فراڈ اور فنکاری
23 مئی 2018

کرامت صاحب ہمارے جاننے والے ہیں ۔ کسی قدر بزرگ آدمی ہیں اور یہاں بزرگی کردار کی بنا پر نہیں بلکہ اُن کی عمر کی وجہ سے ہے۔ بڑے کمال کے انسان ہیں۔بظاہر بڑی کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ زندگی میں کئی کاروبار کئے اور ہمیشہ کامیاب ۔ویسے تو آپ نے کئی طرح کے کاروبار کئے لیکن آپ کا بنیادی کاروبار ’’ فراڈ ‘‘ کرناہے۔دوسرے لفظوں میں فراڈ وہ ’’ Basic Theme ‘‘ جو اُن کے ہر کاروبار میں ساتھ چلتا ہے۔ایک کاروبار عموماً چار چھ ماہ ہی کرتے ہیں اس کے بعد پارٹنر اور کاروبار دونوں تبدیل کرتے ہیں اور پھر اسی جذبے ، مقصد اور ارادے کے ساتھ کوئی اور کام شروع کر دیتے ہیں۔ان کا کمال یہ ہے کہ اُن کے پارٹنر کو آخر تک ( بلکہ بعد میں بھی ) یہ پتا ہی نہیں چلتا کہ اُس کے ساتھ کوئی دھوکا وغیرہ ہو رہا ہے۔ نئے سے نئے بزنس کے لیے آئیڈیاز دینا ان پر ختم ہے ۔کوئی بالکل نیا اور انوکھا بزنس آئیڈیا لے کر آئیں گے اورپھر ایسی کہانی سنائیں گے کہ بس پھر سننے والا ان کے پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے ۔کہانی گھڑنا اور کامیابی کے لئے سبز باغ دکھانا ایسا کہ شیخ چلّی بھی ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرے۔بندہ سوچتا ہے کہ ایسا مخلص اور بے لوث آدمی مجھے اتنی دیر سے کیوں ملا۔پھر جیسے ہی وہ شخص بزنس جلد شروع کرنے اور ان کا پارٹنر بننے کا بڑی بے چینی سے اظہار کرتا ہے تو یہ مروتاً ہامی بھر لیتے ہیں اور یوں بزنس شروع ہو جاتا ہے۔ کاروبار میں شراکت داری کے لئے اُن کے اصول بہت سادہ سے ہیں اور وہ یہ کہ بطور پارٹنر آپ کے ذمّے صرف سرمایہ اور محنت مہیا کرنا ہو گا جبکہ باقی تمام امور جناب کرامت صاحب خود انجام دیں گے۔ اس دوران کمال مہربانی سے بزنس کے مالی معاملات وہ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ اور آپ اُن کی محبت اور مروّت کے پیشِ نظر اس عمل کو بھی نہ صرف خوشدلی سے قبول کر لیتے ہیں بلکہ اُن کے احسان مند بھی ہوتے ہیں۔ د ورانِ کاروبار اُن کی گفتگو ، رکھ رکھاؤ اور اندازِ تکلّم و تخاطب ایسا عمدہ ، نفیس اور اخلاص سے بھرا دکھائی دے گا کہ آپ پریشان ہو کر سوچنے لگیں کہ فی زمانہ ایسے بے لوث اور ایثار کیش لوگ بھی موجود ہیں ۔گفتگو میں حلاوت ، نرمی اور شیریں بیانی ایسی کہ گالیاں کھا کے بھی کوئی بے مزہ نہ ہو ۔ اور پھر جب کچھ عرصہ کے بعد کاروبار شدید خسارے کا شکار ہو کر آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے تو بھی آپ اُن کے اعلیٰ اخلاق ، ظاہری اخلاص اور عمدہ برتاؤ کی وجہ سے اُن کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتے ۔ حتمی تجزئیے میں آپ اپنے آپ کو ہی اس نقصان کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
کرامت صاحب نے دھوکا دہی کو باقاعدہ ایک آرٹ کے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ وہ اپنی باتوں سے متعلقہ شخص کو گویا ’’ سیسے ‘‘ میں اُتار لیتے ہیں اور وہ سحر زدہ سا ہو جاتا ہے ۔اُن کے متاثرہ بزنس پارٹنرکا اپنی ناکامی کی وجوہات جانچتے ہوئے کسی طرف بھی دھیان جا سکتا ہے سوائے کرامت صاحب کے۔ خود میرے ایک قریبی دوست کو دو ایک بار کرامت صاحب سے کاروباری شراکت داری کا شرف حاصل ہوا ہے ۔ان کے اصولوں کے مطابق اس نے بس سرمایہ اور لیبر مہیا کی اور انہوں نے از راہِ محبت راہنمائی اور سرپرستی فرماتے ہوئے باقی تمام معاملات خود سنبھال لیے۔چند ہی ماہ میں کاروبار ڈوبنے کے بعد جب حسبِ معمول خسارہ بانٹنے کا وقت آیا تو کرامت صاحب نے ایسی کہانی سُنائی کہ دوست کو یہ مانتے ہی بنی کہ سارا قصور اسی کا ہے لہٰذا نقصان بھی اُسے ہی برداشت کرنا پڑے گا۔
کچھ عرصہ پہلے ایک دن کرامت صاحب میرے اسی دوست کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ یار بہت ہو گیا ! یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے کہ انسان بس صرف اپنے لیے جیئے ! اب ہمیں دوسروں کا بھی سوچنا چاہئے ۔ میرا دوست کہتا ہے کہ میں سمجھ گیا کہ آج پھر کوئی نیا بزنس آئیڈیا ان کے ذہن میں کلبلا رہا ہے ۔اس کے بعد انہوں نے اپنے اس نئے لیکن اُن کے بقول ’’ خیراتی بزنس ‘‘ کی تفصیلات بتائیں۔انہوں نے بتایا کہ اس میں زیادہ انویسٹمنٹ کی ضرورت نہیں ہے اور سرمایہ ڈوبنے کا اندیشہ تو بالکل بھی نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر جوتوں کا کاروبار تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کی بڑی بڑی شُو میکنگ کمپنیوں کے مالکوں سے بات ہو گئی ہے وہ ہمیں گاؤں کے غریب غرباء کے لیے اعلیٰ کوالٹی کے جُوتے بڑی مناسب قیمت پر بنا کے دیں گے جنہیں ہم گاؤں میں لا کر اسی قیمت پر فروخت کریں گے۔ جوتا ساز مالکان ہمیں اس پر مناسب کمیشن دیں گے۔ میرے دوست نے تو بوجوہ اس بزنس میں شامل ہونے پر معذرت کرلی لیکن کرامت صاحب نے وہ کام شروع کر دیا۔ تھوڑا عرصہ بعد پتا چلا کہ انہوں نے شہر میں ایک ’’ شُو کمپنی ‘‘ بنا لی ہے ۔ اس کا باقاعدہ ایک دفتر ہے اور دو تین مینجر بھی رکھ لیے ہیں۔چند ہی دنوں میں گاؤں میں مختلف برینڈز کے عمدہ کوالٹی والے جوتے آنا شروع ہوگئے۔یہ جوتے گاؤں کے عام لوگوں میں انتہائی سستی قیمت پر فروخت ہونے لگے۔چار پانچ ہزار والا اعلیٰ چمڑے کا جوتا کوئی ہزار بارہ سو میں فروخت کیا جاتا۔ لوگ بے حد خوش تھے اور کرامت صاحب کو دعائیں دیتے تھے۔ کئی ماہ یہ کام چلتا رہا ۔۔عید آئی تو کرامت صاحب نے گاؤں پیغام بھیجا کہ اس عید پر بہترین جُوتے اور بھی سستی قیمت پر مہیا کئے جائیں گے۔عید والے روز تھوڑی دیر ہوگئی !! جوتوں والی گاڑی دوپہر کو گاؤں پہنچی ۔ لوگوں نے عید کی نماز تو پڑھ لی لیکن ظہر کی نماز سے پہلے جوتوں کے ڈبّوں سے بھری گاڑی آ گئی ۔ جوتے بڑی معمولی قیمت پر فروخت کئے گئے اور کئی لوگوں نے وہ جوتے پہن کر باقی دن انجوائے کیا۔
کام بڑا زبردست چل رہا تھا ۔ پھر ایک روز پتہ چلا کہ کرامت صاحب اپنے ’’ مینجرز ‘‘ سمیت گرفتار ہو گئے ہیں۔اُن کا ایک ’’ مینجر ‘‘ کہیں گاؤں بھاگ آیا تھا میرے دوست نے اُس سے پوچھا کہ یہ سب کیسے ہوا اور کرامت صاحب کے خیراتی کاروبار اور ’ شو کمپنی ‘ کا کیا بنا ۔ ؟ وہ کہنے لگا ، ’’ جناب ! کونسا کاروبار اور کیسی شُو کمپنی !!کرامت صاحب ہمارے ساتھ مل کر خاص دنوں اور تہواروں وغیرہ پر پوش علاقوں کی بڑ ی مساجد کے باہر سے جُوتے اُٹھاتے تھے اور انہی کو ڈبوں میں ڈال کر گاؤں میں فروخت کر دیا جاتا تھا۔’’ کام ‘‘ ذرا طریقے سے کرتے تھے اس لیے کچھ عرصہ کسی کو پتہ نہیں چل سکا ۔۔اگلے دن یہی کام کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں لوگوں نے موقع پر ہی کافی ’’ عزت افزائی ‘‘ کی اور پھر پولیس کو دے دیا ۔ اب جیل میں بیٹھے کسی اور ’’ خیراتی کاروبار ‘‘ کی پلاننگ کر رہے ہیں۔میری قسمت اچھی تھی کہ اس دن ان کے ساتھ نہیں تھا لہٰذا جیسے ہی پتا چلا میں گاؤں بھاگ آیا۔ ‘‘ کچھ عرصہ پہلے جب میرے دوست نے کرامت صاحب سے اُن کے موجودہ ’’ کاروبار ‘‘ کی کامیابی کی وجہ پوچھی تھی تو انہوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا کہ انہیں جو کچھ مل رہا ہے سب اللہ پاک کے گھر سے مل رہا ہے۔۔اس جُملے کی پوری سمجھ میرے دوست کو اب آئی تھی۔


ای پیپر