آرزوؤں کی پوپھوٹنے کے قریب!
23 مئی 2018

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے پر پہلے سودنوں کا پروگرام دیا ہے جو دراصل پی ٹی آئی کا منشور ہے۔ اس میں ملک کو فلاحی ریاست بنانے کا عزم سرفہرست ہے۔ میرٹ پر سختی سے عملدرآمد کا عندیہ ہے، بیوروکریسی کو ’’آزاد‘‘ کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ ایک کروڑ بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے اور پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کی بھی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اس میں بتایا گیا ہے کہ خارجہ پالیسی قومی مفادات سے ہم آہنگ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور دورنزدیک کے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے تنازعات کے حل کا کلیہ اپنایا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔
بلاشبہ یہ جو پروگرام دیا گیا ہے اس پر عمل درآمد ہوسکتا ہے اور میں تو کہتا ہوں کہ ساٹھ دن میں بھی اسے عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے مگر کپتان کے سیاسی حریفوں نے اس کو رد کردیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں اس کا مقصد عوام کو بیوقوف بنانا ہے؟
بات صاف اور سیدھی ہے کہ اگر ’’بادشاہ گروں‘‘ نے موجودہ صورت حال سے یہ نتیجہ اخذ کرلیا ہے کہ اسے جوں کا توں رہنے دیا جاتا ہے تو یقیناًجاری اقتصادی منصوبوں ، ملکی سلامتی اور بقا کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ لہٰذا عوام کو ایک بہت بڑا ریلیف ملنا چاہیے۔ انصاف، غربت، جہالت، بھوک اور بیماری کے خاتمے کے لیے بڑا منصوبہ بنایا جائے تو سیاسی بونے جو بھی کہیں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ عمران خان چیئرمین کی قریباً تمام اصلاحاتی شقیں عمل پذیر ہوں گی۔ جاوید خیالوی ایم اے فلسفہ پورے یقین کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ یہ کام ایسے ہیں جن کے لیے بھاری رقوم کی ضرورت نہیں ہوگی۔ صرف بدعنوانی کو روکنا ہوگا۔ دوسرے ٹیکس دہندگان میں اضافہ کرنا ہوگا۔ ان اقدامات سے حیرت انگیز تبدیلی لائی جاسکتی ہے اور یہ امید کی جاسکتی ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی یہ کر گزریں گے کیونکہ وہ بدعنوان نہیں، عوام دشمن بھی نہیں۔ وہ دھرتی سے لاتعلق بھی نہیں۔ ان کے سینے میں اس سے محبت کی بھی کوئی کمی نہیں۔ مگر یہ بات کپتان کو شاید پریشان کرے کہ اس نے لوگوں کی جمع پونجی پر ہاتھ صاف کرنے والوں کا جو اجتماع کرلیا ہے۔۔۔ وہ انہیں ضرور عوامی فلاحی منصوبوں کی تکمیل سے روکیں گے۔ ؟
میرا نہیں خیال کیونکہ یہ لوگ اول تو عدالتوں اور نیب سے نااہل ہو جائیں گے۔ یا پھر انہیں ’’ہوشیاری‘‘ سے لوٹی ہوئی عوامی دولت واپس قومی خزانے میں جمع کرانا پڑے گی۔ اگر ایسا بھی نہیں ہوتا تو یہ ضرور ہوگا کہ وہ بادشا گروں کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے خاموش رہیں یعنی جو ملک کو بچانے اور فلاحی بنانے کا پروگرام ترتیب دیا جاچکا ہے اس کے سامنے سرجھکا لیں۔ بہرحال پی ٹی آئی کے کارکنان میں ایسے افراد کی آمد سے بے چینی شدید ہے کیونکہ انہیں یہ اندیشہ لاحق ہے کہ اہل زر وجائیداد ان کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے ان کے مفادات نے انہیں پی ٹی آئی میں آنے پر مجبور کیا ہے تاکہ آئندہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اس پر مزید ہاتھ سخت ڈالے جانے سے وہ محفوظ رہ سکیں۔ جبکہ ایسا بالکل نہیں۔ بدعنوانی کاخاتمہ طے پا چکا ۔ احتساب بلاتفریق وتخصیص ہونے جارہا ہے۔ قرائن یہی بتاتے ہیں اور اگر اب بھی مصلحتاً اس سے اجتناب برتا جاتا ہے تو پھر حالات کچھ ایسے الجھیں گے اور خراب ہوں گے کہ کوئی کتنا ہی مخلص اورسخت گیر ہوبے بس ہو جائے گا۔ لہٰذا فکر کی کوئی بات نہیں بے شک آج بعض بدعنوان اور سابقہ حکومتوں کے مراعات یافتہ لوگ پی ٹی آئی میں آدھمکے ہیں مگر انہیں حساب دینا پڑے گا! بات ہورہی تھی سوروزہ پروگرام کی تو اس میں سو فیصد تو عمل درآمد نہیں ہوگا پچاس یا پھر ساٹھ فیصد تو لازمی ہوسکے گا۔۔۔ بشرطیکہ پی ٹی آئی کلی اختیارات کی مالک بن جاتی ہے، بصورت دیگر وہ اگلے ایک برس میں ہی کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔ ؟
خیرایک امید بندھ چلی ہے اور عوام جو پی ٹی آئی سے تعلق نہیں بھی رکھتے اس کے سخت مخالف ہیں۔ ان میں سے بعض اس سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ جس طرح عمران خان کا مزاج ہے اور وہ کسی کام کے پورا ہونے تک بے قرار ومضطرب رہتے ہیں تو اس میں بھی وہی کیفیت ان کے اندر پیدا ہوتی ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ یہ سب نہ کرسکیں۔ یوں ان کی وابستگیاں بھی تبدیل ہوسکتی ہیں مگر وہ فی الحال ایسا نہیں چاہتے کیونکہ انہوں نے واضح طورسے پی ٹی آئی کی مخالفت کی ہے۔ اس طرح وہ ذہنی الجھاؤ میں گھرے ہیں مگر انہیں ایسا نہیں سوچنا چاہیے کیونکہ وابستگیاں ہمیشہ اپنے مسائل کے حوالے سے ہوتی ہیں۔ وہ جو کوئی بھی حل کرے اس کے ساتھ چلنا چاہیے لہٰذا اگر عمران خان ان کے خوابوں کو پورا کرتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ چل پڑیں اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ !
ایسے پی ٹی آئی مخالفین عمران خان کی دیانت داری اور پروگرام کے باوجود اس میں شامل نہیں ہوسکتے جومخصوص مفادات کی بنا پر دوسری جماعتوں سے منسلک ہیں کیونکہ ان کے متاثر ہونے کا یقین ہے لہٰذا وہ رات دن کپتان پر رکیک حملے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر انہوں نے گویا طوفان بدتمیزی برپا کررکھا ہے۔ حالانکہ وہ کبھی بھی کسی بڑے لیڈر سے ہاتھ ملانے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے کہ ان کے لیڈر بادشاہ ہیں۔ جوعام آدمی سے میل ملاپ نہیں رکھتے مگر وہ (عوام ) نجانے کیوں ایسے سیاسی رہنماؤں کو سرآنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ چلیے کسی کی مرضی کہ وہ جسے چاہے پسند کرے یا ناپسند کرے مگر حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اب عوام کی غالب اکثریت کے دلوں کی دھڑکن بنتے جارہے ہیں لہٰذا ان پر اتنی ہی ذمہ داریاں عائد ہونے جارہی ہیں اور جب وہ اقتدار میں آجاتے ہیں تو پھر اور بھی ذمہ داریوں کا بوجھ پڑ جائے گا مگر کہا جارہا ہے کہ وہ اس سے گھبرائیں گے نہیں کیونکہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ انہیں ہرصورت اپنے عہدہ سے انصاف کرنا ہے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ لہٰذا سودنوں کا جن ان کے مخالفین کو چڑانے لگا ہے جبکہ پہلے ہی ’’بھرے‘‘ بیٹھے تھے۔ اب اور بھی ’’بھر‘‘ گئے ہیں۔ بلکہ مشتعل ہونے لگے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت تو انہوں نے بنانی ہے وہ کس طرح یہ پروگرام پیش کررہے ہیں۔ بہرکیف تیر کمان سے نکل چکا بدلنے کی رُت آگئی۔ بجھتے چراغوں کے روشن
ہونے کی آس سے خزاں رسیدہ چہروں پر بہار سی آگئی۔ جو دولت شہرت اور اقتدار کے بھوکے ’’سیاستدانوں‘‘ کو منظور نہیں کہ انہوں نے اب تک عوام کو سہولتوں آسائشوں اور زندگی کی لطافتوں سے محروم رکھا۔ مقصد یہی تھا ان کا کہ وہ ہی ہمیشہ اقتدار میں رہیں مگر وہ منظر تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک ایک کرکے سبھی دولت پر جھپٹنے والے اور بیرونی ممالک محل تعمیر کرنے والے مطلع سیاست سے غائب ہونے جا رہے ہیں کہ اب عوام نے روایتی سیاست ونظام حیات کو تبدیل کرنے کا عہد کرلیا ہے کہ ان کی گردنوں پر سوار وڈیرے لٹیرے سردار جاگیردار اور سرمایہ دار ان کو پستیوں کی طرف دھکیلنے کے لیے رخ بدل بدل کر الو بناتے رہے اور ان کے حقوق سلب کرکے انہیں غلامانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتے رہے مگر اب وہ سوچ بکھرنے والی ہے اکہتر برس خوابوں کے پیچھے بھاگنے والوں کو علم ہوچکا ہے کہ فریبی روایتی سیاستدانوں نے ان کا خون کشید کیا ہے جن سے نجات حاصل کرلینا لازم ہو چکا تاکہ آرزوؤں کی پوپُھوٹ سکے !۔


ای پیپر