بڑھتی ہوئی گرمی : بجلی اور پانی کی بندش
23 مئی 2018 2018-05-23

گزشتہ کئی دنوں سے درجۂ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے شہریوں کو ان گنت مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ گرمیوں کے موسم کا آغاز ہوتے ہی ملک بھر کے بڑے شہروں اور اکثر چھوٹے شہروں کے شہری اس امر کی مسلسل شکایت کر رہے ہیں کہ بڑھتی ہوئی گرمی کے ساتھ ہی وہ بجلی اور پانی کی بندش کا سامنا کر رہے ہیں۔ مقامِ حیرت ہے کہ اس قسم کی شکایات صوبہ سندھ ،صوبہ پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان کے صوبائی دارالحکومتوں میں بھی زبان زدِ عام ہیں۔ جب بڑے شہروں کا یہ عالم ہو کہ ان کے شہری بھی بجلی اور پانی کی بندش کی وجہ سے بلبلا اٹھیں تو ملک کے چھوٹے شہروں قصبوں اور دیہاتوں کے شہریوں کی حالتِ زار کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔معاصر قومی روز ناموں کی اطلاعات کے مطابق پنجاب اور سندھ کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں کئی کئی گھنٹوں تک بجلی اور پانی بند ہونے سے مجبور شہری احتجاج کر رہے ہیں۔اس صورت حال کو کسی بھی طور پسندیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
اخبارات کے باقاعدہ قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے پہلے دور کے پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر سے لے کر تیسرے دور کے پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر ایک ہی قسم کے بیانات داغتے ہیں ۔ اگر کوئی تحقیق کار تجزیہ نگار وقت نکال کر کسی پبلک لائبریری کے میگزین سیکشن سے پرانے قومی روز ناموں کی فائل کی ورق گردانی کرے تو اسے یہ جان کر انتہائی حیرت ہو گی کہ 1988ء سے1990 ء تک پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر تینوں ادوار1993-1996ء اور2008-2013ء تک عوام کو یہی باور کرواتے رہے کہ اگر ان کی حکومت کو دورانیہ پورا کرنے دیا گیا تو لوڈ شیڈنگ کے بحران پر قابو
پا لیا جائے گا۔ان ادوار میں ہر سال جب موسم گرما کا آغاز ہوتا ، عوام لوڈ شیڈنگ کے چرکے بار بار سہتے ۔ذمہ داران اگر کسی شہر کے لیے 24 گھنٹوں میں 2 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا اعلان کرتے تو ان کے اعلان کے برعکس اس شہر میں بجلی کے صارفین کو بسا اوقات8 سے12گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کے جھٹکے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ باخبر حلقے جانتے ہیں کہ2010ء میں وفاقی حکومت موسم گرما کے آغاز سے قبل اس امر کی یقین دہانیاں کراتی رہی کہ’ سال رواں میں واپڈا لوڈ شیڈنگ سے حتیٰ المقدور اجتنا ب برتے گا، اس ضمن میں اقدامات کر لیے گئے ہیں‘۔ واپڈا حکام کی ان یقین دہانیوں اور وفاقی حکومت کی واضح ہدایات کے برعکس واپڈا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے ملک کے اکثر حصوں میں بجلی کی غیر علانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ۔ لاہور، ملتان، فیصل آباد، کراچی، راولپنڈی، خانیوال، میاں چنوں، ساہیوال، گوجرانوالہ، اوکاڑہ، رینالہ خورد، رحیم یار خان، بہاولپور، ڈی جی خان، وہاڑی، چیچہ وطنی ، ہارون آباد، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ ، سیالکوٹ اور دیگر کئی شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں میں تین چار گھنٹوں کے وقفے کے بعد چار چاراور پانچ پانچ مرتبہ بجلی بند کر دی جاتی جس سے پانی کی سپلائی بھی معطل ہو جاتی۔ یوں وہ یک نہ شد دو شد کے مصداق دوگونہ عذاب کا سامنا کررہے تھے۔
ماضی میں تو بجلی کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے واپڈا کے چیئرمین عوام کے سامنے عذر پیش کرتے ہوئے ان کا تراہ نکالتے رہے ہیں کہ ’’ بجلی کی ڈیمانڈ بہت بڑھ چکی ہے اور واپڈا کو 1200 میگا واٹ کے فرق کا سامنا ہے، بجلی کا بحران سنگین ہے جس کے باعث سارا سال لوڈ شیڈنگ کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، 15 جون کے بعد پانی سے بجلی کی پیدا وار میں ایک ہزار میگا واٹ کا اضافہ متوقع ہے تاہم بجلی کی کھپت زیادہ ہونے اور پیداوار میں کمی کا سامنا پھر بھی رہے گا‘‘۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واپڈا حکام کو پہلے سے یہ علم نہیں ہوتا کہ ملک میں بجلی کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے اور وہ ڈیمانڈ کے مطابق سپلائی کے لیے مربوط اقدامات کریں تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ان دنوں واپڈا حکام نے کمال دانشمندی سے کام لیتے ہوئے لوڈ شیڈنگ کو لوڈ مینجمنٹ کا نام دے دیا ۔ لوڈ شیڈنگ کا لوڈ اس کے باوجود مینیج نہیں ہو سکا۔محض الفاظ بدل دینے سے حقائق بدل نہیں جایا کرتے۔ عوام تب واپڈا کی کارکردگی سے کبھی مطمئن نہیں ہوئے۔
موجودہ حکمران گذشتہ برسوں سے عوام کو یہ یقین دہانی کراتے آ رہے ہیں کہ موسمی درجۂ حرارت خواہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو جائے نہ تو لوڈ شیڈنگ ہو گی اور نہ ہی
بجلی کی ترسیل میں کمی واقع ہو گی لیکن ماہ رواں کی شدید ترین گرمی نے حکام کے دعووں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ رمضان کے مہینے میں بھی پنجاب کے اکثر شہروں اور قصبوں میں سحری ، افطاری اور تراویح کے اوقات میں بھی روزہ داروں کو انتہائی اذیت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قبولیت کی ان گھڑیوں میں بھی وہ حکمرانوں کے لیے ’’دعائے خیر‘‘ کرتے ہیں۔ ’’دعائے خیر‘‘ سے کیا مراد ہے، یہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ مئی کے مہینے میں 3بار بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ اگر 20ہزا میگاواٹ بجلی سسٹم میں ڈال دی گئی ہے تو پھر لوگ لوڈشیڈنگ کا سامنا کیوں کررہے ہیں۔ اب تو اراکین قومی اسمبلی بھی منگل کو ایوان میں یہ سوال اٹھاتے نظر آئے کہ ’ہزاروں میگاواٹ بجلی کی پیداورا کے دعوے کہاں گئے؟‘‘ عارف علوی نے کہا ’حکومت نے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے دعوے کیے ہیں، بجلی کہاں گئی ،پورے پاکستان میں لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ، اگر یہی صورت حال رہی تو لوگ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔رمیش لال جاننا چاہتے ہیں کہ ’ روز کہتے تھے کہ پانچ ہزار میگاواٹ بجلی گریڈ میں ڈل دی ہے،پوچھتا ہوں بجلی پیدا ہوتی ہے تو کہاں جاتی ہے‘۔ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ کراچی سب سے زیادہ ریوینیو دیتا ہے لیکن وہاں بجلی نہیں ہے اور گیس ناپید ہے ، ہم کس سے گلہ کریں، کراچی کے اڑھائی کروڑ افراد انسان ہیں ، انہیں بھی گرمی لگتی ہے،کے الیکٹرک اگر بجلی نہیں دیتا تو تو وفاق یا صوبائی حکومت جس کا بھی مسئلہ ہے ، وہ حل کرے‘۔


ای پیپر