پنجاب کی 37 یونیورسٹیاں: میرٹ کی منتظر
23 مئی 2018

ہمارے قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو کبھی خود کو دنیا کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے ۔ ان میں ایسے بھی تھے جو کہتے تھے کہ فلاں ادارہ یا وزارت ان کے بغیر چل ہی نہیں سکتی ۔ بلکہ کئی تو وہ تھے جنہیں زعم تھا کہ یہ ملک ان کے بغیر نہیں چل سکتا۔ مگر جب وقت آیا تو کسی بھی دنیا وی ریٹائرمنٹ یا ملازمت میں توسیع جیسے کسی نوٹیفکیشن کے اجراء کے بغیر انہیں واپس بلا لیا گیا۔ پاکستان کی پس ماندگی میں کس کس کا ہاتھ ہے۔ اس تکلیف دہ سوال کا جواب تلاش کرنے کی کھوج میں آپ جہاں جہاں بھی جائیں بالآخر بات سیاسی قیادت پر آ کر ختم ہو گی کیونکہ اختیارات کے سارے چشمے یہیں سے پھوٹھتے ہیں اور یہی وہ جگہ ہے جہاں پر ان چشموں میں زہر ملایا جاتا ہے۔
گزشتہ ماہ چیف جسٹس آف پاکستان نے پنجاب کی مختلف یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرریوں کے بارے میں ازخود نوٹس کے موقع پر اپنی آبزرویشن میں کہا ہے کہ صوبے کی 37 یونیورسٹیوں میں کوئی یکساں (uniform) پالیسی نافذ نہیں ہے۔ ان فیصلوں کا تعلق چونکہ مفاد عامہ اور انسانی حقوق سے براہ راست جڑا ہوا ہے لہٰذا اعلیٰ عدالتوں کو ان میں بار بار مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں vc کی تقرری غیر قانونی قرار دی جا چکی ہے۔ اسی طرح نیشنل کالج آف آرٹس میں قواعد سے ہٹ کر ملازمت کا معاملہ زیر سماعت ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں گزشتہ اڑھائی سال سے مستقل وی سی نہیں ہے۔ ایک وی سی کو لایا گیا جو کسی دور میں حمزہ شہباز کا استاد ہوا کرتا تھا مگر جب اسے یونیورسٹی کی زمین ہتھیانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تو اس نے غیر قانونی احکام ماننے کی بجائے استعفیٰ دے دیا ۔ اس کے اگلے جانشین نے 150 کنال اراضی سے دست بارداری قبول کرلی جس کی انکوائری جاری ہے۔ تقریباً ہر یونیورسٹی کا یہی حال ہے۔ یہ کتنی بڑی ٹریجڈی ہے کہ پنجاب کی 37 کی37 یونیورسٹیوں کے وی سی کی تقرریوں کے سلسلے میں کوئی ایک بھی وی سی میرٹ پر نہیں بنایا گیا۔ سب کے سب من پسند گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے وی سیز کی تقرری میں وہی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے جو پانامہ میں آف شور کمپنیاں کھول کر ان کے ذریعے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا گیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ جس طرح آف شور کمپنی اپنے نام پہ لندن میں جائیداد خریدتی ہے اسی طرح سے ایک سرچ کمیٹی بنائی جاتی ہے جس کی سفارشات کی روشنی میں وی سی تعینات ہوتا ہے۔ مگر اس میں ہاتھ کی صفائی یہ ہے کہ وہ سرچ کمیٹی ایسے ارکان پر مشتمل ہوتی ہے جن کو پہلے سے ٹاسک دیا گیا ہوتا ہے کہ آپ نے ہمارے فلاں غلام کو نامزد کرنا ہے۔ اس قومی بددیانتی سے ملک میں ہائیر اور پیشہ ورانہ ایجوکیشن کا ڈھانچہ اندر سے کھو کھلا ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ہماری یونیورسٹیوں کی رینکنگ ہر سال نیچے آ رہی ہے۔ یاد رہے کہ انڈیا میں پہلے نمبر پر آنے والی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس بنگلور 2018 ء میں عالمی رینکنگ میں پہلی 250 یونیورسٹیوں سے تنزلی کے بعد پہلی 300 یونیورسٹیوں کی فہرست میں آئی تو پورے انڈیا میں قومی سطح پر شور مچا ہوا ہے کہ اس تنزلی کی وجوہات کیا
ہیں اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔
دوسری طرف پاکستان ہے جہاں QU ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں 2016ء کے مطابق قائد اعظم یونیورسٹی کا نمبر 651 ، NUST کا 501 اور LUMS یونیورسٹی 701 نمبر پر ہے۔ ایک اور ورلڈ ویب رینکنگ سروے کے مطابق دنیا کی 4000 یونیورسٹیوں میں پاکستان کی comsat یونیورسٹی 1364 نمبر پر ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی1531 نمبر پر، nust کا نمبر 1561 ، آغا خان 1576 اور یونیورسٹی آف ایگری کلچر 2041 نمبر پر ہیں۔ایک تیسرے سروے کے مطابق پر فارمنس indicators (ٹیچنگ، ریسرچ اور نالج ٹرانسفر وغیرہ) کے لحاظ سے دنیا کی پہلی1000 یونیورسٹیوں میں چائنہ کی 60 انڈیا کی 30 اور پاکستان کی 4 یونیورسٹیاں شامل ہیں۔
یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد جسے ایشیاء میں زراعت کی سب سے بڑی یونیورسٹی کہا جاتا ہے گزشتہ ایک دہائی سے بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ 1906 ء سے قائم اس یونیورسٹی نے ملک میں زرعی میدان میں پیشہ ورانہ مین پاور کی فراہمی میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ یونیورسٹی میں فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس کے ڈین ڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا کا شمار ادارے کے سینئر ترین پروفیسرز میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سسٹم کے زمین بوس ہونے کی وجوہات کا جائزہ لینا ہو گا۔ وہ کہتے ہیں کہ سسٹم کی خرابی ہی سارے نقائص کی بنیادی وجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وی سی کا تقرر کہیں بھی میرٹ پر نہیں ہوتا۔ پچھلے دس سال سے تو پورا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2008ء میں جس شخص کو وی سی تعینات کیا گیا وہ میرٹ لسٹ میں سب سے آخری نمبر پر تھا۔ یہ ریکارڈ اب بھی موجود ہے۔اس شخص سے ان کی مراد ڈاکٹر رانا اقرار احمد خان تھے جو پچھلے دس سال تک بطور وی سی تعینات رہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کے ساتھ ذاتی مراسم کی بناء پر حکومت کے منظور نظر رہے۔ ڈاکٹر اقرار احمد خان پہلے سال مکمل کرنے کے بعد الیکشن کے خواہشمند تھے۔ رانا ثناء اللہ نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایک من پسند سرچ کمیٹی بنوائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ سرچ کمیٹی کے سربراہ سید بابر علی (lums ) تھے۔ اور سارے ممبران کا تعلق بھی lums سے تھا جو سارے کے سارے اکانومسٹ تھے۔ حالانکہ اسی کمیٹیوں میں مختلف شعبوں کے ماہرین رکھے جاتے ہیں۔ صرف ایک شخص کو فائدہ پہنچانے کے لیے یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کی گئی اور ڈاکٹر اقرار کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے عمر کی حد 60 سے 65 سال کی گئی۔ اور انہیں ایک اور tenure دے دیا گیا۔ ڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا کہتے ہیں کہ اس میرٹ کا قتل ہوا اور ان کے بعد کے سینئر موسٹ پروفیسرز کی حق تلفی ہوئی۔ انہوں نے ڈپٹی سیکرٹری نعیم خالد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2012ء میں ان کو سفارشی بنیاد پر لایا گیا جس کے ذریعے تمام یونیورسٹیوں میں من پسند افراد کو ڈین لگوایا گیا۔ ان کے دور میں ٹرانسپیرنسی کا فقدان تھا وہ خود ہی سمری بناتے تھے۔ ڈاکٹر اقرار 2012ء میں بھی کمزور ترین امیدوار تھے مگر انہیں 4 سال اور دیے گئے۔ یونیورسٹی کی سینئر ترین فہرست میں 16-17 پروفیسرز ان سے سینئر تھے جن کو وی سی نے دباؤ میں رکھا۔ ان پر ناجائز انکوائریاں بنوائی گئیں اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کی بدترین مثال قائم کی گئی۔ ان کے متاثرین میں ڈاکٹر محمد ارشد مرحوم، ڈاکٹر احسان چاہل، ڈاکٹر انجم سہیل ، ڈاکٹر عبدالرحمن وغیرہ شامل تھے۔ ڈاکٹر ظفر اقبال چونکہ ان کے مقابل تھے لہٰذا ان کے خلاف بھی انکوائریاں لگوائی گئیں۔ اور غلط ACR لکھ کر انہیں ڈراپ کروایا گیا۔یونیورسٹی کے موجودہ وی سی 14 جون کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جس کے بعد ڈاکٹر ظفر اقبال کا نام وی سی کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ مگر انہیں خدشات ہیں کہ اس دفعہ بھی ان کے ساتھ کوئی ہاتھ نہ ہو جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں پے سکیل اور tenure دونوں لحاظ سے اس وقت سینئر ترین پروفیسر ہوں۔ لیکن وہ چونکہ سابق وی سی کے خلاف litigation میں تھے اس لیے ان کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔
ڈاکٹر ظفر اقبال کہتے ہیں کہ میرٹ کے فقدان سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق تھا کہ ماضی میں تین اہم ترین یونیورسٹوں کے وی سیز کا تعلق ایک مخصوص برادری سے تھا۔ جن میں ڈاکٹر رانا اقرار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ، رائے نیاز مہر علی شاہ یونیورسٹی راولپنڈی اور راؤ آصف وی سی نواز شریف یونیورسٹی ملتان شامل ہیں۔
یہ دلچسپ امر ہے کہ رانا اقرار دس سال وی سی رہنے کے بعد اب پھر اپنے لیے لا بنگ کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے خلاف کرپشن کے کیسز نیب میں اب بھی زیر التواء ہیں۔ انہوں نے چیئر مین HEC کے لیے بھی کافی دوڑ دھوپ کی تھی۔ مگر نیب کی وجہ سے ان کا نام ڈراپ ہو گیا۔ ڈاکٹر ظفر اقبال کہتے ہیں کہ vc کے لیے ایک tenure سے زیادہ ہونا ہی نہیں چاہیے۔ اس سے جونیئرز کی حق تلفی ہوتی ہے۔ انہوں نے کے پی کے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تین سال کا tenure ہوتا ہے۔ جس میں ایک دفعہ توسیع ہو سکتی ہے۔ یعنی چھ سال بعد ریٹائرمنٹ لازمی ہوتی ہے۔ لیکن پنجاب میں رانا اقرار کے دس سال اور پنجاب یونیورسٹی کے کامران مجاہد کے بارہ سال ہمارے نظام کے لیے لمحۂ فکر ہے ۔ ان حالات میں متبادل قیادت کہاں سے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سرچ کمیٹی میں ایک ممبر عابد سلہری (SDPI) ڈاکٹر رانا اقرار کا شاگرد ہے۔ آگے آپ خود اندازہ لگا لیں۔
یوریورسٹیوں میں میرٹ کے خلاف وی سی کی تقرریوں کی وجہ سے massive litigation ہو رہی ہے۔ 350 سے زیادہ لوگ ہائی کورٹ گئے ہیں ۔ بے پناہ سیاسی مداخلت نے سسٹم تباہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ یونیورسٹی کا فنانشل آڈٹ کروایا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ میرے خلاف 35 سالہ کیریئر میں ایک الزام ثابت نہیں ہوا صرف بدنام کرنے کے لیے جھوٹی انکوائری بنائی جاتی ہے۔ میرا چیلنج ہے کہ ڈاکٹر اقرار کسی tv چینل پر میرے ساتھ debate کر لیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ فیصل آباد راولپنڈی اور ملتان کی جن یونیورسٹیوں کا میں نے حوالہ دیا ہے۔ وہاں کے معاملات خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔ یونیورسٹیوں کا احتساب پانامہ سے زیادہ اہم ہے۔ انصاف نہ ہو تو قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
(نوٹ: اگر محترم پروفیسر حضرات یا دوسرے متعلقہ اصحاب میں سے کوئی اپنا نقطہ نظر پیش کرنا چاہے تو ہمارے صفحات حاضر ہیں)


ای پیپر