Asif Anayat, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
23 مارچ 2021 (11:53) 2021-03-23

قائداعظمؒ کی تیمار داری پر لیاقت علی خان کا اطمینان ہو یا ان کو لانے والی ایمبولینس کی خرابی، ان کی رحلت کے بعد تین سال تک محترمہ فاطمہ جناح کو تقریر کرنے کی اجازت نہ دینا، بزدل کرنل ایوب خان کو نوکر ی سے برخاست کرنے کی سفارش کے باوجود اس کا فیلڈ مارشل بننے کا چند سال میں سفر طے کرنا اور 18 سال آرمی چیف جبکہ 10 سال ملک کا حاکم رہنا، لیاقت علی خان قتل کامعمہ حل نہ ہونا، یحییٰ خان کی عیاشیاں اوروطن عزیز کا دو حصوں میں تقسیم ہونا، جناب بھٹو کا سولی چڑھنا، بی بی کا سر عام شہید ہونا، نواز شریف اور زرداری کی قید، جلا وطنی، جمہوریت کے لیے پیپلزپارٹی کی لازوال داستان، ضیاء ، مشرف کے اقتدار کے دن سب اسی سرزمین کی کہانی ہے۔ شوکت عزیز، معین قریشی امپورٹڈ وزراء، مشیر اور ترجمان بھی اسی ملک کا طرہ امتیاز ہیں۔ عمران خان سچ کہتے ہیں کہ ملک نواز شریف اور زرداری کے لیے نہیں بنا تھا مگر یہ بھی تو یاد رکھیں کہ سیاستدانوں اور عوام نے ملک اسٹیبلشمنٹ اور طاقتور حلقوں ، بیورو کریسی اور ان کے گماشتوں، پروردوں اور پیداوار کٹھ پتلیوں اور ان کی اولادوں کے لیے نہیں بنایا تھا۔ فرقہ پرستی، مسلکی دشمنی، سیاسی دشمنی اور اداروں کی تباہی کا کوئی ذمہ دار ہے ؟ کرہ ارض پر وطن عزیز ہی واحد مملکت خداداد ہے جہاں کا فاضل قاضی کٹہرے میں ہے ۔وزیر فرماتے ہیں کہ ایک ہفتہ سے انڈر ٹرائل جج کی تقریر سن رہے ہیں ان کو شاید خیال نہیں رہا ، ممنوعہ منی فنڈنگ کیس، مالم جبہ اور دیگر مقدمات میں انڈر ٹرائل سیاسی پارٹی کے سربراہ کی قوم 1992ء سے اور 2011ء 2014ء اور پھر 2018ء سے بالخصوص تقریں ہی سن رہی ہے۔ حالت یہ کہ کووڈ ویکسین کے دوران منہ پہ ماسک ہے اور موصوف بولنے سے باز نہیں آ رہے۔ 2018ء کے انتخابات جو دراصل اس حکومت کی بنیاد ٹھہرے وہی ایسی بنیاد ہے وہی غیر قانونی، غیر آئینی، غیر اخلاقی ہے یہی سبب ہے کہ بیورو کریسی کے تبادلوں کو ہی تبدیلی سمجھا جانے لگا۔ کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے۔ احتساب کو انتقام کا نام دیا گیا حکومت احتساب بیورو میں ضم ہو کر رہ گئی۔ دوسری جانب مہنگائی ، بیروزگاری ، لاقانونیت ، ڈھٹائی، الزامات، جھوٹ اور نفرت نے معاشرت کا چہرہ مسخ کر دیا۔ موجودہ حکومت اتحادی خصوصاً جناب عمران خان نے انتہائی مہارت کے ساتھ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں بدلا۔ نفرت اور جھوٹ کو پالیسی کے طور پر اپنایا، ان کی 22 سالہ جدوجہد دراصل طاقتور حلقوں کی ان کو اقتدار میں لانے کا 22 سالہ بندوبست ہے وہ تو طاقتور ہیں جنہوں نے ملک بچا لیا ورنہ موجودہ طرز حکمرانی اور حکومتی اتحاد نے خانہ جنگی، انارکی اور بربادی کی کوئی کسر نہیں چھوڑی جہاں جہاں انتخابات ہوئے ان کی دیانت داری کی مزید جہتیں کھلتی چلی گئیں ۔میرٹ ہر شعبہ میں مٹ گیا۔ 

عمران خان کہتے ہیں 5 سال کا مینڈیٹ ملا ہے جبکہ 5 سال کے لیے سلیکٹڈ ہوئے تھے۔ اپوزیشن نہیں خود پہلے دن سے حکومت ختم کرنے کی حرکات تسلسل سے کر رہے ہیں یہ تو اپوزیشن ہے جس کی وجہ سے یہ حکومت قائم ہے اور پھر ان کے اتحادی بھی طاقتور حلقے ہیں جو نظام کو چلتا کرنے کے بجائے چلتے رہنا ملکی مفاد میں سمجھتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہر ادارہ ، ہر سٹیک ہولڈر اپنے آپ کو ریاست سمجھنے لگا ہے۔ 2018ء دراصل 5 جولائی 1997ء کی کڑی ہی تھی۔ جو جنرل پرویز مشرف دور کا ری پلے بھی ہے۔ نواز شریف اور پیپلزپارٹی کے 40 سال جن میں زرداری 14 سال قید،میاں صاحب کی قید 10 سال جلا وطنی اورقیدیں، جمہوریت کے لیے لازوال جدوجہد بھی شامل ہے۔ عمران خان اور ہمنواؤں کو بہت یاد ہیں۔مگر 33 سال آمریت کے براہ راست اور باقی بالواسطہ ہر دور یاد کیوں نہیں۔ اتفاق فونڈری کسی اقتدار کے نتیجے میں نہیں تھی جبکہ گندھار انڈسٹری تو ایوب دور کا بچہ تھا جس کو یہ ترقی کے سال قرار دیتے ہیں دراصل وہ تباہی،بربادی اور غلامی کے سال تھے جو ملک کو دو لخت کر گئے۔ 

اب بھی حکومت کی پالیسی صرف نفرت اور دشمنی کی سیاست ہے۔ عمران خان کے پاس کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ موجود نہیں سوائے اس کے کہ انہوں نے وزارتوں ، مشاورتوں، ترجمانی کے لیے اپوزیشن کے خلاف دشنام طرازی، الزام تراشی، تہمت بازی پارلیمانی کے بجائے بازاری طرز تکلم کو رواج دیا ۔ بیرون ملک ،وہ لوگ جو وطن عزیز میں دفن بھی نہ ہونگے، سوشل میڈیا اور جو والدین کی کمائی پر پلنے والے ہیں پس ان کے فالورز ہیں۔جن کو اپوزیشن سے نفرت کی بنیاد پر متحد رکھنا چاہتے ہیں قومی نفاق ان کی پالیسی ہے۔ پارلیمانی نظام حکومت میں شاہی اور صدارتی نظام کو اپنائے ہوئے ہیں۔ این آر او نہیں دوں گا کی رٹ لگا کر سمجھتے ہیں ووٹ بینک جو مانگے تانگے اور جھوٹ کی بنیاد جھوٹے وعدوں اور دعووں اور اعداد و شمار کی  بنیاد پر تھا کو یکجا رکھ کر انتخابات میں اتریں گے ایسا ممکن نہیں جب قوم ان کی تقریروں سے جاگ جائے گی تو وطن عزیز کی مڈل کلاس وجود کھو چکی ہو گی ۔ امیر ترین طبقہ جوان کا انوسٹر بھی ہے ملکی دولت پر قابض ہو چکا ہو گا غریب ،مجرم یا فقیر بن چکے ہوں گے یہ ہے تبدیلی اور یہ ہے نیا پاکستان۔ بہرحال ماضی سے اگر کچھ سیکھنا نہیں تو پھر ذکر کیا؟ میں نے اتنی جلدی اور سرعت کے ساتھ تنزلی کی منزلیں طے کرتی ہوئی کوئی حکومت نہیں دیکھی جتنی اس حکومت نے طے کیں۔ 

قائداعظمؒ ،محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ سلوک، لیاقت علی کے خان کے انجام اور ایوب خان کی آمد اور اس کے بعد کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو عدلیہ ہو ، یا بیورو کریسی، طاقتور حلقے ہوں یا ان کے لے پالک ، مذہبی لسانی جماعتیں ہوں یا ان کی بغل بچہ تنظیمیں ، سیاسی جماعتیں ہوں یا ان کے سربراہ لگتا ہے جدوجہد آزادی ابھی جاری ہے اگر خود احتسابی اور قانونی حکمرانی کا رواج ہوتا قوم کی کردار سازی جو طاقتور حلقوں نے نہ ہونے دی ، ’’دانشور‘‘ جانبدار نہ ہوتاتو آج لعنت کے بجائے رحمت ہوتی ۔ چائنہ کی ویکسین لگو اکر پاکستانی ہونے پر فخر، بیانیہ اگر بے نظیر کی زبان سے نکلے تو سکیورٹی رسک، نواز شریف کہے تو غدار، طاقت کا ’’سرچشمہ‘‘ کہے تو مدبر اور عوام کہیں تو جاہل الفاظ قول و فعل کے تضاد کی جگلبندی نہیں تو اور کیا ہیں؟جبکہ لوگ اتنے متنفر ہیں کہ کوئی ٹی وی دیکھنا پسند نہیں کرتا ، اگر سن بھی لیں تو اعتبار کوئی نہیں کرتا لہٰذا کچھ عرصہ سے میں یوٹیوب چینلز دیکھتا ہوں جو بھی دوست ملا وہ یوٹیوب چینلز پر ہونے والے تجزیوں اور خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے دیکھا۔ میں خود وجاہت مسعود، رضا رومی، مرتضیٰ سولنگی، افتخار احمد، مزمل سہروردی اور سب سے بڑھ کر علی وارثی کے تجریے سنتا ہوں ۔ علی وارثی ایک نو خیز تجزیہ کار ہیں جن کو اس بات میں کوئی ابہام نہیں کہ یہ حکومت Legitimacy کے بحران کے ساتھ پیدا ہوئی تھی، بغیر نکاح کے، اس کا جانا ایسے ہی لکھا ہے، ابھی نہیں گرائی جائے گی تو اگلے سال گرا دی جائے گی ، لیکن اس کا پانچ سال کی مدت پوری کرنا ممکن نہیں ہو گا اور یاد رکھیے کہ اس کی وجہ نہ تو نا اہلی ہے، نہ مہنگائی، نہ لاقانونیت، اس کی وجہ صرف عوام کی نظر میں اس کا ناجائز ہونا ہے‘‘۔بہرحال تاریخ پاکستان پر غور کریں تو لگتا ہے کہ جدوجہد ابھی جاری ہے اور کٹھن سے کٹھن ہوئے چلی جا رہی ہے۔


ای پیپر