فرسٹ ہنڈرڈ ڈیز
23 مئی 2018

اس ناہنجاریو این ڈی پی کے خلاف ضرور تادیبی کارروائی ہونی چاہیے۔آؤ دیکھا نہ تاؤ اوررپورٹ جاری کر دی۔وہ بھی ایسی کہ تبدیلی نقیب صوبے کی ہیومن ڈویلپمنٹ میں پہلے نہ دوسرے بلکہ تیسرے نمبر پر ڈال دیا۔ اس سے بڑی گستاخی فی زمانہ تو ممکن ہی نہیں۔اس گستاخی کی شدت میں اضافہ اور بھی ہوجاتا ہے۔جب قائد انقلاب اپنی حکومت کے پہلے سو دن کے اہداف کا اعلان کرنے والے تھے۔ اقوام متحدہ کے اس ادارے نے ذرا بھر بھی لحاظ نہ کیا۔ قائد محترم کو فوری طور پر اعلان کرنا چاہیے کہ وہ بر سر اقتدار آتے ہی اقوام متحدہ میں بھی اصلاحات لائیں گے اور یو این ڈی پی ایسے گستاخ اداروں کو ان کی اوقات یاد دلائیں گے۔لگے ہاتھوں موڈیز سمیت ان تمام تجزیاتی ایجنسیوں کو بھی جو خواہ مخواہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی پالیسیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر تے ہیں۔ ان اداروں کو چاہیے کہ وہ فیس بک،انسٹا گرام،ٹوئیٹر اور دیگر سوشل میڈیا سائیٹس کو فالو کریں۔جہاں کے پی کے کے تمام اضلاع اوسلو،سٹاک ہوم اور برسلز کے ہم پلا نظر آتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی مستقبل کی حکومت کے اہداف اقتدار کی جانب تیزی سے بڑھتی جماعت کا منشور اور یو این ڈی پی کی رپورٹ ایک ہی روز منظر عام پر آئیں۔ جس روز یو این ڈی پی کی رپورٹ شائع ہو کر سارا دن ٹکروں کی شکل میں سکرینوں پر چھائی رہی اسی روز شام کو قائد تبدیلی نے فائیو سٹار ہوٹل میں فرسٹ ہنڈرڈڈیز پروگرام کا اعلان کیا۔ اس موقع پر مستقبل کی شیڈو کا بینہ کی بھی پہلی جھلک نظر آئی۔ جن پانچ افراد نے تقاریر کیں وہ یقینی طور پر فیوچر میں ان محکموں کے متعلقہ وزیر ہوں گے۔ان خطاب کرنے والوں میں صدا بہار وزیر جناب شاہ محمود قریشی،ماہر زراعت جہانگیر ترین،اینگرو کمپنی کو تاریخ کے سب سے بڑے معاشی خسارے سے دو چار کر کے شہرت دوام حاصل کرنے والے جناب اسد عمر،وفاقی اور خارجہ اموار کی ماہر محترمہ شیریں مزاری شامل تھے۔ سمجھ لیں کہ یہ وزارتیں تو پکی۔باقی امیدوا ربچے کھچے محکموں کا انتخاب کرلیں۔وزارتوں پر اتفاق نہ ہوا تو پھر پرچیاں ڈال لیں۔انقلابی حکومت میں ویسے بھی وزارتیں بہت کم ہونگی۔ کیونکہ قائد اپنا وژن دے چکے ہیں۔ہاں آئیڈیل صوبے کے مثالی ایڈمنسٹریٹر جناب پرویز خٹک کا نام نامی قلمکا ر بھول گیا۔وہ بھی یقینی طور پر فتح یاب ہو کر اگلے پانچ سال بھی صوبے کی خدمت کو ترجیح دینگے، اسد قیصرشاہ فرمان تلملاتے رہیں۔ الگ گروپ بنانے کیلئے پس پردہ میٹنگ جاری رکھیں۔ ہو گا وہی جو قائد چاہے گا۔ یعنی دلہن وہی ہو گی جس کو بنی گالہ سے اشارہ ہو گا۔ وزارت اعلیٰ سے یاد آیا کہ ہنڈرڈ ڈیز انقلابی پروگرام کے اعلان کے بعد مستقبل کے وزرائے اعلیٰ وزرا کے مابین کھلبلی مچ گئی۔ امیدوار وں کو محسوس ہوا کہ سگنل واضح ہے۔ بس اب
اقتدار دو چار ہاتھ ہی دور رہ گیا ہے۔لہٰذا میٹنگ ختم ہوتے ہی صلاح و مشورہ کیلئے کونے کھدرے تلاش کر لیے۔ پرویز خٹک نے تو صاف کہہ دیا کہ ابھی صوبے میں ایک ارب درخت لگانے کا کام جاری ہے۔بس چند لاکھ درخت مزید لگانے ہیں۔ساڑھے تین سو ڈیموں کی گنتی جاری ہے۔ باقی ماندہ کی کھدائی جاری ہے۔جو بن گئے ان میں پانی چھوڑنا ہے۔ جو ویسے ہی کم ہے۔ابھی پشاور میٹرو کو مکمل کرنا ہے۔ لہٰذا وزارت اعلیٰ کیلئے ان کے سوا کوئی چوائس نہیں۔سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے۔ اصل مزہ تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا ہے۔لہٰذا سب سے بڑے صوبے کی وزارت اعلیٰ کے تین امیدوار اسی شام وی آئی پی سیکٹر کے فائیو سٹار اپارٹمنٹ میں اکٹھے ہوئے۔ایک دوسرے کو قائل کرنے کے لئے۔ اپنے حق میں دست برداری کیلئے تینوں نے اپنا مقدمہ پیش کیا۔مزیداری کی بات ہے ان تین میں سے دو کبھی پنجاب اسمبلی کے ہال تک نہیں پہنچے۔بات ابھی جھگڑے تک نہیں پہنچی تھی کہ درمیان میں بیٹھے ثالث نے یاد کرایا بھائیو لڑتے کیوں ہو۔ابھی کچھ دیر پہلے تو منشور میں پنجاب کے دو ٹکڑے کرنے کا اعلان ہوا ہے۔ سو دن کی وزارت اعلیٰ کیلئے کیوں جھگڑتے ہو۔راوی بتاتا ہے کہ فوری طور پر تقسیم پر دو وزرائے اعلیٰ کی گنجائش نکلتے ہی محفل میں کچھ دیر کیلئے افہام وتفہیم کی فضا پیدا ہو ئی۔ اچانک تیسرے لیڈر نے شو ر مچایا کہ پھر میرا کیا بنے گا۔کیا فیصلہ ہوا راوی نے باقی بات نہیں بتائی۔ پی ٹی آئی کا پہلے سو دن کا پروگرام حقیقی معنوں میں انقلابی ہے۔ عمل در آمد کیسے ہو گا حسن ظن رکھنا چاہیے۔ یقینی طور پر کپتان کے پاس کوئی فارمولا ہو گا۔آخر کار اس نے 1992ء کا ورلڈ کپ بھی تو جیت کر دکھایا تھا۔ سوری بھول گیا۔ شوکت خانم ہسپتال بھی تو ایسے ہی بنا تھا۔ اتنے مشکل کام ہو سکتے ہیں تو باقی تو آسان کام ہیں۔ کپتان نے فارمولا دیدیا ہے۔فرماتے ہیں کہ موٹر وے،میٹرو،اورینج ٹرین بنانا کونسا مشکل کام ہے۔قوم بن جائے تو باقی کام خود بخود ہو جاتے ہیں۔ کپتان کی تقریر بھی سنی اور پھر تقریر کا ٹیکسٹ بھی بغور پڑھا۔پہلے سو دنوں میں قوم بنانے کا کوئی فارمولا درج نہ تھا۔ یقینی طور پر قوم سازی کا پروگرام خفیہ رکھا گیا ہو گا۔ کپتان کے ڈرسے ہنڈرڈ ڈیز کے پہلے نکتہ پر عمل در آمد شروع ہو چکا ہے۔ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ ہو گیا۔ حکومت نے کپتان آئیڈیا چوری کیااور کریڈٹ خود لے گئی۔ایسی بھی کیا جلدی۔اتنی بڑی دھوکے بازی آئیڈیا کس کا اور کریڈٹ کوئی اور لے گیا۔
100 دن کے اندر پنجاب صوبہ بنے گا۔ صوبے، مرکز اور سینیٹ سے قانون سازی کرنی ہوگی۔ 50 لاکھ گھر بنیں گے۔ ایک کروڑ اسامیاں پیدا کی جائیں گی۔ میرٹ کا دوردورہ ہو گا۔ ایسے اقدامات کو کون خوش آمدید نہیں کہے گا۔ وہ تو براہو یو این ڈی پی کا جس نے سارا مزہ کر کر اکر دیا۔ جس نے رپورٹ شائع کر دی۔ رپورٹ کہتی ہے کہ خیبر پختونخوا ہیومن ڈویلپمنٹ کے معاملہ میں جنوبی پنجاب سے بھی بہت پیچھے ہے۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ پنجاب ترقی میں دیگر صوبوں سے آگے ہے۔ پنجاب کا انفراسٹر کچر بالخصوص ذرائع نقل و عمل باقی صوبوں کے بر عکس مثالی ہیں۔ صحت عامہ کی سہولتوں کے لحاظ سے بھی پنجاب کی صورت حال بہت بہتر ہے۔سار ے پاکستا ن میں چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں سماجی ترقی کی رفتار مثالی ہے۔ان چھ اضلاع میں سے چار اضلاع پنجاب کے ہیں۔خیبر پختونخوا کا کوئی ضلع شامل نہیں۔جو یو این ڈی پی کی رپورٹ شائع ہو چکی،دہرا کر وقت اور سپیس ضائع نہیں کرناچاہتا۔ گیلپ کا سروے بھی عجیب کہانی سناتا ہے۔سروے بتاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے تقریباً آٹھ فیصد۔ پی ٹی آئی کے ووٹ بینک میں بھی تیزی آئی ہے۔لیکن وہ اب بھی مسلم لیگ (ن) سے بہت پیچھے ہے۔ سو دن کے ٹارگٹ، یو این ڈی پی رپورٹ اور گیلپ سروے ساتھ ساتھ آئے۔پڑھنے میں اتنی مصروفیت رہی کہ کسی سے نہ پوچھ سکا کہ 100 دن کا ٹارگٹ دینے والوں نے گزرے 1825 دن کا کوئی حساب کتاب دیا یا نہیں۔


ای پیپر