Muhammad Awais Ghauri, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
23 مارچ 2021 (11:40) 2021-03-23

سلطنت عثمانیہ کے دور کا عروج سلیمان عالیشان کا دورانیہ تھا۔ سلیمان کے وزیر اعظم کا نام ابراہیم پاشا تھا ٗ حرم سلطان عثمانی تاریخ کی وہ پہلی لونڈی تھیں جسے سلطنت عثمانیہ کے بادشاہ نے پہلے آزاد کیا اور پھر اس سے باقاعدہ نکاح کیا ٗ ورنہ سلیمان عالیشان سے پہلے جتنے بھی بادشاہ دنیا میں تشریف لائے وہ سب کے سب لونڈیوں میں سے تھے۔ حرم کا یہ قانون دراصل اس لئے تھا کہ بادشاہ کے نکاح میں کوئی خاتون نہ آئے تاکہ وہ اسے بحیثیت بیوی اپنے زیر اثر نہ لا سکے ٗ جو لونڈی امید سے ہو تی اسے الگ کمرہ ٗ خادمہ مل جاتی اور اگر وہ نرینہ اولاد یعنی شہزادے کی والدہ بنتی تو ممکنہ ملکہ ہونے کی حیثیت سے اس کے پروٹوکول میں اضافہ بھی ہو جاتا ٗ ایک لونڈی کو ایک وقت میں ایک ہی شہزادہ پیدا کرنے کی اجازت تھی ٗاس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک بچے کی درست طریقے سے تربیت سرانجام دے سکے۔ مگر حرم سلطان سلطنت عثمانیہ کی وہ پہلی ملکہ بنی جس سے بادشاہ نے شادی کی ٗ اس کے تین شہزادے پیدا ہوئے جن میں سے ایک کو بادشاہ نے خود موت کے گھات اتارا ٗ ایک نے اپنے بھائی کی موت پر غمزدہ ہو کر خود کشی کر لی اور آخری بچنے والے دو شہزادوں نے بادشاہت کیخلاف سازشیں شروع کر دیں اور سلیمان کی زندگی میں ہی شہزادہ سلیم نے اپنی بھائی بایزید کو موت کے گھات اتار دیا اور اس طرح وہ سلیمان کے بعد بادشاہ بنا۔ 

حرم سلطان کو بادشاہ کی بیوی اور تین شہزادوں کی والدہ بننے کے بعد ایک خاص طاقت حاصل ہو چکی تھی اور اس کی سب سے بڑی طاقت سلیمان کی منظور نظر ہونا تھا۔ اس طاقت سے خائف حرم میں سلیمان کے ایک اور شہزادے مصطفیٰ کا ماں اس کی دشمن بن چکی تھی ٗ جس کا ساتھ دینے کیلئے وزیر اعظم ابراہیم پاشا ہر وقت موجود رہتا تھا۔ بنیادی طور پر ابراہیم پاشا اور حرم سلطان ایک دوسرے کے مضبوط حریف تھے۔ یہ دونوں اکثر مواقع پر ایک دوسرے کے مدمقابل آیا کرتے تھے اور اکثر اپنی ذہانت کی وجہ سے حرم سلطان کی جیت ہوا کرتی تھی۔ ایسے ہی ایک موقع پر جب حرم سلطان کی فتح ہوئی تو ابراہیم پاشا نے فیصلہ کیا کہ وہ بادشاہ وقت کے سامنے پیش ہو کر اپنی سیاسی چال چلے۔ وہ سلیمان کے سامنے پیش ہوا اور اس نے وزیر اعظم کی مہر بادشاہ کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر مزید کام نہیں کر سکتا۔ ملک چلانے والے ہر دور میں اس فن سے آگاہ ہوتے ہیں کہ انہوں نے کیسے اپنے وزیر اعظم کو اوقات میں رکھنا ہے۔ سلیمان نے خاموشی سے ابراہیم کی اس حرکت کو دیکھا اور اسے کمرے سے جانے کا اشارہ کر دیا مگر پھر اسی رات وقت کا وزیر اعظم اپنے کمرے سے غائب ہو گیا۔ 

سلطنت عثمانیہ میں ایک جلاد فورس ہوا کرتی تھی ٗ یہ جلاد فورس کسی آرمی کے انڈر نہیں ہوتی تھی بلکہ اس کا کام صرف یہ ہوتا تھا بادشاہ وقت کو جس سے خطرہ ہو یا جس سیاسی مخالف کو اس نے مروانا ہو یہ جلاد فورس اس کیخلاف حرکت میں آجائے۔ جلاد فورس والے لمبے تڑنگے طاقتور ٗ کالے لباس میں ملبوس افراد ہوا کرتے تھے اور ان کا حلیہ ایسا ہوا کرتا تھا جیسااکثر مذاہب میں موت کے فرشتے کا دکھایا جاتا ہے۔  اس جلاد فورس کے پاس ایک ریشمی ڈوری ہوا کرتی تھی کیونکہ سلطنت عثمانیہ کے بادشاہ اپنے بیٹوں اور بھائیوں کا خون کرنا گوارا نہیں کرتے تھے اس لئے اس ریشمی ڈوری سے رات کو سوتے ہوئے شخص کی گردن دبا کر اسے مار دیا جاتا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے بادشاہ اس کیلئے اپنے وقت کے قاضی سے فتویٰ لیا کرتے تھے اور یہ کوشش کی جاتی تھی کہ انہیں سوتے وقت قتل کیا جائے کیونکہ ایسے وقت میں اس اسلامی فتویٰ کے مطابق ان کی موت بادشاہ پر حلال ہوتی ہے اور یہ سلطنت کے بہترین مفاد میں ہوتا تھا۔

جلاد فورس نے وزیر اعظم کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اسے کئی روز تک قید میں رکھا گیا ٗ ابراہیم پاشا کو ذہنی طور پر شدید ٹارچر کیا گیا۔ اسے بتایا گیا کہ اصل طاقت کا منبع بادشاہ ہے اور اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ بادشاہ کو دھمکی دے سکے ٗ بادشاہ اس گستاخی پر سخت ناراض ہے اور اب ابراہیم پاشا کا بچنا ممکن نہیں۔ ابراہیم پاشا کا بادشاہ سے رشتہ بھی بہت انوکھا تھا۔ وہ بچپن میں غلام بنا لیا گیا ٗ منیسہ میں ایک بار شہزادہ سلیمان شکار کی غرض سے نکلا تو اسے وائلن کی آواز آئی جس نے اس کا دل موہ لیا ٗ جب اس نے اس آواز کا پیچھا کیا تو یہ ساز ابراہیم بجا رہا تھا۔ سلیمان نے اس کی مالکن سے ابراہیم کو خرید لیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ابراہیم ٗ سلیمان کا وفادار بن گیا۔ پھر وہ ترقی کرتا ہوا ملک کا وزیر اعظم اور سلطان سلیمان کا بہنوئی بھی بن گیا۔ 

وزیراعظم ٗ جلاد فورس کی تحویل میں تھا اور اسے یہ یقین ہو چکا تھا کہ اب اس کی زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں ٗ پھر ایک روز اس کے چہرے کو ڈھانپا گیا اور اسے قید سے نکالا گیا ٗ جب اس کے چہرے سے پردہ ہٹایا گیا تو چند لمحے روشنی سے اس کی آنکھیں نہ کھل سکیں۔ جب وہ دیکھنے کے قابل ہوا تو اسے معلوم ہوا کہ ایک جنگل میں وہ بادشاہ وقت کے سامنے حاضر ہے۔ سلیمان انتہائی غصیلی شکل میں اس کے سامنے موجود تھا۔ سلمان نے اپنے سامنے دوزانو ابراہیم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’ڈرو مت ابراہیم ٗ آج تمہاری ساری اذیت ختم کر دوں گا ٗ میں نے تمہیں کہا تھا کہ میرے صبر کو آزمائش میں مت ڈالو ٗ تم نے مجھے وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑنے کی دھمکی دی اور یہ بھی نہ سوچا کہ تم ایک غلام تھے اور میں نے تمہیں کس طرح اس مقام پر پہنچایا ٗاتنی زیادہ خود پسندی انسان کیلئے بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے ٗ یہ ایک نہایت موذی بیماری ہے ٗ اس سے مکمل نجات حاصل کرنا ہو گی ٗ تمہارے ذہن پر سے تمہاری غلامی کا اثر ابھی تک نہیں گیا ٗ جو اب شاید ناسور بن چکا ہے ٗ تم خود پسند ہو چکے ہو ٗ مرنے سے پہلے کسی سے ملاقات کرنا چاہتے ہو تو بتائو میں بلوا لوں۔

وزیر اعظم کے پاس اب کوئی راستہ نہ بچا تھا ٗ اس کی سیاسی چال الٹی پڑ چکی تھی۔ بادشاہ نے جلادوں کو اشارہ کیا کہ آگے بڑھیں اور ابراہیم کا سر تن سے جدا کر دیں ٗوزیر اعظم نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں۔موت تھی کہ بس آیا ہی چاہتی ٗ اپنی اوقات سے بڑھا ہوا ایک قدم اس کی جان لینے والا تھا  مگر پھر اسے سلیمان کی آواز سنائی دی۔ ’’تمہیں جہنم کے تاریک جنگل میں بھٹکنے نہیں دوں گا ٗ تمہارا جہنم یہاں ہے ٗ میرے ہاتھ میں ٗ‘۔ ابراہیم نے آنکھیں کھولیں تو سلیمان کے ہاتھ میں وزیر اعظم کی مہر اس کا انتظار کر رہی تھی ٗ سلیمان بولا ’’اس مہر کا بوجھ تمہیں اٹھانا ہی پڑے گا ٗ یہی مکافات عمل ہو گا اور تمہاری سزا بھی‘‘۔ 

ابراہیم اس وقت تک غیر یقینی کی کیفیت میں تھا ٗ اسے وزارت عظمیٰ واپس مل چکی تھی ٗ وہ ابھی نہیں جا رہا تھا۔ اس نے فوراً بادشاہ کے قدموں میں اپنا سر رکھ دیا اور بادشاہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔


ای پیپر