کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور!
23 May 2019 2019-05-23

کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو ساری زندگی بھلائے نہیں جاسکتے۔ اللہ کا شکر ہے جس نے دُکھ کے مقابلے میں صبر پیدا کیا اور یہ ایسا پھل ہے بڑے بڑے دکھوں کی شدت کچھ نہ کچھ کم بہرحال ضرور کردیتا ہے ، مگر کچھ دُکھ ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتے ہیں، کسی سانحے کے رونما ہونے کے بعد انسان کو صبر ضرور آجاتا ہے ، اس کے کچھ عرصے بعد اس کے معمولات زندگی بھی شروع ہو جاتے ہیں، بظاہر وہ یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوجاتاہے، یا ہم خود ہی یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اس کے دُکھ کی شدت کچھ کم ہوگئی ہے ۔ مگر اصل میں ایسے نہیں ہوتا، کچھ دُکھ انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں ۔خصوصاً اولاد کا دُکھ چاہے وہ کسی بھی حوالے سے ہوناقابل برداشت ہوتا ہے ، ....مجھے یاد ہے بہت سال پہلے میں اپنے ایک عزیز سے ملنے گیا، وہ میرے ساتھ اچھی خاصی گپیں لگارہا تھا۔ لطیفے سنارہا تھا، ہم کچھ یادیں تازہ کررہے تھے جو انتہائی مزیدار اور خوشگوار تھیں۔ کچھ ایسے واقعات بھی اس موقع پر ہمیں یاد آگئے ہمارا ہنس ہنس کر براحال ہوگیا۔ ....اچانک میرے اس عزیز کے موبائل فون کی گھنٹی بجی، میں نے محسوس کیا وہ سوگوار سا ہوگیا ہے ، وہ چند سیکنڈتک فون پر بات کرتا رہا، بس ہوں ہاں کری جارہا تھا، فون بند ہوا وہ رونے لگا۔ میں اُس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگیا، میں نے اس سے پوچھا کیا ہوا ہے ؟۔ اس نے اپنے بیٹے کا نام لیا، میں ڈرسا گیا، مجھے لگا شاید کوئی حادثہ ہوگیا ہے جس میں اس کا بیٹا زخمی ہوگیا ہے یا اس کی جان چلی گئی ہے ۔ میں نے اسے تسلی دی اور پوچھا بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے ؟ وہ بولا ”میرے بیٹے نے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں لیبر افسر کا امتحان دیا تھا۔ ابھی اس کا رزلٹ آیا ہے وہ کامیاب نہیں ہوسکا، یہ ایک باپ کے جذبات تھے جو محض اپنے بیٹے کے ایک امتحان میں ناکامی پر روپڑا تھا....مجھے جب اطلاع ملی پیپلزپارٹی کے عظیم رہنما قمرالزمان کائرہ کے صاحبزادے اسامہ قمر ایک حادثے کاشکار ہو گئے ہیں بے ساختہ مجھے مذکورہ بالا یہ واقعہ یاد آگیا میں سوچ رہا تھا ایک باپ اپنے ایک بیٹے کی ایک معمولی سے امتحان میں ناکامی پر اتنا افسردہ ہوگیا تھا تو جس کا لاڈلا بیٹا دنیا سے اچانک رخصت ہوگیا اس کی کیا حالت ہوگی ؟میں نے وہ منظر بھی دیکھا جب قمرالزمان کائرہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کررہے تھے، اس دوران وہاں موجودایک رپورٹر نے انہیں ان کے بیٹے کے حادثے کی خبرسنائی ان کے چہرے کا رنگ یکدم سفید ہوگیا۔ اطلاع دینے والے نے صرف یہی کہا تھا آپ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔ انہوں نے دوسرا سوال پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ کہیں آگے سے وہ خبر سننے کو نہ مل جائے جو کسی باپ کے لیے انتہائی قیامت خیز ہوتی ہے ۔ ایکسیڈنٹ کی خبر سنتے ہی انہوں نے ”تھینک یو“ کہا اور وہاں سے رخصت ہوگئے۔ پھر کچھ فاصلے پر کھڑے ہوکر وہ فون وغیرہ کرتے رہے۔ میں اس دوران مسلسل یہ دعا کررہا تھا کاش یہ خبر غلط ہو، کاش یہ بیٹا قمرالزمان کائرہ کا نہ ہو، مگر پھر میں نے سوچا اولاد کا دُکھ تو سانجھا ہوتا ہے ، بیٹا کسی کا بھی ہو اپنے بیٹوں جیسا ہی ہوتا ہے ، ....پھر پیپلزپارٹی کے ایک رہنما شاید فرحت اللہ بابر نے جس انداز میں انہیں گلے لگایا میں سمجھ گیا کائرہ صاحب کو یہ خبر مل گئی ہے کہ ان کا لاڈلابیٹا جسے وہ اپنا سیاسی جانشین سمجھتے تھے اور اس مقصد کے لیے اس کی تربیت اور تیاری بھی کروارہے تھے اب اس دنیا میں نہیں رہا، شاعر نے یہ شعر شاید ایسے ہی مواقعوں کے لیے کہا ہوگا ”جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے .... کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور “ ....جوان اولاد کا رخصت ہو جانا گویا قیامت ہی ہے ۔ اور جوان اولاد کا اچانک رخصت ہو جانا ”بدترین قیامتہے ۔میں جناب قمرالزمان کائرہ کے حوصلے کی داد دیتا ہوں، میں نے ٹیلی وژن پر کئی مناظر دیکھے وہ بڑی ہمت اور حوصلے کے ساتھ تعزیت کے لیے آنے والوں سے گلے ملتے رہے۔ ہاں ایک دومواقعوں

پر ضبط کے سارے پیمانے ٹوٹ گئے۔ فراز یاد آیا ”ضبط لازم ہے مگر دُکھ ہے قیامت کا فراز ....ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا “ ۔یہ رونا عمر بھر کا ہے ۔ میں نے کئی بار لکھا ”انتقال فرما جانے والے تو اپنے رب کے پاس چلے جاتے ہیں جو اپنے بندوں سے ماﺅں سے سترگنا بڑھ کر پیار کرتا ہے ۔ موت تو اصل میں لواحقین کی واقع ہوتی ہے ۔ موت قمرالزمان کائرہ کی واقع ہوئی ہے ۔ اسامہ قمر کی والدہ اور بہن بھائیوں کی ہوئی ہے ۔ اب جو زندگی وہ جئیں گے اسے کون زندگی کہے گا ؟.... جیسا کہ پہلے بھی میں نے عرض کیا اولاد کے دکھ سانجھے ہوتے ہیں۔ اسامہ قمر کے انتقال کا دکھ ایک ” قومی دکھ“ بن گیا، شاید ہی کوئی شخص ہوگاجس تک یہ اطلاع پہنچی ہو اور وہ سوگوار نہ ہوا ہو یا اشکبار نہ ہوا ہو، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوگی اس کے باوجود کہ کائرہ صاحب کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے جو کئی حوالوں سے بدنام ترین سیاسی جماعت ہے مگر گندگی کا ایک چھینٹا بھی کائرہ صاحب کے دامن پر آج تک ہم نے نہیں دیکھا، وہ ایک صاف ستھرے کردارکے حامل ایسے انسان ہیں جنہوں نے اپنے کسی بدترین مخالف کے لیے بھی کبھی بدتمیزی یا بدتہذیبی کا مظاہرہ نہیں کیا ، لوگ ان سے محبت کرتے ہیں، الیکشن میں ہارجیت ہوتی رہتی ہے ۔ الیکشن میں فراڈ اور دھاندلیاں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی الیکشن ایسا ہوگا جس میں اس ملک کی ”اصل قوتوں“ نے اپنا لُچ نہ تلا ہو۔ پاکستان کے الیکشن میں دھاندلیاں اگر بند ہو جائیں، عوام سدھر جائیں اور صاف ستھرے لوگوں کو منتخب کرنا شروع کردیں تو قمرالزمان کائرہ جیسے لوگوں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا پیپلزپارٹی کی تھوڑی بہت جو عزت آبرو بچی ہے اس کا ایک نمایاں کردار قمرالزمان کائرہ ہے ، ....میں ان سے کبھی نہیں ملا، میری ان سے کبھی بات نہیں ہوئی۔ مگر میں ان سے ملنا چاہتا ہوں، ان سے بات کرنا چاہتا ہوں، مگر فی الحال مجھ میں حوصلہ نہیں، مجھ میں یہ حوصلہ نہیں میں ان سے بڑی آسانی سے کہہ دوں ”صبر کریں“ ....میں فی الحال اس شعر جیسا کوئی منظر دیکھنے کی سکت نہیں رکھتا ....” کچھ ایسے مناظر بھی گزرتے ہیں نظر سے ....جب سوچنا پڑتا ہے خدا ہے کہ نہیں ہے “ ....


ای پیپر