Photo Credit INP

انتخابات وقت پر ہوں گے، ایک منٹ پہلے بھی استعفیٰ نہیں دوں گا:وزریراعظم
23 مئی 2018 (23:54)

اسلام آباد : وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دھرنوں کے حقائق سے پوری قوم کو آگاہ کرنا ہوگا، عمران خان کی سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل(ر) ظہیر الاسلام سے ملاقاتیں ہوئیں ،دھرنا تو پی ٹی آئی دے رہی تھی، لیفٹیننٹ جنرل(ر) ظہیر الاسلام بتا دیں کہ وہ دھرنے کے پیچھے تھے یا نہیں؟، فیصلے عوام پر چھوڑ دیں تا کہ حقیقت سامنے آجائے، ہمیں ماضی سے سبق لینا چاہیے تھا، اگلی حکومت کسی کی بھی آئے تحقیقات کرے۔

معاملات آئین کے تحت حل ہوتے ہیں،آئین طاقتور ہوتا ہے، آئین سے باہر جانے والا نقصان کرتا ہے،نواز شریف کا دھرنے کے دوران ایجنسی سربراہ کا پیغام کہ استعفیٰ دے دو یا ملک چھوڑ دو عدالت میں دیا جانے والا بیان ہے کوئی پریس بیان نہیں، نیب نے ملک کا نظام مفلوج کر دیا ہے،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہائپر ایکٹو ہیں، بہت اچھی بات ہے ،میں بھی صوبائی حکومتوں کے کام میں مداخلت کر سکتا ہوں، میں عدلیہ کے کام میں مداخلت شروع کر دوں تو پھر ؟،ہمیں اپنے کام سے تعلق رکھنا چاہیے، چیف جسٹس اگر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہسپتالوں کے کام میں مداخلت کرنی ہے، ملک میں عدالتیں کام نہیں کر رہیں، پہلے اپنی ذمہ داریوں پر کام کریں۔

اگر حکومت کے اہلکاروں کو عدالتوں میں گھنٹوں بٹھا کر ذلیل کیا جائے گا تو اس سے ملک میں خرابی پیدا ہورہی ہے، میں سیاستدان کے طور پر ذمہ داری پارلیمنٹ میں ادا کررہا ہوں، مجھے عدالت اور نیب میں بھی طلب کیا جا سکتا ہے مگر میں اس کےلئے تیار نہیں کہ عدالت میں بلا کر میری بے عزتی کی جائے، میری آرمی چیف سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں تا کہ ملک کے معاملات کو بہتر انداز میں چلایا جائے، چیئرمین نیب کوہٹانے میں 10سے15سال لگ جائیں گے،پاکستان کی جانب سے ممبئی حملوں پر سہولت فراہم کرنے کی بات غلط ہے، ہم نے اپنی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی،ایون فیلڈ اپارٹمنٹس نواز شریف کی ملکیت ہی نہیں ہیں۔

بدھ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف کا دھرنے کے دوران ایجنسی سربراہ کا بیان کہ استعفیٰ دے دو یا ملک چھوڑ دو عدالت میں دیا جانے والا بیان ہے، یہ کوئی پریس اسٹیٹمنٹ نہیں ہے، یہ بات قابل قبول نہیں ہے، ہم کہتے ہیں کہ مشاورت سے کمیشن بنا دیا جائے، جس میں تمام معاملات حل کئے جائیں، حقیقت عوام کے سامنے آنا ضروری ہے، دھرنے سے متعلق باتیں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں، جنرل ظہیرالاسلام ہی دھرنے سے متعلق سوال کا جواب دے سکتے ہیں، دھرنا تو پی ٹی آئی دے رہی تھی، جنرل ظہیر بتا دیں کہ وہ دھرنے کے پیچھے تھے یا نہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی لیفٹیننٹ جنرل(ر) ظہیر الاسلام سے ملاقاتیں ہوئیں، فیصلے عوام پر چھوڑ دیں تا کہ حقیقت سامنے آجائے، ہمیں ماضی سے سبق لینا چاہیے تھا، اگلی حکومت کسی کی بھی آئے تحقیقات کرے، معاملات آئین کے تحت حل ہوتے ہیں،آئین طاقتور ہوتا ہے، آئین سے باہر جانے والا نقصان کرتا ہے، نیب نے ملک کا نظام مفلوج کر دیا ہے، سپریم کورٹ عدلیہ اور نیب ایک ادارہ ہے، اگر وہ اپنے عمل سے ملک کا نقصان کررہے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ ہم نقصان سے بچیں، ہر ادارے کو آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے، عدلیہ اور نیب جو کر رہی ہے اس سے ملک کا نقصان ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہائپر ایکٹو ہیں، بہت اچھی بات ہے ،میں بھی صوبائی حکومتوں کے کام میں مداخلت کر سکتا ہوں، میں عدلیہ کے کام میں مداخلت شروع کر دوں تو پھر ؟،ہمیں اپنے کام سے تعلق رکھنا چاہیے، چیف جسٹس اگر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہسپتالوں کے کام میں مداخلت کرنی ہے، ملک میں عدالتیں کام نہیں کر رہیں، پہلے اپنی ذمہ داریوں پر کام کریں، اگر حکومت کے اہلکاروں کو عدالتوں میں گھنٹوں بٹھا کر ذلیل کیا جائے گا تو اس سے ملک میں خرابی پیدا ہورہی ہے، میں سیاستدان کے طور پر ذمہ داری پارلیمنٹ میں ادا کررہا ہوں، مجھے عدالت اور نیب میں بھی طلب کیا جا سکتا ہے مگر میں اس کےلئے تیار نہیں کہ عدالت میں بلا کر میری بے عزتی کی جائے،یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے عمل سے فائدہ ہو گا یا نقصان۔

وزیراعظم نے کہا کہ میری آرمی چیف سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں تا کہ ملک کے معاملات کو بہتر انداز میں چلایا جائے، میں نے کام آئین کے مطابق کرنا ہے، پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے جبکہ آرمی چیف نے سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے، ملک کی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے، ہر ایک نے اپنا کردار ادا کرنا ہے، ہر کسی کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے مگر بات ملک کے مفاد کی ہوتی ہے، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ڈان نیوز کے آرٹیکل پر بات ہوئی، اس کے بارے میں پریس ریلیز جاری کیا گیا، پاکستان کی جانب سے ممبئی حملوں پر سہولت فراہم کرنے کی بات غلط ہے، نواز شریف اس بات پر قائم ہیں کہ ہم نے اپنی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی، ہمارے میڈیا نے بغیر سوچے سمجھے ہندوستان کے میڈیا کا پروپیگنڈا پھیلانا شروع کر دیا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس فوج نے نہیں بلایا،پارٹی اجلاس میں کہا گیا کہ نواز شریف کے انٹرویو سے جو تاثر پیدا ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، پانامہ کیس سیاسی کیس ہے، نیب میں آج تک کسی کیس میں 2مرتبہ پیشی نہیں ہوئی، ایون فیلڈ سے متعلق نواز شریف اور ان کے وکیل بیان دے رہے ہیں، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس نواز شریف کی ملکیت ہی نہیں ہیں، نگران وزیراعظم کے لئے نام پر مشاورت میں اور خورشید شاہ کریں گے، اگر نام فائنل نہ ہوئے تو بات پارلیمانی کمیٹی میں جائے گی اور اس کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس معاملہ جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے، میں ایک منٹ پہلے بھی استعفیٰ نہیں دوں گا، فاٹا انضمام کےلئے کوششیں جاری ہیں، جو پارٹی چھوڑ کر جانا چاہتا ہے جائے، میں نے کسی کو پارٹیاں بدلنے سے عزت کماتے ہوئے نہیں دیکھا، ہماری پارٹی کے پاس ہر حلقے میں مضبوط امیدوار موجود ہیں۔


ای پیپر