قوم قمرالزمان کائرہ کے ساتھ
23 May 2019 2019-05-23

اپنی اس قسم کی تحریر جو کسی کے پیارے کے وصال پہ بحالت مجبوری لکھنی پڑے کوئی آسان، اور خوش کن نہیں ہوتی، بلکہ اس سے ذہنی اذیت کی کیفیات سے جو گزرنا پڑتا ہے، وہ بعض اوقات ناقابل بیان بن جاتا ہے۔ قمرالزمان کائرہ صاحب کے جواں سال بیٹے اسامہ، اور ان کے دوست حمزہ بٹ کے حادثے کے نتیجے میں انتقال کی اچانک ، اور بے وقت رحلت کی خبر نہ صرف قمرالزمان کائرہ کے لیے بلکہ ہرپاکستانی کے لیے نہایت دُکھ ودرد والی بات تھی والدین اپنے بچوں کو جس نازونعم سے پالے، اور اپنی بساط واوقات کے مطابق دنیا بھر کی خوشیاں ڈھیر کرنے کے ساتھ ، اس کی تعلیم و تربیت بھی اپنے پیارے پیغمبر رسول کے فرمان کے مطابق دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ فرمان رسول اللہ ہے کہ والدین کی طرف سے اولاد کو بہترین تحفہ اچھی تعلیم و تربیت دینا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے، کہ وہ مومنوں کو آزماتا ہے، اور اس کا فرمان ہے کہ وہ جان ومال سے آزماتا ہے، لیکن ہمیں دعا مانگنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہرقسم کی آزمائش سے بچائے کیونکہ نہ ہم اس قابل ہیں اور نہ ہمارا ظرف ، قمرالزمان کائرہ کی مثبت ومنفی عادات وکردار سے قطع نظر، ان کی ایک ایسی خوبی ، کہ جو پاکستان کے اور سینکڑوں ہزاروں سیاستدانوں میں ناپید ہے، وہ یہ ہے، کہ عملی زندگی کے آغاز میں ہی انہوں نے جو سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اپنائی تھی، وہ انہوں نے کبھی نہیں چھوڑی، اور نہ تبدیل کی بلکہ ان کا یہ فرمان بھی قابل مثال وتعریف وتوصیف ہے، ان کا یہ کہنا کہ پارٹی بھی ماں کی طرح ہوتی ہے ، جو اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت کرتی ہے، اور میں تصور بھی نہیں کرسکتا، کہ وہ شخص اپنی ماں کو چھوڑ کر چلا جائے۔

اپنی ماں سے بھی بچوں کے اختلافات ہوجاتے ہیں، مگر شاذ وناذرہی کچھ ایسے ہوتے ہوں، جو اپنی ماں کو چھوڑکر چلے جائیں۔ مسلمان کو اس امرربی پہ سوفی صد یقین وایقان ہے کہ مرضی خدا کے بغیر نہ تو درخت کا کوئی پتہ گرتا ہے، اور نہ ہی ہلتا ہے، اب اسامہ قمر کی رحلت کے پیچھے کیا مصلحت خداوندی ہے اسے صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ کسی کی تعزیت کرنے، ڈھارس بندھانے ، تسلی دینے سے کسی کا غم تو کم نہیں ہوتا، تاہم بعض اوقات کسی کا اخلاص وصدق بھرا ایک جملہ، یا لفظ ہی مرہم بن جاتا ہے، کیونکہ پوری قوم کائرہ صاحب کے ساتھ شریک غم ہے۔

ابوالحسن خرقانی ؒ کا فرمان ہے کہ اپنے اندر وہ چیز پیدا کردے کہ تیری آنکھ سے پانی نکلے، کہ اللہ تعالیٰ چشم گریاں، رکھنے والے کو ”دوست“ رکھتا ہے۔ گو ایسے الفاظ لکھنے، اور کہنے کی حدتک ٹھیک اور درست ہیں، مگر خدانہ کرے کہ کسی مسلمان کو ، اس طرح جواں سال بچے کی آزمائش سے واسطہ پڑے، اگر قمرالزمان کائرہ صاحب کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کڑی آزمائش سے گزارا ہے، تو ہماری دعا ہے، کہ یہ واقعہ ذریعہ قرب خداوندی بن جائے انسانی زندگی تو دنیا میں ایک شمع کی مانند ہے۔ جو ہوا میں رکھی گئی ہوتی ہے اس حوالے سے حضرت علامہ محمد اقبالؒکا یہ شعر شاید مداوااندوہ بن جائے۔

تن بہ تقدیر ہے، آج ان کے عمل کا انداز

تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر!

دنیا داری کے بعد حضور کا یہ فرمان جو حضرت معاذؓ نے بیان فرمایا ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے حبیب کے بقول بچے کی وفات پر اس کو جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ بلکہ یہاں تک فرمایا گیا ہے ، کہ جس عورت کا کچا حمل گر جائے، اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے گی، یہ کچا بچہ بھی اپنی آنول میں لپیٹ کر اپنی ماں کو جنت میں لے جائے گا (احمد، طبرانی)

ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کی یارسول اللہ اگر کسی کا ایک بچہ فوت ہوجائے، آپ نے فرمایا اے نیک توفیق والی، ایک کا یہی حکم ہے، پھر حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا اگر کسی کا ایک بچہ بھی نہ ہو، فرمایا، اپنی امت کی جانب سے پھر بھی آگے جانے والوں میں ہوں ، میری امت کو میری موت سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں پہنچی۔ (ترمذی)

ایک صحابی ؓاپنے چھوٹے بچے سے بہت محبت کرتے تھے، سرکار نے اس سے دریافت فرمایا ، تجھ کو اس سے بہت محبت ہے؟ عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ سے بھی اتنی ہی محبت کرے، جتنی مجھے اس سے ہے۔ چند دن کے بعد آپ نے بچے کو اس کی گود میں نہ دیکھ کر فرمایا کیا تو اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے جس دروازے پہ بھی پہنچے ، تیرا بچہ تجھ کو دروازے پر استقبال کرتا ہوا ملے (حدیث مشکوٰة)

ویسے ایک بات میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں، کہ پیپلزپارٹی جتنی بڑی جماعت ہے، ہرکارکن کو خوش رکھنا ممکن تو نہیں، مگر زمانہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے طریقہ جماعت ایک ہی جیسا ہے، پیپلزپارٹی کے مقابلے میں کسی اور جماعت کے پاس ایسے جاں فروش جیالے ہیں ہی نہیں، اور اس کی وجہ محض یہی ہے کہ اکابرین، اور حکمران جماعت ہرایک کا خاص خیال رکھتے ہیں، اب قمرالزمان کائرہ کے اس دکھ ناگہانی اور افتادپہ آصف علی زرداری، بلاول زرداری، مرادعلی شاہ کے علاوہ کوئی بھی بڑا یا چھوٹا آدمی ایسا نہیں تھا، جو ان کے بیٹے اسامہ قمر کے جنازے میں شریک نہ ہوا ہو۔

آخر میں بزرگوں کا یہ قول شاید قمرالزمان کائرہ کے دکھ کو مندمل کرنے کے کام آسکے فرماتے ہیں ، کہ ”مشیت ایزدی“ یعنی خدا کی مرضی اور منشا سے جب انسان اختلاف کرتا ہے، تو پھر ”غم“ ہوتا ہے، لہٰذا جب مرضی خدا کے سامنے آدمی کچھ بھی نہیں کرسکتا، تو گردن جھکا کر تسلیم ورضا، پہ نواسہ رسول کی تقلید کا پیکر خلوص دردووفا بن کر اپنے درجات بڑھوالے، یہی عقلمندی بھی ہے، اور اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں۔ تو پھر حضرت اقبالؒ کے طریق سخن کو مانے بغیر نہیں بنتی، کہ

میں بندہ ناداں ہوں، مگر شکر ہے تیرا

رکھتا ہوں نہاں خانہ¿ لاہوت سے پیوند !

لاہوت اس درجے کو کہتے ہیں، جس میں ”فنا فی اللہ“ کا درجہ سالک حاصل کرلیتا ہے۔


ای پیپر