اداروں سے ٹکراؤ کی منفی سیاست
23 مارچ 2018 2018-03-23

یادش بہ خیر! 19 مارچ 2018 کی شب ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا ’’ ساری زندگی ایک ہی پارٹی دیکھی ،اس ماہ 34واں سال شروع ہونیوالا ہے ،اس دوران کئی بار اختلاف رائے ہوا لیکن نوبت یہاں تک نہیں آئی جہاں گزشتہ چار سالوں میں بار بار آئی، مجھے اس بات پر بڑا اطمینان تھا کہ اس پارٹی میں اظہار رائے کی آزادی ہے۔یہ میری خامی تھی یا نقص سمجھیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی پارٹی ایک خاندان کی طرح ہوتی ہے جہاں ا آپ اپنی سوچ کے مطابق تلخ و شیریں دونوں طرح اظہار کرسکتے ہیں ،پارٹی میں جو تین سال پہلے کا ماحول تھاوہ اب نہیں ، ن لیگ میں اب اختلاف رائے کی آزادی ختم ہو چکی،میرا مسلم لیگ ن سے پرانا تعلق ہے ،پچھلے ساڑھے چار سال میں پارٹی کے اندر ماحول میں تبدیلی آئی ہے ،پارٹی میں اظہار رائے کی آزادی ختم ہوگئی‘‘۔
انہوں نے اس سلسلے میں ایک واقعہ بتاتے ہوئے کہا نواز شریف کی نااہلی سے پہلے میں میاں صاحب کے پاس گیا اور کہا میاں صاحب میری ساری سیاسی زندگی آپ کیساتھ گزری ہے ،پارٹی کے اندر میرا رول ہمیشہ ایک ‘‘ڈیول ایڈووکیٹ ‘‘کا رہا ہے میرے لئے یہ مشکل نہیں کہ میں کہوں آپ نے آج بڑی زبردست تقریر کی اور اپوزیشن کو ملیا میٹ کردیا ، کڑاکے نکال دیئے ہیں لیکن میرا یہ رول نہیں رہا،80 کی دہائی میں میرے علاوہ تین چار اور لوگ بھی تھے جو اس قسم کا فیڈ بیک دیتے تھے ،90کی دہائی میں میرے علاوہ ایک دو رہ گئے۔اس با ریہ رول ادا کرنے کا میرا ارادہ نہیں تھامگر میں نے دیکھا پارٹی میں ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے اس لئے میں وہی تلخ بات کرتا ہوں مگر میں نے ایک تبدیلی دیکھی ہے پہلے جب میں آپ سے انفرادی طور پر یا پارٹی میں بات کرتا تھا تو مجھے آپ کے چہرے پر فرعونیت نظر نہیں آتی تھی ان چار سالوں میں میں نے کوئی تلخ بات کی تو آپ کے چہرتے پرفرعونیت نظر آئی ،اس پر میاں صاحب نے کہا مجھے آپ کے جذبات کا احساس ہے اور آپ کے رول کا بھی احساس ہے اس میں شک نہیں آپ نے میرے ساتھ بڑی وفاداری نبھائی ہے،آپ یہ باتیں نیک نیتی سے کرتے ہیں اور اس کو جاری رکھیں‘۔چودھری نثار نے کہا یہ الگ بات ہے کہ نواز شریف نے یہ کہا ضرور تھا مگر حالات مختلف ہو گئے،نواز شریف کھلے دل سے تنقید بھی سنتے تھے ،مشاورت کرتے اور مشاورت کے بعد اپنا نقطہ نظر تبدیل کر لیتے تھے ایک لیڈر میں سب سے بڑی خوبی مشاورت کی ہوتی ہے ،نواز شریف میں یہ خوبی آج نہیں ہے، میرے شدید اختلافات کی بنیاد ہے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا’’34سال کی رفاقت کے دوران میں نے پارٹی سے کچھ نہیں مانگا،نواز شریف کے وزیر اعظم یا پارٹی لیڈربننے سے پہلے میں دو بار وزیر بن چکا تھامیں نے اس پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں لیا،میں نے پارٹی سے صرف عزت مانگی ، ایک عام کارکن ہوں لوگ آتے ہیں اگلے دن سینئر نائب صدر بن جاتے ہیں،میں نے کوئی عہدہ یا وزارت نہیں مانگی ،میں نے بھائی ،بھانجے ،بھتیجوں کیلئے کبھی کوئی سیٹ نہیں مانگی ،حلقے کے عوام نے عزت دی ایک سے زیادہ نشستوں پر منتخب ہوا ہوں میں نے وہ سیٹیں اپنے خاندان میں تقسیم نہیں کیں بلکہ پارٹی کو دیدیں ، میں نے انکے داماد کو اپنی قومی اسمبلی کی سیٹ دی‘‘۔ قبل ازیں 16 مارچ کو سابق وفاقی وزیرداخلہ اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان نے ٹیکسلا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چپ کا رضاکارانہ روزہ توڑا اور بتایا کہ’ نوازشریف کے سامنے یہ بات بار با ر کھی اور مشورہ دیا کہ ’ہمیں فوج اور عدلیہ سے نہیں لڑنا ، اداروں سے لڑائی نہ لڑنے میں نوازشریف کی بھلائی ہے ؟ جو معاملات پچھلے چند مہینوں سے چل رہے ہیں ان کو خاموشی سے دیکھا اور کوشش کی ہے کہ اگر کسی کو میری رائے سے اختلاف ہے تو بچ کر ایک کونے میں بیٹھا رہوں مگر بہت ساری چیزوں کی وضاحت کا وقت قریب آیا ہے، مجھے یہ بتایا جائے کہ مسلم لیگ (ن) کا بیانہ کیا ہے؟ جس کے بعد میں اگلا سوال کروں گا،میرا موقف یہ ہے کہ ہمیں عدلیہ اور پاکستانی افواج سے لڑائی نہیں لڑنی چاہیے، اگر نااہلی سے متعلق کوئی ریلیف ملے گا تو اسی سپریم کورٹ سے ملے گا، ہمیں اداروں سے لڑائی نہیں لڑنی اسی میں نوازشریف، ن لیگ اور سیاسی عمل کی بھلائی ہے، سیاست پہلوانی کامقابلہ نہیں بلکہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے راستہ نکالنے کا فن ہے‘‘۔۔۔سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ’ 1985 سے 2002 تک این اے 40 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو تا رہا ، 2002 میں میرے حلقے کو دو حلقوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ کامیاب نہ ہو سکوں لیکن 2008 میں دونوں حلقوں سے کامیاب ہوا اور اب نئی حلقہ بندیوں میں میرا سارا آبائی حلقہ دوبارہ شامل ہو گیاہے،انتخابی حلقے میں جو متبادل کی تلاش کررہے ہیں ان کی الیکشن میں ضمانت ضبط ہوگی، اپنے انتخابی حلقے میں مسلم لیگ (ن) کی ایک ایک اینٹ میں نے رکھی ہے، مجھ سے پہلے تو اس حلقے سے مسلم لیگ کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوتی تھیں‘‘۔
کون نہیں جانتا کہ جب چوہدری نثار نے وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالا توویزوں کے اجراء سے سے متعلق حالات انہائی اضطراب خیز اور قومی سلامتی کے لیے پریشان کن تھے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت ان سے قبل بڑی تعداد میں ویز ے جاری کررہی تھی۔ چوہدری نثار نے غیر ملکیوں کے ویزوں سے متعلق طریق کار وضع کیا،ویزاسے متعلق جو اقدامات اٹھائے وہ ملکی مفاد میں تھے۔ انہوں نے بہ بانگ دہل کہا تھا کہ ’’ کوئی مجھے چیلنج کرنا چاہتاہے تو عدالتی فورم موجود ہے‘‘۔ ان کا بے لچک مؤقف تھا کہ ’’ ویزے سے متعلق اقدامات اس سے بھی سخت ہونے چاہییں،میں نے طے کیاکسی ملک کو ویزے دینے کا طریقہ باہمی سلوک پر ہوناچاہیے ،فیصلہ کیاجتنی فیس دوسرے ملک ہم سے چارج کرتے ہیں ہم بھی اتنی فیس لگائیں ، ویزوں سے متعلق کوئی غلط اقدامات کیے تو جوابدہی کیلئے تیارہوں،مجھے کہا گیا سفارتی بحران پیداہوجائے گا،طے کیا جو ملک ہمیں ویزا دے گا، اس کے شہری کو ویزا ملے گا،یہاں ایسے لوگ ویزا لے کر آئے جوپاکستان کی سیکیورٹی کیلئے خطرہ تھے،میں نے طے کیاکہ برابری کی بنیاد ہر ویزا جاری کیاجا ئے گا‘‘۔ اس کے علاوہ بحیثیت وزیر داخلہ انہوں نے فارن فنڈڈ این جی اوز پر پابندی کے حوالے سے جو جرأت مندانہ اقدام کیے ہیں وہ تاریخ کے صفحات میں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ میاں محمد نواز شریف جھنجھلاہٹ اور بوکھلاہٹ کے عالم میں اب تو برملا اظہار خیال فرمانے لگے ہیں۔ اس سے قبل یہ فریضہ خواجہ آصف ، مریم اورنگزیب، طلال چودھری، ماوری میمن، دانیال عزیز اور پرویز رشید ادا کیا کرتے تھے۔ جینوین مسلم لیگی تو پرویز رشید، دانیال ، طلال اور ماوری کو پیراشوٹر قرار دیتے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 28 جولائی 201 7ء کے بعد سے تادم تحریر نا اہل میاں محمد نواز شریف اور ان کی دختر بلند اختر مختلف شہروں میں ’’مراعات یافتہ سامعین‘‘ کے سامنے عدالت عظمیٰ کے خلاف علامیہ اور افواج پاکستان کے ساتھ بین السطور جو زہر افشانی کر چکی ہیں، اُنہیں سنجیدہ فکر حلقے نقد و نظر کے ترازو میں تولتے ہیں۔ وہ عدالت عظمیٰ کے عزت مآب جج صاحبان کو ایسے مخاطب کرتے ہیں جیسے وہ اُن کے کسی ذاتی کارخانے کے ملازم ہیں۔ یہ انتہائی قابل افسوس روش ہے جو میاں صاحب اور اُن کی صاحبزادی نے شعار کر رکھی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ میاں صاحب اور اُن کی کراؤن پرنسس مریم توازن کا دامن چاک چاک کرنے کا عزم صمیم کیے ہوئے ہیں۔ جانے وہ کس خوش فہمی میں مبتلا ہے۔ چوہدری نثار نے 23 مارچ کو شائع ہونے والے ایک بیان میں درست نشاندہی کی ہے کہ ’مریم نواز کی زبان سے پارٹی بند گلی میں جا رہی ہے‘۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اداروں سے ٹکراؤ کی سیاست ارباب سیاست اور اداروں دونوں کے لیے ہمیشہ نقصان کا موجب بنا کرتی ہے ۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اداروں سے ٹکراؤ کا نتیجہ ہمیشہ سرمایہ کار ، سرمایہ دار اور کرپشن کے الزامات سے آلودہ دامن رکھنے والے مہم جو سیاستدانوں کو ہوتا ہے۔ اداروں سے ذاتی اور مفاداتی بنیادوں پر ٹکرانے ، الجھنے اور دست و گریباں ہونے والے نام نہاد نظریاتی،انقلابی اور باغی سیاستدان نقش عبرت بن جایا کرتے ہیں۔نواز شریف ایسے بزعم خویش نظریاتی، انقلابی اور باغی جو معاشرے کے کھاتے پیتے مراعات یافتہ مال مست اور حال مست طبقات سے تعلق رکھتے ہیں ، جب وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کو آزمائش کی آتش نمرود میں بے خطر کود پڑنے کی دعوت دے کر پیچھے مڑکر دیکھتے ہیں تو انہیں آس پاس سرپر پاؤں رکھ کر بھاگنے والے بھگوڑوں کی اڑائی ہوئی گرد اور غبار کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ کون نہیں جانتا کہ نواز شریف ایسے کھربوں پتی سیاست کاروں کی جماعتوں کے عام کارکن اور قیمے والے نان،بریانی کی ایک پلیٹ اور پانچ پانچ ہزار کے نوٹوں پر ووٹ دینے والوں کا ووٹ بینک اکثر و بیشتر جاہل محروم طبقات پرمشتمل ہوتا ہے۔ ایسے سیاست کار جب حصول اقتداریا بقائے اقتدار کی جنگ کا الاؤ بھڑکاتے ہیں تو انہی غریب لوگوں کو الو بنانے کے لیے مزید نوٹوں کی بارش کرتے ہیں تاکہ وہ اس الاؤ کا ایندھن بن جائیں۔ امید ہے اب ان ووٹر ز کی آنکھیں کھل چکی ہیں ، وہ ان کے دام ہم رنگ زمیں کا شکار نہیں بنیں گے۔وہ جان چکے ہیں کہ ہاتھیوں کی اس جنگ میں ہمیشہ گھاس ہی کا نقصان ہوتا ہے۔
انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ اداروں سے ٹکراؤ کی منفی سیاست اور تناؤ کی فضا میں کوئی بھی معاشرہ اور مملکت ترقی سے ہم کنار نہیں ہو سکتا ۔خوشحالی اور ترقی کی عمارت کی خشت اول ہمیشہ مفاہمت اور مصالحت کی فضا ہوا کرتی ہے۔ مصالحت اور مفاہمت کے ماحول میں شہریوں کو آسودگی محسوس ہوتی ہے اور وہ یکسوئی کے ساتھ روز مرہ کے معمولات بجا لاتے ہیں۔ اس کے برعکس جب تصادم اور ٹکراؤ کی سیاست پروان چڑھتی ہے تو سیاست کار مثبت رویوں کو اپنانے کے بجائے منفی روش کو اپناتے ہیں۔ وہ ’مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں ہٹایا‘ ایسی گریہ زاری ،جذباتی نعروں، اشتعال انگیز تقریروں اور کھوکھلے بیانیوں سے متأثر نہیں ہوتے۔تشدداور ٹکراؤ کی سیاست پر یقین رکھنے والی قوتوں کو عوام کی خاموش اکثریت ہمیشہ ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ سیاست تحمل، رواداری اور برداشت کی اقدار کو آگے بڑھانے کا ایک خوبصورت عمل ہے۔ بعد از خرابئ بسیار اب سابق وزیراعظم گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کا تاثر دینے کے لیے اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ’’ہر ادارے کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہوں ‘‘۔


ای پیپر