یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! (اٹھارہویں قسط )
23 May 2020 2020-05-23

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات پر لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم، میں، میں عرض کررہا تھا ”اوورسیز پاکستانی بھی ان دنوں شدید مشکلات کا شکار ہیں، ہماری زندگی کورونا کے عذاب سے بعد میں دوچار ہوئی، وہ اس وباءیا آزمائش سے ہم سے پہلے کے گزررہے ہیں، سو ممکن ہے وہ بھی وزیراعظم کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کی جانے والی اس اپیل پر توجہ نہ دے سکیں کہ ”وزیراعظم ریلیف فنڈ میں دل کھول کر چندہ دیا جائے“.... اُوپر سے چندہ وصول کرنے کے حوالے سے ہمارے مختلف حکمرانوں نے بداعتمادی کی جو فضاءقائم کی ہے ، خصوصاً گزشتہ دنوں ڈیم فنڈ میں چندہ دینے کے حوالے سے جو فضاءقائم ہوئی، یا جو ماحول بنا اس نے بھی اندرون وبیرون ملک بسنے والے سینکڑوں مخیر پاکستانیوں کو آئندہ چندہ نہ دینے پر مجبور کیا ہے ، ....وزیراعظم عمران خان سے میں نے کہا ”آپ جب اقتدار میں آئے تھے، آتے ہی آپ نے ایک تقریر فرمائی جس میں اوورسیز پاکستانیوں کے سامنے پاکستان کی معاشی حالت بلکہ ”بدمعاشی حالت“ کا تفصیل سے ذکر کیا، ان سے اپیل کی وہ پاکستان کی معاشی حالت بہتر کرنے کے لیے ایک ایک ہزار ڈالر کا عطیہ یا چندہ پاکستان کو دیں، آپ کی طرح ہمارا خیال بھی یہی تھا آپ کی اس اپیل پر اوورسیز پاکستانی خصوصاً گوری دنیا میں بسنے والے پاکستانی اتنا پیسہ دیں گے قومی خزانہ لبالب بھر جائے گا، بلکہ ہم سابقہ سارے قرض بھی اتاردیں گے، افسوس ایسا نہ ہوسکا، اس کی کئی وجوہات ہیں، جو میں آپ کو اگلی کسی ملاقات میں بتاﺅں گا، ممکن ہے اس حوالے سے میری کچھ باتیں آپ کو اتنی بُری لگیں آپ آئندہ مجھ سے کبھی نہ ملنے کا فیصلہ کرلیں، وزیراعظم میری بات سن کر مسکرائے، بولے” پہلے کون سا تم میرے حق میں لکھ یا بول رہے ہو؟۔مگر اس کے باوجود میں تم سے مل رہا ہوں، تمہاری باتوں اور مشوروں کو سنتا ہوں تو آئندہ بھی ملتا رہوں گا“۔ اُن کی مہربانی انہوں نے ایسے کہا....میں نے عرض کیا ”آپ کے حوالے سے ایک اور تاثر لوگوں میں یہ پایا جاتا ہے مختلف حوالوں سے دوسروں سے چندہ مانگنے کے بجائے آپ خود کیا دیتے ہیں؟۔ ان حقائق کی روشنی میں ، میں نے انہیں تجویز دی ”آپ کو چاہیے پی ٹی آئی کے کروڑوں، اربوں، کھربوں پتی ارکان پارلیمنٹ، وزیروں اور مشیروں کی منت کریں۔ جب تک کورونا کے شکار سینکڑوں پاکستانیوں کی مکمل بحالی نہیں ہوجاتی وہ تقریباً ”فارغ“ بیٹھ کر سرکاری خزانے سے وصول کی جانے والی اپنی تنخواہیں وزیراعظم ریلیف فنڈ میں دیں گے۔ اوراس کا آغاز آپ خود کریں“ .... میری یہ بات سن کر چند سیکنڈکے لیے وہ خاموش ہوگئے، پھر بولے ”ایسا کرتے ہیں پہلے مرحلے میں ہم وفاقی کابینہ سے اس کا آغاز کرتے ہیں، یہ بڑی زبردست تجویز ہے ، پھر اس کا دائرہ ہم اپنے (پی ٹی آئی) کے اراکین پارلیمنٹ تک بھی بڑھا دیں گے، اس سلسلے میں مجھے پارٹی کے کچھ لوگوں سے مشاورت کرنی ہوگی “ ....مجھے اُن کی یہ بات پسند آئی کہ وہ اِس معاملے میں پارٹی سے بھی مشاورت کریں گے، ”میںنے سوچا وہ دیگر معاملات میں بھی پارٹی سے مشاورت کرتے ہوں گے، یہ یقیناً ایک اچھا عمل ہے ورنہ ہماری بے شمار سیاسی جماعتوں کے سربراہاں، خصوصاً نون لیگ کے ہاں مختلف معاملات میں پارٹی کے اہم رہنماﺅں سے مشاورت کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے ، البتہ نون لیگ کے کچھ اہم رہنما اپنے طورپر اپنی بچی کھچی عزت وغیر بچانے کے لیے یہ تاثر ضروردیتے ہیں کہ شریف برادران مختلف معاملات میں ان سے مشورہ کرتے ہیں، یا اُنہیں اعتماد میں لیتے ہیں، شریف برادران کئی معاملات میں ایک دوسرے کو اعتماد میں نہیں لیتے، پارٹی رہنماﺅں کو اُنہوں نے کیا لینا ہے ؟ بہرحال وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کی حدتک میری تجویز پر عمل کیا یا نہیں؟ مطلب یہ کہ کابینہ نے اپنی تنخواہیں وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ میں جمع کروانی شروع کی یا نہیں؟ مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں، پر محترم وزیراعظم کی اپنی بات سے مکر جانے کی بلکہ باقاعدہ ایک ”اعزاز“ سمجھ کر مُکر جانے کی جوعادت ہے ، اُس کے پیش نظر مجھے اُمید ہے وہ اپنی اس بات پر عمل کروانے میں شاید ہی کامیاب ہوسکے ہوں، .... میرا خیال تھا کہ ڈیڑھ دوبرسوں کے اقتدار میں غریبوں پر جو بیتی ہے ، بلکہ صرف غریبوں پر ہی کیا، ہر کلاس کے لوگوں پر جو بیتی ہے اُس کی تفصیلات سے اِس ملاقات میں اُنہیں ضرور آگاہ کروں گا، کیونکہ عموماً ہمارے حکمرانوں کے اردگرد جس قسم کے خوشامدی موجود رہتے ہیں وہ اُنہیں ”سب اچھا ہے “ کی رپورٹ ہی دیتے ہیں، .... میں نے اِس حوالے سے وزیراعظم سے جب بات شروع کی، وہ بیچ میں مجھے ٹوک کر بولے ” اچھا تم چپ کرو، تم نے مجھے غریبوں کی حالت بارے کیا بتانا ہے ، میں خود تمہیں بتاتا ہوں“ ....اُس کے بعد اُنہوں نے غریبوں کے ابتر حالات کے بارے میں ایک لمبی چوڑی تفصیل مجھے بتائی، جسے سننے کے دوران مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے وزیراعظم عمران خان خود بھی ایک غریب آدمی ہیں، یا کم ازکم کسی زمانے میں غریب رہے ضرور ہیں“ .... کہنے لگے” میں کوئی بے حس انسان نہیں ہوں، ایسا ہوتا تو کبھی شوکت خانم کینسر ہسپتال نہ بناتا، میں اپنے ملک کے لیے، خصوصاً اِس ملک کے کمزور ، بے بس اور مظلوم لوگوں کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں، یہ سب میں کوئی دوبارہ وزیراعظم بننے کے لیے نہیں کرنا چاہتا، یہ سب میں اِس لیے کرنا چاہتا ہوں اللہ نے مجھے جو موقع دیا ہے میں کچھ نہ کچھ ایسے لوگوں کے لیے کرکے جاﺅں، گزشتہ ڈیڑھ دوبرسوں میں، میں نے پاکستان کی معاشی حالت کو سنبھالا دینے کی ہرممکن کوشش کی، تمہاری یہ بات درست ہے میری معاشی ٹیم کسی حدتک میری اور قوم کی اُمیدوں پر پوری نہیں اُتری، پر یہ بھی نہیں ہوا کہ ہماری ہرکوشش ہی ناکام ہوگئی ہو، ہمیں کچھ کامیابیاں بھی ملیں، جن کی بنیاد پر میرا خیال تھا، بلکہ کسی حدتک مجھے یقین تھا 2020ءمیں ہم عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں میں کسی نہ کسی حدتک ضرور کامیاب ہوجائیں گے، جس کے نتیجے میں عوام کو ریلیف ملے گا، پر ہماری بدقسمتی 2020میں کورونا نے ہمیں جکڑ لیا، ہماری اس اچانک وباءسے نمٹنے کی تیاری نہیں تھی، ہم تو خیر کسی کھاتے میں نہیں آتے، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی بھی تیاری نہیں تھی، اب اس وباءکی نتیجے میں پوری دنیا کی معاشی حالت تبدیل ہوجائے گی، پوری دنیا میں بے روزگاری بڑھ جائے گی، ظاہر ہے پاکستان بھی اس کے اثرات سے بچ نہیں پائے گا۔ سو میں اپنے لوگوں کو جھوٹی تسلیاں دینے کے بجائے ذہنی طورپر انہیں تیار کرنا چاہتا ہوں کہ ان مسائل سے ہمیں مل جل کر نمٹنا ہے ۔ (جاری ہے )


ای پیپر