جانیں بھی لیں اور اپنا تعارف خود ہی کروادیا۔ ایک اور بات اس وا ئرس کو کچھ لوگوں کو اتنا مالی فائدہ دیا ہے کہ ان کی اگلی دس نسلیں آرام سے کھا سکتی ہیں۔ باقی حکومت کے شائد کچھ اپنے مقاصد یا مجبوریاں ہوں لیکن عوام کو تو عقل کرنی چاہیے تھی نا۔

ایک سال عید پر نئے کپڑے نہ پہننے کیا فرق پڑجائے گا؟ لاکھوں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں مگر ان لوگوں کو صرف اپنی فکر ہے اللہ کے عذاب میں بھی ان کو اپنی عیاشی کی پڑی ہے! کچھ بھی نہیں سیکھا اس عذاب سے ان لوگوں نے۔ان کو تب ہی عقل آئے گی جب تک موت کا فرشتہ سر پر کھڑا نا ہو جائے۔ خدا را! حوصلہ اور احتیاط کیجیے۔

عجیب لوگ ہیں جان پر کھیل کر میک اپ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ لوگوں کو لوٹنے کے نئے نئے طریقے ایجاد کئے جا رہے ہیں۔ مجھے تو ایک ویڈیو دیکھ کر بہت دکھ ہوا جس میں کچھ خواتین شاپنگ کے لیے ایک دکان میں گھستی ہیں پھر شٹر گرا دیا جاتا ہے۔ جب چھاپہ پڑتا ہے تو وہی خواتین پائپوں سے اور کھڑکیوں سے نیچے اترتی دکھائی جاتی ہیں توبہ ہے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ ان دکان داروں کے لیے بھی اور ایسی عورتوں کے لیے جو بند شٹر والی دکان میں بیٹھ کرخریداری کررہی ہیں اگر کچھ برا ہوجائے تو پھر کون ذمہ دار ہوگا؟

اس مقدس ماہ میں بھی صرف اور صرف نفسانی خواہشات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ہم سب! اور جہاں تک حکومت کی بات ہے تو اس سے اپیل ہے کہ بازار کے ساتھ ساتھ مسجدیں بھی کھول دے، ہمیں عید نہیں منانی روٹھے رب کو منانا ہے۔ اگر مارکیٹیںیا کاروبار کھولنا معاشی مجبوری ہے تو مساجد کھولنا ہماری روحانی اور ایمانی مجبوری کیوں نہیں بن سکتی! دل میں ایک کسک سی اٹھتی ہے ، ہم نے یا ہمارے آبا نے ایسا منظر پہلے کبھی نہ دیکھا ہے اور نہ سنا ہے۔ سعودی عرب میں رمضان المبارک کے موقع پر پورے عرب سمیت پوری دنیا سے اللہ کے مہمان رمضان المبارک آخری دس راتیں گزارنے لیلۃ القدر پانے کے لیے مسجدالحرام و مسجد نبویؐ کا رخ کرتے ہیں ،اعتکاف کرتے ہیں۔

مگر اس سال ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

عمرہ پر پابندی ہے ، مساجد بند ہیں ۔نماز عیدالفطر کے اجتماع نہیں ہورہے۔

خدارا اپنے رب کی ناراضی کو پہچانیں اور توبہ کریں۔

یا رب ! خانہ کعبہ، مسجدنبوی اور پوری دنیا کی مساجد کی رونقیں بحال فرما ۔

کورونا وبا کا دنیا بھر سے خاتمہ فرما

جو بیمار ہیں انہیں شفایاب فرما

جو وفات پاگئے ان کی بخشش فرما ۔

یا اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور ہم سے راضی ہوجا ، آمین یارب العالمین

اے خالقِ کائنات، اے رب ذوالجلال، اے مالک دو جہاں، زندہ کو مردہ سے، مردہ کو زندہ سے پیدا کرنے والے، اے اندھیرے کو اُجالے سے، اجالے کو اندھیرے سے تخلیق کرنے والے ،میرا بولنا، میرا سننا ،میرا چلنا ،میرا دیکھنا ،تیری عظیم نعمتوں میں سے ہے ۔تونے مجھے اتنی نعمتیں عطا کیں جن کا میں شمار بھی نہیں کر سکتی تو برحق فرماتا ہے، بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے( سورۃ ابراہیم ۳۴) میں نے نہ تیری محبت کا حق ادا کیا نہ نبی کی محبت کا، نہ دین کا۔ میرے پاس نہ عبادت ہے نہ ریاضت ہے نہ اطاعت ہے۔ میں اپنی زندگی کا یہ خالی کشکول لے کر تیرے عظیم الشان دربار میں اس امید کے ساتھ حاضر ہوں کہ تو ارحم الراحمین ہے، تو غفور الرحیم ہے ، تو معاف کرنے والااور کریم ہے، میں چشم تر لیے اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوں۔ نادم ہوں، تو فرماتا ہے سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ میں بھی تیرے در کی سوالی ہوں۔ میرے کشکول میں عفو و درگزر کی بھیک ڈال دے۔ اے میرے پیارے آقا! روزِ قیامت تو مجھ سے کسی بھی نعمت کا حساب نہ لینا کہ تو خالق ِکائنات ہے۔ تیرے آسمان دنیا پر تو زمین سے لاکھوں گنا بڑے ان گنت اجسام ازل سے ساکت بھی ہیں ،متحرک بھی، تیری اس کائنات میں تو اس زمین کی حیثیت ایک چنے کے دانے کے برابر ہے۔ یہ آج کا انسان مانتا ہے پھر میری ذات تو ایک خاک کے ذرّے کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔ میں تو تیرے عطا کردہ پانی کے ایک گھونٹ کا بھی حق ادا نہیں کر سکتی۔ روزِ آخرت مجھ سے حساب نہ لینا، تو سوال کرے گا کہ میں نے تیری کتنی بڑائی بیان کی تو زبان گنگ ہو جائے گی۔ تیری مخلوق کی کتنی خدمت کی ،یہ لب حرکت نہ کر سکیں گے۔ تیرے دین کے لیے کیا مساعی کیں، پاؤں لرز اٹھیں گے۔ اے میرے مالک ،موت سے پہلے مجھے بخش دینا۔ اے ستر(۷۰) ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے میرے چھوٹے بڑے، دانستہ نادانستہ ظاہر اور پوشیدہ تمام گناہوں کو معاف فرام دے۔ اے پیار کرنے والے، اے رحم کرنے والے، ایک ماں تو گندگی میں لتھڑے ہوئے بچے کو دھودھلا کر پھر اپنی آغوش محبت میں لے لیتی ہے تو بھی میرے گناہوں کی گندگی کو اپنے عفو سے دھو ڈال۔ مجھے اپنی محبت میں لے لے۔ یہ بھی سچ ہے میرے مالک، میرے جرم صرف انفرادی نہیں ہیں ،میرے جرم وہ بھی ہیں جو میں نے اجتماعیت کے ساتھ مل کر کیے۔ یہ ملک پاکستان ہمارے بزرگوں نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا۔ انھوں نے اس کی خاطر اپنے نئے بنائے گھر اورکاروبار چھوڑ دیے۔ ان کے معصوم بچوں کو نیزوں پر اچھالا گیا۔ ان کے سامنے ان کی عزتیں پامال کی گئیں۔ ان کی نگاہوں کے سامنے ان کے جوان شہید کر دیے گئے۔ آج ستر سال گزرنے کے بعد بھی اس ملک میں سود کا نظام جاری ہے۔ ظلم کا بول بالا ہے۔ فحاشی نے ہر سو اپنے پیر پھیلائے ہیں۔ مجھے اپنی کوئی

رات یاد نہیں جب اس دکھ اور اس کرب میں میں ساری رات روتی رہی ہوں کہ میں بہت مصروف تھی۔ اے میرے مالک تو نے تو سود کو اپنے ساتھ کھلی جنگ فرمایا ہے۔ گویا ہم ۷۰ سال سے تیرے ساتھ جنگ کر رہے ہیں۔ تیری کبریائی ہے کہ تو مسلسل چشم پوشی کر رہا ہے۔ اے میرے مالک !میرے جرائم کی تفصیل تو طویل ہے، میں نے بچپن سے فلسطینیوں پر ظلم ہوتے دیکھا۔ میں نے شامیوں کے جسموں کی قربانی کے جانوروں کی طرح بوٹیاں ہوتے دیکھیں۔ میں نے افغانیوں کے جنازوں، شادیوں پر بمباری ہوتے دیکھی۔ ان کے معصوم حفاظ پر بم برستے دیکھے ۔ میں نے معصوم بے گناہ مظلوم کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے دیکھے۔ نہ میرا سانس رکا نہ میرے گھر کا چولھا ایک دن بھی بند ہوا۔ اب کشمیری مہینوں سے گھروں میں قید ہیں۔ وہ بھوکے پیاسے کس حال میں ہیں۔ یہ وہی جانتے ہیں۔ زندگی ان کے لیے موت سے بدتر بنا دی گئی ہے۔ وہ اپنی میتیں گھروں میں دفنانے پر مجبور ہو گئے۔ پیارے مالک تو تو فرماتا ہے۔ مسلمان ایک جسد واحد کی طرح ہیں جس کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم درد کرتا ہے۔ میرے مالک میں بھی دنیا کی طرح خاموش تماشائی بنی رہی کوئی دن تو ایسا گزرتا جب میں بھوکی رہتی، کوئی رات تو ایسی گزرتی جب اس ظلم پر روتی رہتی، کوئی وقت تو ایسا ہوتا جب میری زبان ساکت ہو جاتی، میرا دل غم سے پھٹ کیوں نہ گیا۔ میں بہت مصروف تھی نا۔ میرے مالک تو نے مجھے اپنے اہل و عیال کے ساتھ پوری آسائشوں کے ساتھ ذرا گھروں میں بند کر دیا تو میں تڑپ اٹھی۔ میں ویران سڑکیں دیکھ کر پریشان ہو گئی۔ میں غریب پاکستانی بہن بھائیوں کو بے روزگار دیکھ کر ہلکان ہو گئی۔ مجھے تو ان چند دنوں میں بھی احساس ہو گیا کہ سزا اور عذاب کیا ہوتا ہے۔ میں تجھ سے معافی کی طلب گار ہوں ۔میرے گناہ ریت کے ذروں جتنے بھی ہوں لیکن تیری رحمت تو ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ مجھے میرے گناہوں کے احساس پر بھی بخش دے اور ساری امت کو بھی۔

آقا میں نے تیرے قرآن کی ایک ایک بات کو سچ ثابت ہوتے دیکھا۔ قوم عاد، قوم ثمود جیسی بڑی بڑی طاقتیں ایک نظر نہ آنے والے جرثومے کے ہاتھوں بے بس ہو گئیں۔ میرا ایمان مزید بڑھ گیا۔ پیارے رب مسلمان امت پر تو دہرا عذاب ہے۔ ایک کرونا کا عذاب دوسرے اپنے گھروں میں داخلہ کی پابندی کا عذاب۔ ایسا کیوں نہ ہوتا تونے تو مسلم امت کو بہترین امت کا خطاب دیا تھا۔

تونے تو فرمایا ہے (سورۃ توبہ آیت ۲۹) جنگ کرو۔ ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے۔ دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ ان سے لڑو ۔ صد افسوس ہمارا رب ہمیں بڑا بن کر رہنا سکھا رہا ہے اور ہم آج اغیار کے بھکاری بن گئے۔ عدل کو چھوڑا ظلم اپنایا۔ حیا چھوڑی فحاشی اپنائی۔ زکوٰۃ چھوڑی سود اپنایا۔لیکن اے رب ذوالجلال ہم بگڑ ضرور گئے ہیں۔ راستے سے بھٹک گئے ہیں۔ لیکن تجھے وحدہٗ لاشریک سمجھتے ہیں۔ تجھے بھی قادر مطلق مانتے ہیں۔ ابھی بھی ہم تیرے نام پر مرمٹنے کو تیار ہیں۔ ہم مٹ رہے ہیں۔ ہماری نسلوں کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالات اختیار میں نہیں ہیں۔ طاغوت اکٹھا ہو گیا ہے، تیرے دین کو مٹانے کے لیے۔ میں اس وقت تجھ سے وہی فریاد کروں گی جو جنگ بدر کے موقع پر تیرے پیارے نبیؐ کی تھی۔ اے خدا! بس آ جائے تیری وہ مدد جس کا تونے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ اے خدا! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہو گئی تو روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والاکوئی نہ رہے گا۔

اے رب العالمین! تو جانتا تھا کہ امت محمدیؐ پر ایک ایسا کڑا وقت آئے گا جب اس امت کو اس دعا کی اشد ضرورت ہوگی تونے اس دعا کو نور فرمایا ہے۔ اے مالک اس نور سے ہماری زندگیوں کو منور کر دیے۔(سورۃ البقرہ آیت ۲۸۶)ترجمہ: اے ہمارے رب ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں ان پر گرفت نہ کر۔ مالک! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔ پروردگار جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے وہ ہم پر نہ رکھ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر تو ہمارا مولا ہے کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔

اے آقا رمضان کا مبارک مہینہ اب رخصت ہورہا ہے اس کی رونقیں برکتیں واپس جارہی ہیں۔ حج و عمرہ کے راستے کھول دے، تو جانتا ہے تیرے گھر اور نبی کے در پر حاضر ہونے کی ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے۔ میرے اور میرے بہت سے بہن بھائیوں کے اخلاص سے گرتے ہوئے آنسوؤں کی لاج رکھ لے۔ ابھی بھی تیرے حبیب کی امت میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے دل مسجدوں میں اٹکے رہتے ہیںَ۔ ان کی محبت کی لاج رکھ لے۔ شیطان کی شیطانیت کو ان پرغالب نہ آنے دینا۔دنیوی رنگینیوںپر کرونا پیش آتا مسجدوں میں کرونا کے خوف سے کیوں تالے لگ گئے؟ تونے اپنے در سے ٹھکرا دیا تو ہم کہاں جائیں گے؟ تو ہمیں نہ دھتکار وگرنہ تباہی و بربادی ہمارا مقدر ہو گی۔ میں تجھے تیرے حبیب کا واسطہ دیتی ہوں۔ کھول دے اپنے گھر کے دروازے، اے میرے مالک تونے تو ایک بت گر کے ہاں حضرت ابراہیم کو پیدا کر دیا۔ فرعون کی بیوی مومنہ بن گئی۔ ابوجہل کے بیٹے کو جلیل القدر صحابی بنا دیا۔ اے رب ہم میں بگاڑ ضرور ہے لیکن تو ہمارے دلوں میں بستا ہے۔ ہم تجھے وحدہٗ لاشریک جانتے ہیں۔ قادر مطلق مانتے ہیں۔ ہماری نسلوں سے بھی کوئی عمرؓ، کوئی ابوبکرؓ، خالدؓ، طارق پیدا کر دے جو تیرے دین کا پرچم لے کر اٹھیں اور پوری دنیا پر چھا جائیں۔ ہمیں ایسا بنا دے جیسا تو ہمیں دیکھنا چاہتا ہے۔ ہم سے دین کا، مخلوق کی خدمت کا کام لے لے۔ اس عذاب کو ہمارے لیے رحمت بنا دے۔ ہماری زندگیوں میں دائمی انقلاب برپا کر دے فرقہ واریت ختم کر دے۔ تمام مسلمان حکمرانوں کو ایک مرکز پر جمع کر دے۔ ہمارا خاتمہ مکمل ایمان پر کرنا آمین ثم آمین۔


ای پیپر