تبدیلی کی ہوا !
23 مئی 2018 2018-05-23

اس وقت پاکستان میں سیاسی تبدیلی کی ہوا زور و شور سے چل رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں زبردست اتھل پتھل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ نواز شریف ذہنی طور پر شکست تسلیم کر کے اب حزب مخالف کا لب و لہجہ اختیار کر چکے ہیں جبکہ عمران خان کو یقین ہو چلا ہے کہ اس ملک کے اگلے حکمران وہی ہوں گے اس لئے ان کی بدن بولی اور لب و لہجہ اب حکمرانوں جیسا ہو گیا ہے۔ ان کو عام انتخابات کی رسمی کارروائی کا انتظار ہے تا کہ ان کی باضابطہ حکمرانی کا اعلان ہو سکے۔
اور آخر ان کو اپنی کامیابی کا یقین کیوں نہ ہو کیونکہ تمام سیاسی حرکیات ، عوامل اور سیاسی نقل و حمل اس جانب واضح اشارے کر رہے ہیں۔ وہ تگڑے با اثر طاقتور اور انتخابات جیتنے کے تمام لازمی اجزاء اور بنیادی لوازمات رکھنے والے امیدوار جن کو وہ کبھی بڑی حسرت سے مسلم لیگ (ن) سے مسلم لیگ (ق) پھر پیپلز پارٹی اور پھر دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں جاتا دیکھتے تھے، اب ان کی دہلیز پر سرجھکائے کھڑے ہیں۔ تحریک انصاف پنجاب کی روایتی سیاسی اشرافیہ کی پسندیدہ سیاسی جماعت بن چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے آزاد امیدوار اور روایتی سیاستدان جس تیز رفتاری سے تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں اگر یہ سلسلہ عام انتخابات تک یونہی جاری رہا تو تحریک انصاف والے نظریاتی کارکن اور پرانے رہنما سرچ لائٹوں کے ساتھ پارلیمانی پارٹی میں تحریک انصاف کو ڈھونڈیں گے۔ اگر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے تمام انتخابی پرندے جیت گئے تو تحریک انصاف کی نشستوں پر ایوانوں میں مسلم لیگ (ن) مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے روایتی سیاستدان ہی براجمان ملیں گے۔
اگر تحریک انصاف ان تمام روایتی سیاستدانوں اور اشرافیہ کے ساتھ اقتدار میں آئی اور عمران خان وزیر اعظم بن گئے تو مجھ جیسے سیاست اور تاریخ کے ادنیٰ طالب علم کے لئے سب سے زیادہ دلچسپی اس بات میں ہو گی کہ عمران خان سٹیٹس کو کی بڑی علامتوں اور تھانے کچہری کی سیاست کرنے والے روایتی سیاستدانوں کی مدد سے وہ پنجاب پولیس میں تبدیلی کیسے لائیں گے۔ موجودہ نظام کے محافظوں کی مدد سے وہ کیسے اس نظام میں تبدیلی لائیں گے۔
اگر بغور جائزہ لیا جائے تو تحریک انصاف کے پاس نہ تو سماجی و معاشی تبدیلی کا پروگرام ہے اور نہ ہی وہ اجزائے ترکیبی ہیں جو کہ اس قسم کی تبدیلی کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ اکتوبر 2011ء کے بعد تحریک انصاف نے طویل عرصے سے سوئی ہوئی شہری درمیانے طبقے کی اوپری پرتوں کو جگایا تھا، انہیں سیاسی خواب دکھا کر متحرک کیا تھا۔ 2013ء کے عام انتخابات میں لاہور ، کراچی اور اسلام آباد کے پوش علاقوں سے تحریک انصاف کو بہت زیادہ ووٹ ملے تھے۔ اس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ تحریک انصاف پنجاب کی روایتی دیہی اشرافیہ کے مقابلے میں شہری اور دیہی درمیانے طبقے کی نئی سیاسی قیادت کو ابھارے گی۔ تحریک انصاف درمیانے طبقے کی سیاسی خواہشات ، امنگوں اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اشرافیہ کے سیاسی غلبے کو توڑے گی مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ 2013ء کے عام انتخابات سے پہلے عمران خان جس سیاسی اشرافیہ کو شکست دینے کا اعلان کرتے تھے۔ 2014ء کے 126 دن پر محیط دھرنے کے دوران عمران خان جن کو روزانہ چور ، ڈاکو ، بدمعاشی اور غنڈے کہہ کر مخاطب کرتے تھے اب ان کی جماعت میں جمع ہو چکے ہیں اور عمران خان کی قیادت میں اپنے ہی خلاف تبدیلی برپا کرنے کے لئے بے چین ہیں۔
پاکستانی سیاست کو تبدیل کرنے کی دعویدار سیاسی جماعت اب خود اتنی تبدیل ہو چکی ہے کہ پرانے سیاسی کارکنوں کو اسے پہچاننے میں دقت پیش آئے گی۔ تحریک انصاف اب ویسی ہی ایک روایتی سیاسی پارٹی بن چکی ہے جیسی کہ دیگر روایتی سیاسی جماعتیں ہیں۔
وہی طاقتور امیدواروں اور گھرانوں کی روایتی سیاست ، سرمایہ داروں ، جاگیرداروں اور قبائلی سرداروں کی روایتی سیاست ، دولت اور سرمائے کے غلبے والی سیاست۔ محنت کشوں ، ہاریوں ، چھوٹے کسانوں اور غریب عوام کے استحصال اور ان کو غلام بنا کر رکھنے کی سیاست۔ موجودہ استحصالی، جابرانہ اور فرسودہ نظام اور ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی سیاست۔
پاکستان کی روایتی سیاسی اشرافیہ کو ملکی پالیسیوں ، سیاسی جماعتوں کے پروگرام اور منشور سے خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ ان کی دلچسپی تو اپنے ضلع اور حلقے میں اپنی بالا دستی قائم رکھنے میں ہوتی ہے ۔ ان کی دلچسپی کا سامان تو سرکاری گاڑی ، سرکاری وسائل اور حکومتی عہدے ہی ہوتے ہیں۔ اگر عمران خان کو وزیر اعظم بنانا ہی سیاسی تبدیلی کی معراج ہے تو وہ شاید اگلے انتخابات کے بعد حاصل ہو جائے اور عمران خان وزیر اعظم بن جائیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کے وزیر اعظم بننے سے عام لوگوں کے حالات بدل جائیں گے۔ کیا پاکستان کے بنیادی معاشی و سماجی ڈھانچے کو تبدیل کئے بغیر محنت کشوں ، ہاریوں ، کھیت مزدوروں، چھوٹے تاجروں ، کاروباری افراد ، پنشنروں اور غریب عوام کے حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔ عمران خان نے اب تک جو 11 نکات اور پہلے 100 سو دن کا پروگرام پیش کیا ہے وہ اس حوالے سے مکمل طور پر خاموش ہے۔ وہ بنیادی اصلاحات اور تبدیلیوں کی بات ہی نہیں کر رہے۔ وہ جاگیرداری اور قبائلی نظام کے خاتمے اور زرعی اصلاحات کی بات نہیں کرتے۔
وہ تعلیمی نظام کے حوالے سے بھی مبہم بات کرتے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وہ ملک میں یکساں نظام کیسے رائج کریں گے۔ وہ یونیورسل ہیلتھ پالیسی کیسے نافذ کریں گے جس کے نتیجے میں پاکستان کے ہر شہری کو صحت کی بہترین سہولیات میسر آ سکیں۔ ابھی تو خیر ان کے پاس سب سوچنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ آج کل تو دوسری جماعتوں سے آنے والے سیاستدانوں سے ملاقاتوں اور شمولیتوں سے ہی فرصت نہیں ہے۔ عمران خان نے البتہ مقتدر قوتوں اور روایتی سیاسی اشرافیہ کی مدد اور تعاون سے اقتدار حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری تو ٹی وی چینلز پر یہ تک کہتے پائے گئے ہیں کہ فوج اور عدلیہ ہمارے ساتھ ہے ہمیں روک سکو تو روک لو۔ ہم اس گٹھ جوڑ اور سیاسی بندوبست کے نتائج آج تک بھگت رہے ہیں۔ اصغر خان کیس اس گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔ جنرل (ر) اسلم بیگ اور جنرل (ر) اسد درانی کے بیانات یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ہمارے ہاں کی انتخابی سیاست کیسے کنٹرول ہوتی ہے۔ کیسے ایک مخصوص سیاسی جماعت کا راستہ روک کر دوسری مخصوص سیاسی جماعت کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔
پاکستان کو نچلی سطح سے ابھرنے والی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔ محنت کشوں ، کسانوں ، چھوٹے تاجروں ، درمیانے طبقے اور غریب عوام کی حقیقی سیاسی قیادت جو محلات کی بجائے عام محلوں میں رہتی ہو، جن کے بچے خاص سکولوں کی بجائے عام سکولوں میں پڑھتے ہوں۔ جو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہوں اور سرکاری ہسپتالوں سے علاج کرواتے ہوں۔ پاکستان کے عام لوگوں کو عام سیاسی قیادت اور عوامی سیاست کی ضرورت ہے۔ اگر تحریک انصاف کو اقتدار دینے کا فیصلہ ہو گیا ہے تو اسے اقتدار سے آنے میں کون روک سکتا ہے۔ پھر تو تحریک انصاف کی تبدیلی کی محض ہوا ہی نہیں چلے گی بلکہ تیز جھکڑ اور آندھی چلے گی۔ 2013ء میں تو محض ہوا کے چند تیز جھونکے آئے تھے جنہیں تحریک انصاف والے آندھی اور مسلسل چلنے والی تیز ہوا سمجھ بیٹھے تھے۔ ابھی بھی توقع یہی ہے کہ اگر تحریک انصاف نے اقتدار کی منزل تک پہنچنا ہے تو اسے اس سے بھی تیز ہوا اور آندھی کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو رگیدنا اور توڑنا موڑنا ضروری ہے۔ آخر میں بس اتنا عرض کرنا ہے کہ تحریک انصاف سے پہلے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دوسروں کی دی گئی طاقت کے بل بوتے پر سیاست کا نتیجہ دیکھ چکی ہیں۔ اب غالباً تحریک انصاف کی باری ہے۔ تبدیلی کی ہوا زور و شور سے جاری ہے۔ شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان اسے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ 2018ء کے عام انتخابات میں تبدیلی کی ہوا چلتی ہے یا پھر اورنج لائن ٹرین چلانے والے ہوا کے تیز تھپیڑوں کو برداشت کر کے میدان میں کھڑے رہتے ہیں یا پھر خشک پتوں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔
مگر اس وقت تو تبدیلی کی ہوا پورے زور و شور سے چل رہی ہے اور خشک پتے بنی گالا کے لان میں جمع ہو رہے ہیں۔


ای پیپر