یوم آب اور بھارتی آبی دہشت گردی
23 مارچ 2018 2018-03-23



سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو پانی کی شدید قلت کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ڈیموں میں صرف 30 دن پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رہ گئی ہے اور کروڑوں شہری زہریلا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ یوں سٹیٹ بینک نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
زرعی ملک ہونے کے ناتے پانی کی بوند بوند پاکستان کیلئے اہم ہے لیکن یہاں تو پانی کی قلت خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، شہروں کی طرف نقل مکانی، موسمیاتی تبدیلیوں اور حکومتوں کی کوتاہیوں نے پاکستان کو پانی کی شدید قلت کے شکار 33 ممالک کی طرف دھکیل دیا ہے۔ عالمی معیار کے مطابق کم از کم 120 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے جبکہ ترقی یافتہ ممالک ایک سے دو سال کیلئے پانی ذخیرہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں دریاؤں کا صرف 10 فیصد پانی ہی ذخیرہ ہو پاتا ہے۔
بھارتی آبی دہشت گردی سے بچ کر ملکی دریاؤں میں آنے والے پانی میں سے بھی 28 ملین ہیکٹر فٹ پانی ضائع ہو کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ہمارے دریاؤں میں 144 ملین ہیکٹر فٹ پانی آتا ہے جس میں سے صرف 13.8 ملین ہیکٹر فٹ پانی ذخیرہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ سالوں میں آنے والے سیلابوں کی وجہ سے 38 ارب ڈالر کے نقصانات ہوئے ہیں۔ ہمارے پانی کے ذخائر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جارہے ہیں جن کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اچانک سیلاب یا خوشک سالی بھی ہو سکتی ہے جس سے نمٹنے کیلئے ڈیمز کا ہونا ناگزیر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت اور افغانستان کے آبی منصوبے پاکستان کیلئے خطرناک ہیں۔ پاکستانی دریاؤں چناب اور جہلم پر بھارت نے بگلیہاراورکشن گنگا جیسے ڈیم بنا لیے جبکہ افغانستان دریائے کابل پرہائیڈرو پاور منصوبے تعمیر کر رہا ہے۔ 1960ء کی دہائی میں پاک بھارت سندھ طاس معاہدہ کے تحت دونوں ممالک میں طے پایا تھا کہ
بھارت دریائے چناب میں 55ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پابند ہوگا۔ جس کے برعکس بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیراور ہماچل پردیش میں ڈیم تعمیر کرکے ان کے لیول کو اپ کرنے کیلئے دریائے چناب کا پانی روک لیااورہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں 55ہزار کے بجائے کم پانی کی آمد ریکارڈ کی جارہی ہے۔ یہی حال باقی دریاؤں کا بھی ہے۔
ان دنوں میں بھارت کی بدترین آبی دہشتگردی کے باعث دریائے جہلم میں ایک گھونٹ پانی نہیں آرہا۔ اب صرف تربیلا ڈیم میں 20ہزار کیوسک پانی آرہا ہے۔ جلد باران رحمت کا نزول نہ ہوا تو تربیلا ڈیم بھی خالی ہوجائے گا۔ اب صرف چھ روز کا پانی رہ گیاہے۔
نئی دہلی میں مودی سرکار نے پاکستان کو بنجر بنانے کی ناپاک سازش تیار کرلی ہے۔ بھارت نے خشک سالی ، قحط اور پیاس بجھانے کے لئے پاکستان پر آبی جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے دریائے چناب کا رخ موڑ کر پانی دریائے بیاس میں ڈالنے کا حکم دے دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے ہماچل پردیش میں دریائے چناب پر زیر تعمیر متنازع ڈیم (جسپا) کی تعمیر جنگی بنیادوں پر مکمل کی جارہی ہے ۔ یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ بھارت پاکستان دشمنی میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ گورنر ہماچل پردیش کے خط کو بھی نظر انداز کردیا ، جس میں کہا گیا تھا جسپا ڈیم زلزلے کی انتہائی خطرناک فالٹ لائن پر تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ بی بی سی نے اس خبر کو عالمی سطح پر اٹھایا۔نہ صرف عالمی میڈیا بلکہ پاکستان ٹیلی ویژن نے بھی آبی جنگ اور پاکستان کو بنجر بنانے کی بھارت کی مکروہ سازش پر ایک گھنٹے کا پروگرام کیا۔
بھارت نے پاکستان کی طرف بہنے والے اہم دریاؤں کے پانی پر عملاً قبضہ کر لیا ہے۔ دریائے چناب میں پانی کی کمی سے دنیا کی سب سے بڑی نہر میں مرالہ راوی لنک جس کا بہاؤ 22ہزار کیوسک، اپر چناب کینال 16850 کیوسک، بیداں بمبانوالہ نہر 7260کیوسک ہے آج مکمل خشک ہو چکی ہیں۔ دریائے جہلم پر چشمہ جہلم لنک 21700کیوسک، رسول قادر آباد لنک 19ہزار کیوسک، لوئر جہلم کینال 6ہزار کیوسک، اپر جہلم کینال 2ہزار کیوسک تھا وہ بھی مسلسل خشک ہیں۔ دریائے چناب کا بہاؤ ہیڈ مرالہ کے مقام پر 5ہزار کیوسک سے زائد نہیں ہے۔ دریائے جہلم کا بہاؤ 63سو کیوسک سے زیادہ نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے دریائے سندھ خطرناک حد تک اپنے بہاؤ کی نچلی سطح پر گزشتہ 10برس کے کم ترین بہاؤ 14400کیوسک پر بہہ رہا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان کا 65فی صد رقبہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس بارے میں ماہرین نے بتایا ہے کہ بھارت سنگلاخ پہاڑوں میں 3کلو میٹر کی سرنگ بناکر چناب کا پانی دریائے راوی جوکہ بھارت کی زمینوں کو سیراب کر رہا ہے میں ڈال رہا ہے تاکہ دریائے چناب کا تمام پانی روک سکے۔ اس سے قبل کشن گنگا ڈیم کیلئے 31کلو میٹر لمبی سرنگ نکال کر دریائے جہلم کے پانی کو روکا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کو دریائی پانیوں سے 2020ء تک مکمل محروم کر دینا چاہتا ہے۔ حکومت ملکی زرخیز زمینوں کو بنجر ہونے سے بچانے کیلئے فوری ٹھوس اور سنجیدہ حکمت عملی اپنائے۔
بھارت ایک ایک کرکے ہمارے دریاؤں میں قبضہ جمارہاہے مگر بدقسمتی سے کسی کوکوئی پرواہی نہیں۔ایک سازش کے تحت اپنے کارندوں کے ذریعے بھارت کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو سیاسی ایشو بناکرخودآبی جارحیت کامرتکب ہورہا ہے۔اگر اسے نہ روکاگیا تو2020ء تک پاکستان بنجر ہوجائے گا اور کسانوں کواپنی فصلوں کو سیراب کرنے کے لئے ایک بوند پانی بھی میسرنہیں ہوگا۔ بھارت1960ء کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے دریائے چناب پر 850 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے حامل ہائیڈرو پاور ڈیم پراجیکٹ کی تعمیر شروع کرچکا ہے جس سے پاکستان کے حصے کا2لاکھ ایکڑفٹ پانی چوری ہوگا۔اسی ڈیم سے پیداہونے والی بجلی بھارت پاکستان کو فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جبکہ ہمارے حکمران خواب خرگوش میں مصروف ہیں۔یہ ڈیم بگلیہار کے مقابلے میں تین گنا بڑا ہوگا۔سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کے چیئرمین اور عالمی پانی اسمبلی کے چیف کوآرڈی نیٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارتی آبی جارحیت ان دنوں خطرناک مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔


ای پیپر