3ملین سے زائد افغان مہاجر: پاکستانی معیشت پر بوجھ
23 مئی 2018



بہت سے لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان اپنی معیشت کو ترقی و استحکام کے اعلیٰ درجے تک کیوں نہیں پہنچا سکا۔ سوال کرنے والے دوست سامنے موجود زمینی حقیقتوں سے آنکھیں بند نہ کریں تو اس کی وجوہات اتنی ڈھکی چھپی نہیں۔
اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کو دہشتگردی اور انتہا پسندی کی مشکلات کا سامنا ہے جو علاقائی اور عالمی اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ ہے، ہم نے ہزاروں قربانیاں دی ہیں جن میں 6500 فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قربانیاں شامل ہیں، ہماری معیشت کو دہشتگردی کی وجہ سے 120 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ۔ پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ عشرے میں بدترین قسم کی دہشت گردی کو عبرت ناک شکست دی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی و عسکری قیادت نے ایک صفحے پر رہتے ہوئے لائق رشک یگانگت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان نے عسکریت پسندانہ نظریات اور تنظیموں کا مقابلہ لائق رشک حد تک استقامت اور تسلسل سے کیا ہے۔پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے بعد اب جاری آپریشن ردالفساد کے موثر نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور ملک میں امن و امان کی صورت حال بڑی حد تک بہتر ہوچکی ہے۔حقیقت پسند عالمی قیادت آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفسادکے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج کی قربانیوں کی واشگاف الفاظ میں تحسین کر رہی ہے۔دہشتگردی کسی خطے، ملک یا قوم کا انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے۔
یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ پاکستان نے 1979ء میں سوویت یونین کی فوجوں کی آمد کے بعد سے جس طرح سے افغان عوام کا ساتھ دیا وہ دنیا میں انسانیت دوستی اور مہمان نوازی کی ایک منفرد مثال ہے۔ ایک وقت تھا ؒ تقریباً 60 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی پاکستان کر رہا تھا۔ کون نہیں جانتا کہ دسمبر 1979ء میں روسی فوجوں کی آمد کے بعد
افغانستان سے مہاجرین جس بڑی تعداد میں پاکستان میں آئے اور پاکستان نے ان لٹے پٹے افغانیوں کی کم وسائل کے باوجود جس طرح فراخ دلی سے مہمان نوازی کی اور انہیں ہر طرح سنبھالا دیا۔ پاکستان نے مہاجرین کی مکمل دیکھ بھال کی اور اب بھی پاکستان 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔۔ آج بھی لاکھوں افغان مہاجر پاکستان کی سرزمین پر موجود ہیں جن کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔پاکستان میں پندرہ لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اور پندرہ لاکھ سے زیادہ غیر قانونی طور پر افغان ، رہائش پذیر ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی بھی افغانستان میں کام کررہے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ افغان حکومت نے پاکستان کے لیے ممنونیت کے جذبات کا اظہار کرنے کے بجائے الٹا بھارت کے ایماء پر پاکستان کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا اور برا بھلا کہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اس تناظر میں پاکستان کا عام شہری بھی پاکستان کے خلاف بلیم گیم میں مصروف افغان حکمرانوں کو یہ کہنا اپنا حق سمھتا ہے کہاگر افغان حکمران حقیقی معنوں میں غیرت مند ہیں تو اپنے 40 لاکھ شہریوں کو پاکستان سے واپس بلائیں۔ ان کا یہ شکوہ بجا ہے کہ ہم نے افغانستان کے شہریوں کو پاکستان میں مہمان رکھا ،عزت دی لیکن پاکستان کے ساتھ افغان انٹیلی جنس کیا کر رہی ہے، انہوں نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا‘۔
کون نہیں جانتا کہ 2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بھی پاکستان نے افغان حکومت سے ہر طرح کا تعاون کیا مگر افغان حکمرانوں نے بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے احسانوں کا بدلہ اتارنا شروع کر دیا۔ حامد کرزئی کے بعد اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ پاکستان نے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کے لیے مسلسل رابطہ رکھا اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ افغانستان اس کے باوجود پاکستان کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی پر آمادہ نہیں۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ افغان حکمرانوں سے کہیں کہ وہ افغان مہاجرین کے نام سے پاکستان میں مقیم اپنے شہریوں کی واپسی کے انتظامات کریں کیونکہ 3ملین سے زائد یہ شہری صرف پاکستانی معیشت ہی پر بوجھ نہیں بلکہ بسا اوقات پاکستان کی عزت و آبرو کے منافی سرگرمیوں میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ علاقائی امور کے ماہرین کی رائے ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں اس وقت تک پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک پاکستان میں ساڑھے تین عشروں سے مقیم افغان مہاجرین کی واپسی کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔ یہ کڑوا سچ ہے کہ اس دوران لاکھوں مہاجرین نے حکومت پاکستان کے اداروں میں مروجہ بدعنوانی کی روش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر قانونی دستاویزات حاصل کر لی ہیں۔ ان مہاجرین کو از خود احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اُن کی نصرت اور مہمان نوازی کی۔ اس کے باوجود اُن میں سے اکثریت بیک وقت افغان اور پاکستانی شہریت کی حامل ہے۔ یہ یقیناًقوانین پاکستان کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ کیا افغان حکام کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ وہ جس ہمسایہ ملک کے خلاف مذموم جارحیت کے جرم کا مرتکب ہوچکا ہے ، اس نے سرد جنگ کے دور میں 80لاکھ افغانوں کی فقیدالمثال مہمان نوازی اور نصرت کی اور انہیں ہمہ جہتی سہولیات فراہم کیں۔ عالم یہ ہے کہ آج بھی پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین موجود ہیں اور وہ افغانستان اس لیے جانے کے لیے آمادہ نہیں ہیں کہ افغانستان کرزئی اور اشرف غنی حکومتوں کے ادوار میں بھی امن کا گہوارہ نہیں بن
سکا جبکہ وہ پاکستان میں ا من و سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے چند ماہ قبل اسی تناظر میں سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ’افغانستان اور امریکہ کے سلسلہ میں افغان مہاجرین ہمارے لئے نمبر ون مسئلہ ہے، ان کی واپسی ہونی چاہئے، بڑے سالوں سے وہ یہاں ہیں اور باعزت طریقے سے انہیں واپس اپنے ملک جانا چاہئے، پاکستان پاک افغان بارڈر پر اپنی طرف باڑ لگا رہا ہے جبکہ افغانستان کی طرف جنوب کی طرف 600 کلومیٹر کے علاقہ میں نہ ان کی کوئی چوکی ہے نہ کوئی باڑ ہے وہ اس طرف کو کور کریں تاکہ دراندازی روکی جا سکے۔ 43 فیصد افغان علاقہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں، وہاں محفوظ پناہ گاہیں ہیں، زرعی یونیورسٹی پشاور کے ریسرچ سینٹر میں جو حملہ ہوا یہ حملہ آور آخری وقت افغانستان میں رابطہ میں تھے، یہ ساری چیزیں رکنی چاہئیں، یہ چیزیں بہت اہم ہیں جب تک یہ چیزیں نہیں ہوتیں تو کس طرح امن ہو سکتا ہے‘۔
کیا دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستانی حکام افغان سرحد پرباڑ لگانے کی تجویز بھی پیش کر چکے ہیں تاہم افغانستان کی جانب سے ابھی اس کا کوئی سنجیدہ اور مثبت جواب نہیں آیا۔ پرویز مشرف دور میں پاکستان نے افغان سرحد پر ایک لاکھ فوجی لگا رکھے تھے اور سرحد کے بعض مقامات پر باڑ بھی لگائی گئی تھی۔ اگر افغانستان کی جانب سے بھی سرحدوں پر فول پروف سکیورٹی انتظامات کئے جاتے تو دونوں جانب انتہا پسندوں کی نقل و حرکت میں قابل ذکر حد تک کمی آتی۔ واضح رہے کہ امریکہ کے الزامات اور ’’ڈو مور‘‘ مطالبات کے پس منظر میں یہی بات کہی جاتی تھی کہ پاک افغان سر حد پر مناسب و موزوں نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردوں کی آرپار آمدورفت کھلے بندوں جاری رہتی ہے۔ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ انسداد دہشتگردی کا واحد حل یہ ہے کہ افغانستان سے بارڈر مینجمنٹ لاگو کرنے کا معاہدہ کیا جائے جس کی گارنٹی امریکہ دے اور تمام معاملات کو مذاکرات میں لا کر ان کا حل نکال کر معاہدہ کیا جائے تا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکے۔


ای پیپر