'سینی ٹائزر کے مقابلے میں صابن وائرس کیخلاف زیادہ موثر ہے'
23 مارچ 2020 (10:34) 2020-03-23

نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے کیمسٹری پروفیسر نے سینی ٹائزر کے مقابلے میں صابن کے زیادہ موثر ہونے کی دلیل دیدی۔

ہینڈ سینی ٹائزر نہیں، بلکہ صابن سے ہاتھ دھونا ہی کرونا کے خلاف زیادہ موثر ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے کیمسٹری پروفیسر کے مطابق صابن کوئی بھی ہو، کرونا وائرس کے جراثیم کو مکمل طور پر ختم کرتا ہے۔

وائرس پروٹین اور چکنائی کی سطح سے ڈھکا ہوتا ہے اور باآسانی ہاتھوں یا جلد پر چپک جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کو پانی سے دھوئیں تو یہ اس پر سے گزر جاتا ہے، لیکن صابن میں دو مالیکیول ہوتے ہیں، ایک پانی اور دوسرا چکنائی کو ختم کرتا ہے۔ اس طرح وائرس کی اوپری سطح کو تباہ کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اندرونی حصہ ختم ہونے سے غیر اثر ہوجاتا ہے۔ صابن یہ سارا عمل کم از کم 20 سیکنڈ میں مکمل کرتا ہے۔

الکوحول بھی جراثیم مارنے کی طاقت رکھتا ہے، لیکن اس کے موثر ہونے کے لیے سینی ٹائزر میں 60 فیصد الکوحول کی مقدار ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ہاتھوں پر پسینہ ہو ، یا بے حد آلودہ ہوں تو سینی ٹائزر جراثیم کے خلاف اپنا اثر کھو سکتا ہے۔


ای پیپر