ڈالر کی بلند ترین سطح اور زرِ مبادلہ کے ذخائر کی تشویشناک صورت حال
23 مارچ 2018 2018-03-23

ملک میں انٹر بینک ڈالر ریٹ ساڑھے چار روپے کے اضافے کے ساتھ ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح115.007 پر پہنچ گیا ہے جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 119روپے کا ہو گیا ہے۔ ڈالر کا انٹر بینک ریٹ بڑھنے کی وجہ بیرونی قرضوں میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور درآمدات میں اضافہ بیان کی گئی ہے۔ ملک کی تمام درآمدات کی ادائیگیوں اور بیرونی قرضوں میں ایک اندازے کے مطابق 850ارب روپے اضافہ ہو جائے گا۔ خصوصاً پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا طوفان اٹھے گا۔ ماہرین کی رائے ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سٹیٹ بینک کی جانب سے کیا گیا ہے کیونکہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بعد خیال کیا جاتا ہے کہ شاید درآمدات کچھ کم ہو جائیں اور برآمدات بڑھ جائیں۔ رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملک کی جی ڈی پی کے 4-8فیصد تک پہنچ گیا ہے جب کہ درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.3فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گزشتہ کئی مہینوں سے پاکستان پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ پاکستانی روپے کی قدر کم کر کے ڈالر کی شرح مبادلہ کوحقیقت پسندانہ بنایا جائے ۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف نے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو کر 12.8ارب ڈالر رہ گئے ہیں اور ان ذخائر سے 3ماہ تک درآمدات کی ادائیگی ممکن ہے۔
گزشتہ تین سالوں کے دوران کمزور اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے مالی خسارہ بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کی وجہ سے ملکی معیشت پر پڑنے والے مالی بوجھ میں اضافے کی تشویشناک اطلاعات آ رہی تھیں لیکن ہمارے اربابِ اختیار نے معیشت کی بہتری کے لیے کوئی ہنگامی اقدامات نہیں اختیار کئے۔ اگر ہم غور کریں تو موجودہ دورِ اقتدار میں قرضہ دینے والوں کی من مانی شرائط پر ریکارڈ قرضہ جات حاصل کئے گئے لیکن ملک کا مالیاتی بحران کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی گیا اور بالآخر ملک کے اقتصادی حالات تشویشناک نہج پر پہنچ گئے۔ یہ بات حکومت اور عوام دونوں کے مدِ نظر رہنی چاہئے کہ قرضہ معاشی بحران کی شدت کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے لیکن اسے پاکستان کو درپیش معاشی اور اقتصادی مشکلات کا ٹھوس، مستقل اور مکمل حل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کا مالیاتی بحران اس امر کا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران معیشت کے ٹیک آف پوزیشن پر آنے کے دعوے کئے جاتے رہے وہ درست نہ تھے اور معیشت کو مصنوعی طریقے سے سہارا دیا جاتا رہا، جونہی یہ سہارا ختم ہوا معیشت کی اصلیت کھل کر سامنے آ گئی۔ ہمارے ہاں اکثر دیکھا گیا ہے کہ حاصل کیا گیا قرضہ یا تو خورد برد ہو جاتا ہے یا پھر ٹھیک اسی مقصد کے لئے استعمال میں نہیں لایا جاتا جس کے لئے یہ حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ بیرونی قرضے کا وقتی سہارا حاصل کرنے کے بعدحکومت کو چاہئے تھا کہ وہ نئے سرے سے منصوبہ بندی کرتی اور ملکی معیشت کو ٹھوس بنیاد وں پر استوار کرنے کے لئے از سرِ نو تمام شعبہ جات کا جائزہ لے کر جہاں جہاں بھی ترقی کی گنجائش ہوتی وہاں نہ صرف پالیسیاں وضع کی جاتیں بلکہ فنڈز بھی فراہم کئے جاتے اور ان قرضوں کی واپسی کے لئے شیڈول اور عرصہ ترتیب دیا جاتا جس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے واضح اور مناسب حکمتِ عملی مرتب کی جاتی۔ لیکن اس کے برعکس ان معاملات پر غور نہیں کیا گیا اور نہ ہی ملکی معیشت کو استحکام بخشنے کے لئے ٹھوس اقدامات عمل میں لائے گئے جس کی بناء پر پاکستان کو ایسے بحرانوں سے پالا پڑا ہے جس سے اقوامِ عالم میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے موجودہ دور میں حکومت کو مثالی حالات میسر تھے۔ ایک طرف تو تیل کی قیمتیں پچھلے دس سالوں میں کم ترین سطح پر تھیں تو دوسرا سی پیک کی مد میں بہت سرمایہ کاری ملک میں آئی لیکن پھر بھی اگر حالات مزید خراب ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ ملک کے معاشی معاملات کو ٹھیک طریقے سے نہیں چلایا گیا جس کے باعث یہ بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ اس لئے وقتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ملک اورقوم کے طویل المیعاد اور وسیع تر مفاد میں بھی منصوبہ بندی کی جانی چاہئے تھی۔ موجودہ حکمرانوں نے برسرِ اقتدار آتے ہی معاشی کارکردگی کی بنیاد آئی ایم ایف کو بنایا تھا، جس کی بناء پر ملک پر عالمی اداروں کابھاری بھرکم قرضوں کا بوجھ لدا ہوا ہے۔ غیر مستحکم معاشی پالیسیوں کے باعث معاشرے میں مہنگائی اور افراطِ زر کی بلند ترین شرح ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران محبِ وطن طبقات اور معاشی ماہرین حکومت کی معمول سے زیادہ بیرونی قرضوں کے حصول کی پالیسی پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں اور اس کے قومی معیشت پر ہونے والے اثرات کی نشاندہی بھی کرتے رہے، مگر افسوس کہ حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی اور اب صورت حال یہ ہے کہ جب پاکستان نے امریکہ کی پاک افغان پالیسی ماننے سے انکار کیا تو اس نے پاکستان کی مالی امداد بند کر دی۔ پاکستان نے جب اس کی پروا نہیں کی تو اس نے مالی آپشن اختیار کرنے شروع کر دئے ہیں ۔ جونہی پاکستان ان بین الاقوامی اداروں سے رجوع کرے گا تو پھر بیرونی دنیا پاکستان پر اپنی شرائط منوانے کے لیے دباؤ ڈالے گی جو لازمی طور پر افغان پالیسی کے حوالے سے ہو گی۔
ہم اپنے آزادی کے 70سال پورے کر چکے ہیں اور ملکوں یا قوموں کی زندگی میں اپنے مستقبل کا تعین کرنے کے سلسلے میں یہ مدت کافی ہوتی ہے۔ یہ بات افسوسناک کے ساتھ ساتھ تشویشناک بھی ہے۔ ہم تاحال بطور ایک قوم اپنی منزل کا تعین کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ہم نہ صرف معاشی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں بلکہ اپنی خارجہ پالیسی کو بھی دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے کا قصد کریں۔ ضروری نہیں ہے کہ ہم دوسروں کے مفادات کا تحفظ کرتے رہیں اور دوسرے ملکوں سے ملنے والی امداد پر انحصار کرتے رہیں۔ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ اگر یہ امداد ملنا بند ہو جائے تو ہمارے اپنے پاس کیا ہے۔ سب سے زیادہ ضروری ہے کہ درآمدات اور برآمدات کی متوازن پالیسی بنائی جائے تا کہ ہمارا ملک دیگر قوموں کے لئے تجارتی منڈی نہ بنا رہے۔ مناسب ہو گا کہ اتنی اشیاء درآمد کی جائیں جتنی ناگزیر ہوں، اس سے بھی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بحال رکھا جا سکے گا۔ ہمارے موجودہ 12.8 ڈالر زرِ
مبادلہ کے ذخائر میں آئی ایم ایف کی قسطیں بھی شامل ہیں لہٰذا ہمیں اپنے ٹیکس اور جی ڈی پی کی شرح کو 15فیصد تک لانا ہو گا جس کے لئے ہمیں ٹیکس دہندگان اور دوسرے سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا۔ ہم زیادہ اخراجات اور کم آمدن کے سہارے زیادہ عرصہ نہیں چل سکتے اور قرضوں کے جال میں پھنس کر ملک ایک دن دیوالیہ ہو جائے گا۔ حکومت کو بھی اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کو کافی حد تک کم کرنا ہو گا ورنہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں قرضوں کے بوجھ تلے دبی رہیں گی۔ یہ حقیقت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہم معاشی طور پر آزاد نہیں ہیں بلکہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کی ہدایت پر اپنی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں جو ہمیں ان کے احکامات کی پابند بھی کرتی ہیں۔ ماضی کی طرح بااختیار افراد کے قرضے معاف کروانے اور ملکی دولت کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ سپریم کورٹ نے بیرونِ ملک اکاؤنٹس کے حوالے سے فہرست طلب کر لی ہے اور عوام یہ امید کر رہے ہیں کہ قومی دولت لوٹنے والوں سے یہ رقوم واپس لی جائیں گی جس سے ملک کی معاشی حالت میں کچھ بہتری آ سکتی ہے۔


ای پیپر