طاہر تبسم درانی کی کتاب ’’وعدوں سے تکمیل تک‘‘
23 مارچ 2018 2018-03-23

آج کی یہ تحریر ہمارے دوست طاہر تبسم درانی کی کتاب ’’ وعدوں سے تکمیل تک ‘‘ کے گرد ہی گھومے گی ۔۔۔ حالانکہ کل کے اخبارات میں یہ خبر مجھ جیسے لکھاری کے لیے نہایت حوصلہ افزائی کا باعث ہوئی کہ پاکستان کا نام دنیا بھر کے ممالک میں 75ویں نمبر پر آ گیا ہے جہاں لوگ خوش مزاج ہیں ہنستے ہیں اور نہایت ابتر متنازع اور خوفناک حد تک نفرت آمیز سیاسی رویوں کے باوجود ہنستے کھیلتے ہیں اور منفی باتوں میں سے مثبت پہلو نکال لیتے ہیں اور نہایت تیز و تند حالات میں بھی عوام کے سامنے آ کر نہایت غصے میں نہایت جذباتی انداز میں کہہ اُٹھتے ہیں ۔۔۔ ’’کہ مجھے کیوں نکالا‘‘ ۔۔۔؟ اور یہ فقرہ سنتے ہی عوام کی ہنسی نکل جاتی ہے حالانکہ میں محسوس کرتا ہوں کہ میاں نواز شریف جب یہ فقرہ ہزاروں لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تو بظاہر وہ غصے میں دکھائی دیتے ہیں لیکن اب یہ فقرہ ایک عوامی قسم کا فقرہ بن چکا ہے اور مورّخ کل کو اس حوالے سے لمبی چوڑی تحریر لکھے گا اور ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ یہ فقرہ ایک ضرب المثل اور میٹھے محاورے کے طور پر عوامی گفتگو میں استعمال کیا جایا کرے گا ۔۔۔ فیس بک کے ’’دانشور‘‘ اس حوالے سے روزانہ تنقیدی ’’پوسٹیں‘‘ لگاتے ہیں جو پڑھ پڑھ کے ہم ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوتے رہتے ہیں؟!
رہی بات اس کتاب کے حوالے سے تو آپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ اس مردِ باشعور نے اس نہایت خوبصورت کتاب میں میاں شہباز شریف کے وہ سارے کارنامے بیان کیے ہیں جو اُنھوں نے عوام کے لیے سر انجام دئیے اس دوران جہاں میں پوری تقریب کے دوران اپنے دوست مرزا محمد ےٰسین بیگ، الطاف احمد، اسد نقوی اور سمیع اللہ سمیع کو دیکھتے ہوئے محظوظ ہوتا رہا کیونکہ وہ سب نہایت محبت سے گیارہ بجے سے ساڑھے تین بجے تک اس تقریب میں پوری دلجمعی سے شریک رہے۔ وہ الگ بات ہے کچھ دوست تقریب کے دوران نہایت ’’احتیاط‘‘ سے اپنی نیند بھی پوری کرتے رہے ؟!۔۔۔ اونگھتے بھی رہے؟! ۔۔۔ اور ہمارے پیارے ’’بلا تاخیر‘‘ چوہدری غلام غوث سٹیج پر چھائے رہے۔ اُن کا قطعہ پورا تو مجھے یاد نہیں لیکن اُس میں بار بار یہ فقرہ پیش کرتے ہوئے وہ پہلے سے بھی زیادہ جذباتی ہو جاتے تھے۔۔۔
’’ درانی دی دلجوئی یارو ہونی چاہی دی ایہہ‘‘
وہیں جب طاہر تبسم درانی کو سٹیج پر بلایا گیا تو وہ نہایت محبت سے ہم سب کی تعریفیں کرنے لگے اور اس دوران جب وہ نہایت جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے اس کتاب کے حوالے سے بات کر رہے تھے تو اُنھیں جب وہ اپنی تربیت کے حوالے سے بیان کر رہے تھے اُن کے ماں باپ یاد آ گئے جن کا تذکرہ اُنھوں نے نہایت محبت سے احترام سے اور عقیدت سے کیا تو اُن کی آواز بھرا گئی ایسے لوگ مجھے ہمیشہ پسند ہوتے ہیں اور میں دل سے اُن کا احترام کرتا ہوں جو اپنے ماں باپ سے محبت کرتے ہیں۔ جو اپنے مرحوم ماں باپ کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں کیونکہ اچھے لوگوں کی دوسری نشانیوں کے علاوہ ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ روشنی کے اُس منبع کو ہمیشہ اپنے سامنے محسوس کرتے ہیں کیونکہ اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے جب آپ کو راستہ دکھائی نہ دے یا آپ کو زندگی کے کٹھن سفر میں مشکلات پیش آ رہی ہوں تو ایسے میں یا تو ایک اچھی کتاب آپ کے لیے ممدو معاون ثابت ہو سکتی ہے یا پھر ماں باپ کی محبت بھری دعائیں آپ کا ساتھ دیتی ہیں اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ ماں باپ دنیا سے جا بھی چکے ہوں تو اُن سے آپ کا محبت بھرا رشتہ قائم رہتا ہے اور رحمتوں کا نزول آپ پر جاری رہتا ہے کیونکہ محبت کی سب سے عظیم مثال ماں باپ ہیں ۔۔۔ ویسے تبسم درانی نے اپنی شریک حیات کے حوالے سے بھی ’’گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتے ہوئے‘‘ بتایا کہ ’’اس کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت یعنی بیوی کا بہر حال ہاتھ ہے‘‘ ۔۔۔ عوام نے اس خوشی کے موقع پر خوب تالیاں بجائیں؟ ۔۔۔ بھابھی صاحبہ کو میں نے دیکھا وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں ۔۔۔
پچھلے ہفتے مجھے تین چار خواتین کی کالیں موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ چھ سات خواتین نے ای میل کے ذریعے بھی مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے نہایت ’’خندہ پیشانی‘‘ کے ساتھ ڈانٹا اور میری یہ نظم مجھے پڑھ کر سنائی ۔۔۔ آپ بھی پھر سے نظم ملاحظہ کریں (سوری آپ کو یہ نظم دوبارہ پڑھنے کی زحمت دے رہا ہوں) ۔۔۔
تو جب لاہور آئے ۔۔۔ تو بتانا
ٹینکی فل کروا رکھی ہے میں نے
تجھے دن بھر گھماؤں گا میں ۔۔۔ کیونکہ
ڈرائیور چھٹی لے کر جا چکا ہے
تجھے Uber بھی تو مل سکتی ہے ویسے؟
میں نے یہ نظم بار بار سنی تو مجھے خود پر ہنسی آ گئی کیونکہ مجھے خود پر کبھی غصہ نہیں آیا کیونکہ میں وہ خوش قسمت لکھاری ہوں جسے لوگ ہمیشہ دعائیں دیتے ہیں شاید اُن کو میرا اندازِ تحریر پسند ہے یا وہ میری تصویر دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں ۔۔۔ میں اس موضوع پر اصل میں اپنے بارے میں کچھ مزید سن نہیں سکتا؟۔۔۔
خواتین نے مجھے پوچھا کہ آپ اس نظم میں کیا کہنا چاہتے ہیں یہ نظم ہے یا کسی کے نام کوئی پیغام ہے یا ’’۔۔۔ بے ہودگی ہے۔۔۔‘‘ ہمیں سمجھائیں تو ۔۔۔
میں نے یہ نظم دوبارہ سے اس لیے لکھ دی ہے تا کہ آپ پھر سے غور کریں اور اُن الزامات پر توجہ دیں جو خواتین نے بذریعہ ٹیلی فون مجھ پر لگائے ہیں اور اگر یہ نظم آپ کو پسند آئی ہے یا آپ کو وہ پیغام پلے پڑا ہے کہ جو شاعر اس نظم کے ذریعے دینا چاہتا ہے تو براہ مہربانی اُن پڑھنے والوں کو اس نظم میں بیان کردہ میسج بتلا دیں جن کو اس نظم کا مطلب و مفہوم سمجھ نہیں آیا ۔۔۔ اور اگر آپ کو بھی یہ نظم اور اس میں بیان کیا گیا میسج پلے نہیں پڑا تو دل بڑا کر کے اسے مجبوری سمجھیں اور چپ سادھ لیں کیونکہ جو شاعری میرے پیارے چوہدری غلام غوث نے طاہر تبسم کی کتاب کی اس تقریب رونمائی میں پیش کی وہ بھی میری شاعری سے ملتی جلتی تھی اور فیس بک کے دیگر شاعروں کی طرح میں اور میرا دوست چوہدری غلام غوث شاعری کرتے ہیں، شاعری کرتے رہیں گے اور کبھی بھی اس بات پر توجہ نہیں دیں گے سنجیدگی سے نہیں لیں گے کہ عوام الناس ہماری شاعری کے بارے میں کیا کہتے ہیں ۔۔۔ جس طرح کراچی میں MQM کے دھڑے لڑ رہے ہیں، جھگڑ رہے ہیں ۔۔۔ چاہے اگلے الیکشن میں PPP یا PTI پھر ان کو ’’چت‘‘ کر دے؟! ۔۔۔
آپ طاہر تبسم درانی کی کتاب ’’ وعدوں سے تکمیل تک ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں اور شاعری کے حوالے سے میری لکھی باتوں پر بالکل توجہ نہ دیں کیونکہ شاعری کرنے کا رواج آجکل عام ہے اور یہ ایسی بیماری ہے جو ہر راہ چلتے مرد و زن کو لگ جانے کا اندیشہ ہے ۔۔۔؟!
’’ درانی دی دلجوئی یارو ہونی چاہی دی ایہہ‘‘


ای پیپر