بھارتی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدہ
23 مارچ 2018

پانی رب کائنات کی عظیم نعمت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث اس نعمت کی افادیت میں کمی کے ساتھ ساتھ اس میں قلت بھی ہوتی جارہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، 2025ء تک دنیا کے تقریباً پونے تین ارب انسان پانی سے محروم ہوجائیں گے۔ پانی کے بحران، آبی قلت اور آبی آلودگی ایسے مسائل کے بارے آگاہی بڑھانے کیلئے ہر برس 22 مارچ کو عالمی یوم آب منایا جاتا ہے۔ رواں سال 26واں یوم آب منایا گیا۔ دنیا بھر میں کئی اجلاس ہوئے جن میں سیلاب، قحط اور آبی آلودگی کوکم کرنے پر زور دیا گیا۔
انسانوں کی طرح قوموں کیلئے بھی پانی کی موجودگی اور عدم موجودگی تزویراتی لحاظ سے زندگی یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔وطن عزیز کا آبی نظام دریائے سندھ پر منحصر ہے۔ پاکستان کی معیشت کیلئے ضروری شعبۂ زراعت اور توانائی کی پیداوار میں یہ دریا کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ دریائے سندھ وجودِ پاکستان کی شریانوں میں دوڑتے خون کی مانند ہے۔ اس دریا کا سالانہ مجموعی بہاؤ دریائے نیل سے دو گنا جبکہ دجلہ و فرات سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے باوجود ماحولیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث وطن عزیز میں محض ایک ہزار مکعب میٹر فی کس پانی دستیاب ہے۔
برصغیر کی تقسیم کے وقت دریاؤں کو تقسیم نہ کیا گیا۔ چنانچہ آزادی کو ایک سال ہی گزرا تھا کہ 4 مئی 1948کو معاہدہ طے پایا جس کے تحت پانی کی فراہمی کے عوض پاکستان بھارت کو سالانہ ادائیگی کرنے پر مجبور ہوگیا۔ مہذب بین الاقوامی اقدار و روایات کے مطابق بالائی دریائی ریاست (Upper Riparian State) نچلی ریاست کے پانی کی امین ہوتی ہے۔ بھارت ایسی حقیر ریاست سے ان اقدار کی توقعات دیوانے کے خواب کے مترادف تھی۔ لہٰذا 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ طاس معاہدہ ہوا جس کے تحت تین مشرقی دریا بھارت جبکہ تین مغربی دریا پاکستان کے حصے میں آئے۔ اس معاہدے میں عالمی بینک نے ضامن اور ثالث کا کردار ادا کیا۔
گزشتہ نصف صدی میں بھارت کئی بار سندھ طاس معاہدے کے الفاظ اور روح سے انحراف کر چکا ہے۔ ماضی میں بگلیہار ڈیم کا مسئلہ ہو یا حال میں کشن گنگا اور رتلے ڈیم، بھارت نے ہمیشہ پاکستان مخالف جارحانہ سفارتی حکمت عملی کے تحت سندھ طاس معاہدے کو مجروح کیا۔ وہ بارہا عالمی بینک اور عالمی ثالثی اداروں میں لابنگ کے تحت پاکستان کے مفادات اور معاہدے کی روح کے عین خلاف فیصلے حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ 2007ء میں بگلیہار ڈیم کا فیصلہ بھارت کے حق میں سنایا گیا۔اس کامیابی کے بعد بھارت بے لگام ہوگیا۔ اس نے دریائے جہلم پر کشن گنگا ڈیم کی تعمیر شروع کردی۔ اس ڈیم کا نقشہ سندھ طاس معاہدے کے سراسر برعکس مخالف تھا لہٰذا پاکستان نے 2010ء میں دی ہیگ میں موجود عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا۔ پاکستان کا موقف تھا کہ ڈیم کے دروازوں کی اونچائی سندھ طاس معاہدے کو مجروح کر رہی تھی۔ عالمی ثالثی عدالت نے فوری طور پر کشن گنگا ڈیم پر تعمیراتی کام روکنے کا حکم دے دیا لیکن ڈیم کے ڈیزائن میں معمولی تبدیلی کے بعد، 2013ء میں عالمی ثالثی عدالت کے چیئر مین جج اسٹیفن شویبل نے متنازع فیصلہ بھارت کے حق میں کرتے ہوئے ناصرف ڈیم کی تعمیر کو جائز قرار دیا بلکہ بذریعہ سرنگ پانی کو 24کلو میٹر موڑنے کی اجازت بھی دے دی۔ ڈیم میں بجلی کی پیداوار کے لیے ضروری آبی ذخیرہ بڑھاتے ہوئے جج نے فیصلہ دیا کہ ماحولیاتی بہاؤ کو برقرار رکھنے کیلئے بھارت محض 9 مکعب میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے پانی چھوڑنے کا پابند ہوگا۔ واضح رہے کہ دریائے جہلم کے عمومی بہاؤ کی رفتار 63 مکعب میٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہ فیصلہ 2013ء کے عالمی یوم آب کے لیڈنگ آئیڈیا ’’بین الاقوامی تعاون‘‘ کے عین منافی تھا۔جج کا فیصلہ سندھ طاس معاہدے کی پہلی شق کی ذیلی شقوں 11 اور15، پانچویں شق کی ذیلی شق 9 اور ضمیہ C کے مخالف ہونے کے باعث پاکستان اور بھارت کے مابین کشن گنگا ڈیم پر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔ اس ناکامی کے بعد، ستمبر2013ء کے مستقل سندھ کمیشن میں بھارت نے دریائے چناب پر رتلے ڈیم کی تعمیر کا عندیہ دیا۔ اس منصوبے کا ڈیزائن کشن گنگا ڈیم کی طرح متنازع تھا۔ اس کی اونچائی 133 میٹر ہے جو کشن گنگا ڈیم کی متنازع اونچائی سے 35 میٹر زیادہ ہے۔ پاکستان اور بھارت نے اس منصوبے کیلئے عالمی بینک سے رجوع کیا۔ مسئلے کے حل کیلئے پاکستان نے ثالثی عدالت کا مطالبہ کیا جبکہ بھارت غیر جانبدار تکنیکی ماہر کی خدمات حاصل کرنے پر بضد رہا۔ دونوں ممالک کی جانب سے متنازع منصوبے کے حل کیلئے مختلف طریق کار کی تجویز کے باعث یہ معاملہ عالمی بینک میں تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔
ستمبر 2016ء میں اڑی میں مبینہ دہشت گرد حملے کے بعد بھارتی وزیر اعظم مودی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی تعظیم کرنے کے پابند نہیں۔ انٹرویو کے بعد انہیں بتایا گیا کہ معاہدے کی بارہویں شق کی ذیلی شق4 کے تحت بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ مودی سرکار یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ بھارت میں مبینہ دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ حق خود ارادیت اور آزادی کی درجنوں تحریکیں ہیں۔
خطے میں بھارتی آبی جارحیت کی تاریخ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پن بجلی کے منصوبوں کی آڑ میں بھوٹان کے آبی ذخائر پر بھارتی قبضہ ہو یا بنگلہ دیش میں سالانہ سیلابوں کا سلسلہ، بھارت ہمسایہ ممالک کے آبی وسائل کو اپنے مذموم عزائم میں کامیابی کیلئے استعمال کرتا ہے۔ دریائے جہلم اور چناب پر ڈیموں کی تعمیر کے بعد، بھارت اپنے تئیں پاکستان کی لاکھوں ایکڑ زرعی فصلوں کو سیلاب کے ذریعے ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔اب وہ پاکستان کو مغربی جانب سے بھی ہدف بنا نا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں وہ دریائے کابل پر22ڈیم تعمیر کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو دونوں اطراف سے اپنے نان کائینیٹک ایکشن (Non-Kinetic Action) کا نشانہ بنا سکے۔
چین بھارت کی بالائی دریائی ریاست ہے۔ بھارت کی عیاری کو محدود کرنے کیلئے 2016ء میں چین نے بھارت کے دریا براہما پترا کا پانی روک دیا اور اس پر ڈیم کی تعمیر شروع کر دی ۔ ان حقائق کے پیش نظر، پاکستان نے بھارتی آبی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے سفارتی سطح پر کام شروع کر دیا۔ آبی ذخائر کو محفوظ کرنے کیلئے پاکستان نے سی پیک کی چھٹی جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی میں پانی کے بحران کو پاک چین اقصادی راہداری کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی ۔ اس پیش رفت کا مقصد زرعی و توانائی پیداوار کو مستحکم رکھنے کیلئے پانی کو فراہمی کی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ بھارتی آبی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا بھی تھا۔ ورلڈ واٹر سیناریوز کی ایڈوائزری کمیٹی کے رکن ڈاکٹر اسماعیل سراج الدین نے کہا تھا کہ موجودہ صدی میں جنگوں کی وجہ آبی وسائل بنیں گے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کیلئے پاکستان کو اقوام عالم کے سامنے بھارتی عیاری عیاں کرنا ہوگی تاکہ وہ اسے 2018ء کے عالمی یوم آب کے منشور کو پورا کرنے پر قائل کرسکیں۔


ای پیپر