روزہ خور سے ملاقات
23 مئی 2018 2018-05-23

اگلے روز ایک پرانا اور بے تکلف دوست دفتر آن ٹپکا۔میں اسے یوں اچانک دفتر دیکھ کر حیران ہواتومعانقہ کے بعد وہ بولا©©©: ” جانِ من ! حیران ہونے کی ضرورت نہیں،میں یہاں قریب ہی ایک کام کے سلسلے میں آیا تھا، سوچا تمہیں بھی ملتا چلوں“۔
میں نے شکریہ ادا کیا اور ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد پوچھا : ” روزے کیسے جا رہے ہیں؟ “
بولا: ” جا تو رہے ہیں مگر رفتار بہت کم ہے ،“پھر خود ہی زور دار قہقہہ لگا کر بولا: لو تازہ لطیفہ سنو۔
ایک مولانا صاحب بازار سے واپس آرہے تھے ۔ان کے ہاتھ میں ایک تھیلی تھی۔راستے میں انہیں ایک صاحب ملے اور بولے: مولانا کیا لے کر جارہے ہیں؟مولانا نے کہا : ایسی چیز جس کو کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ان صاحب نے کہا©: ایسی چیز کا علم مولانا لوگ اپنے پاس چھپا کر رکھتے ہیں اور ہمیں کہا جاتا ہے کچھ بھی کھاﺅ تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے“۔
مولانا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور تھیلی کھول کر دکھائی۔۔اس میں زنانہ جوتے رکھے ہوئے تھے“۔
لطیفہ ختم ہوا تو وہ خود ہی قہقہے لگانے لگا۔میںنے اسے کہا :کہ یہ تازہ لطیفہ کہاںہے ، تو وہ بولا : میں نے تو رات کو ہی سنا ہے۔میںنے پو چھا روزے کا سناﺅ؟ اس سوال پر وہ مسکین سی صورت بنا کر بولا: ” یار تمہیں تو پتہ ہے ،میں شوگر اور گردوں کا پرانا مریض ہوں پھر بھی بیگم اور بچوں کے طعنوں سے بچنے کے لےے دو روزے رکھے۔بس مت پوچھو مجھ پر کیا گزری۔۔۔گردو ں کے درد نے مجھے بد حال کر دیا۔یہ تو شکر ہے محلے دار ڈاکٹر گھر پر ہی موجود تھا وہ ہر سال اسی طرح مجھے روزہ قضا کرنے کا مشورہ دیتا ہے اور کہتا ہے ، بدن کا پانی کم ہونے سے گردوں میں تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔میںنے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا : یار تم ابھی تک اپنی بیماریوں کا علاج نہیں کر اسکے۔پچھلے چار سال سے یہی سن رہا ہوں کہ تم گردوں اور شوگر کے مریض ہو۔وہ بولا : یہ بیماریاں اتنی جلدی جان نہیں چھوڑتیں میری جان۔ویسے میں ان بیماریوں کا ڈھنڈورا تو نہیں پیٹتا۔رمضان ہی میں ان کی وجہ سے میرے روزے مس ہو جاتے ہیں۔اچھا تم اپنے روزے کا بتا رہے تھے۔وہ بولا: بتایا تو ہے بیوی بچوں کے خوف سے دوروزے رکھے تھے ،پہلے روز میرا تو ۱۱ بجے ہی پیاس سے برا حال ہو گیا تھا۔وقت تو جیسے اس روز ٹھہر سا گیا تھا۔آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔میں نے سونے کی بہت کوشش کی مگر غنودگی میں بھی مجھے ٹھنڈے مشروبات دکھائی دینے لگے۔میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔وقت پوچھا تو ابھی اڑھائی بج رہے تھے۔میں نے موبائل پر دل بہلانے کی کوشش کی ۔حلق خشک ہوا تو گھڑی کی طرف دیکھا تو ابھی ساڑھے تین ہوئے تھے۔میں نے دوبارہ موبائل پر لڈو شروع کردی اور الحمدللہ افطاری تک پتہ ہی نہ چلا۔وقت کیسے گزرا۔افطار کے وقت ٹھنڈے پانی کا جگ اپنے اندر انڈیل لیا اور کچھ بھی نہ کھا سکا۔بس دل کے ارماں آنسوﺅں میں بہہ گئے۔۔دہی بھلے ،فروٹ چاٹ،سموسے،کچوری جانے کیا کیا تھا مگر میرا پیٹ پانی سے بھر چکا تھا۔نجانے کب مجھے نیند آگئی۔ویسے میں حیران ہوں روزہ رکھ کر لوگ افطار کے وقت اتنا کچھ کیسے کھا پی لیتے ہیں۔ویسے تو میرا بھی ایمان یہی ہے کہ افطاری کا حقیقی لطف روزہ خور ہی اٹھاسکتاہے۔روزہ دار تو مشروبات ہی سے الٹا ہو جاتا ہے۔ابھی اس کا بھاشن جاری تھا کہ میں نے پوچھ لیا: تو پھر اپنے دفتر میں کیا کرتے ہو؟ آخر رمضان میں دفتر تو جاتے ہو گے ؟ہاں ہاں کیوں نہیں....تمہیں تو علم ہے رمضان میں ہوٹل وغیرہ تو بند ہوتے ہیں مگر موبائل ہوٹل کھل جاتے ہیں۔پچھلے رمضان میں بھی ایک لڑکا آلو پراٹھے تھیلے میں ڈالے ہمارے دفتر آتا تھا۔اس بارتو آلو پراٹھے کے ساتھ جوس کے ڈبے بھی لے کر دفتر دفتر پھرتا ہے۔اس کا دھندا چل رہا ہے اور میرے جیسے مریض حضرات آلو پراٹھوں سے اپنی شوگر کنٹرول کررہے ہیں۔مگر اس کا ایک نقصان بھی ہوا ہے میرا وزن مزید بڑھ گیا ہے۔رمضان میں دفاتر میں کام زیادہ نہیں ہوتا بس گرمی میں کچھ تکلیف ہوتی ہے۔ہمارے کچھ لوگ تو نماز کے بہانے ہی گھر کھسک جاتے ہیں۔میں بھی ٹریفک کے رش سے بچنے کے لےے گھنٹہ پہلے ہی دفترسے نکل پڑتاہوں کیونکہ گھر کی افطاری کا اپنا مزہہے، اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔اب تو بچوں کے ساتھ بیٹھ کر افطاری کرتا ہوں ۔ڈیڑھ گلاس ” مشروبی دودھ “ پھر دوسموسے اور فروٹ چاٹ سے آغاز کرتا ہوں۔بچے تو بیچارے کھجوروں سے روزہ افطار کر کے مسجدنماز کو چلے جاتے ہیں اور مجھے ہی یہ نعمتیں کھانی پڑتی ہیں۔تم سے کیا پردہ کئی بار تو کھاتے کھاتے غنودگی سی چھا جاتی ہے۔پھر سحری کے وقت ہی آنکھ کھلتی ہے۔ثواب کے لےے سحری بھی کھا تا ہوں مگر صبح مجھ مریض کے لےے دوبارہ بیگم چائے اور بران بریڈ کے سلائز تیار رکھتی ہے پھر وہی روٹین ۔۔تم سناﺅتمہارے روزے کیسے جارہے ہیں۔میں نے کہا روٹین تو ایک جیسی ہے بس فرق صرف اتنا ہے کہ میں دن بھر روزے سے ہوتا ہوں جبکہ تم جیسا مریض آلو پراٹھے سے شوگر کنٹرول کرتا ہے۔میری بات جاری تھی کہ وہ میری بات کاٹ کر بولا : سنو ! بڑا مزہ آیا اگلے روز میں نے اپنے دفتر والوں کے سامنے کولر سے دو ٹھنڈے گلاس چڑھا لےے۔۔سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔میں نے ان کی طرف دیکھا اور زور سے سر پرہاتھ مار کر بولا ”او مائی گاڈ“ میرا تو روزہ تھا۔کمرہ قہقہوں سے بھر گیا اور وہ سب مجھ سے کہنے لگے ”او سر جی ! پریشان نہ ہوں، بھول کر کچھ کھا پی لینے سے روزہ نہیں ٹوٹ جاتا “۔
یہ سب کہہ کر وہ پھر ہنسنے لگا۔میں بھلا کب بھولا تھا مجھے پیاس لگی ہوئی تھی دانستہ پانی پیا تھا” ہا ہا ہا....“
میں نے اس سے کہا :” لیکن روزے کی معافی نہیں ہے۔ ویسے روزہ بدن کی زکات بھی ہے۔سا ل بھر کھاتے ہو ،ایک مہینہ صبر کر لو گے تو تمہار ا ہی فائدہ ہے“۔
وہ بولا :” میں کب کہتا ہوں روزے کی معافی ہے لیکن روزے کی بھی قضا تو ہے ناں۔ میں تین ہزار روپے کام کرنے والی ماسی کے شوہر کو دے رہا ہوں میری جگہ وہ روزے رکھ رہا ہے۔میں غریبوں کو کھانا کھلا کر بھی کفارہ ادا کر لیتا ہوں۔بھائی جی دین میں جبر نہیں ہے۔مجھ جیسے مریض لوگ کیا کریں ؟ کفارے سے کام چلانا پڑتا ہے باقی سحر و افطار کا ثواب تو میں بھی لے مرتا ہوں“.... ہاہاہا....


ای پیپر