”اُمت سورہی ہے، طیب جاگ رہا ہے“
23 مئی 2018

ایک دفعہ حضرت قائداعظمؒسے ، ان کی بہن فاطمہ جناح نے کہا تھا، کہ آپ اتنی رات گئے تک کیوں جاگ رہے ہیں؟ کیونکہ، وہ ان دنوں مسلسل رات، دن کاموں میں مصروف رہتے تھے، اور اپنے کام میں اتنے مگن ہوتے تھے، کہ اُنہیںنہ اپنی صحت کا خیال تھا، اور نہ ہی کھانے پینے کا کوئی پتہ ہوتا تھا۔
قائداعظم ؒ نے جواب دیا تھا،کہ میں اس لیے جاگ رہا ہوں کہ میری قوم سورہی ہے۔ اُنہوں نے ساری عمر مسلمانوں کے الگ وطن کے لیے بیک وقت، ہنود ویہود اور مشرکین کو للکارا تھا، پہلے پہل انگریزوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے انہوں نے مہاتما گاندھی سے بھی گلے لگنے اور بغل گیر ہونے کو عار نہیں سمجھا، حالانکہ وہ کفار کی عیاری و مکاری کو بخوبی جانتے تھے، اور سمجھتے تھے، مگر آفرین ہے ان کے خیالات وافکار حمیدہ پہ، کہ کبھی بھی انہوں نے نہ توکوئی ایسا بیان دیا، اور نہ ہی کوئی ایسے تبصرے اور تنقید کی کہ دوسروں کی دل آزاری ہو، انہوں نے نہا یت ، سیدھے صاف اور حق سچ کے ساتھ کھلے لفظوں میں اظہار خیال کیا۔ آج کل اسی قائدؒکے بنائے ہوئے ملک میں، اور اُنہی کی اسمبلی میں جس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے متعدد بار نہ صرف یہ کہ وہاں مختلف مواقع پر خطاب فرمایا، حلف اٹھایا، اور قوم کو اپنے قدموں پہ کھڑا ہونے کے لیے اپنی جان تک نچھاور کردی، مگر اب تف ہے، ایسے کردار، اور اپنے نام نہاد وقار پہ کہ وہاں نصرت سحر عباسی نے اپنی ہی ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کو جوتی دکھائی، بلکہ انہیں بتایا کہ وہ انہیں جوتی کی نوک پہ رکھتی ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ ایسی ہی حرکت اور اظہار بدتمیزی وگالم گلوچ، اور توتکار کرچکی ہیں۔ میں یہ عرض کررہا تھا کہ قائداعظم ؒ کو کس قدر کافروں نے، ذہنی اور زبانی اذیتیں دیں، مسلمانوں کی بھرپور نمائندگی کرنے والا وہ اکیلا شخص تھا، اور اس نحیف و نزار کو جان سے مارنے کے لیے بھی کافروں نے چاقو بردار سے حملہ بھی کرایا، مگر ان کی زبان سے کبھی بھی کوئی تلخ نوائی کے الفاظ نہیں ابھرے، اسی لیے تو حفیظ تائب ؒ فرماتے ہیں کہ:
چھوڑانہ کبھی جوش میں بھی ہوش کا دامن
دیکھا گیا ہردور میں اجلا ترا دامن !
مانند صبا پایا جہاں نے ترا کردار اے قافلہ سالار!
تو ہند کے خطے میں نئی قوم کا بانی !
یہ پاک وطن دہر میں ہے تیری نشانی
خوشبو سے تیری اب مہکتا ہے، یہ گل زار اے قافلہ سالار
بہرکیف لاکھوں قربانیوں کے بعد مملکت ِخدادادِ پاکستان کو، پون صدی گزرنے کے بعد کاش امت مسلمہ کی واحد ایٹمی قوت کے اعزاز کے بعد وہ اس قابل ہوتا کہ دنیا میں مسلمانوں کا قائد بنا ہوتا، اب تک کسی حدتک یہ کردار سعودیہ ادا کررہا تھا، شاہ فیصل شہید کے بعد شاہ فہد، اور قدرے شاہ خالد بھی یہ فریضہ انجام دیتے رہے، مگر امریکہ کا جادو ایسا سر چڑھ کر بولا ہے کہ اس نے ”شاہوں“ کی زبان گنگ کردی ہے۔ ایران نے چونکہ اپنے آپ کو متنازع بنا لیا ہے، لہذا پونے دو ارب مسلمانوں کی نمائندگی اب طیب اردوان بڑی، خوش اسلوبی اور صدق دل سے ہر جگہ اداکرتے نظر آتے ہیں، خواہ وہ مسئلہ کشمیر ہو، یا فلسطین میں یہودیوں کی چیرہ دستیاں، اور ”داستان استبداد“ جس میں سینکڑوں کو شہید اور ہزاروں مسلمانوں کو براہ راست ڈرون سے گولیاں برسا کر زخمی اور اپاہج بنا دیا گیا۔ مگر ادھر یہ حال ہے کہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب لیگ کے لیے سعودی عرب کے سفیر کی سفارتخانے میں شرکت متوقع تھی، یہ تقریب اسرائیل کے قیام کی سترویں (70)سالگرہ پہ منعقد کی جارہی ہے، چونکہ یورپی یونین نے اس خبر کو اپنے خبرنامے کا حصہ بنایا ہے، ظاہر ہے، اس کے پس پردہ کچھ حقائق اور آشیر باد اور نیم رضامندی تو یقیناًشامل ہوگی۔ جس طرح خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کے بعد برطانیہ نے وہاں یکسر مختلف مسلک نافذ کرایا ، بالکل اسی طرح ترکی میں ”اتاترک“ کو بھیج کر اسلامی تشخص کو تارتار کردیا گیا کہ بازاروں، گلیوں بلکہ گھروں میں محصور عفت مآب بیبیوں کے سر سے عبائیے اور چادریں تک نوچ ڈالیں، اور فوج کو حکم دیا تھا کہ ان خواتین کو Skirtسکرٹ اور Sleeve Lessکا پابند بنایا جائے، ترکی کے عصمت انونو تک ، جو جنرل صدر ایوب کے دورتک تو ترکی کے حکمران تھے، اور ان کے ساتھ خصوصی برادرانہ تعلقات تھے، حتیٰ کہ ایک دفعہ پیپلزپارٹی کے بانی مرحوم ذوالفقار بھٹو شہید نے ، سندھ کے پارلیمانی سیکرٹری لچھمن سنگھ جس کو بھارتی جاسوس ثابت ہوجانے کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اسے چھڑوانے کے لیے، عصمت انونو سے صدر ایوب خان کو فون کرایا تھا، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ یہ بات میں پوری ذمہ داری، شواہد اور اعتماد کے ساتھ اس لیے کر رہا ہوں کہ یہ ”کیس “ لفافہ بند جس ادارے نے بھیجا تھا، وہ فوج تھی جس نے اس جاسوس کو پکڑا تھا، اور جن کے پاس یہ مقدمہ تھا، الحمد للہ وہ بھی یہ طویل داستان دل خراش اپنی زبانی سنا بھی سکتے ہیں، اور بتا بھی سکتے ہیں، بہرحال طویل انتظار کے بعد، کیونکہ اللہ رب العزت کے نزدیک ہمارے یہ ماہ وسال، اعدادِ الہیہ کے ساتھ مطابقت ہی نہیں رکھتے، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے امت مسلمہ کی تعدادکو پونے دوارب تک بڑھا دیا ہے اور اس میں ایک صاحب ایمان، طیبب اردوان کو پیدا کرکے مسلمانانِ عالم پہ احسان کیا ہے کیونکہ بقول حضرت اقبال ؒ
ضمیر مغرب ہے تاجرانہ ، ضمیر مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ
خبر نہیں کیا ہے نام اِس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی
عمل سے فارغ ہو ا مسلمان بنا کے تقدیر کا بہانہ
وہ اس لیے کہ انہوں نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حق میں پاکستان کی سرعام حمایت کی ہے، اور سمندروں سے گہرے اور سفید چہرے والوں کی طرح سیاست نہیں کی اور نہ ہی تجارت کی خاطر اصولوں کو قربان کردیا، اب حالیہ فلسطینیوں کے علانیہ قتل عام پہ سوائے ”اظہارِ یکجہتی“ کے کسی بھی مسلمان ملک نے اور کیا تیر مارا ہے؟ مگر طیب نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے، طیب اردوان وہ ہے جس نے روس کا جنگی جہاز مار کر پیوٹن کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کیا، اور ٹرمپ کو بھی اپنی اوقات میں رہنے کی تنبیہہ کی ، فلسطینیوں کے قتل عام پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلاکر یہ کہا کہ جو ”قبلہ اول“ کی حفاظت نہیں کرسکے، وہ خانہ کعبہ کی حفاظت کیسے کرسکتے ہیں۔ اس میں انہوں نے سعودیہ کو طفیلی ریاست بن جانے پر علانیہ متنبہ کیا ہے۔اقبال ؒ:بے معجزہ دنیا میں ابھرتی ہیں قومیں، جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا۔ اور خاموش طاقتیں جرم میں برابر کی شریک ہیں، اور انسانیت بھی اس ”امتحان“ میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ مسلمان یہ نہ سمجھیں کہ انہیں حقوق پلیٹ میں رکھ کر پیش کیے جائیں گے۔ اُنہوں نے امریکی سفارتخانے کی منتقلی پر اسرائیل کے خلاف 13، زبانوں میں ترجمہ کرکے، پہلی دفعہ قزاخستان ، کرغستان، آژربائیجان ، ترکمان، فرانسیسی ، روسی، عربی، انگریزی، اردو ، چینی، جرمن، فارسی، وغیرہ زبانوں میں شائع کرکے، اقوام متحدہ کا ضمیر جگانے کے لیے اسرائیل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دراصل، ایمان کی طاقت اور اس کی رمق ہی ایک غلیل بردارکو ٹینکوں سے ٹکرا دیتی ہے، پل صراط سے گزر کر جنت میں جانے پہ ہرمسلمان کا ایمان ہے ، جب مسلمان اس پر سے گزرے گا تو جہنم کے شعلے ، پل صراط سے گزرنے والوں کو کہیںگے کہ جلدی سے گزر جا، تیرے ایمان کی وجہ سے ہمارے شعلے ٹھنڈے پڑتے جارہے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک ایسا مسلمان جس میں ذرہ برابر بھی ایمان موجود ہوگا، وہ جہنم سے نکال لیا جائے گا ذرہ امام قرطبی کے مطابق اس کو کہتے ہیں کہ بھورے سرخ رنگ کی چیونٹیاں جو دوربین سے نظر آتی ہیں جتنی ایک نوالے پر آسکیں، اس کو ذرہ کہتے ہیں۔ طیب اردوان نے دنیا کو اس لیے للکارا ہے کہ وہ صرف مسلمان ہی نہیں صاحب ایمان بھی ہے۔


ای پیپر