’’را‘‘ اور ’’آئی ایس آئی‘‘ ۔۔۔مشترکہ تصنیف
23 مئی 2018 2018-05-23

یہ نواز شریف نہیں۔۔۔ آئی ایس آئی کا سابق چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی ہے۔۔۔ جس نے بھارت کی پاکستان دشمن انٹیلی جنس ایجنسی ’ را ‘ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دالت کے ساتھ مل کر SPY CHRONICLES RAW, ISI AND ILLUSIAN OF PEACE کے عنوان سے کتاب لکھی ہے۔ اس میں ہمارے شیر بہادر نے انکشاف کیا ہے کہ ہم (پاکستان) نے کشمیریوں کی مسلح جدوجہد کو سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرنے کی خاطر آل پارٹیز حریت کانفرنس بنوائی جو اچھا اقدام تھا۔۔۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی قبضے کے خلاف جنگ جاری ہے پاکستان اس کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔۔۔ یہ الزام بھارت پورے تسلسل سے لگاتا رہا ہے۔۔۔ ہمیں بدنام کرتا رہا ہے۔۔۔ کشمیر میں دہشت گردی کا مددگار بتاتا رہا ہے۔۔۔ ہم اس کی سختی کے ساتھ تردید کرتے رہے ہیں۔۔۔ مگر اب ہماری سب سے بڑی جاسوسی تنظیم کے ایک ریٹائرڈ سربراہ نے اس کی تصدیق کر کے بھارت کے مقدمے کو مضبوط تر بنا دیا ہے۔۔۔ مگر اس سے پاکستان کے مقتدر حلقوں میں کسی کے کان پر جوں رینگی ہے نہ فوری طور پر قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔۔۔ نہ ہی کسی نے اسے غدار ٹھہراتے ہوئے آئین کی دفعہ 6 کے تحت بغاوت کا مقدمہ دائر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔ اس لیے کہ وہ پاکستان کی بادشاہ قوم کا اہم فرد رہا ہے۔۔۔ عوام کی جانب سے تین مرتبہ منتخب ہونے والا وزیراعظم اور بڑی سرکار کی نظروں میں معتوب سویلین لیڈر نہیں جس نے 12 مئی کو ایک پاکستانی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ جملہ کہہ دیا ہم نے غیر ریاستی عناصر کو ممبئی جا کر 150 افراد کو قتل کرنے کی اجازت کیوں دی۔۔۔ ابھی تک مقدمے کی کارروائی مکمل نہیں ہو پائی۔۔۔ اس پر وہ طوفان کھڑا کر دیا گیا کہ ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا صرف قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر اس کی مذمت نہیں کی گئی۔۔۔ بلکہ بڑے بڑے ٹیلی ویژن چینلوں کو کہیں سے حکم صادر ہوا کہ پروگراموں میں نواز شریف کو خوب خوب رگیدا جائے اس کے حق میں کوئی بات نہ کی جائے۔۔۔ سبحان اللہ اگر ملک کے عوام کی جانب سے تین مرتبہ وزارت کا مستحق قرار دیے جانے والا سابق وزیراعظم 2008ء کے ممبئی حملوں کے بارے ایک بات کہہ دے تو گردن زدنی اس کے مقابلے میں ’’گھر‘‘ کا بیدی لنکا ڈھانے پر اتر آئے اور آزادئ کشمیر کی پوری کی پوری جدوجہد کو داغدار کر کے رکھ دے تو ملک ہمارے ایوان ہائے اقتدار میں زلزلہ تو دور کی بات ہے ابھی تک ارتعاش بھی نہیں محسوس کیا گیا۔۔۔ نواز شریف نے تو ایک پاکستانی اخبار کو انٹرویو دیا مگر لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے بھارتی ویزا کے لیے درخواست دے رکھی ہے جہاں پہنچ کر وہ اپنے ہم نفس اے جے دالت کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر تصنیف کردہ کتاب کی تقریب رونمائی میں حصہ لیں گے اور بڑے فخر و تمکنت کے ساتھ کتاب میں ظاہر کردہ خیالات پر مہر تصدیق ثبت کریں گے۔

کتاب کے حوالے سے معروف بھارتی چینل کی NDTV کے ایک پروگرام میں جس میں جنرل (ر) اسد درانی نے بھی سکائپ کے ذریعے حصہ لیا (پاکستانی میڈیا کے ساتھ بات کرنے کے لیے موصوف ابھی تک احتراز فرما رہے ہیں) ’’ را ‘‘ کے سابق چیف اے جے دالت نے اپنی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو نئی دہلی آنے کی دعوت دے۔۔۔ ان کا شاندار (RED CARPET) استقبال کیا جائے۔۔۔ ان کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان قیام امن کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔۔۔ کیونکہ امر جیت سنگھ دالت کے جو ’ را ‘ کی سربراہی کے علاوہ سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے مشیر کی خدمات بھی سرانجام دے چکے ہیں نزدیک پاکستان کی ایسی مقتدر شخصیت کے ساتھ تبادلہ خیال ہی پائیدار امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔۔۔ اگر بھارتی حکومت نے اپنے سابق جاسوس اعظم کا مشورہ مان کر ہمارے آرمی چیف کو نئی دہلی

آنے کی دعوت دے دی تو کیا جنرل قمر جاوید باجوہ اسے تسلیم کر لیں گے۔۔۔ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم نظر آتا ہے۔۔۔ عام انتخابات سر پر کھڑے ہیں۔۔۔ نواز شریف کے بیان کی وجہ سے ایک بڑا تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔۔۔ ظاہر ہے جنرل باوجوہ کو اگر دورے کی دعوت مل بھی گئی تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے نہ امکاناً اندرونی حلقوں کی جانب سے انہیں ایسا کوئی مشورہ دیا جائے گا۔۔۔ ان کا مقام اور حب الوطنی بھی متقاضی ہے کہ بھارت جانے سے گریز کریں۔۔۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ امر جیت سنگھ دالت نے جنرل باجوہ کو دہلی بلانے کی بات بہت سوچ سمجھ کر کی ہے۔۔۔ کچھ عجب نہیں انہیں ایسا کہنے میں اسے بھارتی حکومت کی اشیر باد بھی حاصل ہو۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی دہلی کے مقتدر حلقوں کے اندر یہ خیال راسخ ہو چکا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اگر کوئی معاملات طے کرنے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ وہاں کی فوجی قیادت کے ساتھ براہ راست رابطہ ہے اسی کے ساتھ مفاہمت کی ایسی صورت نکل سکتی ہے جس پر عمل بھی ہو پائے۔۔۔ ورنہ سول وزرائے اعظم اس ضمن میں کوئی بھی پہل قدمی (Initiative) کریں ان کی ایک نہیں چلنے دی جاتی۔۔۔ گزشتہ ساٹھ پینسٹھ سال کے تاریخ کے کئی واقعات اس کے گواہ ہیں۔۔۔1960-61ء میں بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ ہوا۔۔۔ بھارت کی جانب سے دستخط کرنے کے لیے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو آئے۔۔۔ ہماری جانب سے پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب نے یہ فریضہ سر انجام دیا۔۔۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ معاہدے کو آخری شکل دینے کی خاطر مذاکرات کے دوران جب ہمارے جنرل ایوب نے ایک دو کڑی شرائط پر اصرار کیا تو غالباً ورلڈ بینک کی جانب سے انہیں باور کرایا گیا وہ پاکستان کے طاقت ور حکمران ہیں۔۔۔ کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔۔۔ جبکہ پنڈت نہرو کو ایک ایک بات پر اپنی پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔۔۔ چنانچہ معاہدہ طے پا گیا۔۔۔ آج تک چلا آ رہا ہے۔۔۔ بھارت اس میں طے شددہ شرائط کو بھی توڑ مروڑ کر کشن گنگا اور ریتلے پراجیکٹ بنا رہا ہے۔۔۔ تا کہ پاکستان کے حصے کے جائز ترین پانی کو بھی روک دیا جائے۔۔۔ ہم نے ایک مرتبہ پھر ورلڈ بینک کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔۔۔ تازہ ترین خبر کے مطابق وہاں سے اعلامیہ جاری ہو گیا ہے اور پاکستان کو ٹکا سا جواب مل گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے اس معاہدے کی وجہ سے اگلے بیس تیس سالوں میں پاکستان کی زمین بنجر ہو جائیں گی اور ہم سوکھے کا شکار ہو جائے گے۔۔۔ ایوب خان نے اپنی خود نوشست ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ میں لکھا ہے انہوں نے معاہدے کو آخری شکل دینے سے قبل لاہور کے گورنر ہاؤس میں ملک کے بڑے آبپاشی انجینئروں کے ساتھ مشاورت کی۔۔۔ سب نے مخالفت کی اور کہا اس کے منفی نتائج بھگتنا پڑیں گے۔۔۔ لیکن وہ کسی کی بات کو خاطر میں نہ لائے۔۔۔ واقعہ یہ ہے اگر چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ایوب خان کی جگہ پاکستان کا کوئی سویلین یا منتخب وزیراعظم بھارت کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ کر بیٹھتا تو اس کی لاش بھی اس جرم کی پاداش میں کہ ہمارے تین دریا بچپن لاکھ پونڈ کے عوض بھارت کو بیچ دیے اور چناب و جہلم کا پانی بھی روکا جا رہا ہے جبکہ ملک پانی کے زبردست بحران کی زد میں آنے والا ہے۔۔۔ قبر سے نکال کر لٹا دی جاتی۔۔۔ یہ جرأت بھی صرف چوتھے آمر مطلق جنرل پرویز مشرف کو ہوئی تھی کہ بھارت کو برملا پیش کش کرے کہ پاکستان تنازع کشمیر پر سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے آؤٹ آف بکس حل ڈھونڈ لیتے ہیں۔۔۔ وہ تو عدلیہ تحریک نے آن لیا ورنہ جنرل مشرف کشمیری عوام کا مستقبل ان کی مرضی کے بغیر طے کرنے کی راہ پر چل نکلے تھے۔۔۔ کیا کوئی منتخب وزیراعظم اتنا کہنے کی بھی جرأت کر سکتا تھا۔۔۔

پاکستان میں جب جب جمہوریت کو ختم کیا گیا ہے آئین کو دبوچ کر رکھ دیا گیا اور ملک کا اقتدار غیر منتخب قوتوں کے پاس چلا گیا۔۔۔ بھارت نے اس صورت حال کا بہت فائدہ اٹھایا۔۔۔ مشرقی پاکستان کا سانحہ دوسرے مارشل لاء کے دوران ہوا۔۔۔ نریندر مودی نے ابھی دو سال پہلے ڈھاکہ پہنچ کر ہمارے سینوں پر مونگ دلنے کی کوشش کی کہ ہم (بھارت) نے مکتی باہنی بنائی تھی۔۔۔ بنگلہ دیش کو ’آزاد ‘کرایا تھا۔۔۔ سیاچین کی برفانی لیکن سٹرٹیجک اہمیت رکھنے والی چوٹیاں جنرل ضیاء الحق کے عہد میں ہم سے چھین لی گئیں۔۔۔ جناب جنرل کی جانب سے خفت بھرے لہجے میں کہا گیا وہاں گھاس بھی نہیں اُگتی۔۔۔ سلامتی کونسل کی کشمیری عوام کو حق رائے دہی کی ضمانت دینے والی قرار دادیں اب تک بھارت کے گلے میں ایسی پھنسی ہوئی ہیں جیسے سانپ کے منہ میں چھچھوندر مگر جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا جنرل مشرف ان قرار دادوں کا تیاپانچا کرنے پر تیار تھے۔۔۔ اس کے برعکس سول اور منتخب حکومتوں کے ادوار میں آزاد کشمیر حاصل کیا گیا۔۔۔ گوادر کی بندرگاہ جس پر آج فخر کرتے پھولے نہیں سماتے وزیراعظم فیروز خان نون کی مساعی کی بدولت ہمارے جغرافیے کا حصہ بنی اور اسے چار چاند لگا گئی۔۔۔1971ء کی شکست کے بعد ایٹمی پروگرام کا آغاز وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں ہوا۔۔۔ 1998ء میں وزیراعظم نواز شریف کا بھی ’اندرونی‘ مشوروں کے برعکس جرأت مندانہ فیصلہ تھا جس نے ہمارے ایٹمی قوت ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔۔۔ گویا جب جب بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں مشکل سامنا کرنا پڑا ہے وہ سویلین عہد ہے مزید براں جب بھی کسی پاکستانی وزیراعظم نے پہل قدمی کی کوئی نہ کوئی واقعہ ہو گیا۔۔۔ اسی تناظر میں بھارتی حکمرانوں کے اندر ان کے مفادات کے تحت یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ پاکستان کے اصل حکمرانوں کے ساتھ معاملات طے کیے جائیں تو چنداں تعجب کی بات نہیں۔ تاہم قوم کو اپنی عظیم اور بہادر فوج کے سپہ سالار سے پوری توقع ہے وہ بھارت کو مایوس کریں گے۔۔۔ پاکستان کے اصولی اور جائز ترین مؤقف پر ڈٹے رہیں گے۔۔۔ ایک دن حق کا بول بالا ہو گا۔


ای پیپر