قیام پاکستان کے حقیقی اسباب!
23 مارچ 2021 2021-03-23

معروف بزرگ قلم کار شریف فاروق (مرحوم) جیسا محب وطن پاکستانی شاید ہی اپنی زندگی میں ، میں نے دیکھا ہو، وہ کسی بھی موضوع پر بات کرتے بیچ میں قائداعظم ؒ کو لے آتے، پاکستان اور قائداعظمؒ کے بغیر اُن کی کوئی بات شروع ہوتی نہ ختم ہوتی تھی، قائداعظمؒ کی زندگی پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں مگر ”برصغیر کے مردِ حریت“ کے عنوان سے قائداعظم کی شخصیت اور جدوجہد پاکستان کے لیے جو کتاب اُنہوں نے لکھی وہ اپنی مثال آپ ہے، اِس کتاب میں ایک بات اُنہوں نے ” قیام پاکستان کے حقیقی اسبابکے عنوان سے تحریر کیا ہے، آج 23مارچ یوم پاکستان کے موقع پر یہ اسباب میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں.... ” پاکستان کن وجوہات کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا یہ ایک ایسی بحث ہے جس پر بہت کچھ کہا اور لکھا جاسکتا ہے، مگر المیہ یہ ہے ہماری نوجوان نسل کی اکثریت اپنی قومی سیاسی تاریخ کے اصل حقائق سے مکمل طورپر بے خبر ہے، اُسے علم ہی نہیں پاکستان کیوں بنانا ضروری ہوگیا تھا، ایسی کون سی مجبوریاں تھیں کہ مسلمانان برصغیر نے بیک زبان ہوکر پاکستان کا مطالبہ کردیا، انگریزوں اور ہندوﺅں کی زبردست مخالفت کے باوجود وہ اِس بات پر اصرار کرتے رہے کہ وہ اپنی ایک الگ آزاد مملکت چاہتے ہیں، اِس کا ایک طویل پس منظر ہے، لیکن اِس کی مختصر وجہ یہ ہے دونوں قوموں کے درمیان مذاہب، تہذیب وثقافت ہی کا واضح فرق نہیں تھا بلکہ مسلمان، ہندو اور انگریز کے جابرانہ استحصال کا شکارتھے، قیام پاکستان کے مختصر نکات کو جناب شریف فاروق یوں بیان فرماتے ہیں ”مسلمان ایک خدا کو ماننے والا تھا، وہ مسجد میں جاتا تھا جبکہ ہندو کئی خداﺅں کو پُوجنے والا تھا، یہاں تک کہ سانپ بچھو ، بندر، چرند پرند شجروخجرکو بھی دیوتا مانتا تھا یہ ایک بنیادی تضاد تھا جو قیام پاکستان کا سبب بنا، اِس کے علاوہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہر حلال چیز خواہ وہ مرغی ہو یا گائے اُونٹ ہو یا بکری اُسے ذبح کرکے کھایا اور غرباءمیں تقسیم کیا جاسکتا ہے، ہندوﺅں کے نزدیک گائے مقدس ماں کا درجہ رکھتی ہے اور اُسے ذبح کرنا گویاماں کو قتل کرنے کے مترادف ہے، اِس تضاد کے باعث ہندوﺅں اور مسلمانوں میں لاتعداد فسادات ہوئے۔ آزادی کے بعد حالت یہ ہے کہ ہندوستان کے طول وعرض میں مسلمان کسی جگہ گائے ذبح نہیں کرسکتے کیونکہ اس کو دستوری تحفظ دے دیا گیا ہے، دنیا کا شاید واحد دستور ہندوستان کا ہے جس میں انسانوں سے زیادہ چوپاﺅں کے تقدس پر زوردیا گیا ہے، .... قیام پاکستان کا تیسرا سبب یہ تھا مسلمانوں کا معاشرتی سیاسی اورمعاشی، اخلاقی اور قانونی ماخذ قرآن وسنت ہے، اور علمی وادبی لحاظ سے عربی وفارسی زبانیں سرچشمہ فیض قراردی جاتی ہیں، جبکہ ہندوﺅں کا ماخذ سنسکرت اور ویدتھے، عربی وفارسی کے خلاف ہندوﺅں نے بڑی منظم مہمیں چلائیں، یہاں تک کہ جب انگریز نے اپنے ابتدائی دور میں فارسی اور اُردو کو اپنے تمام دفاتر رائج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو ہندوﺅں نے اس کی شدید مخالفت کی۔ اُردو زبان میں اِس قدر طاقت تھی کہ وہ پورے ہندوستان میں رابطے کا ذریعہ بن گئی ،اِس کے باوجود اُردو اور فارسی کے ادیبوں کے خلاف ہندوﺅں کا متعصبانہ رویہ جاری رہا، چنانچہ جب ہندوستان کو آزادی مِل گئی تو فارسی اور عربی کو تو چھوڑیئے اُردو کا پورے ہندوستان سے صفایا ہوگیا۔ اب حالت یہ ہے ہندوستان کی سرکاری زبان نہ صرف ہندی ہے جو دیوتا گری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے بلکہ اُردو کو دہلی سے بھی دیس نکالا مِل گیا، یہ وہ چھوٹا سا جزیرہ تھا جہاں ابتداءمیں اُردو کو باقاعدہ آئینی تحفظ دیا گیا تھا، اِسے بھی ختم کردیا گیا، گویامسلمانوں کے سب سے بڑی علمی اور تہذیبی ستون کو گرادیا گیا، اِس سے ثابت ہوگیا تھا کہ ہندوذہن اسلامی روایات اسلامی آثار اور مسلمانوں کے تمام ثقافتی مظاہر سے کس قدر متفق نہ تھا، .... ہندو معاشرہ چھوت چھات اور ذاتوں میں تقسیم تھا، اب بھی ہے، جبکہ مسلمانوں میں کوئی چُھوت چھات نہیں، قیام پاکستان سے پہلے ہندو کی مسلمان کے ساتھ نفرت کا یہ عالم تھا کہ اُن کے دکاندار کسی بھی مسلمان کو اشیائے خوردنی، مٹھائی وغیرہ سے لے کر شربت ، دودھ، دہی تک اپنے ہاتھ سے نہیں دیتے تھے، ہندو انتہا پسندوں کا یہ عالم تھا اگر کوئی ہندو انتہا پسند صبح گھر سے نکلتے ہی سب سے پہلے کسی مسلمان کو دیکھ لیتا تو وہ فوراً بھاگ کر گھرچلے جاتا کیونکہ اپنے عقیدے کے مطابق وہ یہ سمجھتا تھا اِس سے وہ ناپاک ہوگیا ہے، گھر سے ”اشنان “ کرنے کے (نہانے کے ) بعد وہ پوتر ہوکر دوبارہ گھر سے نکلتا تھا، اپنے اِسی ذات پات کے نظریے کے مطابق انتہا پسند ہندو، مسلمانوں کو ” ملیچھ“(ناپاک ، کافر) قرار دیتے تھے، اُنہوں نے مسلمانوں کو ”شدھ“ کرنے (پاک کرنے) کی کئی تحریکیں چلائیں چنانچہ 1925ءاور 1930ءکے درمیان شدھی اور سنگھٹن کی تحریکیں چلیں، اُس وقت ہندو رہنماﺅں کا یہ مطالبہ تھا کہ مسلمانوں کو ہاتو واپس اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ آنا چاہیے، یعنی ہندو مت اختیار کرلینا چاہیے یا اُنہیں عربستان، ترکی، افغانستان وغیرہ جہاں سے اُن کے آباﺅ اجداد آئے تھے واپس وہاں چلے جانا چاہیے، چنانچہ قیام پاکستان کے بعد سے اِن ہندوانتہا پسند فرقہ پرست جماعتوں نے مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے یا اُنہیں ہندوبنانے کے لیے کئی باضابطہ تحریکیں شروع کردی تھیں،.... المیہ یہ ہے آج ہماری نوجوان نسل یہ مقاصد اور اسباب تفصیل سے بتانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، اور اگر کوئی بتانے کی کوشش بھی کرے نوجوان نسل کی اکثریت کو اس میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہوتی، یہ وہ امر یا المیہ ہے جس نے ہماری نوجوان نسل کی اکثریت کو ”بھارتی کلچر“ کی طرف پاکستانی کلچر سے زیادہ مائل کررکھا ہے، شاید اسی لیے ایک بار بھارتی سیاستدان سونیا گاندھی کو یہ کہنے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی کہ ہمیں اب پاکستان سے باقاعدہ جنگ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، اپنی ثقافت کے ذریعے ہم پاکستان کے تقریباً ہرگھر میں گھس چکے ہیں“.... صرف قیام پاکستان کے اسباب ہی نہیں، قیام پاکستان کی جدوجہد بھی منظر عام پر لانی چاہیے، .... پر افسوس ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات ہی کچھ اور ہیں!! 


ای پیپر