مذہب کے نام پر پری پول ریگنگ
23 مئی 2018 2018-05-23

الیکشن 2013ء میں تحریک طالبان پاکستان نے اعلان کیا کہ حکمران اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ الیکشن مہم میں حصہ نہ لیں۔ اگر انہوں نے الیکشن مہم میں حصہ لیا تو ہم ان پر حملہ کریں گے۔ پہلے پہل تینوں پارٹیوں نے دھمکیوں کو ہوا میں اڑا دیا اور الیکشن مہم کے لیے جلسوں اور جلوسوں کاشیڈیول جاری کر دیا۔جیسے ہی ان تینوں پارٹیوں نے جلسے شروع کیے طالبان نے ان پر حملے شروع کر دیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی لیاری کے قریب ایک کارنر میٹنگ کے دوران دھماکا اس کا نقطہ آغاز تھا۔ اس حملے میں ایک خاتون سمیت تین لوگ مارے گئے اوربیس سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ پی ایس 111پی پی پی کے امیدوار عدنان بلوچ بھی اس حملے میں شدید زخمی ہوئے۔متحدہ قومی موومنٹ کے اورنگی ٹاون میں واقع الیکشن کے دفتر پر دو حملے ہوئے۔ جن میں دو لوگ مارے گئے اور پچیس زخمی ہوئے۔ نصرت بھٹو کالونی میں واقع متحدہ قومی موومنٹ کے دفتر پر بھی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں پانچ لوگ مارے گئے اور دس سے زیادہ زخمی ہوئے اس کے علاوہ نارتھ ناظم آباد میں پیپلز چورنگی کے قریب متحدہ قومی موومنٹ پر حملہ ہوا جس میں پانچ لوگوں کی جان گئی اور پندرہ سے زیادہ لوگ زخمی

ہوئے۔دھماکے کے بعد ایم کیو ایم نے احتجاج کیا، مارکیٹیں بند کروائیں اور رینجرز سے سکیورٹی مانگ لی۔ سوات میں عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما اور سوات امن کمیٹی کے متحرک رکن مکرم شاہ کی گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ اے این پی کے سابقہ رکن صوبائی اسمبلی عدنان وزیر کو بنوں کے علاقے ولی نور میں ریمو رٹ کنٹرول دھماکے میں اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ جانی خیل کے علاقے میں الیکشن کمپین کرنے جا رہے تھے۔اس کے علاوہ ارباب ایوب جان کو بھی الیکشن مہم کے دوران ایک دھماکے میں قتل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ حملہ ناکام ہو گیا۔ان حملوں کے پیچھے طالبان کا مؤقف تھا کہ جمہوری نظام اسلام کے خلاف ہے لہذا ہم اس میں حصہ لینے والوں پر حملہ آور ہوں گے لیکن حیران کن بات یہ ہے اس الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف اور ن لیگ کے جلسوں اور کارنر میٹنگز پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا جبکہ وہ بھی اسی جمہوری نظام کا حصہ تھیں اور کھلے دل سے جمہوریت کو سپورٹ کرتی تھیں۔ان حملوں اور دھمکیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ تینوں پارٹیاں مرکزی حکومت کا حصہ نہیں بن سکیں اور ن لیگ کو کھیلنے کے لیے کھلا میدان مل گیا۔جس کے نتیجے میں وہ دو تہائی اکثریت لینے میں کامیاب ہو گئے۔لہذا یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ 2013ء کے الیکشن میں اس طرح کے حالات کا پیدا ہو جانا مذہبی پری پول ریگنگ تھی۔ پری پول ریگنگ کے یہ حالات کس نے پیدا کیے اور ان کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا ان تمام سوالات کے جوابات اتنے سادہ نہیں ہیں جتنے ہمیں نظر آتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا اس کی قلعی بھی کھلتی جائے گی۔لیکن 2013ء کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو چاہیے تھا کہ وہ الیکشن معطل کر

دیتی کیونکہ تمام پارٹیوں کی آآدانہ نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن کا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا ، مگر الیکشن کمیشن نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ2018ء کے متوقع الیکشنز میں بھی مذہبی پری پول ریگنگ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ آئیے ایک نظر 2018 کے متوقع الیکشن میں مذہبی پری پول ریگنگ پر ڈالتے ہیں۔

پارلیمنٹ میں ختم نبوت کے بل میں ترمیم کی گئی۔ مذہبی جماعتوں نے اس ترمیم کے خلاف دھرنا دیا۔ حکومت مخلاف تقریریں ہوئیں، نعرے لگے، گالیاں دی گئیں اور پھر تصادم ہو گیا۔ حکومت چاروں شانے چت ہوئی۔ وفاقی وزیر نے استعفی دیا اور دھرنے والے گھر چلے گئے۔ حکومت نے سمجھا معاملہ ختم ہو گیا لیکن دراصل مسئلہ ابھی شروع ہوا تھا۔ختم نبوت کا قانون بدلنے میں کس کس کا ہاتھ تھا اور کس کس پارٹی نے اسے سپورٹ کیا تھا یہ حقائق دل دہلا دینے والے ہیں۔ ختم نبوت کے قانون کو بدلنے میں ن لیگ، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی سمیت تمام پارٹیاں ملوث تھیں اور اس کی سزا تمام پارٹیوں کو دی جانی چاہیے تھی۔ لیکن سارا ملبہ ن لیگ پر ڈال دیا گیا۔ دھرنا دینے والوں نے صرف ن لیگ کو قصوروار ٹھرایا اور ان کے ماننے والوں نے ن لیگ کے رہنماؤں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ ہوا اور حملہ آور نے بتایا کہ ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کی وجہ سے میں نے احسن اقبال پر حملہ کیا۔اب احسن اقبال لاکھ کوشش بھی کر لیں وہ کھل کر الیکشن کمپین نہیں کر سکیں گے۔کیا یہ مذہبی پری پول ریگنگ نہیں ہے؟ کیا صرف ن لیگ ہی قصوار ہے؟کیا ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کی سزا پوری پارلیمنٹ کو نہیں ملنی چاہیے؟ کیا یہ سب قصوروار نہیں ہیں؟ لیکن چونکہ ن لیگ کے لیے الیکشن کا میدان تنگ کیا جانا مقصود ہے اس لئے صرف ن لیگ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس طرح جمہوریت اور جمہوری نظام کو اسلام کے خلاف قرار دے کر طالبان نے ن لیگ اور پی ٹی آئی کو چھوڑ کر پی پی پی، اے این پی اور ایم کیو ایم کے لیے الیکشن 2013ء کا میدان تنگ کر دیا تھا بالکل اسی طرح 2018ء کے الیکشن میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کو چھوڑ کر صرف ن لیگ کو ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی کا قصوروار ٹھرا کر ان کے لیے 2018ء کے الیکشن کا میدان تنگ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ دوونوں واقعات میں سزا کا جو معیار متعین کیا گیا ہے تمام سیاسی جماعتیں اس معیار پر پورا اترتی ہیں۔2018ء کے الیکشنزسے پہلے اگر ن لیگ پر احسن اقبال جیسے مزید حملے کیے گئے تواس مرتبہ ن لیگ مذہبی پری پول ریگنگ کا شکار ہو جائے گی اور اگر اس طرح کی صورت حال پیدا کی گئی تو الیکشن کمیشن کو 2018ء کے الیکشنز معطل کر دیناچاہیے تاکہ اگلی مرتبہ مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔

میں آخر میں اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ختم نبوت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ اس کی حفاظت ہر مسلمان کا اولین فرض ہے اور اس کی حفاظت کے لیے اگر ہمیں اپنی جان کی قربانی بھی دینی پڑے تو ہمیں دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ ختم نبوت قانون میں تبدیلی کرنے والے اللہ کے بھی مجرم ہیں اور اللہ کے نبی کے بھی مجرم ہیں اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو جو بھی سزا دی جائے وہ کم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہمیں کسی کے ہاتھ میں کٹھ پتلی نہیں بننا چاہیے۔ ہمیں مذہب ، اللہ اور اللہ کے نبی سے محبت کو سیاسی طور پر استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔ہمیں مذہبی پری پول ریگنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ میری دعا ہے کہ اللہ ملک پاکستان کو مذہبی پری پول ریگنگ کے جال سے نکالے اور ہمیں صحیح اور غلط میں تمیز کر کے اپنا فیصلہ صحیح امیدوار کے حق میں دینے کی توفیق دے۔آمین۔


ای پیپر