ایک انسان دوست آفیسر ۔ ڈاکٹر ظفر الطاف
23 May 2020 (14:46) 2020-05-23

مجھے آج تک پرویز مسعود سابق چیف سیکریٹری پنجاب کا وہ تبصرہ نہیں بھولا جب انھوں نے کہا تھا کہ یہ ڈاکٹر ظفر الطاف کا دفتر ہی ہو سکتا ہے جہاں گورنمنٹ آف پاکستان کے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اور نذیر چپڑاسی اکٹھے بیٹھ کر چائے پی سکتے ہیں۔ دراصل ہوا یوں تھا کہ پرویز مسعود صاحب اس وقت پنجاب کے چیف سیکریٹری تھے ۔ وہ اپنے دفتر میں کام کر رہے تھے کہ انہیں معلوم ہوا کہ اے آر صدیقی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر ظفر الطاف کے دفتر میں موجود ہیں۔ انھوں نے ڈاکٹر ظفر الطاف جو اس وقت گورنمنٹ آف پنجاب کے سیکریٹری زراعت تھے کو فون کیا اور کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ اے آر صدیقی صاحب آپ کے دفتر میں موجود ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہاں موجود ہیں اور کافی پی رہے ہیں۔ پرویز مسعود صاحب نے پوچھا کہ اور کون کون موجود ہے تو ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ ایک میں ، ایک اے آر صدیقی اور تیسرے نذیر (جو کہ اس وقت باغ جناح میں چپڑاسی تھا اور جس کے ڈاکٹر صاحب سے تعلق کا پرویز مسعود صاحب کو معلوم تھا) ۔ اسی موقعہ پر پرویز صاحب نے یہ تبصرہ کیا تھا۔اس کے بعد پرویز مسعود صاحب ڈاکٹر ظفر الطاف کے دفتر پہنچ گئے اور خوب محفل لگی۔نذیر چپڑاسی گجرات کا رہنے والا تھا اور ڈاکٹر ظفر الطاف کا لاڈلا تھا ۔اس کی ہر نوکری ڈاکٹر ظفر الطاف صاحب ہی لگواتے تھے ،لیکن نہ جانے کیوں وہ کچھ عرصہ بعد پہلی نوکری چھوڑ کر کسی دوسرے محکمہ میں کام کر رہا ہوتا تھا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کا ہر ملنے والا نذیر کا ملنے والا تھا۔

مجھے چند ماہ پہلے وہ ڈاکٹر سجاد حسین یورالوجسٹ کی قل خوانی میں ملا تھا ۔ ڈاکٹر سجاد حسین سے بھی اس کا تعلق ڈاکٹر ظفر الطاف کی وجہ سے تھا ۔اس کی باتوں سے معلوم ہوا کہ اس کی آخری پوسٹنگ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہاوس میں تھی لیکن آج کل وہ کہیں گجرات میں کسی سرکاری محکمہ میں کام کر رہا ہے لیکن اتنا خوش نہیں ہے۔جس کا بھی ڈاکٹر ظفر الطاف سے تعلق رہا وہ نذیر چپڑاسی کو ضرور جانتا ہو گا ۔ وہ ایک خاموش طبع اور سادہ سا انسان تھا ۔ ڈاکٹر صاحب خود بہت سادہ اور فقیر منش انسان تھے۔وہ اپنے احباب کی محفل میں خوش رہتے تھے۔ میں نے ان کے ساتھ پنجاب کے محکمہ زراعت میں کام کیا بلکہ وہ مجھے خود ہی محکمہ زراعت میں لے کر گئے تھے۔ان کی زندگی کے کئی واقعات یاد آتے ہیں تو انسان سوچتا ہے کہ کیا اس ملک کے سرکاری دفاتر میں کوئی آفیسر اتنے خلوص اور پیار سے غریبوں اور لا وارثوں کے مسائل حل کرنے میں خوشی محسوس کرتا

ہے۔میں نے ساری زندگی سرکاری محکموں میں کام کرتے گزاری ہے ۔میں سرکاری محکموں کے سخت خلاف ہوں کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ غریبوں اور لاوارثوں کا یہاں بہت استحصال ہوتا ہے۔میرا خیال ہے اور میں اس کا موقع بر موقع اظہار بھی کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو سرکاری محکمے کم سے کم کر دیئے جائیں لیکن حکمران اشرافیہ کو سرکاری محکمے بہت راس ہیں کیونکہ ان کی حکمرانی انھی محکموں کی وجہ سے تو رواں دواں رہتی ہے۔ ڈاکٹر ظفر الطاف غریبوں کی مدد کرنے میں بعض اوقات قانون اور ضابطوں کو بھی آڑے نہیں آنے دیتے تھے، جس پر کچھ لوگوں کو ڈاکٹر صاحب پر اعتراض بھی ہوتا تھا۔اگر ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے انسان دوستی کے واقعات کو ضبط تحریر میں لایا جائے تو ایک کالم کی تنگیء دامن اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ چلو ایک چھوٹا سا واقعہ سنائے دیتا ہوں۔ڈاکٹرصاحب وفاقی حکومت میں چئیرمین پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل تھے۔ میانوالی کا ایک لڑکا اسی کونسل کا ملازم تھا اور کونسل کے ڈیری فارم سے اسلام آباد کے کچھ گھروں میں دودھ پہنچاتا تھا۔ دودھ کے پیسے جو اس نے لوگوں سے اکٹھے کیے تھے وہ کونسل کے پاس جمع نہ کراسکا۔ اس پر غبن کا کیس چلا اور اسے نوکری سے برخاست کر دیا گیا اور ساتھ ہی نہ جمع کرائی گئی رقم کی ریکوری کی سزا اس پر عائد کر دی گئی۔ وہ ایک بیوہ کا بیٹا تھا اور سارے گھر کی ذمہ داری اسی پر تھی، ظاہر ہے سارا گھر پریشان ہو کر رہ گیا۔انھیں کہیں سے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میرے تعلق کا پتہ چلا تو انھوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ ان کی حالت دیکھ کر میں نے ڈاکٹر صاحب سے فون پر request کی۔ میں نے اس فیملی کے حالات بتائے اور کہا کہ وہ فیملی کونسل کے پیسے جمع کرانے کو تیا رہے لیکن اس لڑکے کی نوکری ختم نہ کی جائے تاکہ پوری فیملی بھوکوں نہ مر جائے۔کہنے لگے میں اس کی فائل منگوا کر دیکھتا ہوں۔

دوسرے دن انھوں نے فون کیا اور کہا کہ میں نے اس کی فائل دیکھی ہے، ہاں وہ کونسل کے پیسے کھا گیا ہے جو ایک لاکھ سے بھی کم ہیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ اس کی نوکری جانے سے اس کے خاندان والوں پر کیا گزرے گی۔ میں نے اسے بحال کر دیاہے۔ میں نے کہا کہ سر وہ کونسل کے پیسے جمع کرادیگا۔ اپنے سٹائل میں ہنس کر کہنے لگے میں نے وہ پیسے right off ( ختم ) کر دئیے ہیں ۔وہ یہ رقم کھا گیا ہوگا اب غریب خاندان کہاں سے جمع کراتا پھرتا ہوگا ۔ اس ملک میں بڑے بڑے لوگ اس قوم کے اربوں روپے کھا گئے ہیں وہ غریب اگر کچھ دودھ کے پیسے کھا گیا ہے تو کیا ہوا ،اسے کہو جلدی سے نوکری جوائن کر لے۔ ڈاکٹر صاحب بہت پڑھے لکھے انسان تھے ۔ میٹنگز میں بہت ثقیل قسم کی انگلش بولا کرتے تھے، مجھ آج تک یاد ہے جنرل غلام جیلانی خان صاحب سابق گورنر پنجاب ڈاکٹر صاحب کی میٹنگز میں ایسی انگلش سن کر ہنستے ہوئے کہا کرتے تھے ڈاکٹر صاحب اب اس کا سلیس انگلش میں ترجمہ بھی کر دیں ۔ ڈاکٹر صاحب کی qualications ا ور ڈگریاں بھی کچھ عجیب قسم کا ملغوبہ تھیں۔ ڈاکٹر صاحب نے سائنس مضامین میں گریجوایشن کیا تھا اور ماسٹر سایکالوجی میں ۔ اسی طرح ان کی پی ایچ ڈی انڈسٹریل اکنامکس میں تھی اور سروس کے اخیر میں وہ زراعت کے ماہرین میں شمار ہوتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے سٹاف کو بہت protect کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ڈاکٹر صاحب نے بطور سیکریٹری زراعت ایک سمری وزیر اعلیٰ کو بھجوائی ۔ وزیراعلیٰ کو سمری بذریعہ وزیر انچارج محکمہ کے جاتی ہے۔ اس وقت مجھے یاد ہے زراعت کے وزیر سعید احمد منہیس تھے ۔ ابھی سمری وزیر زراعت کے پاس سرکاری طور پر نہیں پہنچی تھی لیکن اس کیس کے سفارشی اس سمری کی فوٹو کاپی لے کر منہیس صاحب کے پاس پہنچ گئے۔وزیر صاحب نے اسی سمری کی کاپی پر لکھا کہ محسوس ہوتا ہے کہ سیکریٹری زراعت کے سٹاف نے سمری کی کاپی اس کیس کے سفارشیوں کو پکڑا دی ہے۔ اس لیے اس کی انکوائری کی جائے اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے تاکہ ذمہ دار سٹاف کو سزا دی جائے۔ ڈاکٹر صاحب نے اسی پر اپنا نوٹ لکھا کہ کسی سرکاری correspondence کی کاپی دینا سٹاف کا ایک کلچر سا بن گیا ہے۔ یہ کوئی ایسا سنگین جرم نہیں ہے ، اور اگر جرم ہے تو وہ چونکہ میرے سٹاف نے کیا ہے جن کا سربراہ میں خود ہوں اس لیے اس جرم کی ذمہ داری مجھے قبول ہے۔ مجھے یاد ہے اس پر سعید منہیس نے لکھا تھا ــ ’’ Strange ‘‘ اور نوٹ واپس بھجوا دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب بہت سادہ لوح تھے اور لباس کے سلسلہ میں تو کچھ زیادہ۔ بعض اوقات تو وہ سادہ سی شلوار قمیض اور پائوں میں قینچی چپل پہن کر بھی دفاتر میں پہنچ جاتے۔ یہ چال ڈھال دیکھ کر کسی کو یقین کرنا مشکل ہو جاتا کہ وہ حکومت پاکستان کے وفاقی سیکریٹری ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنے ذاتی سٹاف پر تو اتنا بھروسہ کرتے تھے جو کہ نا قابل یقین ہوتا تھا۔ مثلاًبحیثیت سیکریٹری زراعت ان کا پرائیویٹ سیکریٹری راٹھور ہوتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ذاتی بینک اکاونٹ کی چیک بک راٹھور کو دی ہوتی تھی اور اسے یہ اختیار بھی دیا ہوا تھا کہ جب وہ اسے کہیں تو وہ ان کے دستخط خود کرکے بینک سے رقم بھی نکلوا لیا کرے۔ راٹھور نے ان کے بنک والے دستخظوں کی بڑی پریکٹس کی ہوئی تھی اور بارہا وہ اپنے کیے گئے دسخظوں سے رقم نکلوایا کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب ایک عجب درویش منش انسان تھے اللہ انھیں غریق رحمت کرے ،بہت جلدی چلے گئے۔


ای پیپر