جنرل راحیل شریف، انار کلی کی سیر اور ماہر نجوم ےٰسین وٹو ۔۔۔؟
23 مئی 2018

موڈ اچھا ہو تو اپنے ہی لکھے کچھ اشعار یاد آ جاتے ہیں، کچھ تحریریں دماغ میں گھومنے لگتی ہیں اور کچھ واقعات انسان کو اُس دور میں لے جاتے ہیں جسے ماضی کہتے ہیں۔۔۔
میں پیچھے پیچھے چل رہا تھا وہ شرماتے شرماتے میرے سامنے آگے آگے چل رہے تھے ۔۔۔ لڑکا (مرد) پچاس پچپن کا ہو گا ۔۔۔ زیادہ ہو سکتا ہے کم نہیں دلہن کے لباس میں ملبوس خاتون (لڑکی) سترہ سالہ یا اس سے کچھ کم تھی (’’جدید دور کا فیشن‘‘ یعنی موبائل فون دونوں کے ہاتھ میں تھا جسے دونوں وقتاً فوقتاً دیکھتے) ۔۔۔ اس کا روایتی انداز میں شرمانا مجھے لگتا تھا وہ کسی کھلے گٹر (مین ہول) میں نہ جا گرے اور لڑکا (مرد) شکرانے کے نوافل ادا کرنے سیدھا داتا دربار پہنچ جائے ۔۔۔ دوسری شادی ہر مرد کی خواہش ہے؟ ۔۔۔ پارکنگ سے دو سو گز کے فاصلے تک ان کے درمیان دو تین فٹ کا فاصلہ رہا۔ کبھی یہ فاصلہ بڑھ جاتا کبھی کم ہو جاتا۔ اب ہم نیلا گنبد کے چوک میں تھے ۔۔۔ مرد (لڑکا) یہ فاصلہ کم کرنے کی کوشش میں تھا اور لڑکی کی خواہش تھی کہ فاصلہ رہے شاید لڑکی سمجھدار تھی یا اس نے سٹار پلس کے ڈرامے نہیں دیکھے تھے۔ اس کے شرمانے کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ ’’بیوی‘‘ ہے اس پچپن سالہ لڑکے (مرد) کی ۔ یہ یقین سے نہیں کہہ جا سکتا ۔۔۔ وہ بے چاری سمٹتی چلی جا رہی تھی اور وہ بھاری بھر کم لڑکا اسے دھکیلتا چلا جا رہا تھا۔ ہو سکتا ہے وہ شرمیلی نہ ہو ’’میسنی‘‘ ہو کیونکہ آجکل ہماری سیاسی دنیا میں شرمیلے کے ہم وزن بلکہ اُس سے بھی بھاری لفظ ’’میسنا‘‘ استعمال ہو چکا ہے ۔۔۔ یہ منظر کسی حد تک اذیت ناک بھی تھا۔ کھلم کھلا خلاف ورزی تھی انسانی حقوق کی (خاص طور پر نئے قوانین کی ؟) خواتین کے حقوق کے حوالے سے۔۔۔ ؟ اور جب علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان Harrasment کا معاملہ بھی چل رہا ہے ۔۔۔ ویسے اس حوالے سے ’’دال میں کچھ کالا‘‘ لگتا ہے میں علی ظفر سے ملنے کا اب شدید خواہش مند ہوں۔ ہراساں کرنے کے حوالے سے ہی آجکل فیس بک اور میڈیا پر ادارہ منہاج القرآن کی لڑکیوں کی خبریں بھی پریس میں موجود ہیں ۔۔۔
’’پچپن سال کا آدمی لڑکی دیکھنے گیا؟‘‘
لڑکی کی ماں اسے دیکھ کر بے ہوش ہو جاتی ہے، ہوش آنے پر وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ کہتی ہے ۔۔۔ ’’پچیس سال پہلے یہ کمینہ مجھے بھی دیکھنے آیا تھا‘‘ ۔۔۔ رشتے کے لیے۔
اکثر بندہ اپنے ضمیر کے خلاف حرکتیں کرتا ہے ۔۔۔ بے ضمیرا کہیں کا لیکن کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جو ہر انسان آنکھوں میں سمو لینا چاہتا ہے ویسے بھی میں جب کبھی انار کلی بازار جاتا ہوں تو مجھ پر عجب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ خوشبوئیں بکھری ۔۔۔ دل کو مہکاتی ہیں ۔۔۔ خوبصورت مخلوق ۔۔۔ دکانداروں کی ’’خونخوار‘‘ نظریں جیسے بچپن میں ہم نے گھر میں مرغیاں پال رکھی تھیں۔۔۔ میں بچ جانے والی روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے مرغوں کو مخصوص انداز میں ۔۔۔ آ ۔۔۔ آ آ ۔۔۔ آ آ ۔۔۔ آ آ ۔۔۔ کرتا اور مرغیاں بے چاری بھوک کے مارے یا مروت میں میرا احترام کرنے کے انداز میں آ جاتیں ۔۔۔ روٹی کے ٹکڑے ’’بددلی‘‘ سے زہر مار کرتیں شاید ان کی خواہش ہوتی تھی کہ یہ ہمیں سیب کھلائے گا ۔۔۔ گاجر کا مربہ کھلائے یا کم از کم ریگل کے دہی بڑے یا فروٹ چاٹ ۔۔۔ ایسے ہی انار کلی کے دکاندار ۔۔۔ آ آ ۔۔۔ آ آ ۔۔۔ آ آ جا ۔۔۔ والی نظروں سے گھور رہے تھے آپس میں وہ فقروں کا تبادلہ بھی کر رہے تھے جو مجھے دنیا کی سب سے بری اور غیر مہذب بات لگتی ہے۔ آپ کسی جگہ دس لوگ بیٹھے ہوں، دو آپس میں کانا پھوسی ۔۔۔ کر رہے ہوں کبھی ہنس دیں کبھی سنجیدہ ہو جائیں بندے کو لگتا ہے کہ وہ میرے ہی بارے میں باتیں کر رہے ہوں گے (ہر شخص اس خوش فہمی کا شکار ہو جاتا ہے؟) ۔۔۔ حالانکہ ممکن ہے وہ کسی اپنے جھمیلے میں ہی الجھے ہوئے ہوں بہرحال بندہ پھنس جاتا ہے ایسی نظروں کے حصار میں ۔۔۔ تو جناب ہمیں بہت سے لوگ کچھ حرکتیں کرتے زہر لگتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہم خود وہ حرکت نہ کریں جو ہمیں بہت بری لگتی ہے زہر لگتی ہے ۔۔۔ اصل میں ہم سب خاصے زہریلے ہو چکے ہیں ۔۔۔ برائی اب ہمیں برائی نہیں لگتی ۔۔۔میاں نواز شریف کے حوالے سے کچھ صحافیوں نے خوش آمد کو اپنے عروج پر پہنچا دیا ہے ۔۔۔ اس حال میں بھی لوگ اُنہیں ’’سبز باغ دکھانے‘‘ کے چکر میں ہیں؟) ۔۔۔
بات جاری تھی اس جوڑے کے نیلا گنبد پہنچنے تک ۔۔۔ میں جس وجہ سے اس بے جوڑ جوڑے کا پیچھا کر رہا تھا وہ منظر (میرا دل کہہ رہا تھا ) آنے ہی والا ہے ۔۔۔ دونوں کے جذبات کسی اور کیفیت میں مبتلا تھے ۔۔۔ لڑکی چاہتی تھی کہ وہ بائیں طرف کسی گلی میں مڑ جائے ۔۔۔ اور ’’لڑکا‘‘ چاہتا تھا کہ وہ ساتھ ہو کے چلے ۔۔۔ ایسے ہی اک برا بہت برا منظر دیکھنے میں آیا ۔۔۔ لاہور کے شرارتی لڑکے جیسا کہ یہ سب کرتے ہیں میرے شہر لاہور کی شہرت خراب کرنے کے لیے۔۔۔
ایک لڑکا آیا اور سیدھا ان دونوں کے بیچ میں سے گزر گیا ۔۔۔ فاصلہ بڑھا گیا ۔۔۔ یہ لوگ کتنے ظالم ہوتے ہیں جو اپنوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیتے ہیں ۔۔۔ خلیج پیدا کر دیتے ہیں ۔۔۔ انار کلی تو ملنے ملانے کی جگہ ہے ۔۔۔ یا شوہروں کا ’’مال‘‘ لٹانے کی جگہ ہے ۔۔۔ فاصلے بڑھانے کی جگہ نہیں ۔۔۔ لیکن وہ بھی ’’موڈ‘‘ میں تھا ۔۔۔ خیر بیچ میں سے گزر کر وہ میرے نزدیک آیا تو میں نے کہہ دیا ۔۔۔ ’’بدتمیز‘‘ وہ ہنس پڑا ۔۔۔ اس نے سمجھا میں تیسرا بھی ان دونوں کے ساتھ ہوں ۔۔۔ وہ بول پڑا ۔۔۔ ’’تھری ایڈیٹ‘‘ ۔۔۔ میری ہنسی نکل گئی۔ وہ دونوں میرے زور سے ہنسنے پر پیچھے موڑ کر دیکھنے لگے ۔۔۔ میں نے فاصلہ بڑھا دیا کہیں اُن کا موڈ ’’آف‘‘ نہ ہو جائے۔ عید کے دنوں میں انار کلی والے اپنے ’’سٹاف‘‘ کوسپیشل ریفریشر کورس کرواتے ہیں اس تربیت کے باعث وہ 500 کی چیز 5000 میں بیچ دیتے ہیں۔ بہت سے YELLOW رنگ کے بلب ایک ساتھ جلا کر گاہک کو تقریباً اندھا کر دیتے ہیں سرخ رنگ کی شرٹ گھر جا کر چیک کریں تو سبز رنگ کا شیڈ دینے لگتی ہے ۔۔۔ لاہور کے کریم بلاک کی بڑی مارکیٹ میں صرف ’’جنت‘‘ کو خریداری کرنا آتی ہے ورنہ وہاں تو ’’دام‘‘ اونچی دکان سے بھی کہیں زیادہ ہوتے ہیں ۔۔۔ وہ اب ایک دوسرے سے دور دور چل رہے تھے ۔۔۔ پھر لڑکی کو شاید یک دم کوئی خیال آیا اور وہ مرد کی طرف ذرا قریب ہو گئی (لاہور کی ہوا نے اپنا اثر دکھایا ہو گا) ۔۔۔ اور پھر وہ مرد کی طرف ذرا زیادہ ہوتی چلی گئی قریب ۔۔۔ مرد تو پہلے ہی تیار تھا ۔۔۔ اس الجھن کا شکار ہم تینوں انار کلی کے درمیان پہنچ چکے تھے ۔۔۔
کٹ کٹ کٹ کٹ کٹ کٹ ۔۔۔ ایک بوڑھا سا شخص ۔۔۔ جس نے سارا سر کالا خضاب لگا کر کیا ہوا تھا ۔۔۔ اُس نے ایک بڑے سے برتن میں پانی ڈال کر اُس میں ایک چھوٹی سی کشتی چھوڑ رکھی تھی ۔۔۔ جو برتن کی سائیڈوں پر آہستہ آہستہ چل رہی تھی ۔۔۔ کٹ کٹ کٹ کٹ کٹ ۔۔۔ کی آوازیں نکالتی ہوئی۔۔۔ یہ انار کلی کی شانیں ہیں جو دنیا بھر میں انار کلی کی شان بڑھاتی ہیں ۔۔۔ مشہور مزاحیہ شاعر انور مسعود کی مشہور زمانۂ نظم تو آپ نے سن رکھی ہو گی ۔۔۔؂
A’’توں کیہ جانیں بھولئی مجے انار کلی دیاں شاناں‘‘
’’ارے‘‘ یہ کیا ؟ ۔۔۔ قطب الدین ایبک بادشاہ کے مزار کے پاس انار کلی بازار میں ان دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام رکھا تھا ۔۔۔ لڑکی کے انداز سے ابھی تک شرمیلا پن ظاہر ہو رہا تھا۔ مرد نے ہمت کی اور اُس نے ’’لڑکی کے بازو میں بازو ڈالا‘‘ ۔۔۔ نہایت اپنائیت والے انداز میں دونوں چل رہے تھے ۔۔۔ (حالانکہ ہم نے انگریزی فلموں میں دیکھا ہے کہ لڑکی مرد کے بازو میں بازو ڈالتی ہے) وقت کے ساتھ یہ سب بھی ٹھیک ہو جائے گا۔ مجھے اچھا لگا لاہور آنے والے اس نوبیاہتا جوڑے کی خواہش دیر سے ہی سہی پوری ہوئی ۔۔۔ کیونکہ میں بچپن سے دیکھ رہا ہوں لاہور آنے والے خاص طور پر جو چھوٹے قصبوں یا گاؤں دیہات سے آتے ہیں نوبیاہتا جوڑے ۔۔۔ ان کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ انار کلی بازار میں بانہوں میں بانہیں ڈال کر بڑی اپنائیت کے ساتھ چکر لگائیں ۔۔۔ ہنستے ہنستے ۔۔۔ عہد و پیمان کریں اور شہر لاہور سے حسین یادوں کے سہارے رخصت ہوں اور جب بڑی عمر کے مرد کی جوان بیوی طلاق مانگے تو وہ اُسے انار کلی میں کئے عہد و پیماں یاد کرا کے چپ کرا سکے کہ موبائل فون آنے سے پہلے یہ سب چل جاتا تھا۔ مگر اب زیادہ مشکل ہے؟ اب لڑکا بیوی کو جب اُس کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیماں کی ریکارڈنگ سناتا ہے تو وہ اپنے موبائل میں موجود لڑکے کی دوسری لڑکیوں / خواتین سے ’’خفیہ‘‘ ملاقاتوں کی ویڈیو دکھا کر اُسے ہمیشہ کے لیے چپ کرا دیتی ہے ۔۔۔ (ہے ناں بربادی کے سامان ۔۔۔ یہ فیس بک یہ انٹرنیٹ؟)
’’نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘
عمران خاں کی بھولی بھالی ’’کوتاہیوں‘‘ میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔۔۔ پچھلے دنوں انہوں نے شیخ رشید کے کہنے پر سارا زور میاں نواز شریف پر لگا دیا اور زرداری انہیں اچھا لگنے لگا بلکہ زرداری میں ایک ’’نہایت‘‘ ایماندار شخص دکھائی دینے لگا ۔۔۔ اُدھر نئے وزیر اعظم کے نام ملک بھر میں گردش کر رہے ہیں کچھ لوگ اوریا مقبول جان خاص طور پر کل شام جناب ےٰسین وٹو صاحب سے پوچھ رہے تھے ’’جی ۔۔۔ نجومی صاحب ۔۔۔ آپ کا خیال بھی جنرل راحیل شریف کی طرف ہے‘‘ ۔۔۔ بھلا یٰسین وٹو صاحب کیا ممکن ہے دل کی بات لبوں پر عوام کے سامنے لائیں؟ ۔۔۔؂
ٹی وی دیکھنے سے جو آ جاتی ہے منہ پہ رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے


ای پیپر